مسئلہ نمبر ۴۵۱: ازشہر کہنہ محلہ روہیلہ ٹولہ مسئولہ مولوی رحیم اﷲ ۱۹ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
زید بعدہر نماز جماعت فریضہ قبل از مانگنے دُعا روز ایک مرتبہ کلمہ توحید روز بعد مانگنے دعا کلمہ طیبہ تین مرتبہ اور ایک مرتبہ کلمہ شہادت بآواز بلند بہ نیت مع حاضرین جماعت پڑھا کرتا ہے ۔یہ فعل اسکا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جائز ہے مگر حاضرین کو ان کی خوشی پر رکھا جائے مجبور نہ کیا جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم
باب القرأۃ
(قرأت کا بیان)
مسئلہ نمبر ۴۵۲:ازبریلی مسئولہ سید احمد علی ساکن نوادہ شیخان ۳صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تلاوت کلام مجید مُصلِّی یا غیر مُصلِّی پر باترتیب پڑھنا فرض ہے یا واجب یا سنّت یا مستحب؟ اور امام نماز میں بے ترتیب سورہ پڑھے تو اس پر کیا حکم ہے؟
الجواب
نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو دونوں میں لحاظ ترتیب واجب ہے اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔ سیّدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲ عزوجل اس کا دل اُلٹ دے ۔
ہاں اگر خارج نماز ہیکہ ایک سورت پڑھ لی پھر خیال آیا کہ دوسری سورت پڑھوں وُہ پڑھ لی اوراس سے اُوپر کی تھی تو اس میں حرج نہیں ۔ یا مثلاً حدیث میں شب کے وقت چار سورتیں پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ ٰیسین شریف کہ جو رات میں پڑھے گا صبح کو بخشا ہوا اُٹھے گا۔ سورہ دخان شریف پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے کہ جو اسے رات میں پڑھے گا صبح اس حالت میں اُٹھے گا کہ ستّر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کر تے ہوں گے۔ سورہ واقعہ شریف کہ جو اسے رات پڑھے گا محتاجی اس کے پاس نہ آئے گی ۔ سورہ تبارک الذی شریف کہ جو اسے ہر رات پڑھے گا عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
ان سورتوں کی ترتیب یہی ہے مگراس غرض کے لئے پڑھنے والا چار سورتیں متفرق پڑھنا چاہتا ہے کہ ہر ایک مستقل جُدا عمل ہے اسے اختیار ہے کہ جس کو چاہے پہلے پڑھے جسے چاہے پیچھے پڑھے۔
اما م نے سورتیں بے ترتیبی سے سہواً پڑھیں تو کچھ حرج نہیں ،قصداً پڑھیں تو گنہگار ہوا، نماز میں کچھ خلل نہیں واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ نمبر ۴۵۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت سورہ فاتحہ یااورکسی سورت کی جائز ہے یا نہیں ۔بینوا توجروا۔
الجواب
مذہب حنفیہ دربارہ قرأت مقتدی عدم اباحت و کراہت تحریمیہ ہے۔ نماز سرّی میں روایت استحباب کہ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی طرف نسبت کی گئی محض ضعیف
کما بسط المحقق علی الاطلاق فقیہ النفس مولٰنا کمال الملۃ والدین محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کما قالہ فی الدرالمختار۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق فقیہ النفس مولٰنا کما ل الملۃ والدین محمد(ابن ہمام) رحمہ اﷲ تعالٰی نے اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ جیسا کہ دُرِمختار میں بیان کیاگیا ہے۔(ت)
خود تصانیفِ امام محمد میں جابجا عدم جواز مصرح آثار میں فرماتے ہیں یہی مذہب ہمارا مختار اور اسی پر عامہ حدیث و اخبار وارد ، اور فرمایا ایک جماعتِ صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین قرأتِ مقتدی کو مفسدِ نماز کہتی ہے اور قوی الدلیلین پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔
مؤطا میں بہت آثار روایت فرمائے جن سے عدمِ جوازثابت
( یہ بات شیخ محقق حضرت مولانا عبدالحق دہلوی قدس اﷲ تعالٰی سرہ نے اشعۃ اللمعات میں کہی ہے۔ت) باایں ہمہ خلاف تصریحات امام ایک روایت مرجوجہ مجروحہ سے نماز سری میں جواز خواہ استحباب قرأت اُن کا مذہب ٹھہرانا اور فقہ حنفی میں اس کا وجود سمجھنا محض باطل و وہم عاطل ۔ہمارے علمائے مجتہدین بالاتفاق عدمِ جواز کے قائل ہیں اور یہی مذہب جمہور صحابہ و تابعین کا ہے حتّی کہ صاحب ہدایہ امام علامہ برہان الملۃ والدین مرغینانی رحمہ اﷲ تعالٰی نے دعوٰیِ اجماعِ صحابہ کیا ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔احادیث و آثار کہ اس باب میں وارد بیحد وشمار، یہاں خوفِ طوالتِ بیان بعض پر اقتصار:
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں سیّدنا ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذ صلّیتم فاقیمواصفوفکم ثم لیؤمکم احدکم فاذاکبر فکبر واواذاقرأفانصتوا ۱؎۔
یعنی جب تم نماز پڑھو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر تم میں کوئی امامت کرے و ہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تم چپ رہو۔
یعنی امام تو اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے پس جب وہ تکبیرکہے تو تم بھی کہو اورجب قرأت کرے خاموش رہو ۔یہ نسائی کے الفاظ ہیں ۔
امام مسلم بن حجاج نیشاپوری رحمہ اﷲ تعالٰی اپنی صحیح میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح ہے۔
حدیث ۳: ترمذی اپنی جامع میں سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲتعالٰی عنہما سے راوی :
من صلی رکعۃ لم یقرء فیھا بام القراٰن فلم یصل الا ان یکون وراء الامام ۲؎ ۔
یعنی جو کوئی رکعت بے سورہ فاتحہ کے پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی مگر جب امام کے پیچھے ہو۔
ھکذا رواہ مالک فی مؤطاہ مو قو فا
(اسی طرح اس حدیث کوامام مالک نے مؤطا میں موفوقاً روایت کیا ہے ۔ت) اور امام ابو جعفر احمد بن سلامہ طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے معانی الآثار میں اسے ورایت کیا اور ارشادات سیدمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے قرار دیا، وا ﷲ تعالٰی اعلم ۔حافظ ابو عیسٰی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی ترک القرأۃ خلف الامام اذا جہر بالقرأۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱/ ۴۲)
سیدنا امام الائمہ مالک الازمہ سراج الاُمہ کاشف الغُمہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو فی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن مقلدیہ باحسان روایت فرماتے ہیں:
حدیث ۴: حدثنا ابوالحسن موسٰی بن ابی عائشۃ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ ۳؎ ۔
یعنی حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا ہے۔
(۳؎ مسند الامام الاعظم کفایۃ قرأۃ الامام للماموم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۶۱)
فقیر کہتا ہے یہ حدیث صحیح ہے رجال اس کے سب رجال صحاح ستّہ ہیں۔
ورواہ محمد ھکذامرفوعا من طریق اٰخر
(اس کو امام محمد نے مرفوعا دوسری سند سے روایت کیا ہے۔ت) حاصل حدیث کا یہ ہے کہ مقتدی کو پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں امام کا پڑھنا کفایت کرتا ہے ۔
ھکذا روی عند محمد رحمہ اﷲ تعالٰی مختصراورواہ الامام تارۃ اخری مستوعبا۔