| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
(تمام تعریف اﷲ کے لئے ہے جو وحدہ لا شریک ہے۔ت) فاضل سلمہ القریب المجیب نے جو حکم تحقیق فرمایا وہی صحیح و حق صریح ہے اور سجدہ قاعدہ میں رفع الیتین مفسد صلاۃ ہونا زعم باطل و مردودوقبیح ہے اور جن معتبر معتمد کتابوں کا مدعی نے نام لیا ان سب پر محض افترا ہے اور جو دہم دلیل بنام دلیل ذکر کیا یکسر پادر ہوا ہے،
صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ابی داؤد و نسائی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت رسول اﷲ صل اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم علی الجبھۃ والیدین والرکبتین واطراف القدمین۱؎۔
میرے رب نے مجھے حکم فرمایا کہ سات استخوانوں پر سجدہ کروں پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں زانو اور دونوں پاؤں کے نیچے۔
(۱؎ صحیح البخاری باب السجود علی الانف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۲)
ان میں دونوں سرین ملانا زیادت فی الشرع ہے اور زیادت فی الشرع حرام،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھورد ۲؎ اخرجہ البخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ عنھا۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے اس امر(شرع) میں بدعت ایجاد کی جو شریعت سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔بخاری و مسلم و ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے ۔(ت)
(۲؎ صحیح البخاری باب اذ اصطلحواعلی صلح جورٍ فہومردود مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۱)
اور زیادت بھی اس ادعا سے کہ فرض ہے اور اسکا ترک مفسد نماز اس کے ثبوت کو تو احادیث احادہ بھی ناکافی ہوتیں
کما تقرر فی مقرہ وعلم من صنیع صحابنا رضی اﷲ تعالٰی عنھم فی سورۃ الفاتحہ و غیرہا
(جیسا کہ اپنے مقام پر اسکی تقریرہوچکی ہے اور سورۃ فاتحہ وغیرہا سے متعلق ہمارے اصحاب احناف رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے طریقہ سے معلوم ہوچکا ہے ۔ت) نہ کہ وہ کہ جس کا پتا نہ حدیث میں نہ فقہ میں جس پر دلیل درکنار شبہہ تک نہیں ایسی جگہ غیر فرض کو فرض بتانا بہت سخت حکم رکھتا ہے
فھل انتم منتھون ۳؎
(کیاتم باز نہیں آؤ گے۔ت)
(۳؎ القرآن ۵/ ۹۱)
اول تو الیتین کی بجائے قدمین ہونے پر کیا دلیل اور بفرض غلط ہو بھی تو قعود میں کہ صلاۃ القاعد میں بجائے قیام ہے اور مفہوم قعود میں الصاق الیتین داخل
کما فی بدائع ملک العلماء
(جیسا کہ بدائع ملک العلماء میں ہے۔ت) سجود کہ نہ قیام ہے نہ قعود نہ الصاق مذکور اس سے مفہوم نہ اُس میں مقصود بلکہ سجدہ رجال میں احادیث متوترہ قولیہ و فعلیہ و نصوص متظافرہ متون و شروح و فتاوٰی فقہیہ میں صراحۃً اس کی نفی موجود اس میں الصاق مذکور سے نفی کراہت و مخالفت سنّت بھی قطعاً مردود نہ کہ ادعائے فرضیت کہ اشنع باطل و اخنع مطرود
ونسأل اﷲ العفو والعافیۃ ولا حول ولا قوہ الّا باﷲ الغفور الودود واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۳۱: از مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ رکوع کرتے وقت نظر کس جگہ رکھنا چاہئے؟
الجواب رکوع میں قدموں پر نظر ہو ۔واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب