Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
50 - 185
مسئلہ نمبر ۴۳۲:ازکلکتہ بلگچھیا مدرسہ عظیمیہ مسئولہ تصدق حسین صاحب    ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ فریضہ نمازوں کے بعد دُعا مانگ کر ہاتھوں کو منہ پر ملتے ہوئے زور کی آواز کے ساتھ چومنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب

نماز کے بعد دُعا مانگنا سنّت ہے اور ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا اور بعد دُعا منہ پر ہاتھ پھیر لینا یہ بھی سنّت سے ثابت ہے مگر چومنا کہیں ثابت نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۳۳: از مدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری     ۳شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ الحمد شریف کے بعد آمین آہستہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ امام سورہ فاتحہ پڑھ کر آمین کہے یا نہیں ؟اور جماعت کے ساتھ مقتدی بھی کہے یا نہیں ؟ منفرد کو تیسری چوتھی رکعت میں آمین کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں اور زبان سے نکل جائے تو سجدہ سہو ہوگایا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب 

نماز کی ہررکعت میں امام و منفرد کو ولا الضالین کے بعدآمین کہنا سنّت ہے۔ جہری نماز میں مقتدی بھی ہر رکعت میں کہیں اور غیر جہری رکعت یا سری نماز میں ولاالضالین ایسی خفی آواز میں کہا کہ اس کے کان تک پہنچی تو اس وقت بھی یہ آمین کہے ورنہ نہیں اور آمین سے سجدہ سہو کسی وقت نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلمْ
مسئلہ نمبر ۴۳۴: از شہر محلہ گڑھیا مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب بریلوی ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

عالی جاہ دام ظلکم ۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ اگر کوئی شخص ٹھہری ہوئی ریل میں قبلہ رُخ ہو کر اس طرح نماز پڑھے کہ ریل کی دونوں پٹڑیوں کے درمیان جو جگہ خالی ہے اس میں کھڑا ہوکر رکوع کرے اور کوتاہی جگہ سے ایک پٹڑی پر سرین رکھ کر دوسری پٹڑی پرسجدہ کرے اور پاؤں اسی خالی جگہ میں قائم رہیں یونہی پیچھے کی پٹڑی پر بیٹھ کر اور آگے پاؤ ں ٹکا کر جلسہ قعدہ کرے تو نماز صحیح ہوگی یا نہیں بینوا تو جروا۔
الجواب

مولٰنااکرمکم اﷲ وعلیکم السّلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اس طرح سجدہ ہر گر ادا نہ ہوگا۔نمازنہ ہوگی اورایسا قعدہ بھی محض خلافِ سنّت اوراسکی ضرورت بھی نہیں۔قعدہ میں پاؤں سمیٹ کر اسی خالی جگہ میں بیٹھ سکتا ہے اور سجدہ کیلئے سرذراخم کرکے سامنے کی پٹڑی کے نیچے داخل کرکے بخوبی ادا کرسکتا ہے میں نے بارہا اس طرح ادا کی ہے۔جب مولانا عبدالقادر رحمہ اﷲ تعالٰی کی ہمراہی میں تیسرے درجے میں سفر کرنا ہوتا تھا ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۳۵: مرسلہ مولوی سید غلام امام صاحب سیہسوانی    ۳جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ

بخدمت مولوی صاحب سر جمیع اہل فضل وکمال مسلم الشر ف والعلا ابقاھم اﷲ دائم البقا علی الطریق المسنون ۔ السلام علیکم و بطریقے ومرادے ہزاروں دُعا و ثنا ئے خلق عالم نوازہ وسلام مخلصانہ کے بعد کچھ تصدیق ہے آپ کے روبرو ایک جمعہ کی نماز کے بعد میں ذکر فضلیتِ عمامہ کا جو آپ سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے اور کچھ عربی فقرہ بھی پڑھا تھا لہذا میں چاہتا ہوں کہ اگر میری یاد صحیح ہے تو اُس کو لکھ کر عنایت فرمائیں میں نہایت ممنونی موروثی کے ساتھ شکر عنایت عالی کو اچھا ضمیمہ کروں گا۔فقط
الجواب

جنابِ من ادام اﷲ تعالٰی کر امتکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ،فضل صلاۃ بالعما مۃ میں احادیث مروی وہ اگر چہ ضعاف ہیں مگر دربارہ فضائل ضعاف مقبول اور عندالتحقیق ان پر حکم بالوضع محل کلام ۔
حدیث اوّل:اخرج الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ عزوجل و ملٰئکتہ یصلون علی اصحاب العمائم یوم الجمعۃ ۱؎
یعنی بیشک اﷲ عزوجل اور اسکے فرشتے جمعہ میں عمامہ باندھے ہوؤں پر درود بھیجتے ہیں ۔
اقتصرالحافظان العراقی والعسقلانی فی تخریجی احادیث الاحیاء والرافعی علی تضعیفہ قالہ السیوطی فی اللاٰلی واورد الحدیث فی جامعہ الصغیر ملتزما ان لا یورد فیہ موضوعا۔
دو حفاظ محدثین عراقی اور عسقلانی نے تخریج احادیث احیاء علوم الدین اور تخریج احادیث الرافعی الکبیرمیں اس کی تضعیف پر اقتصار کیاہے یہ بات سیوطی نے اللآلی میں بیان کی ہے اور اپنی کتاب جامع صغیر میں اسے نقل کیا ہے حالانکہ انہوں نے اس کتاب جامع صغیر میں اس بات کا التزام کر رکھا ہے کہ کوئی موضوع روایت اس میں ذکر نہ کی جائے گی۔(ت)
 (۱؎ مجمع الزوائد        باب اللباس للجمعۃ مطبوعہ دارالکتاب    ۲/ ۱۷۶)

(الجامع الصغیر مع فیض القدیر    حدیث ۱۸۱۷    مطبوعہ دارالعرفۃ بیروت        ۲/ ۲۷۰)
حدیث دوم: ابن عساکر والدیلمی وابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول صلاۃ تطوع او فریضۃ بعمامۃ تعدل خمساو عشرین صلاۃ بلا عمامۃ و جمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ بلا عمامۃ ۱؎۔
یعنی ایک نماز نفل ہو یا فرض عمامہ کے ساتھ پچیس نماز بے عمامہ کے برابر ہے اور ایک جمعہ عمامہ کے ساتھ ستّر جمعہ بے عمامہ کے ہمسر۔
فیہ مجاھیل قلت ولیس فیھم کذاب ولا وضاع ولامتھم بہ ولا فیہ ما یردہ الشرع اور یحیلہ العقل وقد اوردہ السیوطی فی الجامع الصغیر۔
اس میں مجہول راوی ہیں قلت (میں کہتا ہوں) ان میں سے کوئی بھی کذاب اور وضّاع (حدیث گھڑنے والا) نہیں اور نہ ہی کوئی متہم بالوضع ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہے جس کو شریعت رد کرتی ہو یا اسے عقل محال تصور کرتی ہو ، اسے امام سیوطی نے جامع صغیر میں نقل کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ مرقات    بحوالہ ابن عساکر    الفصل الثانی من کتاب اللباس    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان            ۸/ ۲۵۰

کنز العمال   بحوالہ ابن عساکر     فرع فی العمائم        مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت     ۱۵/ ۳۰۶)
حدیث سوم: الدیلمی عن انس رضی اﷲ تعالٰی قال قال رسول اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الصلاۃ فی العمامۃ تعدل بعشرۃ اٰلاف حسنۃ ۳؎۔
یعنی عمامہ میں نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔
ھذا ضعیف جدافیہ ابان متروک واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
یہ نہایت ہی ضعیف ہے کیونکہ اس میں ابان متروک ہے۔ت
 (۲؎ الفردوس بما ثور الخطاب    حدیث ۳۸۰۵    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲/ ۴۰۶)
نوٹ:جس کتاب سے حوالہ دیا گیا ہے اس کتاب کے الفاظِ حدیث میں ''تعدل'' کا لفظ نہیں ہے اور بجائے ''الاف''کے ''الف''ہے ، الفاظِ حدیث یوں ہیں:''الصلٰوۃ فی العمامۃ عشرۃ الف حسنۃ''۔ نذیر احمد سعیدی
مسئلہ نمبر ۴۳۶: از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب     ۱۶ذی الحجہ ۱۳۲۰ ھ

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد سلام امام کو پنجوقتہ نماز میں داہنے بائیں پھر کے دُعا مانگنا چاہئے یا صرف فجر و عصر میں۔
الجواب

کسی نماز میں امام کو ہرگز نہ چاہئے کہ وہ روبقبلہ بیٹھا رہے انصراف مطلقاً ضرور ہے
صرح بہ فی الذخیرۃ والحلیۃ وغیرھما
 (اس پر ذخیرہ اور حلیہ وغیرہ میں تصریح ہے۔ت) البتہ ظہر ومغرب وعشاء کے بعد دعا میں زیادہ اطالت نہ ہو اور جبکہ معمول مقتدیان ہے کہ تافراغِ دعا پابندِ امام رہتے ہیں ایسی تطویل کہ کسی مقتدی پر ثقیل ہو مطلقاً منع ہے
وتحقیق المسألۃ فی فتاوی الفقیر غفراﷲ تعالٰی لہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter