ایضاًاس طرح سجدہ کرنے سے متعدد سُنتوں کا ترک لازم ہوتا ہے پس من حیث الدلیل بھی ضعیف ہے اگر چہ اس پر عمل و فتوٰی بھی ہو نہ ایک فقیہ و امام بلکہ بہت اماموں کا اُسی شامی جلد اول ص ۱۱۴ میں
المرجح بقوۃ الدلیل ھوالارجح وان صرح بان الفتوٰی علی غیرہ اھ
(جو قول قوت دلیل کی بنا پر ترجیح پائے وہ ہی ارجح ہوتاہے اگر چہ اس بات پر تصریح ہو کہ فتوٰی اس کے غیر پر ہے اھ ۔ت)
مفتی کے لئے ضعیف پر فتوٰی جاری کرنا درست نہیں اور اکثر ائمہ خوارزم کے افتاء سے ضعف ختم نہیں ہو سکتا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۱۴)
ایضاً اس میں احتمال ہے کہ یہ امر بدعت ہو
اذا ترددالحکم بین سنۃ وبدعۃکان ترکہ اولٰی۱؎۔
(جب کسی حکم کے سنّت اور بدعت ہونے میں تردّد ہو تو اس کا ترک اولٰی ہوتا ہے ۔ت)
(۱؎ ردالمحتار مطلب اذتردوالحکم بین سنۃ وبدعۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۷۵)
شامی جلداوّل ص۳۷۰، بحرالرائق جلد دوم ص ۱۷۸ میں ہے :
ماتردد بین بدعۃ وواجب یؤتی بہ اوبین سنۃ و بدعۃ فلایؤتی بہ ۲؎۔
جب کسی چیز کے بدعت اور واجب ہونے میں تردد ہو تو اس چیز پر عمل کیاجائے گا اور جب سنّت یا جس چیز کے سنّت و واجب ہونے میں تردد ہو تو پھر عمل نہیں کیا جائے گا اھ(ت)
(۲؎ بحرالرائق آخر باب العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۶۵)
وگوں کے ساتھ یہی ارفق واوفق ہے کہ سجدہ میں سرین کو بلند کریں تاکہ سجدہ آسانی سے ادا ہوجائے۔شامی جلدپنجم ص ۳۴۶ میں ہے:
متون کے اطلاق کو دلائل کے اطلاق کے ساتھ موافقت کی وجہ سے تقدیم حاصل ہوگی اور اس لئے بھی لوگوں کے لئے یہ نہایت ہی آسان ہے اھ(ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب الخظر والاباحۃ فصل فی اللبس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۴۹ )
فقہ کی معتبر کتابوں میں یہ مسئلہ بالکل نہیں ہے اورتصوف واوراد کی کتابوں میں سے ناقل نے نقل کیاہے کیونکہ کنزالعباد اورادو وظائف کی کتاب ہے اور تکلیفیہ کا محل و باب کتب فقہ ہیں اور یہ قاعدہ فقیہہ ہے۔
کہ جو مسئلہ مذکور ہو فی بابہ و ہ اولٰی بالعمل ہوتا ہے اس سے جو کہ مذکور فی غیربابہ ہو۔شامی جلد ثالث میں ہے:
المسئلہ المذکورۃفی بابہ اولٰی من المذکورۃ فی غیر بابہ ۱؎اھ۔
اپنے باب و فصل میں مذکورہ مسئلہ اس سے اولٰی بالعمل ہوتا ہے جو متعلقہ باب کے غیر میں مذکور ہوا اھ(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الوطء الذی یوجب الحدوالذی یوجبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۵۲)
مسائلِ فقہ کے لئے کنزالعباد کی تین کتابیں غیر مظنہ ہیں:
قال الحموی ما فی غیر المظنہ والکتب الغریبۃ یتوھم ان یکون ضعیفا۲؎ ص۳۱
امام حموی کہتے ہیں جو غیر مظنہ اورکتب غریبہ میں ہو اس کے متعلق وہم ہوتا ہے کہ وہ ضعیف ہو اھ (ت)
(۲؎ حاشیہ حموی مع الاشباہ والنظائر مقدمۃ الکتاب مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۱/۱۶)