Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
54 - 185
حدیث ۱۲: ابن شاذان اپنی مشیخت میں مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عمامہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
ھکذا تکون تیجان الملٰئکۃ۵؎۔
فرشتوں کے تاج ایسے ہوتے ہیں۔
 (۵؎کنزالعمال بحوالہ ابن شاذان فی مشیختہ     حدیث ۴۹۱۳        مطبوعہ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت    ۱۵/ ۴۸۴)
حدیث ۱۳ و ۱۴: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عمر اوربیہقی شعب میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علیکم بالعمائم فانھا سیماء الملٰئکۃ وارخوا لھا خلف ظھورکم۶؎۔
عمامے اختیار کرو کہ وہ فرشتوں کے شعار ہیں اور ان کے شملے اپنے پسِ پُشت چھوڑ و۔
 (۶؎ المعجم الکبیر             حدیث ۱۳۴۱۸        مطبوعہ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت        ۱۲/ ۳۸۳)
حدیث ۱۵: ابو عبداﷲ محمد بن وضاح فضل لباس العمائم میں خالد بن معدان سے مرسلاً راوی کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالٰی اکرم ھذہ الامۃ بالعصائب الحدیث۱؎۔
بیشک اﷲ عزوجل نے اس امّت کو عماموں سے مکرم فرمایا ، الحدیث
 (۱؎ کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال     حدیث ۴۱۱۴۵    مطبوعہ منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت        ۱۵/ ۳۰۷)
حدیث ۱۶: بیہقی شعب الایمان میں انہی سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعتمواخالفواعلی الامم قبلکم ۲؎۔
عمامے باندھو اگلی امتوں یعنی یہود و نصارٰی کی مخالفت کرو کہ وہ عمامہ نہیں باندھتے۔
 (۲؎ شعب الایمان        حدیث ۶۲۶۱    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۵/ ۱۷۶)
حدیث ۱۷: معجم کبیر طبرانی میں ہے:
حدثنا محمد بن عبداﷲ الحضرمی حدثنا العلاء بن عمرو الحنفی حدثنا ایوب بن مدرک عن مکحول عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ عزوجل وملٰئکتہ یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعۃ ۳؎۔
بیان کیا محمد بن عبداﷲ حضرمی نے، بیان کیا العلاء بن عمرو الحنفی نے، بیان کیا ایوب بن مدرک سے مکحول سے ابوالدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کہ بیشک اﷲ تعالٰی اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں جمعہ کے روز عمامہ والوں پر۔
 (۳؎ مجمع الزوائد بحوالہ معجم کبیر باب اللباس للجمعۃ       مطبوعہ دار الکتب بیروت                ۲/ ۱۷۶)
حدیث ۱۸: دیلمی انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصلاۃ فی العمامۃ تعدل بعشراٰلاف حسنۃ ۴؎۔ فیہ ابان۔
عمامہ کے ساتھ نماز دس ہزار نیکی کے برابر ہے۔(اس کی سند میں ابان راوی ہے۔ت)
 (۴؎ الفردوس بماثور الخطاب     حدیث ۳۸۰۵   مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۲/ ۴۰۶)
نوٹ: جس کتاب سے حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں ''تعدل'' کا لفظ نہیں ہے ۔نذیر احمد سعیدی
حدیث ۱۹: رَامَہْرُمْزی کتاب الامثال میں معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی

علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمائم تیجان العرب فاعتمواتزدادواحلماومن اعتم فلہ بکل کورحسنۃ فاذا حط فلہ بکل حطۃ حط خطیئۃ۱؎۔

عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاراوقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی اور جب(بلا ضرورت یا ترک کے قصد پر) اتارے تو ہر اتارنے پر ایک خطا ہے یا جب (بضرورت بلا قصد ترک بلکہ با ارادہ معاودت) اتارے تو ہر پیچ اتارنے پر ایک گناہ اترے۔
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ الرامہرمزی فی الامثال    حدیث ۴۱۱۴۶      مطبوعہ منشورات مکتبۃ الاسلامی حلب بیروت    ۱۵/ ۳۰۸)
دونوں محتمل ہیں واﷲ تعالٰی اعلم
والحدیث اشد ضعفافیہ ثلثۃ مترکون متھمون عمرو بن الحصین عن ابی علاثۃ عن ثویر
(اﷲ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے۔ اس حدیث میں شدید قسم کا ضعف ہے کیونکہ اس کے تین راوی متروک ومہتم ہیں انھوں نے ابو علاثہ سے اور انہوں نے ثویر سے روایت کیا۔ت)
حدیث۲۰ : مسند الفردوس میں جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رکعتان بعمامۃ خیرمن سبعین رکعۃ بلا عمامۃ ۲؎۔
عمامہ کے ساتھ دو ۲ رکعتیں بے عمامے کی ستّر رکعتوں سے افضل ہیں۔
 (۲؎ الفردوس بماثورالخطاب             حدیث ۳۲۳۳    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۲/ ۲۶۵)
نوٹ: جس کتاب سے حوالہ نقل کیا گیا ہے اس میں لفظ''خیر'' کی بجائے ''افضل''ہے۔    نذیر احمد سعیدی
رہی حدیث مذکورِ سوال :اسے ابن عساکر نے تاریخ دمشق اور ابن النجار نے تاریخ بغداد اور دیلمی نے مسندالفردوس میں بطریق عدیدہ عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا:
ابن عساکر بطریق احمد بن محمد الرقی ثنا عیسی بن یونس حدثنا العباس بن کثیر ح والدیلمی بطریق الحسین بن اسحٰق بن یعقوب القطان حدثنا سفین بن زیاد المخرمی حدثنا العباس بن کثیر القرشی حدثنا  یزید بن ابی حبیب عن میمون بن مھر ان قال دخلت علی سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم فحدثنی ملیا ثم التفت الی فقال یا ابا ایوب الا اخیرک بحدیث تحبہ وتحملہ عنی وتحدث بہ فقلت بلی قال دخلت علی عبداﷲ بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنھما وھویتعمم فلما فرغ التفت فقال اتحب العمامۃ قلت بلی قال احبھا تکرم ولا یراک الشیطان الاولی (ھاربا انی) سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول صلاۃ تطوع او فریضۃ بعمامۃ تعدل خمسا وعشرین صلاۃ بلا عمامۃ وجمعۃ بعمامۃ تعدل بسبعین جمعۃ بلا عمامۃ ای بنّی اعتم فان الملٰئکۃ یشھدون یوم الجمعۃ معتمین فیسلمون علی اھل العمائم حتی تغیب الشمس۱؎۔
ابن عساکر نے بطریق احمد بن محمد ازعیسٰی بن یونس از عباس بن کثیر حدیث بیان کی ح اوردیلمی نے بطریق حسین بن اسحٰق العجلی از اسحٰق بن یعقوب قطان از سفین بن زیاد المخرمی از عباس بن کثیر القرشی از یزید بن ابی حبیب ازمیمون بن مہران حدیث بیان کی کہا میں سالم بن عبداﷲ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہواتو انہوں نے حدیث املاء کرائی پھر میری طرف متوجہ  ہو کر فرمایا اے ابو ایوب ! کیا تجھے ایسی حدیث کہ خبر نہ دوں جو تجھے پسند ہو، میری طرف سے روایت کرے اور اسے بیان کرے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں___ تو سالم بن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں میں اپنے والد ماجدعبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حضور حا ضر ہوا اور وُہ عمامہ باندھ رہے تھے جب باندھ چکے میری طرف التفات کرکے فرمایا تم عمامہ کو دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں! فرمایا اسے دوست رکھو عزّت پاؤگے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ عمامہ کے ساتھ ایک نفل نماز خواہ فرض بے عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بے عمامہ کے ستّر جمعوں کے برابر ہے۔ پھر ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا : اے فرزند! عمامہ باندھ کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھے آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامہ والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں۔
 (۱؎ لسان المیزان حرف العین  ترجمہ العباس بن کثیر   مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن    ۳/ ۲۴۴)
نوٹ : جن کتابوں کا اعلٰیحضرت نے ذکر کیا ہے وہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کتاب کا حوالہ دیا ہے ۔نذیر احمد سعیدی۔
حق یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں اس کی سند میں نہ کوئی وضاع ہے نہ متہم بالوضع نہ کوئی کذاب نہ متہم بالکذب نہ اُس میں عقل یا نقل کی اصلا مخالفت لاجرم اُسے امام جلیل خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا جس کے خطبہ میں ارشاد کیا:
ترکت القشر، واخذت اللباب، وصنتہ عماتفردبہ وضاع اوکذاب۲؎۔
میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑ کر خالص مغز لیاہے اور اسے ہر ایسی حدیث سے بچایا جسے تنہا کسی وضاع یا کذاب نے روایت کیا ہے۔
 (۲؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر    درخطبہ کتاب            مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت            ۱/ ۲۰)
Flag Counter