Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
60 - 185
حدیث ۵:قال صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالناس فقرأرجل خلفہ فلما قضی الصلٰوۃ قال ایکم قرأ خلفی ثلٰث مرات فقال رجل انا یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ ۱؎۔
خلاصہ مضمون یہ ہے کہ سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ایک شخص نے حضور کے پیچھے قرأت کی سیّد اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہوکر ارشاد فرمایا کس نے میرے پیچھے پڑھا ،لوگ بسبب خوف حضور کے خاموش ہو رہے ، یہاں تک کہ تین بار بتکرار یہی استفسار فرمایا، آخر ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ! میں نے ۔ارشاد ہوا کہ جو امام کے پیچھے ہو اس کے لئے امام کا پڑھنا کافی ہے۔
 (۱؎ مسند الامام الاعظم     کفایۃ قرأۃ الامام للماموم        مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی        ص۶۱)
حدیث ۶: ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایضاعن حماد بن ابراہیم ان عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ لم یقرأ خلف الامام لا فی الرکعتین الاولین ولا فی غیرھما ۲؎
یعنی سیّدناعبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے امام کے پیچھے قرأت نہ کی نہ پہلی دو رکعتوں میں نہ ان کے غیر میں۔
 (۲؎ المؤطا للامام محمد     باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ص۱۰۰)
نوٹ: مجھےعبداﷲ بن مسعود کی حدیث مسند امام اعظم سے نہیں ملی اس لئے موطا امام محمد سے نقل کی ہے جومتن میں آرہی ہے الفاظ یہ ہیں:۔ان عبداﷲ بن مسعودکان لایقرأ خلف الامام فیما یجھر فیہ وفیمایخافت فیہ الاولیین ولا فی الاخریین واذا صلی وحدہ قرأفی الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ ولم یقرأ فی الاخریین شیئا۔    نذیر احمد سعیدی۔
فقیر کہتا ہے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ جو افاضل صحابہ و مومنین سابقین سے ہیں حضر و سفر میں ہمراہِ رکاب سعادت انتساب حضور رسالت مآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رہتے اور بارگاہِ نبوت میں بے اذن لئے جانا اُن کے لئے جائز تھا بعض صحابہ فرماتے ہیں ہم نے راہ و روش سرورانبیا ء علیہ التحیۃ والثنا سے جو چال ڈھال ابن مسعود کو ملتی پائی کسی کی نہ پائی، خودحضور اکرم الاولین والآخرین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
رضیت لا متی ما رضی لھا ابن ام عبد و کرھت لامتی ماکرہ لہا ابن ام عبد ۱؎۔
میں نے اپنی امت کے لئے وہ پسند کیا جو عبداﷲ بن مسعود ا س کے لئے پسند کرے اور میں نے اپنی امت کے لئے ناپسند کیا جو اُس کے لئے عبداﷲ بن مسعود نا پسند کرے۔گویا ان کی رائے حضورِ والا کی رائے اقدس ہے اور معلوم ہے کہ جناب ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب مقتدی ہوتے فاتحہ وغیرہ کچھ نہیں پڑھتے تھے اور ان کے سب شاگردوں کا یہی وتیرہ تھا۔
 (۱؎ مجمع الزوائد     باب ماجاء فی عبد اللہ بن مسعود     مطبوعہ دارالکتاب بیروت     ۹ / ۲۹۰)
حدیث ۷: محمد فی مؤطاہ من طریق سفیانین عن منصور بن المعتمر وقال الثوری نا منصور وھذا لفظ ابن عینیۃ عن منصور بن المعتمر عن ابی وائل قال سئل عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن القرأۃ خلف الامام قال انصت فان فی الصلٰوۃ لشغلا سیکفیک ذلک لامام ۲؎۔
خلاصہ یہ کہ سیّدنا ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے دربارہ قرأت مقتدی سوال ہوا، فرمایا خاموش رہ کہ نماز میں مشغولی ہے یعنی بیکار باتوں سے باز رہنا عنقریب تجھے امام اس کام کی کفایت کردے گا یعنی نماز میں تجھے لاطائل باتیں روا نہیں ،اور جب امام کی قرأت بعینہ اُس کی قرأت ٹھہرتی ہے تو پھر مقتدی کا خود قرأت کرنا محض لغو نا شائستہ ہے۔
 (۲؎ مؤطا امام محمد    باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور     ص۱۰۰)
فقیر کہتا ہے یہ حدیث اعلٰی درجہ صحاح میں ہے اس کے سب رواۃ ائمہ کبار و رجال صحاح ستہ ہیں۔
حدیث ۸: واما حدیث الامام عن ابن مسعود فوصلہ محمدنامحمد بن ابان بن صالح القرشی عن حماد عن ابراہیم النخعی عن علقمۃ بن قیس ان عبداﷲ بن مسعود کان لایقرأ خلف الامام فیما یجھر و فیما یخافت فیہ فی الاولیین ولا فی الاخریین و اذا صلی وحدہ قرأفی الاولیین بفاتحۃ الکتاب وسورۃ ولم یقرأ فی الاخریین  شینا ۳؎۔
حاصل یہ کہ حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب مقتدی ہوتے تو نماز میں جہریہ ہو یا سریہ کچھ نہ پڑھتے تھے نہ پہلی رکعتوں میں نہ پچھلی میں ۔ ہاں جب تنہا ہوتے تو صرف پہلیوں میں الحمد و سورت پڑھتے۔
 (۳؎مؤطا امام محمد    باب القرأۃ فی الصلوۃ خلف الامام     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ص۱۰۰)
اثر ۱: ابو حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم انہ قال لم یقرأ علقمۃ خلف الامام حرفا لا فیما یجھر فیہ القرأۃ ولا فیما لایجھر فیہ ولا قرأ فی الاخریین بام الکتاب ولاغیرھا خلف الامام ولا اصحاب عبداﷲ جمیعا ۱؎۔
یعنی علقمہ بن قیس کہ کبار تابعین و اعاظم مجتہدین اور افقہ تلامذہ سیّدنا بن مسعود ہیں امام کے پیچھے ایک حرف نہ پڑھتے چاہے جہر کی قرأت ہو چاہے آہستہ کی اور نہ پچھلی رکعتوں میں فاتحہ پڑھتے اور نہ اور کچھ جب امام کے پیچھے ہوتے اور نہ کسی نے حضرت کے اصحاب عبد اﷲ بن مسعود سے قرأت کی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
 (۱؎ کتاب الآثار     امام محمد باب القرأۃ خلف الامام  وتلقینہ            ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ص۱۶)
اثر ۲: محمد فی الموطااخبرنا بکیر بن عامر مرثنا ابرہیم النخعی عن علقمۃ بن قیس قال لان اعض علی جمرۃ احب الی من ان اقرأخلف الامام۲؎۔
یعنی حضرت علقمہ بن قیس فرماتے ہیں البتہ آگ کی چنگاری منہ میں لینا مجھے اس سے زیادہ پیاری ہے کہ میں امام کے پیچھے قرأت کروں۔
 (۲؎ موطا امام محمد     باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور         ص۱۰۰)
اثر ۳:محمد ایضا اخبرنا اسرائیل من یونس ثنا منصور عن ابراہیم قال ان اول من قرأ خلف الامام رجل اتھم۳؎۔
یعنی ابراہیم بن سوید النخعی نے کہ رؤسائے تابعین وائمہ دین متین سے ہیں تحدیث و فقاہت ان کی آفتاب نیمروز ہے فرمایا پہلے جس شخص نے امام کے پیچھے پڑھا وہ ایک مرد متہم تھا۔
 (۳؎موطا امام محمد     باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور         ص۱۰۰)
حاصل یہ کہ امام کے پیچھے قرأت ایک بدعت ہے جو ایک بے اعتبار آدمی نے احداث کی ۔

فقیر کہتا ہے رجال اس حدیث کے رجال صحیح مسلم ہیں۔

حدیث ۹: امام مالک اپنی مؤطا میں اورامام احمد بن حنبل رحمہم اﷲ تعالٰی اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں:
وھذا سباق مالک عن نافع ان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان اذا سئل ھل یقرأ احد خلف الامام قال اذا صلی احدکم خلف امام فحسبہ قرأۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرأ قال وکان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما لایقرأخلف الامام ۴؎۔
یعنی سیدنا و ابن سیدنا عبداﷲ بن امیرالمؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے جب دربارہ قرأتِ مقتدی سوال ہوتا فرماتے جب کوئی تم میں امام کے پیچھے نماز پڑھے تواسے قرأت امام کافی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو قرأت کرے۔
 (۴؎ مؤطا امام مالک     ترک القرأۃ خلف الامام            مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی            ص ۸۶)
نافع کہتے ہیں عبدااﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما خود امام کے پیچھے قرأت نہ کرتے فقیر کہتاہے۔کہ یہ حدیث غایت درجہ کی صحیح الاسناد ہے حتی کہ مالک بن نافع عن ابن عمر کو بہت محدثین نے صحیح ترین اسا نید کہا۔
Flag Counter