یہ مسئلہ فقیہ کا قول نہیں اگر ہو بھی تو بمقتضائے کلام ائمہ متروک ہو جائے گا۔ المسلک المتقسط میں ہے:
مقتضی کلام ائمۃ المذھب اولی بالاعتبار من کلام بعض المشائخ ۴؎۔
ائمہ مذہب کے کلام کا مقتضٰی باعتبار بعض مشائخ کے کلام سے اولٰی ہوتا ہے(ت)
(۴؎ المسلک المتقسط مع ارشاد الساری فصل فی تمتع المکی مطبوعہ دارالکتاب العربیۃبیروت ص۱۹۰)
یہ مسئلہ کسی صورت سے ثابت نہیں ہوتا اور جب تک ثابت نہ ہوسکے عمل اصل ہی پر ہوگا اور وہ نفی ہے یعنی نفی عمل، اسی مسلک المتقسط میں ہے :
الاصل ھوالنفی حتی یتحقق الثبوت۵؎ اھ۔
جو چیز ثابت نہ ہو اس کی اصل نفی ہے۔اھ (ت)
(۵؎المسلک المتقسط مع ارشاد الساری فصل فی رکعتی الطواف مطبوعہ دارالکتاب العربیۃبیروت ص۱۱۰)
غرض یہ مسئلہ غلط ہے آدابِ نماز سے بھی نہیں ہوسکتا ہے اور ذکر بھی نہیں ہو سکتا ہے اس کا ایک آدھ رسالہ بے سروپا میں ہے اگر تسلیم بھی کیا جائے کہ بہت سی جگہوں میں مذکور ہے تو بھی کثرت نقول مستلزم صحت کو نہیں پہلے ایک شخص کو غلطی ہوجاتی ہے اور بعد کے لوگ اس کی غلطی بظنِ صحت نقل کرتے چلے جاتے ہیں ۔
شامی جلد ۴ ص ۳۵۱ میں ہے:
قد یقع کثیراان مؤلفایذکر شیئاخطاً فینقلونہ بلا تنبیہ فلیکثرالناقلون واصلہ لواحدمخطئ ۱؎۔
اکثر ایسا واقع ہوا ہے کہ مؤلف سے کوئی غلطی ہوگئی تو لوگ اسے بلا تنبیہ نقل کرتے رہتے ہیں حتی کہ اس کے ناقلین کثیر ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل کے اعتبار سے ایک مخطی ہوتا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المتفرقات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴/ ۲۵۲)
اور اگر مدعی اس امر کا بعد عرق ریزی کے ثابت بھی کردے کہ یہ ہی مطلب ہے اور فلاں فلاں کتاب میں اس کو لکھا ہے تو بنا برتسلیم یہ جواب ہے کہ یہ قول مخطی کا ہے جبکہ شرح وقایہ کے متفرق الحواشی میں ہے:
قال الشیخ الامام الفاضل المحقق ابو عبیداﷲ فی صلاۃ النافلۃ قاعدا ثلثۃ اقوال، قول الروافض ،وقول اھل السنۃ والجماعۃ ، وقول المخطی اما قول الروافض فھم یقولون ان المصلی اذاصلی النافلۃ قاعدا فصلاتہ کصلاۃ القائم الا اذا رکع وسجد یرفع الالیتین فی الرکوع والسجود ولانھم قالواصلاتہ علی صلاۃ القائم واما قول المخطی فھو یقول لا یرفع الالیتین لا فی الرکوع ولافی السجود لان نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعل کذٰلک واماقول اھل السنۃ والجماعۃ فھو یقولون بعدم الرفع فی حال الرکوع و بالرفع فی حال السجود والمخطی رأی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من بعید ولم یقف بحالہ علیہ الصلٰوۃ والسلام او لعلہ صلی فی حالۃ المرض بالایماء کما ھوشان الرکوع والسجود للمومی فی الصلاۃ وسجداخفض قریبا من الرکوع قریبامن الارض ولم یرفع الیتیہ لان فی ھذہ الصلاۃ لا یحتاج المصلی الی رفعھما فظن الرائی انہ علیہ الصلاۃ والسلام صلی فی حالۃ الصحۃ قاعدا وسجد بوضع الجبھۃ علی الارض ولم یرفع الیتیہ فحکم علی الاطلاق کما فی مسح العمامۃ اخطأ الرائی حیث مسح النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی رأسہ ثم وضع العمامۃ علی الرأس وظن ان مسح العمامۃ تجوز بدلا عن مسح الراس والحال انہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یمسح علی العمامۃ ھذا کتبہ العبد المذنب الجانی القاضی غلام گیلانی السنی الحنفی النقشبندی الرضوی کان اﷲ لہ ولمشائخہ اٰمین بحرمۃ النبی الامن الامین۔
شیخ فاضل محقق ابو عبیداﷲ نے کہا کہ بیٹھ کر نوافل اداکرنے کے بارے میں تین اقوال ہیں ، روافض کا قول ، اہلسنت وجماعت کا قول اور خطا کرنے والے کا قول ۔ (تفصیل) روافض کا قول یہ ہے وہ کہتے ہیں نمازی جب نوافل بیٹھ کر ادا کرے تو اس کی نماز قائم کی طرح ہی ہے البتہ وہ رکوع و سجدہ کے وقت سرین بلند کرے ۔ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی نماز (کا درجہ) قائم کی نماز کی طرح ہے۔خطا کرنے والے کا قول یہ ہے کہ وہ کہتا ہے رکوع اور سجود دونوں وقت سرین نہ اُٹھائے کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ اہلسنت وجماعت کہتے ہیں حالت رکوع میں سرین نہ اُٹھائے لیکن حالت سجود میں اُٹھائے ،اور خطا کرنے والے نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دور سے دیکھا لہذا وہ کامل طور پر آپ علیہ الصلٰوۃ والسّلام کے حال سے آگاہ نہ ہوسکا یا یہ بھی امکان ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نےحالتِ مرض میں اس طرح اشارہ کے ساتھ نماز ادا فرمائی ہو جس طرح اشارہ سے نماز ادا کرنے والا نمازی رکوع وسجود ادا کرتا ہے آپ نے سجدہ زمین کے قریب رکوع سے زیادہ جھُک کر کیا ہواور پچھلے حصے کو نہ اُٹھایا ہو کیونکہ اس حالت میں نمازی سرینوں کو اُٹھانے کا محتاج ہی نہیں ہوتا تو دیکھنے والے نے گمان کرلیا کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حالتِ صحت میں بیٹھ کر نماز ادا فرمائی ہے اور سجدہ کے وقت پیشانی زمین پر رکھی اور جسم کے پچھلے حصے کو نہ اُٹھایا تو اس نے مطلقاً حکم جاری کردیاجیسا کہ عمامہ پر مسح کے معاملے میں دیکھنے والے سے خطاہوئی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سرِ اقدس پر مسح فرمایا پھر عمامہ پر مسح سر کے مسح کے بدلہ میں جائز ہے حالانکہ آقائے دو جہاں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عمامہ پر مسح نہیں فرمایا تھا یہ الفاظ ایک گناہگار بندے قاضی غلام جیلانی سنّی حنفی نقشبندی رضوی نے لکھے ہیں اﷲ تعالٰی نبی امین کے صدقے اسکا اور اسکے مشائخ کا ہوجائے۔(ت)