Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
61 - 185
حدیث ۱۰:محمد اخبرنا عبیداﷲ بن عمربن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال من صلی خلف الامام کفتہ قرأتہ ۱؎۔
یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر  رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں مقتدی کو امام کا  پڑھنا کافی ہے ۔
 (۱؎ مؤطا الامام محمد    باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ص۹۷)
فقیر کہتا ہے یہ سند بھی مثل سابق کے ہے اور اس کے رجال بھی رجال صحاح ستہ ہیں ، بلکہ بعض علما ء حدیث نے روایات نافع عن عبیداللہ بن عمر کو امام  مالک پر ترجیح دی ۔
حدیث ۱۱: محمد اخبرنا عبدالرحمن  بن عبداللہ المسعودی اخبرنی انس بن سیرین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ سئل عن القرأۃ خلف الامام قال تکفیک قرأۃ الامام ۔۲؂
یعنی سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے دربارہ قرأت استفسار ہوا فرمایا تجھے امام کا پڑھنا بس کرتا ہے۔
 (۲؎مؤطا الامام محمد    باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور      ص۹۸)
حدیث ۱۲: امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاو ی رحمۃ اﷲ علیہ معانی الآثار میں روایت کرتے ہیں :
حدثنا ابن وھب فساق باسنادہ عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سمعہ یقول لایقرأ المؤتم خلف الامام فی شیئ من صلاۃ ۳؎
یعنی سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں مقتدی امام کے پیچھے کسی نماز میں قرات نہ کرے یعنی نماز جہر ہو یا سریہ:
 (۳؎ شرح معانی الاثار    باب القرأۃ خلف الامام        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/ ۱۵۱)
حدیث ۱۳:محمد اخبرنا داؤد بن قیس ثنا عمر بن محمد بن زید عن موسٰی بن سعید بن زید بن ثابت الانصاری یحدثہ عن جدہ قال من قرأخلف الامام فلا صلٰوۃ لہ ۴؎ ۔
یعنی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے پڑھے اس کی نماز جاتی رہی ۔

فقیر کہتا ہے یہ حدیث حسن ہے اور دارقطنی نے بطریق طاؤس اسے مرفوعاً روایت کیا۔
 (۴؎ مؤطا الامام محمد    باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام   مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور            ص۱۰۲)
حدیث ۱۴: الحافظ بن علی بن عمر الدارقطنی عن ابی حاتم بن حبان ثنی ابراہیم بن سعد عن احمد بن علی بن سلیمان الدوری عن عبدالرحمٰن المخزومی عن سفیان بن عیینہ عن ابن طاؤس عن ابیہ عن زید عن ثابت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من قرأخلف الامام فلا صلٰوۃ لہ ۱؎۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی وعلیہ وسلم فرماتے ہیں :امام کے پیچھے پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی۔
 (۱؎ نصب الرایۃ بحوالہ علل متنا ہیۃ من طریق دارقطنی    کتاب الصلوٰۃ    مکتبہ اسلامیہ ریاض        ۲/ ۱۹

  کنز العمال     الباب الخامس قرأۃ الماموم        مطبوعہ مکتبۃ التراث اسلامی بیروت    ۸/ ۲۸۶)
حدیث ۱۵: محمد ایضااخبرنا داؤد بن قیس الفراء المدنی اخبرنی بعض ولد سعد بن ابی وقاص انہ ذکرلہ ان سعدا رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال وددت ان الذی یقرأ خلف الامام فی فیہ جمرۃ ۲؎۔
یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ افاضل صحابہ و عشرہ مبشرہ و مقربانِ بارگاہ سے ہیں منقول ہے انھوں نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ امام کے پیچھے پڑھنے والے کے  منہ میں انگارہ ہو۔
 (۲؎ مؤطاللامام محمد    باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ص۱۰۱)
حدیث ۱۶: محمد ایضا اخبرنا داؤد بن قیس الفراء ثنا محمد بن عجلان ان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال لیت فی فم الذی یقرأ خلف الامام حجرا۳؎۔
یعنی حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کاش جوشخص امام کے پیچھے قرأت کرے اُسکے منہ میں پتھر ہو۔
 (۳؎مؤطاللامام محمد    باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور      ص ۱۰۲)
فقیر کہتا ہے رجال اس حدیث کے بر شرط صحیح مسلم ہیں۔الحاصل ان احادیث صحیحہ و معتبرہ سے مذہب حنفیہ بحمد اﷲ ثابت ہوگیا اب باقی رہے تمسکات شافعیہ اُن میں عمدہ ترین دلائل جسے اُن کا مدار مذہب کہنا چاہئے حدیث صحیحین ہے یعنی
لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب ۴؎
کوئی نماز نہیں ہوتی بے فاتحہ کے۔ جواب اس حدیث سے چندطور پر ہے یہاں اسی قدر کافی کہ یہ حدیث تمھارے مفید نہ ہمارے مضر، ہم خود مانتے ہیں کہ کوئی نماز ذات رکوع سجود بے فاتحہ کے تمام نہیں امام کی ہو خواہ ماموم کی مگر مقتدی کے حق میں خود رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کے لئے امام کی قرأت کافی اور امام کا پڑھنا بعینہٖ اس کا پڑھنا ہے۔ کما مرسابقاً(جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ت) پس خلافِ ارشاد حضور والا تم نے کہاں سے نکال لیا کہ مقتدی جب تک خود نہ پڑھے گا نماز اس کی بے فاتحہ رہے گی اور فاسد ہوجائے گی۔
 (۴؎ اتحاف السادۃ المتقین    القراء                مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/ ۴۸-۴۷)
ف: بخاری جلد ۱ ص ۱۰۴ اور مسلم ج ۱ ص ۱۶۹ پر لاصلٰوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب کے الفاظ ہیں۔
دوسری دلیل:حدیث مسلم من صلی صلاۃ لم یقرأفیھا بام القراٰن فھی خداج ھی خداج ھی خداج ۱؎ ۔حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔ اس کا جواب بھی بعینہٖ مثل اول کے ہے نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلّم اور قرأت امام قرأتِ ماموم سے مغنی خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمھیں اس وقت بکار آمد ہوں گی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے امّ الکتاب رہتی ہو وھو ممنوع (اور یہ ممنوع ہے ۔ت) اور آخر حدیث میں قول حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
اقرأ بھا فی نفسک یا فارسی ۲؎
 (اپنے دل میں پڑھ اے فارسی۔ت)کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں فقیر بتوفیق الہی اُس سے ایک جواب حسن طویل الذیل رکھتا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔
 (۱؎ الصحیح المسلم         باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۷۰-۱۶۹)

(۲؎الصحیح المسلم         باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱/ ۱۶۹)
تیسری دلیل: حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ
لا تفعلو ا الابام القراٰن ۳؎
امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے فاتحہ کے۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث عبادہ بن الصامت          مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۵/ ۳۲۲)

(سنن الدار قطنی    باب وجوب قرأۃ ام الکتاب الخ      مطبوعہ نشر السنۃ ملتان        ۱/ ۳۱۸)
اولاًیہ حدیث ضعیف ہے اُن صحیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم اورترمذی ونسائی وموطائے امام مالک وموطائے امام محمد وغیرہا صحاح و معتبرات سے نقل کیں کب مقاومت کرسکتی ہے ،امام احمد بن حنبل وغیرہ حفّاظ نے اس کی تضعیف کی ، یحیی بن معین جیسے ناقدین جس کی نسبت امام مدوح نے فرمایا جس حدیث کو یحیٰی نہ پہچانے حدیث ہی نہیں فرماتے ہیں استثنائے فاتحہ غیر محفو ظ ہے۔

ثانیاًخودشافعیہ اس حدیث پر دو ۲ وجہ سے عمل نہیں کرتے:

ایک یہ کہ اس میں ماورائے فاتحہ سے نہی ہے اور ان کے نزدیک مقتدی کو ضمِ سورت بھی جائز ہے۔
صرح بہ الامام النو وی فی شرح صحیح مسلم
 (امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اس کی تصریح کی ہے) دوسرے یہ کہ حدیث مذکور جس طریق سے ابوداؤد نے روایت کی بآواز بلند منادی کہ مقتدی کو جہراً فاتحہ پڑھنا روا اور یہ امر بالاجماع ممنوع
صرح بہ الشیخ فی اللمعات و یفید ہ الکلام النووی فی الشرح
(شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس بات کی  تصریح کی ہے اور امام نووی کا کلام شرح میں بھی اسکا فائدہ دیتا ہے۔ت) پس جو خود اُن کے نزدیک متروک ہم پر اُس سے کس طرح احتجاج کرتے ہیں۔

بالجملہ ہمارا مذہب مہذب بحمد اﷲ حجج کافیہ  و دلائل وافیہ سے ثابت ، اور مخالفین کے پاس کوئی دلیل قاطع ایسی نہیں کہ اُسے معاذاﷲ باطل یا مضمحل کرسکے مگر اس زمانہ پُرفتن کے بعض جہال بے لگام جنھوں نے ہوائے نفس کو اپنا امام بنایا اور انتظام اسلام کو درہم برہم کرنے کے لئے تقلید ائمہ کرام میں خدشات و اوہام پیدا کرتے ہیں جس ساز و سامان پر ائمہ مجتہدین خصوصاً امام الائمہ حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن مقلد یہ کی مخالفت اور جس بضاعت مزجات پر ادعائے اجتہاد وفقاہت ہے عقلائے منصفین کا معلوم اصل مقصود ان کا اغوائے عوام ہے کہ وہ بیچارے قرآن و حدیث سے ناواقف ہیں جو ان مدعیانِ خام کار نے کہہ دیا اُنھوں نے مان لیا اگرچہ خواص کی نظر میں یہ باتیں موجب ذلّت و باعث فضیحت ہوں ،اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی وساوس شیطان سے امان بخشے
اٰمین ھذاوالعلم عند واھب العلوم العالم بکل سرمکتوم
(اسے قبول فرما اور حقیقی علم اس ذات کے پاس جو تمام علوم عطا فرمانے والا اورتمام مخفی رازوں سے واقف ہے۔ت)
Flag Counter