مسئلہ نمبر ۴۴۴: از رام نگرضلع نینی تال عنایت اﷲ خان ڈپٹی پوسٹ ماسٹر ۲۶ ذیقعد ۱۳۱۲ھ
قبلہ و کعبہ دارین ودام ظلکم! کلمہ طیبہ شریف جب ورد کرکے پڑھا جائے تو اس میں کلمہ پر جب نام نامی حضور اقدس (صلعم) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا آوے درود پڑھنا چاہئے یا ایک مرتبہ جبکہ جلسہ ختم کرے؟ بینوا توجروا۔
الجواب
جوابِ مسئلہ سے پہلے ایک بہت ضروری مسئلہ معلوم کیجئے سوال میں نامِ پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ بجائے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (صلعم) لکھا ہے ۔یہ جہالت آج کل بہت جلد بازوں میں رائج ہے۔ کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی عم کوئی ص، اور یہ سب بیہودہ و مکروہ و سخت ناپسند وموجب محرومی شدید ہے اس سے بہت سخت احتراز چاہیئے اگر تحریر میں ہزار جگہ نامِ پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آئے ہر جگہ پورا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکھا جائے ہرگز ہر گز کہیں صلعم وغیرہ نہ ہو علماء نے اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے یہاں تک کہ بعض کتابوں میں تو بہت اشد حکم لکھ دیا ہے۔علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں فرماتے ہیں:
ویکرہ الرمز بالصلٰوۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ وفی بعض المواضع من التتار خانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف و تخفیف الانبیاء کفربلاشک ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصد والافالظاھر انہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفرابعد تسلیم کونہ مذھباً مختارا محلہ اذاکان اللزوم بَیّناً نعم الاحتیاط فی الاحتزار عن الایھام و الشبھۃ ۱؎۔
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جگہ (ص ) وغیرہ اور رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی جگہ (رض) لکھنا مکروہ ہے بلکہ اسے کامل طور پر لکھا پڑھا جائے تاتار خانیہ میں بعض جگہ پر ہے جس نے درود و سلام ہمزہ(ء) اور میم(م) کے ساتھ لکھا اس نے کفر کیا کیونکہ یہ عمل تخفیف ہے اور انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں یہ عمل بلا شبہ کفر ہے۔ اگر یہ قول صحت کے ساتھ منقول ہو تو یہ مقید ہوگا اس بات کے ساتھ کہ ایسا کرنے والا قصداً ایسا کرے ، ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر نہیں باقی لزومِ کفر سے کفر اس وقت ثابت ہوگا جب اسے مذہب مختار تسلیم کیاجائے اور اس کا محل وُہ ہوتا ہے جہاں لزوم بیان شدہ اور ظاہر ہو البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایہام اور شبہ سے احتزار کیا جائے۔(ت)
اب جوابِ مسئلہ لیجئے نامِ پاک حضور پُرنور سیّد ودعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت وعیدوں میں گرفتار ، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ اگرایک ہی جلسہ میں چند بار نامِ پاک لیا یا سُنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مستحب ہے، بہت علما قولِ اول کی طرف گئے ہیں ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑ ا گنہگار ہُوا مجتبٰی ودُرمختار وغیرہما میں اس قول کو مختار واضح کہا۔
فی الدرالمختار اختلف فی وجوبھا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والمختار تکرار الوجوب کلماذکر ولو ا تحد المجلس فی الاصح ۲؎ اھ بتلخیص ۔
دُمختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرناواجب ہے یا نہیں اصح مذہب پر مختارقول یہی ہے کہ ہر بار درودوسلام واجب ہے اگر چہ مجلس ایک ہی ہو اھ خلاصۃً(ت)
دیگر علمانے بنظر آسانیِ امت قولِ دوم اختیار کیا ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ایک بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کرے گا زیادہ کے ترک سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم و فضلِ جسیم سے بیشک محروم رہا، کافی وقنیہ وغیرہما میں اسی قول کی تصحیح کی۔
فی ردالمحتار صححہ الزاھدی فی المجتبٰی لکن صحح فی الکافی وجوب الصلٰوۃ مرۃ فی کل مجلس کسجود التلاوۃ للحرج الا انہ یندب تکرار الصلٰوۃ فی المجلس الواحد بخلاف السجود وفی القنیۃ قیل یکفی المجلس مرۃ کسجدۃ التلاوۃ و بہ یفتی وقد جزم بھذا القول المحقق ابن الھمام فی زادالفقیر۱؎ اھ ملتقطا۔،
ردالمحتار میں ہے کہ اسے زاہدی نے المجتبٰی میں صحیح قرار دیا ہے لیکن کافی میں ہر مجلس میں ایک ہی دفعہ درود کے وجوب کو صحیح کہا ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے تاکہ مشکل اور تنگی لازم نہ آئے، البتہ مجلس واحد میں تکرارِ درودمستحب ومندوب ہے بخلاف سجدہ تلاوت کے ۔قنیہ میں ہے ایک مجلس میں ایک ہی دفعہ درود پڑھنا کافی ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ابن ہمام نے زادالفقیر میں اسی قول پر جزم کیاہے اھ ملتقطا(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۸۱)
بہر حال مناسب یہی ہے کہ ہر بار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بالاتفاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں اور نہ کرنے میں بلا شبہ بڑے فضل سے محرومی اور ایک مذہب قوی پر گناہ ومعصیت عاقل کا کام نہیں کہ اُسے ترک کرے وباﷲ التوفیق۔
مسئلہ نمبر ۴۴۵:۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص وظیفہ پڑھتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ بینوا توجروا۔
الجواب
جو وظیفہ پڑھے اور نماز نہ پڑھے فاسق و فاجر مرتکب کبائر ہے اُس کا وظیفہ اس کے منہ پر مارا جائے گا، ایسوں ہی کوحدیث میں فرمایا :
کم من قارئ یقرأن والقراٰن یلعنہ ۲؎۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
بہتیرے قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن انھیں لعنت کرتا ہے۔
(۲؎ المدخل للعبدری الکلام علی جمع القرآن الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱/ ۸۵)
مسئلہ نمبر ۴۴۶: ازملک بنگالہ ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و بصلی علی رسولہ الکریم
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیانِ شرح متین اندریں مسئلہ کہ درملک بنگالہ یک گروہِ نوپیدا شدہ کہ آں راجہاں دومی گویندوایشاں یک شاخ غیر مقلدین اند لیکن ازاں طائفہ درچندامور زائد اندیکے اینکہ می گویند کہ بعد نماز مناجات خواستین درست نیست بلکہ نسبت بدعتش می کنند علم فقہ و اصول وغیرہ ایں قوم تسلیم نمی کنند بلکہ دشنام می دہند وفحش ناسزامی گویندومی کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم گاہے دعا نہ کردہ پس اگر ایشاں ازقرآن شریف و صحاح ستّہ استخراج مسائل کردہ فرستند نہایت خوب خواہد شد والسلام۔
علمائے دین و مفتیان شرع متین کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ بنگالہ کے علاقے میں ایک نیا گروہ پیدا ہوا ہے جنھیں جہادو کہا جاتا ہے یہ غیر مقلدین کی ایک شاخ ہی ہے لیکن چند امور میں ان سے آگے بڑھ گئے ایک یہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد دُعا کرنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے، یہ علمِ فقہ اور اصولِ فقہ وغیرہ کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے برا بھلا کہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی دعا نہیں کی اگر قرآن شریف وصحاح ستہ کے حوالے سے اس مسئلہ کے استخراج پر دلائل فراہم فرمائیں تو بہت خوب ہوگا۔والسلام
الجواب
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
حمدالک اللھم یاعظیم صل علی نبیک الکریم واٰلہ وصحبہ اولی التکریم و مجتھدی دینہ القویم اٰمین الحمد ﷲسلسلہ سخن دراست و در فیض الہٰی باز خامہ اگر بتفصیل گراید ہماناں نامہ گرد آدردن باید لا جرم ایک آیت وہفت حدیث بسند ومی نماید آیہ قال اﷲ عزّوجل
فاذافرغت فانصب الٰی ربک فارغب ۱؎۔
اے اﷲ! حمد تیری ہے، اے عظیم! اپنے کریم نبی پر رحمتیں نازل فرما ان کی صاحبِ شرف آل و اصحاب اور دینِ قویم کے مجتہدین پر بھی ،آمین ۔ الحمد ﷲ اگر اس پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم سے بات بڑی طویل ہوگی، بہرحال اس سلسلہ میں یہاں ایک آیت اور سات احادیث مع سند ذکر کی جائیں گی آیۃ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے : پس جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو اپنے ہی رب کی طرف رغبت کرو۔
(۱؎ القرآن ۹۴/ ۸)
قول ا صح در تفسیر آیۃ کریمہ قول سلطان المفسرین ا بن عم صلی اﷲ علیہ وسلم عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما ست کہ فراغ فراغ از نماز و نصب نصب دردُعاست یعنی چوں ازنماز فارغ شوی در دعا جہد و مشقت نما و بسوئے پروردگار خودبزاری و تضرع گرا فی تفسیر الجلالین فاذا فرغت من الصلٰوۃ فانصب اتعب فی الدعاء والٰی ربک فارغب۱؎ ہمدرد خطبہ ادست ھذا فی تکملۃ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجع الاقوال و ترک التطویل بذکرالاقوال غیر مرضیۃ ۲؎۔ اھ ملخصاً ۔
اس آیۃ کریمہ کی تفسیر میں راجح قول حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چچا زاد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا ہے کہ فراغ فراغ نماز و نصب نصب در دعاست یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا میں خوب محنت کرو اور بارگاہِ خداوندی میں آہ و زاری کے ساتھ رغبت کرو۔ جلالین کے خطبہ میں یہ بھی ہے کہ جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ انہی کے طریقہ پر ہے اور ان کا طریقہ یہ ہے کہ وُہ مختار و راجح پر اعتماد کرتے ہیں اور ایسے اقوال کا ذکر جو مختار نہ ہوں ،ترک کرتے ہیں اھ تلخیصاً ۔
(۱؎ تفسیر جلالین زیرآیۃ المذکور سورہ الم نشرح مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی حصہ دوم ص ۵۰۰)
(۲؎تفسیر جلالین خطبہ کتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی حصہ اول ص۲)