Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
58 - 185
مسئلہ نمبر ۴۴۷: از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گوتاباور ریلوے ڈاک خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب، محرر منشی محمدامین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور    ۴رمضان المبارک ۱۳۲۵ھ

بخدمت فیض درجت مولٰینا و مرشد نا مولوی احمد رضاخان صاحب دام اقبالہ، السلام علیک واضح رائے شریف ہو کہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظر توجہ بزرگانہ جواب سے معزز فرمایا جاؤں ۔وظیفہ یا درود شریف بلند پڑھنا درست ہے یا نہیں ان معاملات میں کچھ شبہ ہے اور کچھ دلیل بھی ہوئی ہے لہذا دریافت کی ضرورت ہوئی۔
الجواب

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ۔ درود شریف خواہ کوئی وظیفہ بآواز نہ پڑھا جائے جبکہ اُس کے باعث کسی نمازی یا سوتے مریض کی ایذا ہو یا ریا آنے کا اندیشہ اور اگر کوئی محذورنہ موجود ہو نہ مظنون تو عندالتحقیق کوئی حرج نہیں تاہم اخفا افضل ہے
لما فی الحدیث خیر الذکر الخفی ۲؎
 (جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ذکر خفی بہتر ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    از مسند سعد بن ابی وقاص         مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۱/ ۱۷۲-۱۸۰-۱۸۷)
مسئلہ نمبر۴۴۸: از میرٹھ دفتر طلسمی پریس مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادھر کے لوگ صبح اورعصر میں بعد سلام ،اول تسبیحات پڑھ کر دعا مانگتے اور وہاں بعد سلام فوراً دعا ، ان میں کون سا طریقہ سنّت ہے اور کیا ثبوت ہے؟
الجواب

نماز کے بعد دُعا ثابت ہے اور تسبیح حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا بھی صحیح حدیثوں میں آئی ہے۔صبح اور عصر کے بعد سنّتیں نہیں ان کے بعد ذکر طویل کا موقع ہے مگر مسلمانوں میں رسم یہ پڑ گئی ہے اور ضرور محمود ہے کہ بعد سلام امام کے ساتھ دُعا مانگتے ہیں اور اگر وُہ دعا میں دیر کرے منتظر رہتے ہیں ، ان کے ساتھ دعا مانگنے کے بعد متفرق ہوتے ہیں ا س حالت میں تسبیحات کی تقدیم اگر خوب تحقیق ثابت ہو کہ اُن میں کسی ایک فرد پر بھی ثقیل نہ ہوگی تو کچھ حرج نہیں ورنہ یہی بہتر ہے کہ خفیف دعا مانگ کر فارغ کردے پھر جس کے جی میں آئے تسبیحات میں شامل رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۴۹: از راموچکما کوں ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ     مرسلہ سید مفیض الرحمان    ۱۰ جمادی الاخری ۱۳۲۶ھ

درود شریف بالجہر پڑھنا جائز ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی مطلقاً ناجائز ہے یا جواز مع الکراہت اور کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی؟
الجواب

درود شریف ذکر ہے ذکر بالجہر جائز ہے جبکہ نہ ریاء ہو نہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے کی ایذا نہ کسی اور مصلحت شرعیہ کا خلاف ، یونہی درود شریف جہراً جائز و مستحب ہے جس کے جواز پر دلیل اجماع کہ قرأت حدیث و ذکر نامِ اقدس میں سلفاً خلفاً تمام ائمہ و علماء و مسلمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اُسی آوز سے کہتے ہیں جتنی آواز سے قرأت حدیث وکلام کر رہے ہیں اور یہ جہر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۴۵۰: از بریلی محلہ بہاری پور جناب نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب     ۴ صفر المظفر ۱۳۳۰ھ

جس فرض کے بعد سنّت ہے اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا بغیر مناجات کے سنّت ادا کرکے یا مختصر مناجات کے بعد سنّت شروع کرے؟ دلیل حدیث یا فقہ کی کتاب سے مع عبارت ہونی چاہئے مع نشان باب و نام کتاب۔ بینوا توجروا۔
الجواب

جائز و درست تو مطلقاً ہے مگر فصل طویل مکروہ تنزیہی و خلافِ اولٰی ہے اور فصل قلیل میں اصلاً حرج نہیں ، دُرمختار فصل صفۃ الصلوٰۃ میں ہے:
یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ وقال الحلوانی لاباس بالفصل بالا وراد واختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت وفی حفظی حملہ علی القلیلۃ ۱؎۔
سنّتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے مگر اللھم انت اسلام الخ کی مقدار۔حلوانی نے کہا اوراد اور دعاؤں کی وجہ سے فصل(وقفہ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تواختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اورادِ قلیلہ پر محمول کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار        باب صفۃ الصّلوٰۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/ ۷۹)
فتح القدیر میں ہے:
قول الحلوانی لاباس الخ والمشھور فی ھذہ العبارۃ کون خلافہ اولی فکان معناھا ان الاولی ان لا یقرأ ای الاوراد قبل السنۃ ولو فعل لا باس۲؎ اھ مختصرا نقلہ الشامی ثم قال وتبعہ علی ذلک تلمیذہ فی الحلیۃ وقال فتحمل الکراھۃ فی قول البقالی علی التنزیھیۃ لعدم دلیل التحریمیۃ حتی لوصلاھا بعد الاورادتقع سنۃ مؤادۃ لکن لافی وقتھا المسنون۳؎۔
حلوانی کا قول لا باس الخ(دعاؤں کی وجہ سے فصل (وقفہ) میں کوئی حرج نہیں) اس عبارت میں مشہور ہے کہ اس کا خلاف اولٰی ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ سنّت سے پہلے (اوراد کا) نہ پڑھنا اولٰی ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس میں حرج نہیں اھ اختصاراً ۔ شامی نے اس کو نقل کرکے اس کے بعد فرمایا حلیہ میں ان کے شاگرد نے ان کی اتباع کی اور کہا مکروہ تحریمی پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بقالی کے قول میں کراہت کو کراہت تنزیہی پرمحمول کیا جائے گا۔حتٰی کہ اگر کسی شخص نے اوراد کے بعد سنّتیں ادا کیں تو وہ ادا ہی ہونگی البتہ وقت مسنون میں ادا نہیں ہوئیں(ت)
 (۲؎ فتح القدیر        باب النوافل             مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر        ۱/ ۳۸۴)

(۳؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۹۲)
ردالمحتار میں ہے:
مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقعد الابمقدر ارما یقول اللھم انت السلام الخ قال وقول عائشۃ بمقدار لا یفیدانہ کان یقول ذلک بعینہ بل کان یقعد بقدر مایسعہ و نحوہ من القول تقریبا فلا ینافی فی الصحیحین من انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقول دبر کل مکتوبۃ لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد وتمامہ فی شرح المنیۃ وکذافی الفتح من الوتر والنوافل ۱؎ اھ مختصرا۔
مسلم اورترمذی نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (نماز فرض کے بعد) اللھم انت السلام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے ۔شامی نے کہاکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے قول کی مقدار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت میں بعینہٖ یہی کلمات جس میں تقریباً یہی دُعا یا اسی طرح کی کوئی دوسری دعا پڑھی جاسکتی تھی ۔لہذا ان کا یہ قول بخاری ومسلم کی اس روایت کے منافی نہ ہوگا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دُعا پڑھتے :
لا الٰہ الّا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد
 (اﷲکے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لا شریک ہے، ملک اس کا، حمد اس کی، اور وہ ہر شے پر قادر ہے، اے اﷲ! تیری عطا میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، جو تُو نہ دے وہ کوئی اور دے نہیں سکتا اور کسی کو اسکا بخت و دولت تیرے قہر و عذاب سے بچا نہیں سکتا) اس کی تفصیل شرح المنیہ اور اسی طرح فتح القدیر کے باب الوتر والنوافل میں ہے اھ اختصاراً (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۳۹۱)
غنیہ میں ہے:
وکذا ماروی مسلم و غیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا سلم من صلٰوتہ قال بصوتہ الاعلی لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ ولا نعبد الا ایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل ولہ الثناء الحسن لا الٰہ الّا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ الکافرون لان المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید قد یسع کل واحد من نحو ھذہ الازکار لعدم التفاوت الکثیرۃ بینھا ۱؎الخ
اسی طرح وُہ حدیث (یعنی حضرت عائشہ کاقول اس حدیث کے بھی منافی نہیں) ہے جس کو مسلم وغیرہ نےحضرت عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے: اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں سلطنت اسی کی، حمد اسی کے لئے ،اور وہ ہر شے پر قادر ہے ، برائی سے پھیرنا نیکی کی طاقت دینا یہ اﷲ کی طاقت و قدرت میں ہے ہم اسکے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے نعمت و فضل اسی کے لئے ، ثناء  جمیل اسی کی ہے، اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ، خالص کرنے والے ہیں (اس کے لئے دین کو اگرچہ کافر اسے ناپسند کریں کیونکہ مقدار مذکور تقریبی اعتبار سے ہے نہ کہ تحدیدی اعتبار سے، اس مقدار میں ان اذکار میں سے ہر ایک پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے درمیان زیادہ تفاوت نہیں الخ(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی        باب صفۃ الصلوٰۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۴۲)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں ہے:
با ید دانست آنست کہ تقدیم روایت منافی نیست بعدیتے راکہ درباب بعض ادعیہ و اذکار دراحادیث واقع شدہ است ، کہ بخواند بعد از نمازِفجر و مغرب دہ بار لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کل شیئ قدیر ۲؎(مختصراً)
یہاں اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ تقدیم روایت بعدیت روایت کے منافی نہیں کیونکہ بعض دعاؤں اور اذکار کے بارے میں احادیث موجود ہیں ایک روایت میں ہے کہ نمازِ فجر اور مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے جائیں : اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں و ہ یکتا ہے ذات و صفات میں اسکا کوئی شریک نہیں ، سلطنت اسی کی ہے، حمد اسی کی ہے اور وہ ہر شے پرقادر ہے۔(مختصراً)۔(ت)

یہاں سے ظاہر ہوا کہ آیۃ الکرسی یا فرض مغرب کے بعد ۱۰دس بار کلمہ توحید پڑھنا فصلِ قلیل ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ   الفصل الاول من باب الذکر بعد الصلوٰۃ  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۴۱۸)
Flag Counter