مسئلہ نمبر ۴۳۷:از بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ شیخ محمد حسین ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید کہتا ہے کہ ہر ایک مسلمان مرد وعورت عاقل و بالغ پر جیسے کہ نماز پڑھنا فرض ہے ویسے ہی نماز کے معنی اپنی زبان میں یاد کرلینا بھی فرض ہے پھر وقت نماز کے جو لفظ زبان عربی میں پڑھا جائے اُس کے معنی بغور دل میں سمجھ لینا بھی فرض ہے پس باوجود طاقت ہونے کے سیکھنے سکھانے میں سُستی کرے یا معنی جانتا ہے اور وقت پر بے غوری کرے ایسے شخص کی نماز کا پھل کیا ہوگا دنیا وآخرت میں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
ان دونوں باتوں میں کچھ فرض نہیں بغیر ان کے بھی سر سے فرض اُتر جانے کا پھل حاصل ہے۔
فی الاشباہ لاتحسب اعادتھا لترک الخشوع۱؎ و فی الغمز عن الملتقط قول بعض الزھاد من لم یکن قلبہ فی الصلاۃ (مع الصلٰوۃ) لا قیمۃ لصلاتہ لیس بشیئ ۲؎الخ
اشباہ میں ہے ترکِ خشوع کی بنا پر نماز کا اعادہ مستحب نہیں، اور غمز میں ملتقط کے حوالے سے ہے کہ بعض زاہدوں کے اس قول کی کوئی حقیقت نہیں کہ جس کا دل نماز میں حاضر نہ ہو اس کی نماز کی کوئی قیمت نہیں الخ(ت)
ہاں نماز کا کما ل نماز کا نور نماز کی خُوبی فہم وتدبّر و حضور قلب پر ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۱۲)
(۲؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الصّلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۲۱۲)
مسئلہ نمبر ۴۳۸: ازغازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفتر ججی غازی پور ۱۷ذیقعد ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تمام فرائض پنجگانہ کے بعد امام کو شمال یا جنوب کی طرف پھر جانا دُعا کے واسطے واجب یا مستحب ہے یا نہیں اور سوائے عصر و فجر کے فرائض سہ گانہ کے بعد اگر نہ پھرے تو گنہگار ہوگا یا نہیں؟
الجواب
بعد سلام قبلہ رُو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے وہ شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگر چہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو تو مشرق یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ،بہرحال پھر نامطلوب ہے اگر نہ پھرا اور قبلہ رُو بیٹھا رہا تومبتلائے کراہت و تارک سنّت ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۴۳۹: ازاروہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمدصادق علی صاحب رمضان شریف۱۳۳۰ھ
اکثر دیہات میں نماز پڑھ کر جب اُٹھتے ہیں کونا مصلّی کا اُلٹ دیتے ہیں اس کا شرعاً ثبوت ہے یا نہیں؟
الجواب
ابن عساکر نے تاریخ میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الشیاطین یستمتعون بثیابکم فاذانزع احدکم ثوبہ فلیطوہ حتی ترجع الیھا انفاسھا فان الشیطان لایلبس ثوبا مطویا۱؎۔
شیطان تمہارے کپڑے اپنے استعمال میں لاتے ہیں تو کپڑا اتار کر تہہ کر دیا کرو کہ اس کا دام راست ہوجائے کہ شیطان تَہہ کئے کپڑے نہیں پہنتا۔
(۱؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر الباب الثالث فی اللباس منشورات مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵/ ۲۹۹)
معجم اوسط طبرانی کے لفظ یہ ہیں:
أطووا ثیابکم ترجع الیھا ارواحھا،فان الشیطان اذا وجد الثوب مطویا لم یلبسہ ، وان وجدہ منشورا لبسہ ۲؎۔
کپڑے لپیٹ دیا کرو کہ ان کی جان میں جان آجائے اس لئے کہ شیطان جس کپڑے کو لپٹا ہوا دیکھتا ہے اسے نہیں پہنتا اور جسے پھیلا ہوا پاتا ہے اسے پہنتا ہے۔(ت)
قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان۳؎۔
فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔(ت)
ان احادیث سے اُس کی اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ ابن ابی الدنیا)
مسئلہ نمبر ۴۴۰: از جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سیّد صابر جیلانی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پیروں کے نیچے کپڑا نہ ہو اور صرف زانو اور سجدہ کی جگہ ہو تو نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب
نماز ہوجائے گی اور بہتر اس کا عکس ہے پاؤں کی احتیاط پیشانی سے زیادہ ہے و لہذا اگر انگر کھایا کُرتا بچھا کر نماز پڑھے تو چاہئے کہ گریبان کی جانب پاؤں رکھے اور دامنوں پر سجدہ کرے کہ گریبان بہ نسبت دامن احتمال نجاست سے دور ہے۔
مسئلہ نمبر ۴۴۱: ۳۵ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ہادیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام کو قبلہ کی طرف دعا مانگنا مطلقاً مکروہ ہے تو اس کی کراہت کا کیا اثر پڑنا چاہئے اور درحالتے کہ ۱۰ دس آدمی سے زیادہ ہوں مقتدی میں سے اگر اخیرصفوں تک کوئی نمازمیں نہ ہو بشرط محاذات، تو امام کو چاہئے کہ مقتدیوں کو پیٹھ نہ کرے لیکن اس صورت میں اگر مقتدیوں کی مقتدیوں کو پیٹھ ہو تو اس کا کیا جواب ہے اور ایضا مطلقاً مکروہ کے کیا معنی ہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب
کراہت کا اثر نا پسندی اور اُس کا اوسط درجہ اساء ت ہے یعنی بُرا کیا اور اعلٰی درجہ کراہت تحریم اُس کا اثر گنہگار و مستحق عذاب ہونا، مطلق مکروہ غالباً تحریم کا افادہ کرتا ہے اور بلکہ خاص معنی کراہت تنز یہ بھی مستعمل ہوتا ہے مقتدیوں کے لئے شرعاً اتنا مستحب ہے کہ نقض صفوف کریں اور نماز کے بعد اُس انتظام پر نہ بیٹھے رہیں جیسے نماز میں تھے پھر بھی سب کو پھر کر بیٹھنے کا حکم نہیں کہ اُس میں حرج ہے اور مقتدی سب ایک حالت پر شریکِ نماز ہوئے تھے اُن میں سے کسی کا آگے پیچھے ہونا کوئی بالخصوص مقصود و مطلوب و لازم نہ تھا بلکہ اتفاقی طور پر واقع ہوا جو پہلے پہنچ گیا اس نے پہلی صف میں جگہ پائی اور جو بعد میں پہنچے انھوں نے بعد کی صف میں ، اگر یہ بعد والے پہلے پہنچتے تو یہی پہلی میں ہوتے اور وہ کہ اگلی صف میں ہیں بعد کو آتے تو بعد کی صف میں ہوتے، ان کا بیٹھنا ایسا ہے جیسا مجلس کثیر میں لوگوں کا بیٹھنا کہ ایک دوسرے کی طرف پیٹھ ہوتی ہے مگر وہ سب ایک حالت میں ہیں قصداً و التزاماً اُن میں ایک دوسرے پر تقدم نہیں بخلاف امام کہ وہ بالقصد آگے ہوتا اور انھیں پیٹھ کرتا ہے اور یہی واجب و لازم اور متعین ہے تو اسے اس قصدی پشت کرنے سے انحراف کا حکم ہوا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۴۲:ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی ۴ذی الحجہ۱۳۲۲ھ
حدیث صلاۃ تطوع اوفر یضۃ بعمامۃ تعدل خمسا وعشرین صلاۃ بلا عمامۃ وجمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ بلا عمامۃ۱ ؎
( عمامہ کے ساتھ نفل یا فرض نمازوں کا پڑھنا بغیر عمامہ کی نماز سے پچیس گنا افضل ہے اور عمامہ کے ساتھ جمعہ پڑھنا بغیر عمامہ کے جمعہ سے ستر گنا افضل ہے۔ت) محدثین کے نزدیک موضوع یا ضعیف ہے؟ اور اگر کوئی شخص بسبب نفس پروری کے اس حدیث کو موضوع سمجھے اور کتب معتبرہ فقہیہ کی عبارت جو عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کے ثواب پر دال ہیں مثلاً عٰلمگیریہ وکنزوفتاوٰی حجہ وآداب اللباس مؤلفہ شیخ محدث دہلوی وقنیہ وغیرہا تسلیم نہ کرے اور اس حدیث کے بیان کرنےوالے پر لعن طعن کرے اور مفتری علی الاحادیث تصوّر کرے اور لوگوں کو تاکید اس امر کی کرے کہ عما مہ باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور قصداًعمامہ اتروا ڈالے اور عمامہ باندھنے کو باوجود تاکید احادیث ثواب نہ جانے تو وہ شخص قابل الزام شرعی ہوگا یا نہیں؟
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثانی من الکتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸/ ۲۵۰)
جامع الرموز میں الفاظ کی حدیث ملی:
ونص عبارتہ تنبغی ان یصلی مع العمامۃ فی الحدیث الصلاۃ مع العمامۃ خیر من سبعین صلاۃ بغیر عمامۃ کما فی المنیۃ ۲؎۔
اس کی عبارت یہ ہے عمامہ کےساتھ نماز ادا کرنی چاہئے کیونکہ حدیث میں ہے عمامہ والی نماز بغیر عمامہ والی نماز سے ستّر گنا افضل ہے۔اسی طرح منیہ میں ہے۔
(۲؎ جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ مطبوعہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۱۹۳)
اس حدیث کے حال سے آگاہ فرمائیے اور یہ منیہ کا حوالہ جامع الرموز نے دیا ہے یہی منیۃ المصلی مروج ہے یا اور کوئی منیہ ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب
عمامہ حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سنّت متواترہ ہے جس کا تواتر یقینا سرحد ضروریات دین تک پہنچا ہے و لہذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ ارسالِ عذبہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اُس کی فرع اور سنت غیر موکدہ ہے یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا:
قد ثبت فی السیر بروایات صحیحۃ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یرخی علامتہ احیانا بین کتفیہ و احیانا یلبس العمامۃ من غیر علامۃ فعلم ان الاتیان بکل واحد من تلک الامور سنۃ ۱؎۔
کتب سِیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنت ہے (ت)
(۱؎مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح والفصل الثانی من کتاب اللباس مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۸/ ۲۵۰)