Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
55 - 185
اما ا بن النجار فاخرجہ من طریق محمد بن مھدی المروزی انبانا ابوبشر بن سیار الرقی حدثنا العباس بن کثیرالرقی عن یزید بن ابی حبیب قال قال لی مھدی بن میمون دخلت علی سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم وھویعتم فقال لی یا اباایوب الا احدثک بحدیث تحبہ وتحملہ وترویہ فذکرمثلہ وقال لا یزالون یصلون علی اصحاب العمائم حتی تغیب الشمس ۱؎ قال الحافظ فی اللسان ھذا حدیث منکر بل موضوع ولم ارللعباس بن کثیرذکرافی الغرباء لابن یونس ولا فی ذیلہ لابن الطحان واما ابو بشر بن سیار فلم یذکرہ ابواحمد الحاکم فی الکنی وماعرفت محمد بن مھدی المروزی ولا مھدی بن میمون الراوی لھذاالحدیث من سالم ولیس ھوالبصری المخرج فی الصحیحین وذاک یکنی ابایحیی ولاادری ممن الافۃ ۲؎ اھ
ابن نجار نے اسکی تخریج اس سند سے کی ہے کہ محمد بن مہدی مروزی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابوبشر بن سیاررقی نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عباس بن کثیر رقی نے یزید بن ابی حبیب کے حوالے سے حدیث بیان کی کہا مجھے مہدی بن میمون نے بتایا کہ ایک دفعہ میں سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پاس گیا تو وہ عمامہ باندھ رہے تھے انھوں نے مجھے فرمایا کہ اے ابو ایوب !میں تجھے ایک حدیث نہ بیان کروں جسے تو محبوب رکھے حاصل کرنے کے بعد اسے بیان کرے ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور فرمایا کہ فرشتے عمامہ باندھنے والوں پر غروبِ آفتاب تک صلوٰۃ بھیجتے ہیں حافظ نے لسان میں فرمایا یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے اور میں نے عباس بن کثیر کا ذکر ابن یونس کی غرباء میں اور اس کے حاشیہ لا بن طحان میں نہیں پایا اور ابوبشر بن سیار کا تذکرہ ابواحمد حاکم نے الکنی میں نہیں کیا اور نہ ہی میں محمد بن مہدی مروزی اور اس حدیث کے راوی مہدی بن میمون کو جانتا ہُوں اور یہ وہ بصری بھی نہیں جو مسلم وبخاری کے راوی ہیں ان کی کنیت ابو یحیی ہے اور نہ میں اس کی آفت سے آگاہ ہوں۔(ت)
 (۱؎ لسان المیزان حرف العین  ترجمہ العباس بن کثیرہ   مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن    ۳/ ۲۴۴)
نوٹ: یہ حوالہ بھی اصل کتاب نہ ملنے کی وجہ سے لسان المیزان سے ذکر کیا گیا۔نذیر احمد
 (۲؎ لسان المیزان     حرف العین ترجمہ عباس بن کثیر    مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن    ۳/ ۲۴۴)
اقول رحم اﷲ الحافظ من این یاتیہ الوضع ولیس فیہ مایحیلہ عقل ولاشرع ولا فی سندہ وضاع ولاکذاب ولامتھم ومجرد جھل الراوی لایقضی بالسقوط حتی لایصلح للتمسک بہ فی الفضائل فضلا عن الوضع، ولمااورد الحافظ ابو الفرج ابن الجوزی حدیث قزعۃ بن سوید عن عاصم بن مخلد عن ابی الاشعث الصنعانی عن شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قرض بیت شعر بعد العشاء الاخرۃ لم تقبل لہ صلاۃ تلک اللیلۃ۱؎ فی الموضوعات واعلہ بان عاصما فی عدادالمجھولین و قزعۃ قال احمد مضطرب الحدیث و قال ابن حبان کان کثیر الخطا فاحش الوھم ،فلما کثر ذلک فی روایتہ  سقط الاحتجاج بخبرہ ۲؎اھ قال الحافظ نفسہ فی القول المسدد لیس فی شیئ من ھذا ما یقضی علٰی ھذاالحدیث بالوضع۳؎ الخ ،
اقول حافظ پر اﷲ تعالٰی رحم کرے اس روایت میں وضع کو کہاں سے لائے ہیں؟ حالانکہ اس روایت میں ایسی کسی چیز کا بیان نہیں جسے عقل و شرع محال گردانے اور نہ ہی اس کی سند میں وضاع، کذاب اور متہم ہے محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ فضائل میں قابلِ استدلال ہی نہ رہے چہ جائیکہ وہ موضوع ہو ۔حافظ ابو الفرج ابن الجوزی نے حدیثِ قزعہ بن سوید، عاصم بن مخلد سے انھوں نے ابواشعث صنعانی سے انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موضوعات میں بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے آخری عشاء کے بعد شعر کا ایک بیت پڑھا اس کی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی ، اور علت یہ بیان کی کہ عاصم کا شمار مجہولین میں ہوتا ہے۔قزعہ کے بارے میں امام احمد کاقول ہے کہ یہ مضطرب الحدیث ہے۔ابن حبان نے کہا کہ یہ کثیر الخطا اور فاحش الوہم ہے، آخر میں فرمایا جب اس کی روایت میں علتیں ا س قدر کثیر ہوگئیں تو اس کی روایت سے استدلال ساقط ہوگیا اھ اورخودحافظ نے القول المسدد کہا یہاں پر کوئی ایسی چیز نہیں جو اس حدیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ کرتی ہو الخ
 (۱؎ کتاب الموضوعات لابی الفرج     حدیث فی انشاد الشعر بعد العشاء    مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۱/ ۲۶۱)

(۲؎کتاب الموضوعات لابی الفرج     حدیث فی انشاد الشعر بعد العشاء    مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۱/ ۲۶۱)

(۳؎ القول المسدد    الحدیث الثانی ممالم یذکرہ حدیث شداد بن اوس الخ    مطبوعہ دائرہ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن    ص۳۶)
ولما حکم ابن الجوزی علی حدیث ابی عقال عن انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العسقلان احدالعروسین یبعث منھا یوم القیامۃ سبعون الفالاحساب علیھم ، ویبعث منھا خمسون الفاشھداء وفوداالی اﷲ عزوجل ، وبھا صفوف الشھداء ر ء وسھم مقطعۃ فی ایدیھم تثج اوداجھم دماً یقولون ربناواٰتنا ماوعدتنا علی رسلک ولاتخزنا یوم القٰیمۃ انک لاتخلف المیعاد فیقول صدق عبیدی اغسلوھم بنھرالبیضۃ، فیخرجون منھا نقیابیضا فیسرحون فی الجنۃ حیث شاء وا۱؎ ،بالوضع محتجابان جمیع طرقہ تدورعلی ابی عقال واسمہ ھلال بن زید بن یسار قال ابن حبان یروی عن انس اشیاء موضوعۃ ماحدث بھا انس قط لایجوز الاحتجاج بہ بحال۲؎ اھ وقال الذھبی فی المیزان باطل ۳؎ قال الحافظ نفسہ فیہ وھو فی فضائل الاعمال والتحریض علی الرباط فی سبیل اﷲ ولیس فیہ مایحیلہ الشرع ولا العقل فالحکم علیہ بالبطلان بمجرد کونہ من روایۃ ابی عقال لا یتجہ و طریقۃ الامام احمد معروفۃ فی التسامح فی روایۃ احادیث الفضائل دون احادیث الاحکام ۴؎اھ
جب ابن جوزی نے موضوعات میں اس حدیث ابی عقال کو موضوعہ قرار دیا جو کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:عسقلان ان خوش نصیب شہروں میں سے ایک ہے جن سے روزِ قیامت ستّر ہزار ایسے افراد اُٹھائے جائیں گے جن کا حساب نہیں ہوگااور اس میں پچاس ہزار شہداء اُٹھائے جائیں گے جو وفد کی صورت میں صف بستہ اپنے رب کے ہاں حاضر ہونگے حالانکہ ان کے سر کٹے ہوئے ہاتھوں میں ان کی ودج(وہ رگ جسے بوقتِ ذبح کاٹا جاتا ہے) سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ اﷲ کے حضور یہ عرض کریں گے:اے ہمارے رب! ہمیں عطا فرما جس کا تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں روزِ قیامت ذلت سے محفوظ فرما بلاشُبہ تُو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اﷲ تعالٰی ارشاد فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا ان کو سفید نہر میں غسل دو تو وہ اس نہر سے صاف شفاف اور چمکدار ہو کر نکلیں گے اور وُہ جنت میں حسبِ خواہش چلے جائیں گے اور کھائیں گے پئیں گے۔ اس روایت کے موضوع ہونے پر یہ دلیل دی کہ اس کی تمام اسناد کا مرکز ابو عقال ہے جس کا نام ہلال بن زید بن یسار ہے، ابن حبان نے کہا کہ یہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ایسی روایات موضوعہ نقل کرتا ہے جو حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بالکل بیان نہیں کیں لہذا کسی صورت میں بھی اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اھ اورامام ذہبی نے میزان میں کہا یہ باطل ہے اور خود حافظ ابن حجر نے اس روایت کے بارے میں کہا یہ روایت فضائل اعمال سے متعلق ہے اس میں اﷲ کی راہ میں جہاد کی ترغیب اور شوق دلایا گیا ہے۔اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے عقل و شرع محال قرار دیتی ہو لہذا محض اس لئے اس باطل قرار دینا کہ اس کا راوی ابوعقال ہے قابل حجّت نہیں۔ اور امام احمد احادیثِ احکام میں تو نہیں لیکن احادیثِ فضائل میں تسامح سے کام لیتے ہیں ان کا یہ طریقہ معروفہ ہے اھ
 (۱؎ کتاب الموضوعات لابن جوزی     باب فی فضل عسقلان     مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۲/ ۵۳)

(۲؎کتاب الموضوعات لابن جوزی     باب فی فضل عسقلان     مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۲/ ۵۴ )

(۳؎ میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۹۲۶۷            مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت            ۴/ ۳۱۴)

(۴؎ القول المسدد    جواب الکلام علی الحدیث الثامن    مطبوعہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ہند    ص۳۲)
فلیت شعری لم لایقال مثل ھذا فی حدیث العمامۃ مع انہ ایضا فی فضائل الاعمال والتحریض علی التأدب فی حضرۃ اﷲ ولیس فیہ ما یحلہ الشرع ولا العقل بل ولافیہ احد رمی بروایۃ الموضوعات کابی عقال فکیف یتجہ الحکم علیہ بالبطلان بل الوضع بمجرد کون بعض روایۃ ممن لم یعرفھم الحافظ اولم یذکرھم فلان وفلان ،علا ان مھدی بن میمون عندی وھم من بعض رواۃ ابن النجار لان عیسی بن یونس عند ابی نعیم و سفین بن زیاد عندالدیلمی انما یرویانہ عن العباس عن یزید عن میمون بن مھران کما تقدم و میمون ھو ابوایوب الجزری الرقی ثقۃ فقیہ من رجال مسلم والاربعۃ کما قالہ الحافظ فی التقریب لاجرم لم یمنع کلام الحافظ ھذا خاتم الحافظ السیوطی عن ایرادہ فیما وعد بتنزیھہ عن الموضوع اماقول تلمیذہ الحافظ السخاوی حدیث صلٰوۃ بخاتم تعدل سبعین صلٰوۃ بغیر خاتم ھو موضوع کما قال شیخناوکذامارواہ الدیلمی عن حدیث ابن عمر مرفوعا بلفظ صلٰوۃ بعمامۃ الحدیث المذکور ومن حدیث انس مرفوعا الصلٰوۃ فی العمامۃ تعدل بعشرۃ الاف حسنۃ۱؎ اھ فلم یذکر وجھہ وانما تبع شیخہ وقد علمت مافیہ وکذا حدیث انس انما فیہ ابان متروک متروک وترک الراوی لایقضی بوضع الحدیث کما بینتہ فی الھاد الکاف فی حکم الضعاف واﷲ تعالٰی اعلم۔
میری سمجھ سے باہر ہے یہی قول عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائلِ اعمال سے متعلق ہے اور اس سے بارگاہ الہٰی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جسے شرح و عقل محال قرار دیتی ہو بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے ابوعقال کی طرح موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو، تو اس روایت پر بطلان بلکہ موضوع ہونے کا حکم (محض اس بنا پر کہ بعض روایات کا ایسے راویوں سے ہونا جن کوحافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کا ذکر نہیں کیا) کیسے درست ہوسکتا ہے،علاوہ ازیں میرے نزدیک ابن نجار کے بعض رواۃ میں سےمہدی بن مہمون کے بارے میں وہم ہوا ہے ، کیونکہ ابو نعیم کے نزدیک عیسٰی بن یونس اور دیلمی کے نزدیک سفیان بن زیاد دونوں نے عباس سے انھوں نے یزید سے انھوں نے میمون بن مہران سے روایت کیا ہے جیسا کہ گزر چکا اور میمون سے مراد ابو ایوب جزری الرقی ہے جو نہایت ثقہ اور فقیہ ہے اور مسلم اور چاروں سنن کے رواۃ میں سے ہے جیسا کہ حافظ نے یہ بات تقریب میں کہی ہے، بلا شبہ حافظ ابن حجر کی یہ گفتگو خاتم الحافظ سیوطی کی اس روایت کو الجامع الصغیر ( جس کے بارے میں انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس میں موضوع روایت ذکر نہیں کروں گا) میں نقل کرنے سے مانع نہیں رہا ان کے شاگرد رشید حافظ سخاوی کا قول کہ حدیث ''انگوٹھی کے ساتھ نماز ستّر دوسری بغیر انگوٹھی والی نمازوں کے برابر ہے''۔ یہ موضوع ہے جیسا کہ ہمارے استادِ محترم نے فرمایا، اور اسی طرح وہ حدیث جس کو دیلمی نے حضرت ابن عمر کی حدیث سے مرفوعاًصلوٰۃ بعمامہ حدیث مذکور کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور حضرت انس سے مرفوعاً حدیث کے الفاظ یہ ہیں:''عمامہ میں نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے'' اھ تو انہوں نے اسکے موضوع ہونے کی وجہ بیان نہیں کی صرف اپنے شیخ کے اتباع میں ایسا کہہ دیا ہے حالانکہ آپ اس کے محلِ نظر ہونے پر آگاہ ہوچکے۔اسی طرح حدیثِ انس میں صرف ابان راوی متروک ہے اور ایک راوی کا متروک ہونا حدیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ نہیں دے سکتا۔یہ تفصیلی گفتگو میں نے ''الہاد الکاف فی حکم الضعاف''میں کی ہے واﷲ تعالٰی اعلم ۔(ت)
 (۱؎ المقاصد الحسنہ    تحت حرف الصاد المہملۃ        مطبوعہ دارالکتب بیروت        ص۲۶۳)
جاہل اگر حدیث کو محض بہوائے نفس موضوع کہے واجب التعزیرہے اور کتب معتمدہ فقہیہ کو نہ ماننا جہالت و ضلالت اور اس حدیث کے بیان کرنے والے پر لعنت کا اطلاق خود اس کے لئے سخت آفت کہ بحکم احادیث صحیح جولعنت غیر مستحق پر کی جاتی ہے کرنے  والے پر پلٹ آتی ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی اور مسلمانوں کے عمامے قصداً اتروا دینا اور اسے ثواب نہ جاننا قریب ہے کہ ضروریاتِ دین کے انکار اور سنّتِ قطعیہ متواترہ کے استخفاف کی حد تک پہنچے ایسے شخص پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات سے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت کےساتھ تجدید نکاح کرے،حدیث کہ جامع الرموز میں ہے، وہ حدیث بستم مذکور کے قریب قریب ہے اور تعدیہ بقصد تحدید نہ ہو تو اسی کی نقل بامعنی ۔یہ منیہ منیۃ المصلی نہیں بلکہ فخر الدین بدیع ابن ابی منصور عراقی استادزاہدی کی منیۃ الفقہا جس کی تلخیص قنیہ ہے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۴۳: ازکا سگنج محلہ ناتھو رام گلی چورامن     مرسلہ محمد مصطفی    ۲۶شعبان ۱۳۳۷ھ

عامل نبیل فاضل جلیل بمتابعۃ سیّد الانبیاء صاحب الکوثر والسلسبیل ، السّلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ معروض خدمت ہے کہ قبل ا سکے ایک عریضہ دربارہ حصول فتوی مسئلہ ذیل روانہ کیا تھا جواب سے مشرف نہیں ہوا مغموم ہوں امید کرتا ہوں کہ امر حق ظاہر کرنے میں توقف نہ فرمایئے گا اور بندہ کے استقامت و حسنِ خاتمہ کی واسطے بدرگاہِ خدا ہو جیے گا۔مسئلہ :پاک(جس کی طہارت میں قطع یقین حاصل ہوجائے جیسے نیا) جُو تا پہن کر کوئی سی نماز نوافل یا فرائض ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فقہ و حدیث کے مطولات کا حوالہ دیں تو بہت خوب ہے۔
الجواب

جنابِ من ! وعلیک السّلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اس سے پہلے کہ کاسگنج سے یہ سوال بصورتِ دیگر مرسل عباداﷲ خان کا آیا اور جواب دیا گیا اب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر جُوتا بالکل غیر استعمالی ہو کہ صرف مسجد کے اندر پہنا جائے اور پنجہ اتنا سخت نہ ہو کہ سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر نہ بچھنے دے تو اس سے نماز میں کچھ حرج نہیں بلکہ بہتر ہے، اور یہی امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی سنّت ہے کہ دو۲ جوتے رکھتے ایک راہ میں پہنتے اور جب کنارہ مسجد پر آتے اُسے اتارکر غیر استعمالی کو پہن لیتے اوراگر استعمالی ہوتو اُسے پہن کر مسجد میں جانا بے ادبی ہے اورغیر مسجد میں بھی نماز میں اتار دیا جائے اوراور اگر پنجہ اتنا سخت ہے کہ کسی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ بچھنے دے گا تو نماز نہ ہو گی
کما حققناہ فی فتاوٰنا
 (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم ۔
Flag Counter