Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
57 - 185
علامہ زرقانی درشرح مواہب لدنیہ فرماید ھو الصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال۳؂۔
علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا یہی صحیح ہے کیونکہ اس پرجلال الدین نے اقتصار کیا اور انہوں نے مختار و راجح قول کے ذکر کا التزام کر رکھا ہے۔(ت)
 (۳؎ شرح المواہب اللدنیہ للزرقانی    المقصد الثانی کنیۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم   دارالمعرفۃ بیروت   ۳/ ۱۷۱)
حدیث اوّل: مسلم ،ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابن ماجہ و احمدودارمی و بزار و طبرانی و ابن السنی ہر ہمہ ازثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ مولائے اقدس سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم روایت کنند قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا انصرف من صلاتہ استغفر ثلاثا وقال اللھم انت السلام تبارکت یا ذاالجلال ولاکرام ۱؎ یعنی چوں سید المرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین از نماز برگشتے وسلام دادے سہ بار  ازحق سبحانہ، وتعالٰی مغفرت خواستے وایں دُعا گفتے خدایا توئی سلام (کہ ہیچ عیب و نقصے راگرد سراپردہ عزوجلال تو بازنیست) وازتست سلام (کہ سلامت ما بندگان ازہمہ آفات و بلیات ہمیں بقدرت و ارادت و لطف رحمت تست) برکت و عظمت مراتست اے صاحبِ بزرگی و بزرگی دہے یا رب مگر ایں حدیث در صحاح مشہور و متداول نیست یا از خداطلب مغفرت و سوال سلامت دعا نباشد آرے جہل بلائیست نہ سہل وچوں مرکب شود دوائے ندارد والعیاذ باﷲ تبارک وتعالٰی۔
پہلی حدیث: مسلم ، ابوداؤد ،ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ، احمد، دارمی، براز، طبرانی اور ابن السنی ان تمام نے حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ خادم رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب حضور سید المرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین نماز سے رُخ انور پھیرتے (سلام کہتے) تو تین دفعہ اﷲ تعالٰی سے استغفار کرتے اور یہ دعا کرتے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذاالجلال والاکرام   اے اﷲ! تُو سلام ہے (یعنی تیری ذات جل مجدہ کی طرف کوئی عیب یا نقص راہ نہیں پاسکتا) اور تیری طرف سے سلام (کہ ہم بندوں کی تمام مصیبتوں اور بلیات سے سلامتی تیری قدرت، ارادے، مہربانی اور کرم سے ہے) برکت وعظمت تیرے ہی لئے ہے اے صاحبِ بزرگی اور بزرگی عطافرمانے والے یارب۔ کیا یہ حدیث صحاح میں مشہور و متداول نہیں یا مغفرت کی طلب اور سلامتی کا سوال دعا نہیں ہوتا ۔ جہالت ایسی مرض ہے کہ اس کا علاج آسان نہیں اور جب یہ مرکب ہو جائے تو اس کا کوئی علاج ہی نہیں والعیاذ باﷲ تبرک و تعالٰی۔(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     باب مایقول اذاسلم        مطبوعہ امین کمپنی دہلی        ۱/ ۴۰

صحیح مسلم   باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۱۸)
حدیث دوم و سوم و چہارم: بخاری و مسلم و ابوداؤد و نسائی و ابوبکر ابن السنی و ابوالقاسم طبرانی از مغیرہ ابن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ و بزار و طبرانی از عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما و نیز بزار ازجابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت کنند وھذا حدیث المغیرۃ واللفظ للنسائی قال کتب معویۃ الی مغیرۃ بن شعبۃ اخبرنی بشیئ سمعتہ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذاقضی الصلاۃ قال لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علٰی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد ۱؎۔ یعنی امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مر مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ را نوشت کہ مہراآگہی دہ بچیزے باشی مغیرہ گفت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چوں نماز ختم نمودے چناں فرمودے ہیچکس سزائے پرستش نیست جز خدائے یکتائے بے ہمتا، مراد راست پادشاہی و مراد راست ستائش واوبر ہر چہ کہ خواہد تواناست خدایا ہیچ بازدارندہ نیست چیزے را کہ تو دہی وہیچ دہندہ نیست چیزے را کہ تو بازداری وسود ندہد خداوند بخت ودولت رااز قہر و عذاب توآں بخت و دولتش، اللھم لامانع لما اعطیت الخ اگر دعا نیست آخر چیست بلکہ لہ الحمد خودبہترین دعاست ترمذی و نسائی و ابن حبان و حاکم اول بتحسین و آخر بتصحیح از جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما آوردند کہ سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ افضل ذکر لا الٰہ الا اﷲ و افضل الدعاء الحمد ﷲ ۲؎۔بہترین ذکر لا الٰہ الا اﷲ و بہترین دعا الحمدﷲ گفتن ست۔
حدیث دوسری ، تیسری اور چوتھی : بخاری، مسلم ، ابو داؤد، نسائی، ابوبکر ابن السنی، اور ابوالقاسم طبرانی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور بزار و طبرانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے نیز بزار نے حضرت جابر بن عبداﷲانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے بھی روایت کیا ہے یہ حدیث مغیرہ کی اور الفاظ نسائی کے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ مجھے اس بات سے آگاہ کرو جو تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنی ہو ، انھوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ پڑھتے
لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شئی قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولاینفع ذاالجدمنک الجد
 (اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا و یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ملک و بادشاہی اور حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شئی پر قادر ہے اے اﷲ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا ،جسے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا کسی کا بخت ودولت تیرے قہر و غضب سے اسے نفع نہیں دے سکتا اللھم لا مانع لما اعطیت الخ یہ کلماتِ دُعا نہیں تو کیا ہیں؟ بلکہ لہ الحمد خود بہترین دعا ہے ۔ ترمذی ،نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اول بطور تحسین اور آخری بطور تصحیح حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل ذکر لا الہ الااﷲ ہے اور سب سے افضل دُعاالحمدﷲ کہنا ہے ۔(ت)
 (۱؎ سنن نسائی         نوع آخر من القول عند انقضاء الصلوٰۃ        مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱/ ۱۵۷)

(۲؎ جامع الترمذی    باب ماجاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ       مطبوعہ امین کمپنی دہلی        ۲/ ۱۷۴)
حدیث پنجم: در سنن نسائی از عطاء ابن ابی مروان از پدرش مروی ست ان کعبا حلف باﷲ الذی فلق البحر لموسی انالنجد فی التوراۃ ان داؤد نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان اذا انصرف من صلاتہ قال اللھم اصلح لی دینی الذی جعلتہ لی عصمۃ واصلح لی دنیای التی جعلت فیھا معاشی اللھم انی اعوذ برضاک من سخطک واعوذیعنی بعفوک من نقمتک واعوذبک منک لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد قال وحدثنی کعب ان صھیبا حدثہ ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقولھن عند انصرافہ  من صلٰوتہ ۱؎یعنی کعب! احبار پیش ابی مروان بحلف گفت کہ سوگند بخدا ئیکہ دریارا بہر موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام شگافت ہر آئینہ ما بتورایت مقدس می یا بیم کہ داؤد نبی اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام چوں ازنماز برگشتے ایں دعا کردے الہٰی بیارا بہرمن دین مرا او راہ  پناہ من کردہ و بیارا بہر من دنیائے مراکہ دروسامان زندگی من نہادہ خدا یا پناہ می برم بخوشنودی تواز خشم تو و پناہ مے برم (واینجا کلمہ گفت کہ معنیش چنین باشد) بہ درگزر شتن تواز سخت گرفتن تو و پناہ می برم بتواز تو ہیچ باز دراندہ نیست دادہ تراونہ دہندہ باز داشتہ وسود نکند بختور را ازتو بخت اوابومروان گوید کعب بمن حدیث گفت کہ صہیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ او را تحدیث کردو خبرداد کہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نیز ایں دعا برگشتن ازنماز مے کرد۔
پانچویں حدیث: سنن نسائی میں عطاء بن مروان سے ان کے والد گرامی کے حوالے سے مروی ہے کہ حضرت کعب احبار نے ابومروان کے سامنے قسم اُٹھائی اس اﷲ کی قسم جس نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے سمندر کو پھاڑ دیا کہ یقینا ہم نے تورات مقدس میں یہ تحریر پائی ہے کہ اﷲ کے نبی حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
اللھم اصلح لی دینی الذی جعلتہ لی عصمۃ واصلح لی دنیای التی جعلت فیھا معاشی اللھم انی اعوذ برضاک من سخطک و اعوذ یعنی بعفوک من نقمتک و اعوذبک منک لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منک الجد
 (اے اﷲ! میرے دین کو میرے لئے بہتر بنا جسے تونے میرے لئے محافظ بنایا ہے اور میرے لئے اس دنیا کو بہتر فرما جس کو تُو نے میری معاش کا ذریعہ بنایا ہے ، اے اﷲ! میں تیری رضا کے ساتھ تیرے غضب سے پناہ مانگتا ہوں اور میں (اس جگہ جو کلمہ کہا ہے اس کا معنی یہ بنتا ہے) اے اﷲ! تیری معافی کے ساتھ تیری سخت گرفت  سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری ذات کے ساتھ تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ، تیری عطا کو کوئی روک نہیں سکتا اورجسے تو روکے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور  کسی بختاور کو اسکا بخت تجھ سے نفع نہیں دے سکتا اور پھر حضرت ابو مروان نے کہا کعب نے مجھے حدیث بیان کہ صہیب نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم  صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔(ت)
 (۱؎ سنن النسائی    نوع آخر من الدعاء عندالانصراف من الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ        ۱/ ۱۵۸)
حدیث ششم : درصحیح مسلم از براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہماروایت است گفت کنا اذا صلینا خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، احببنا ان نکون عن یمینہ یقبل علینا بوجہہ قال فسمعتہ یقول رب قنی عذابک یوم تبعث او تجمع عبادک۱؎ ۔ بو دیم کہ چوں پس نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نماز می گزاردیم دوست می دا شتیم کہ از دست راست او باشیم تاپس از سلام دادن روئے مبارک بسوئے ماکند پس شنیدم اور راکہ مے گفت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اے پروردگارِ من نگاہدار مراازعذاب خودت روزیکہ برانگیزی یا فرمودگرد آری بندگان خودرا۔
چھٹی حدیث :صحیح مسلم میں حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب ہم نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہمیں آپ کے دائیں طرف کھڑا ہونا زیادہ محبوب ہوتا تھا تاکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سلام کے بعد چہرہ انور ہماری طرف پھیریں ، کہا پھر میں نے آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا
رب قنی عذابک یوم تبعث او تجمع عبادک
(اے میرے رب! مجھے اپنے اس دن کے عذاب سے محفوظ فرما جس دن تو اپنے تمام بندوں کو اُٹھائے گا یا جمع کرے گا)۔(ت)
 (۱؎ الصحیح المسلم  باب جواز الانصراف من الصلوٰۃ عن الیمین والشمال  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۴۷)
حدیث ہفتم : بزار در مسند و طبرانی درمعجم اوسط و ابن السنی در کتاب عمل الیوم واللیلۃ و خطیب بغدادی درتاریخ از انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت دارند کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا صلی وفرغ من صلٰوتہ مسح بیمینہ علی رأسہ وقال بسم اﷲ الذی لا الٰہ الاھو الرحمٰن الرحیم اللھم اذھب عنی الھم والحزن ۲؎۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چوں از نماز فارغ شدے دست راست بر سر مبارک خودش سودے وایں دعا نمودےبنام خدائیکہ جزا و ہیچکس سزائے پرستیدن نیست بخشائندہ مہربان خدایا پریشانی و غم از من دو رکن،
ساتویں حدیث: بزار نے مسند ،طبرانی نے معجم اوسط ،ابن السنی نے تاریخ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے سر پر پھیرتے اور پڑھتے بسم اﷲ الذی لا الٰہ الا ھو الرحمٰن الرحیم اللھم اذھب عنی الھم والحزن(اﷲ کے نام سے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ رحمٰن و رحیم ہے اے اﷲ مجھ سے غم و حزن دُور فرما دے) ۔
 (۲؎ تاریخ بغداد للخطیب     باب الکاف عن اسمہ کثیر حدیث ۶۹۵۳        دارالکتاب العربیۃ بیروت        ۱۲/ ۴۸۰)
طرفہ تر آنکہ ایں ہوشمندان را از قول امام وقت و مجتہد العصر و صاحب الزمان خودشاں خبرے نیست تا بدرک احادیث و ادراک دلائل چہ رسد مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نہ ہمیں در ثبوت دعا بلکہ در اثبات رفع یدین از برائے دعا بعد از نماز فتوائے نوشت امام ایناں میاں نذیر حسین دہلوی کہ بر قولش ایمان آوردہ ائمہ دین خدا را بجوئے نشمر ند و فقہ و فقہارا دشنام دہند تصدیق و تائید اوکر حدثیے مجیب لکھنوی اوردہ بو حدیثے دگر ایں کس افزود، فتوی اینست۔ چہ می فرمایند علما ئے دین اندریں مسئلہ کہ رفع یدین در دُعا بعد نماز چنانکہ معمول ائمہ دیاراست ہر چند فقہا مستحسن می نو سند و احادیث در مطلق رفع یدین در دعا نیز وارد، دریں خصوص ہم حدیثے واردست یا نہ بینوا توجروا۔ھو المصوب دریں خصوص نیز حدیثے واردست حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق ابن السنی درکتاب عمل الیوم واللیلہ مے نویسند، حدثنی احمد بن الحسن حدثنا ابو یعقوب اسحاق بن خالد بن یزید البالسی حدثنا عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن القرشی عن خصیف عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، انہ قال مامن عبدبسط کفیہ فی دبر کل صلٰوۃ ثم یقول اللھم الھی والہ ابراہیم و اسحٰق و یعقوب والہ جبرئیل ومیکائیل و اسرافیل علیہم السلام اسئلک ان تستجیب دعوتی فانی مضطر ، وتعصمنی فی دینی فانی مبتلی، و تنالی برحمتک فانی مذنب ، وتتقی عن الفقر، فانی متمسکن ،الاکان حقا علی اﷲ عزّوجل ان لا یردیدیہ خائبتین ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم (ابوالحسنات محمد عبدا  حی)۔
اور طرفہ تر یہ کہ ان عقلمندوں کو اپنے امام وقت اپنے دور اور زمانے کے مجتہد کی خبر تک نہیں چہ جائیکہ یہ 

احادیث اور دلائل سے آگاہ ہوسکیں مولوی عبدالحی لکھنوی نے صرف ثبوتِ دعا ہی نہیں بلکہ نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنے پر فتوٰی جاری کیا ان کے امام میاں نذیر حسین دہلوی (جن کے قول پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دینِ الہٰی کے ائمہ کو کسی شمار میں نہیں لاتا ،فقہ اور فقہا کو گالیاں دیتا ہے) انھوں نے فتوٰی میں مجیب لکھنوی کی حدیث لاکر لکھنوی کی تائید و تصدیق کی ہے دوسری حدیث کا اس نے خود اضافہ کیا ہے، وہ فتوٰی یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا نا جس کا اس علاقے کے ائمہ میں معمول ہے کیسا ہے؟ اگر چہ فقہا نے اسے مستحسن لکھا اور مطلق ہاتھ اُٹھانے اور دعا میں روایات موجود ہیں کیا اس عمل خاص (رفع یدین ) پر بھی کوئی حدیث ہے؟ جواب عنایت کرو اجر پاؤ گے، وہی صواب کی توفیق دینے والا ہے ۔خاص اس بارے میں بھی حدیث موجود ہے۔ حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق ابن السنی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں لکھا ہے مجھے احمد بن حسن نے انھیں ابو یعقوب اسحاق بن خالد بن یزید البالسی نے انھیں عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی نے خصیف سے انھوں نےحضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی ہر نماز کے بعد دعاکیلئے ہاتھ پھیلائے اور عرض کیا اے اﷲ میرے معبود! اے ابراہیم ،اسحٰق، اور یعقوب کے معبود! اے جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) کے معبود! میری عرض ہےکہ میری دُعا قبول فرما  کہ پریشان ہوں میری دین میں حفاظت فرما میں ابتلاء میں ہوں مجھے اپنی رحمت سے نواز میں گنہگار ہوں مجھ سے میرے فقر کو دور فرما میں مسکین ہوں ۔تو اﷲ تعالٰی نے اپنے ذمہ کرم لیا ہے کہ اسکے ہاتھ خالی نہیں لوٹا ئیگا ، وﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ کتاب عمل الیوم واللیلۃ  باب مایقول فی دبر الصلوٰۃ  مطبو عہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن   ۱/ ۳۸)
6_11_1.jpg
حاصل ایں حدیث کہ حدیث ہشتم : باشد آنست کہ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امت را دعائے می آموزدکہ ہر کہ بعد ہر نماز ہر دودست خود برداشتہ ایں دُعاکند بر حضرت جل وعلا حق باشد  دستہائے او را نومید باز نہ گرداند بازتصدیق امام الطائفہ خود بینیدمی سراید الجواب صحیح و یؤیدہ مارواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی المصنف عن الاسود العامری عن ابیہ قال صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف ورفع یدیہ ودعا الحدیث۲؎ فثبت بعد الصلٰوۃ المفروضۃ رفع الیدین فی الدعاء عن السیدالانبیا و اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما لا یخفی عن العلماء الاذکیا (سید محمد نذیر حسین)
آٹھویں حدیث: آٹھویں حدیث  کا حاصل یہ ہے کہ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے امّت کو عملاً دعا کی تعلیم دی ہے اور فرمایا ''جو شخص اس طرح ہاتھ باندھ کر بعدِ نماز دُعا کرے گا اﷲ تعالٰی جل و علانے اپنے ذمہ کرم میں لیا ہے کہ اُسے ناامید نہیں لوٹا ئے گا'' ۔پھر اپنے امام کی تصدیق ہی دیکھ لیتے تو بات واضح ہوجاتی، وہ کہتے ہیں یہ جواب صحیح ہے اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے۔_______جسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں اسود عامری سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی جب آپ نے سلام کہا ،رُخ  انورپھیرا ، ہاتھ اٹھائے اور دعا کی (الحدیث) اس حدیث کے متعلق ان کا امام کہتا ہے کہ اس سے فرض نماز کے بعد دُعا میں ہاتھ اُٹھانا خود سید الانبیاء اسوۃ الاتقیا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسا کہ علما ءِ اذکیا پر مخفی نہیں ۔
6_11_3.jpg
 (۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ    من کان یستحب اذاسلم ان یقوم او ینحرف الخ     مطبوعہ ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ کراچی        ۱/ ۳۰۲)
میں کہتا ہوں مگر تمھارے مجتہدوں کی بیماری کا علاج کیا ہو سکتا ہے ! تمام تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے جو اہل سنت کو لڑائی کے لئے کافی ہے میں نے سات احادیث کا وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کردیا ،اس لئے کہ سات کا عدد افضل اعداد میں سے ہے اور مذکورہ فتوٰی کے حوالے سے دو احادیث کا مزید ذکر آگیا  اب میں چاہوں گا کہ ایک اور حدیث کا ذکر کردوں تاکہ اس ساتھ ''تلک عشرۃ کاملۃ''کا عدد مکمل ہوجائے وباﷲ التوفیق۔(ت)
حدیث دہم:امام احمد در مسند و نسائی در مجتبیٰ و ابن حبان در صحیح از حارث بن مسلم و ابوداؤد در سنن از پدرش مسلم بن حارث رضی اﷲ عنہ وھوالصواب کما افاد الحافظ المنذری فی الترغیب روایت کنند سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مراو رافرموداذا صلیت الصبح فقل قبل ان تتکلم احدا من الناس، اللھم اجرنی من النار سبع مرات، فانک ان مت من یومک ذلک کتب اﷲ لک جوارا من النار واذا صلیت المغرب فقل قبل ان تکلم احدا من الناس اللھم اجرنی من النار سبع مرات فانک ان مت لیلتک کتب اﷲ لک جوارا من النار ۱؎چوں نمازبا مداد اد اکنی پیش ازآنکہ با کسے سخن گوئی ہفت بارایں دعا کن خدا یا مرا از دوزخ پناہ دہ کہ اگرآں روز میری حق جل وعلا برائے تو پناہ از دوزخ نویسد وچوں نماز شام گزاری ہمچناں کن اگرآں شب میری ہمچناں شوداللھم اجرنا من النار برحمتک یا عزیز یاغفار وصلی اﷲ تعالٰی علی نبیہ المختار واٰلہ الاطھار وبارک وسلم ۔ واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم ۔
دسویں حدیث: امام احمد نے مسند ،نسائی نے مجتبٰی ،ابن حبان،صحیح میں حارث بن مسلم سے ابو داؤد نے سنن میں اس کے والد حارث بن مسلم رضی اﷲ عنہ سے (اور یہی صواب ہے جیسا کہ حافظ منذری نے ترغیب میں ذکر کیا ہے) روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ''جب تم فجر کی نماز ادا کرلو تو لوگوں سے ہمکلام ہونے سے پہلے سات۷ مرتبہ یہ دُعا پڑھو اللھم اجرنی من النار (اے اﷲ! مجھے دوزخ کی آگ سے آزاد فرما) اب اگر تو اس دن فوت ہو گیا تو اﷲ تعالٰی تجھے جہنّم سے آزادی عطافرمائے گا اور جب مغرب کی نماز پڑھ لو تو لوگوں سے گفتگو سے پہلے سات دفعہ یہ دعا پڑھ لو اللھم اجرنی من النار(اے اﷲ!مجھے جہنم کی آگ سے بچالے ) اگر اس رات تجھے موت آگئی تو اﷲ تعالٰی تجھے جہنم سے آزادی عطا فرمائے گاــ'' اے اﷲ! ہمیں بھی اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے آزاد فرما یا عزیز یا غفار وصلی اﷲ تعالٰی علی نبیہ المختار واٰلہ الاطھار وبارک وسلم ۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ سنن ابو داؤد     باب مایقول اذ اصبح   مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۳۷

الترغیب والترہیب    فی اذکار الخ             مطبوعہ مصطفی البابی مصر            ۱/ ۳۰۴)
Flag Counter