Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
46 - 185
مسئلہ نمبر ۴۲۵،۴۲۶ : مرسلہ سید احمد حسین صاحب ازمقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج بدایوں بتاریخ ۹ جمادی الاخری ۱۳۳۸ھ

آپ ان مسئلوں میں کیا فرماتے ہیں:

(۱) جمعہ کے فرض کی نیّت کس طرح کرنا چاہئے اور بعد نماز جمعہ دو۲ رکعت کے کیا کیا پڑھنا چاہئے کل مفصل نماز لکھنا۔

(۲) اور درمیان نماز میں ہر الحمد شریف سے پہلے اور قل ھواﷲ شریف سے پہلے بسم اﷲ شریف پڑھنا چاہئے ؟الحمد شریف سے پہلے بسم اﷲ کافی ہوگی یا قل ھواﷲ سے پہلے بھی پڑھنا چاہئے؟
الجواب

اتنی نیت کافی ہے کہ آج کے فرضِ جمعہ اور چاہے دو ۲رکعت بھی کہے اوربعضے یہ بھی بڑھاتے ہیں کہ واسطے ساقط کرنے ظہر کے ، اس میں بھی کوئی حرج نہ حاجت ،فرضِ جمعہ کے بعد چھ ۶ رکعت نماز سنّت پڑھیں ،چار۴ پھر ۲دو،اور ان میں سنّت بعد جمعہ کی نیّت کریں اور پہلی چار میں قبل جمعہ کی ۔بعد کی سُنتیں پڑھ کر ۲ یا جتنے چاہیں نفل پڑھیں،ان سے زائد عام لوگوں کی حاجت نہیں۔

(۲) سورہ فاتحہ کی ابتداء میں تو تسمیہ پڑھنا سنّت ہے اور بعد کو اگر سورت یا شروع سورت کی آیتیں ملائے تو ان سے پہلے تسمیہ پڑھنا مستحب ہے پڑھے تو اچھا نہ پڑھے تو حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۷: از شہرگلی ملاناں محلّہ ذخیرہ مسئولہ سید مشتاق علی صاحب     ۱۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم جملہ اہل اسلام محلّہ ذخیرہ ساکنان بریلی گلی ملاناں نے تارکانِ صلاۃ کی تہدید و تاکید کے لئے اصحاب ذیل کو منتخب کیا اور ممبر بنایا ہے اس حضرات کو تارکانِ صلاۃ کے ساتھ ان کے عذرات تو پُورا کرنے کے بعد کسی قسم کی کارروائی ازرُوئے شرع مطہر عمل میں لانا چاہئے۔اسمائے گرامی ممبران ہادی حسین ،شیخ مختار احمد ، قرب محمد، محبوب حسن ،مشتاق علی، سید حسین، عنایت حسین، سید اظہر علی ہر شخص کے نام کے نیچے انگوٹھے کا نشان ہے۔
الجواب

بہ نرمی سمجھائیں ترکِ نماز وترکِ جماعت و ترکِ مسجد پر قرآن عظیم و احادیث میں جو سخت وعیدیں ہیں باربار سُنائیں جن کے دلوں میں ایمان ہے انھیں ضرور نفع پہنچے گا اﷲ عزوجل فرماتا ہے۔
وذکر فان الذکری تنفع المومنین ۱؎۔
اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے (ت)
(۱؎ القرآن       ۵۱/ ۵۵)
اﷲ کے کلام و احکام یاد دلاؤ کہ بیشک ان کا یاد دلانا ایمان والوں کو نفع دے گا۔

اور جو کسی طرح نہ مانیں اُس پر اگر کسی کا دباؤ ہے اس کے ذریعے سے دباؤ ڈالیں اور یوں بھی باز نہ آئے تو ا سے سلام وکلام ، میل جول یک لخت ترک کر دیں۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینّک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظٰلمین۔۱؎
اور جب کبھی تجھے شیطان بھُلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن            ۶/ ۶۸)
مسئلہ نمبر ۴۲۸: از فیض آباد محلہ کوکی علی بیگ مسئولہ سیّد عبداﷲ صاحب سب انسپکٹر     ۱۳ محرم ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی پنج وقتی نماز و دیگر نوافل مثل تہجد وغیرہ میں زبان سے قرأت نہیں کرتا بلکہ اپنی کل نمازوں میں زبان تالو سے لگا کر دلی خیال کے ساتھ ادا کرتا ہے۔قرآن شریف و کتاب ودرود شریف وغیرہ سب دھیان سے ادا کرتا ہے کہتا ہے کہ قرآن شریف حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قلب پر القا ہوا تھا بایں وجہ بمقابلہ زبانی پڑھنے کے دل میں خیال کرنا زیادہ افضل و موجب مزید ثواب ہے زید اپنی زبان کو تالو سے لگا کر بالکل معطل اور بیکار کردیتا ہے،زید کہتا ہے کہ یہ مسائل اہل ذوق اور اصفیاء کرام  کے ہیں ۔ظاہرین ان مسائل کو نہیں سمجھ سکتے ۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس طریقہ مذکورہ بالا پرزید کی نماز صحیح اور اعلی درجے کی ہوئی یا نہیں، اگر اعلٰی درجے کی ہوئی ہے تو ہم لوگ بھی اسی طریقہ سے کیوں نہ پڑھیں کہ مستحق ثواب عظیم کے ہوں ۔ اور اگر زید کی نماز اس طریقہ مذکورہ پر صحیح نہیں ہوئی ہے تو زید کو اپنی ان نمازوں کی بابت جن کو وہ ادا کرچکا ہے کیا کرنا چاہئے،زید اگر امامت بھی کرتا ہے بس ایسی حالت میں زید کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں اور آئندہ زید کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ،اور جو مقتدی زید کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں ان کو اپنی نمازوں کی بابت کیا کرنا چاہئے؟ کیا لوٹانا واجب ہے؟
الجواب

زید نے شریعت پر افترا کیا، صوفیہ کرا م پرافترا کیا، اپنی نمازیں سب برباد کیں ، اُس کی ایک نماز بھی نہیں ہوئی نہ اسکے پیچھے دوسروں کی ہوئی، اس پر فرض ہے کہ جتنی نمازیں ایسی پڑھی ہوں سب کی قضا کرے اور جتنی نمازیں اور وں نے اس کے پیچھے پڑھی ہیں اُن پر بھی فرض ہے کہ اُن کی قضا کریں۔قرآن عظیم،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ضرور قلب مبارک پر نازل ہوا مگر پڑھنے کیلئے ۔قال اﷲ تعالٰی
و قراٰنا فرقٰنہ للتقرأہ علی الناس علی مکث۲؎۔
اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا کہ تم لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
(۲؎ القرآن            ۱۷/ ۱۰۶)
نماز میں قرآن کا پڑھنا فرض ہے قال اﷲ تعالٰی:
فاقرأوا ما تیسر من القراٰن ۱؎۔
نماز میں قرآن پڑھو جتنا آسان ہو۔
(۱؎ القرآن        ۳۷/ ۲۰)
اس کا نام پاک ہی قرآن ہے قرآن قرأت سے اور قرأت پڑھنا اور پڑھنا نہ ہوگا مگر زبان سے، دل میں تصوّر کرنے کو پڑھنا نہیں کہتے حالتِ جنابت میں قرآن پڑھنا حرام ہے اور تصوّر منع نہیں۔نماز میںقرأتِ کلام مجید پر اجماع مسلمین کا خلاف جہنم کا خیال ہے۔قال اﷲ تعالٰی:
ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولّٰی ونصلہ جہنّم وساء ت مصیرا۔۲؎
جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے اور مومنین کی راہ کے علاوہ راہ پر چلتا ہے ہم پھیر دیں گے اسے اس راہ پر جس پر وُہ چلا اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بُری جگہ ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن         ۴/ ۱۱۵)
مسئلہ نمبر ۴۲۹: از شہر محلہ ملو کپور مسئولہ شفیق احمد خان صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقتدی کو آخری رکعت کے قعدہ میں کیا پڑھنا چاہیے۔
الجواب

التحیات ،درود ،دُعا اگر اسے اوّل سے نماز ملی ہو اور اگر کسی رکعت کے پڑھنے کے بعد شامل ہوا تو امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں التحیات ٹھہر ٹھہر کر اس قدر ترتیل کے ساتھ پڑھے کہ اس کی التحیات امام کے سلام وقت ختم ہو، اور اگر یہ التحیات پڑھ چکا اور امام نے ابھی سلام نہ پھیرا تو پچھلے دونوں کلمہ شھات بار بار پڑھتا رہے یہاں تک کہ امام سلام پھیر ے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۳۰: ازدھو راجی کاٹھیا واڑ مدرسہ سرمایہ فخر عالم مرسلہ مولٰینا مولوی غلام گیلانی صاحب ۷ صفر ۱۳۳۹ھ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم 

الاستفتاء

کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ اگر نمازِ فرض یا نفل بیٹھ کر پڑھے جائیں تو سجدے میں پاؤں سے سُرین کو نہ اُٹھائے ورنہ نماز ٹوٹ جائے گی ، چنانچہ طحاوی و عینی و ہدایہ وجواہرنفیسہ و کنز العباد و عنایہ و کفایہ نے اس کو ذکر کیا ہے بینوا تو جروا۔
الجواب وھوالموفق لِلصِدقِ والصَّوَابِ والیہ المرجِعُ وَالْماٰب

طحاوی و عینی، ہدایہ وکفایہ وعنایہ میں تو یہ مسئلہ بالکل نہیں غلط مشہور ہے ناقل پر تصحیح نقل ضروری ہے۔جواہر نفیسہ، وکنزالعباد دونوں ضعیف کتابیں ہیں اوراوّل غیر مشہور بھی ہے اور اس کا مصنف بہت ہی کم علم ہوا ہے چنانچہ اس کے دیکھنے سے پُوراحال اس کا معلوم ہوتاہے اس میں بڑے ضعیف و خلافِ تحقیق و غلط مسائل ہیں ایک ہی جگہ میں بلا وجہ ترجیح''یجوز''و''لایجوز'' کو جمع کیا ہوا ہے یہ چھوٹا سا رسالہ ہے عربی زبان میں جنازہ کے غسل و کفن دفن قبر وغیرہ کے متعلق مسائل بیان کئے ہیں ، اور دوسری کا مصنف علی بن لقمہ غوری ہے اس کو ضعیف کہا ہے۔ علامہ مُلّا علی قاری نے وجمال الدین مرشدی نے مفید المفتی صفحہ ۱۹۴ اور علامہ شامی نے بھی اس کو ضعیف کہا ہے۔ بعض کتابوں کے بیاض یا وقایہ پر یہ عبارت اس طور پر ہے:
من صلی قاعد افسجد لایرفع الیتیہ وان رفع الیتیہ فسدت صلاتہ فکذارجلیہ کذافی المحیط الچلپی والاصل ان المریض او غیرہ اذاصلی قاعد ا لا یرفع الیتیہ کما لا یرفع رجلیہ فی السجود واذارفع رجلہ واحداوالیتیہ واحدۃ لاتفسد کذافی چلپی ابن الملک والمختار ان یقعد کما یقعد فی حالۃ التشھد وھوالذی اختارہ فقیہ ابواللیث و شمس الائمۃ السرخسی وقال ابو یوسف رحمہ اﷲ اذاحان وقت الرکوع والسجود ویقعد کما یقعد فی التشھدکذا فی العینی شرح الھدایۃ ص ۱۶ اھ
جو شخص بیٹھ کر نماز ادا کر ے وہ سجدہ کے وقت سرین نہ اُٹھائے اگر اس نے سرین کو اُٹھایا تو اس کی نماز فاسد ہوجائیگی ، اسی طرح دونوں پاؤں کا حکم ہے محیط چلپی میں اسی طرح ہے اصل یہ ہے کہ مریض وغیرہ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو وہ سرین نہ اُٹھائے جیسا کہ سجدہ میں پاؤں نہیں اٹھاتا اور جب کسی نے ایک پاؤں اور ایک سرین اٹھایا تو نماز فاسد نہ ہوگی، چلپی ابن املک میں اسی طرح ہے،اور مختاریہ ہے کہ اسی طرح بیٹھ جائے جس طرح تشہد میں بیٹھتا ہے۔ اسے فقیہ ابوللیث وشمس الائمہ سرخسی نے اختیار کیا ہے،امام ابو یوسف رحمہ اﷲ نے فرمایا جب رکوع و سجود کے وقت جھکے تو اس طرح بیٹھے جس طرح تشہد میں بیٹھا جاتا ہے۔ عینی شرح ہدایہ صفحہ ۱۶ میں اسی طرح ہے اھ۔(ت)

حالانکہ عینی وچلپی میں اس عبارت کا پتا بھی نہیں اور محیط متعدد ہیں معلوم نہیں کون سی محیط ہے وہ خود موجود نہیں جو دیکھی جائے۔ معلوم ہوا کہ یہ عبارتیں مصنوعی ہیں جن کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اُن میں اُن کا نشان تک نہیں۔

ایضاًیہ عبارت اگر کسی معتبر کتاب میں مل بھی جائے تو اس مطلب سے اُس کو مساس بھی نہیں کیونکہ عبارت اولٰی میں جو دلیل بیان کی ہے
لان الیتیہ فی صلٰوۃ القاعدہ الخ
(قاعدکی نماز میں اسکے سرین الخ۔ت) وہ دعوی مذکور پر منطبق نہیں ہوتی اگر یہ حالت سجدہ کا بیان ہوتا تو دلیل میں بجائے
واذارفع قدمیہ فی صلاۃ القائم
(جب قائم نے نماز میں دونوں قدم اُٹھا لئے۔ت)کے
رفع قدمیہ فی السجود
(دونوں قدم حالتِ سجدہ میں اُٹھالئے۔ت) ہوتا ورنہ قیدفی صلاۃ القائم سے لازم آتا ہے کہ صلاۃ قاعد میں رفع قدمین فی السجود مفسدِصلاۃ نہ ہو اور صلاۃ قائم میں ہو حالانکہ اطلاق دلائل مبطل تفاوت ہے اس سے غالب ظن یہ ہوتا ہے کہ اس عبارت میں لفظ فسجد ناقل یا کاتب کی غلطی ہے، پس جبکہ اس لفظ کو غلط مانا جائے تو اس عبارت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حالتِ قیام حکمی میں رفع الیتین نہ کرے ورنہ وہ ایسا ہوگا جیسے قیام حقیقی میں کوئی شخص رفع قدمین کرے کہ وہ مفسد صلاۃ ہے۔ پس اس تقریر پر یہ عبارت سائل کے مطلب سے ہے اور عبارت ثانیہ میں لا یرفع الیتیہ (سرین کو نہ اُٹھائے ۔ت)کے ساتھ قید فی السجدہ کی بھی مذکور نہیں لہذا اس سے بھی وہی مراد ہوگی کہ لایرفع الیتیہ فی القیام الحکمی(قیام حکمی میں سرین نہ اُٹھائے۔ت) اور آگے جو مشبہ بہ کے ساتھ فی السجدۃ مذکور ہے سو وہ محتمل ہے کہ صرف لا یرفع رجلیہ (پاؤں نہ اُٹھائے۔ت)کے ساتھ متعلق ہوا اور تشبیہ محض فساد میں ہوا اگر یہ احتمال متعین بھی نہ ہوتا ہم مستدل کو مضر ہے
لانہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال
(کیونکہ جب احتمال آگیا تو استدلال باطل ہوگیا۔ت)

ایضاًمتون وشروح و فتاوٰی مشہور متداولہ بین ایدی العلماء میں جو مطلقاً سجدہ رجال کی ہیئت لکھی وہ اس کے خلاف ہے اور بقاعدہ رسم المفتی وہ مقدم ہیں۔ اس قدر کتب کاخالی ہونا اسی پر مشعر ہے کہ یہ مسئلہ عدم الوجود ہے یا غیر معتبرہے۔شامی جلد اول ص ۱۵۲ میں ہے:
عدم الذکر یشعر باختیار عدمہ ا ھ
عدم ذکر واضح کررہا ہے کہ وہ مختار نہیں اھ(ت)
اُسی جلد ص ۱۷ میں ہے:
عدم الذکر کذکرالعدم۔
عدمِ ذکر ، ذکرِعدم کی مانندہے۔(ت)
ایضاًسلف کاعمل اس پر نہیں پایا گیا لہذا اگر چہ صحیح بھی ہو اس پر عمل نہ ہوگا۔شامی جلد اوّل ص ۳۰۸ طبع خورد میں ہے:
ھذا یعلم ولا یعمل علیہ لما فیہ من مخالفۃ السلف۔
یہ معلوم کر لیا جائے اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس میں سلف کی مخالفت ہے۔(ت)
ایضاً جواہر نفیسہ اور دوسری بعض کتابوں میں جو یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کتب غیر معتبرہ مجہولہ ہیں اور جو معتبرہ ہیں ان کا حوالہ غلط ہے اور ظاہر ہے کہ علمِ فقہ کا ایسے غیر مشہور و مجہول حواشی و فتاوٰی سے نہیں لیا جاتا اُسی شامی اُسی جلد میں ہے:
الفقہ لاینقل من الھوامش المجھولۃ و ان قال معتمدانہ بخط ثقۃ ۱؎۔اھ
مسائل فقہ حواشی مجہولہ سے نقل نہیں کئے جاتے اگر چہ کوئی معتمدیہ کہے کہ یہ ثقہ کی تحریر ہے۔اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار        باب العیدین         مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۲۱۴)
بر خلاف استصحاب کے وُہ نقل کرنا حواشی مجہولہ سے بھی درست ہے،
لانہ لتائید ابقاء ماکان علی ماکان فیکفی المدفع وان لم یکف المرفع فان الرفع اسھل من الدفع فافھم وتثبت ولاتھبت۔
کیونکہ یہ کسی شے کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھنے کی تائید کے لئے ہوتا ہے تو دافع کو کفایت کرے گا اگر چہ رافع کو کفایت نہ کرے کیونکہ رفع دفع سے اسہل ہے تو غور کر ثابت قدم رہ اور بزدل نہ بن۔(ت)
ایضاًیہ قول مخصص کا ہے اور یہ معتبر نہیں شامی جلد اول ص ۵۱۵ میں ہے۔
تخصیص القول یفید انہ خلاف المعتمد ۲؂ اھ
(تخصیص قول مفید ہے اس بات کے کہ یہ معتمد کے خلاف ہے اھ ۔ت)
(۲؎ ردالمحتار        باب العیدین         مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۲۱۴)
Flag Counter