(جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے اور وہاں اسکے ترک کا حکم دیا جہاں عوام اس پر مذاق کرتے ہوں تاکہ وہ اس کلام بد سے ہلاکت میں نہ پڑیں۔ت) تو عمامہ کہ سنت لازمہ دائمہ یہاں تک کہ علماء نے خالی ٹوپی پہننے کو مشرکین کی وضع قرار دیا اور حدیث آتی رکانۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کواس پر حمل کیا۔علّامہ علی قاری نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا؛
لم یرو انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لبس القلنسوۃ بغیر العمامۃ فیتعین ان یکون ھذا زی المشرکین ۲؎۔
یعنی اصلاً مروی نہ ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی بغیر عمامہ کے ٹوپی پہنی ہو ، متعین ہوا کہ یہ کافروں کی وضع ہے (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان۸/ ۲۵۰)
اسی میں بعد ذکر بعض احادیث فضیلت عمامہ ہے:
ھذا کلہ یدل علی فضلیۃ العمامۃ مطلقا نعم مع القلنسوۃ افضل فلبسھا وحدھا مخالف للسنۃ کیف وھی زی الکفرۃ وکذا المبتدعۃ فی بعض البلدان ۳؎۔
یعنی ان سب سے عمامہ کی فضیلت مطلقاً ثابت ہُوئی اگر چہ بے ٹوپی ہو، ہاں ٹوپی کے ساتھ افضل ہے اور خالی ٹوپی خلاف سنّت ہے ، اور کیونکر نہ ہو کہ کافروں اور بعض بلاد کے بد مذہبوں کی وضع ہے(ت)
(۳؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸/ ۲۵۰)
اس کا انکار کس درجہ اشد و اکبر ہوگا اس کا سنّت ہونا متواتر ہے اور سنّتِ متواتر کا استخفاف کفر ہے۔
وجیز کردری پھرنہرالقائق پھر ردالمحتارمیں ہے:
لولم یرالسنۃ حقا کفر لانہ استخفاف۱؎۔
اگر کوئی شخص سنت کو حق و سچ نہیں جانتا تو اس نے کفر کیا کیونکہ یہ اسکا استخفاف ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی البزازیۃ مع الفتاوی الہندیۃ نوع فی السنن من کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۸)
عمامہ کی فضیلت میں احادیثِ کثیرہ وارد ہیں بعض اُن سے کہ اس وقت پیشِ نظر ہیں مذکور ہوتی ہیں:
حدیث اوّل: سنن ابی داؤد و جامع ترمذی میں رکانہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فرق ما بیننا و بین المشرکین العمائم علی القلانس ۲؎۔
ہم میں اور مشرکوں میں فرق ٹوپیوں پر عمامے ہیں ۔(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد باب العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۸)
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں اس حدیث کے نیچے لکھتے ہیں:
مسلمان ٹوپیاں پہن کر اوپر سے عمامہ باندھتے ہیں تنہا ٹوپی کافروں کی وضع ہے تو عمامہ باندھنا سنّت ہے۔
(۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث فرق مابیننا الح مکتبہ الامام شافعی الریاض ۲/ ۱۶۹)
یہی حدیث باوردی نے ان لفظوں میں روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
العمامۃ علی القلنسوۃ فصل ما بیننا وبین المشرکین یعطی یوم القٰیمۃ بکل کورۃ یدروھا علی راسہ نورا۴؎۔
ٹوپی پر عمامہ ہمارا اور مشرکین کا فرق ہے ہر پیچ کہ مسلمان اپنے سر پر دے گا ا س پر روزِ قیامت ایک نور عطا کیا جائے گا۔
(۴؎ کنز العمال بحوالہ باوردی عن رکانۃ فرع فی العمائم مطبوعہ منشورات مکتبہ التراث الاسلامی بیروت ۱۵/ ۳۰۵)
حدیث ۲ و ۳: قضاعی مسند شہاب میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اور دیلمی مسند الفردوس میں مولٰی علی و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمائم تیجان العرب ۵؎۔
(عمامے عرب کے تاج ہیں)۔
(۵؎ الفردسوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۲۴۶ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۸۷)
حدیث ۴: مسند الفردوس میں انس ابن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمائم تیجان العرب فاذا وضعواالعمائم وضعواعزھم ۱؎ وفی لفظ وضع اﷲ عزھم ۔
عمامے عرب کے تاج ہیں جب عمامہ چھوڑ دیں تو اپنی عزت اُتار دیں گے ۔اور ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالٰی ان کی عزت اتار دے گا۔
(۱؎ الجامع الصغیر مع فیض القدیر بحوالہ مسند فردوس عن ابن عباس مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۹۲)
حدیث ۵: ابن عدی امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: