مسئلہ نمبر ۴۱۸: از نرسنگڈھ سنٹرل انڈیا براہ سیہور مراسلہ میرزامحمد بیگ عرف میاں محمد صاحب وکیل
۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ، حامداً ومصلّیاً و مسلما۔ہدیہ تسلیم بالوف التعظیم قبول ہو!
مزاج عالی! الحمد ﷲ علٰی احسانہٖ راقم بخیریت دعاگوئے عافیت مزاج سامی نرسنگڈھ میں انگریزی تعلیم کے ملحدانہ اثر کو بڑھتا ہوا دیکھ کر نیاز مند نے اور یہاں کے مسلمانوں نے ایک مدرسہ اسلامی جاری کیا ہے فی الحال بیس روپے۲۰ ماہوار کا ایک مدرس نوکر رکھا ہے جس وقت بہت سے لوگوں کی درخواست آئی تھی میں نے دیوبند کے متعلق درخواست بالکل نامنظور کی ، ایک صاحب مولوی شفاعت رسول خلف مولوی عنایت رسول جو خود کو جناب کا شاگرد اور مرید کہتے ہیں صرف جناب سے نسبت رکھنے کے سبب یہاں مقرر کئے گئے ہیں مگر حیرت ہے ان کی بعض باتوں پر قرآن شریف بالکل صحیح نہیں پڑھ سکتے اور مُجھ سے فرمانے لگے کہ میں نے سُنا آپ اشارہ بہ سبابہ التحیات میں نہیں کرتے، میں نے کہا ہاں اشارہ نہیں کرتا ہوں، فرمانے لگے کہ مولوی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی تو اشارہ کرتے ہیں ، میں نے کہا مجھ کو یقین نہیں آسکتا کیونکہ الکوکبۃ الشھابیۃ میں اس کی مفصل بحث بحوالہ کتب امام ربّانی موجود ہے چنانچہ جناب والا مجھ کوجب میں ۱۸۹۹ء میں حاضرِ خدمت ہوا تھا ۲ رسالے عطا فرمائے تھے اور میں نے وہ رسالہ مولوی شفاعت رسول کو دکھایاقاضی ریاض الدین جو مارہرہ شریف کے رہنے والے ہیں کہنے لگے بڑی حیرت کی بات ہے اگر مولوی احمد رضا خان صاحب مدظلہ العالی انگلی سے اشارہ کرتے ہوں چنانچہ جناب والا کی خدمت اقدس میں مکلف ہوں کہ اس باب میں جناب والا کا کیا معمول ہے بواپسی مستفید فرمائیں میں نے اس باب میں مولوی عبدالحی مرحوم کا رسالہ نفع المفتی والمسائل اور دیگر کتب مشکوٰۃ شریف و ہدایہ سب کو دیکھا ہے لیکن میں تو مقلد ہوں اور جمہور امّت کا جس پر اجماع و اتفاق ہے وہی میرا مسئلہ مختار ہے جناب والا کے ارشاد سے اور مضبوطی ہوجائے گی اور یہ تعجب جو اجتماع نقیضین کے قبیل سے ہے رفع ہو جائیگا کہ جناب والا کتابوں میں ایسا لکھیں اور عمل اسکے خلاف ہو۔
الجواب
وعلیکم السّلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اشارہ ضرور سنّت ہے۔محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:
صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنصنع کما صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھوقول ابی حنیفۃ و اصحابنا۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا تو ہم بھی اشارہ کرتے ہیں جس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور یہی مذہب امام اعظم ابو حنیفہ اور ہمارے اصحاب کا ہے۔
امام ملک العلماء نے بدائع اورامام محقق علی الاطلاق نےفتح القدیر اور دیگر ائمہ کبار نے اس کی تحقیق فرمائی۔فقیر اور فقیر کے آباء و اساتذہ و مشائخ کرام قدست اسرارہم سب اس پر عامل رہے، مارہروی صاحب نے زیادہ نہیں توحضرت شاہ ابوالحسن نوری میاں صاحب قدس سرہ کو ضرور دیکھا ہوگا۔کوکبہ شہابیہ میں مسئلہ اشارہ کی بحث نہیں بلکہ اس بات کی اسمٰعیل دہلوی نے معاذ اﷲ حضرت شیخ مجدّد کو بھی مشرک ٹھہرادیاہے جو وجوہ انھوں نے یہاں لکھے اسماعیل کہتا ہے کہ ان کا قائل مشرک ہے اس کو تناقض سے کیا علاقہ،مولوی شفاعت رسول میرے ایک خالص دوست مرحوم و مغفور کے صاحبزادے ہیں اُن کو یہاں بیعت بھی ہے میرے مدرسہ میں پڑھا ہے اگر چہ مجھ سے نہ پڑھا نہ میں نے ان کا قرآن مجید سُنا، ممکن کہ جس طرح آجکل اکثر علماء و حفاظ غلط پڑھتے ہیں اُن پر بھی اسی عالمگیر بلا کا اثر ہو
وحسبنااﷲ و نعم الوکیل واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۹: از شہر دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ سید محمد عبدالکریم صاحب ۹ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک پیش امام صاحب نماز کی حالت میں جب رکوع سے فارغ ہوکرسمع اﷲ لمن حمدہ کو سجدہ کے قریب جاکر ختم کرکے بوصل اﷲ اکبرکہتا ہے اور جگہ جو اماموں کو دیکھا ہے وہ سمع اللہ لمن حمدہ کو قیام میں ختم کرتے ہیں اور وہاں سے اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ کرتے ہیں ۔اب جو امام سجدہ کے قریب سمع اﷲ لمن حمدہ کو ختم کرتا ہے تو مقتدی ربنا لک الحمد کہاں پر کہیں ، کھڑے رہیں یا امام کے ساتھ سجدے میں جاکر کہیں، اگر اسی طرح کریں گے تو ان جاہلوں کو عادت پڑجائے گی ، اور اب سوال یہ ہے کہ نماز میں کوئی نقصان نہیں ہوگا؟
الجواب
سنّت یہ ہے کہ سمع اﷲ کا سین رکوع سے سر اُٹھانے کے ساتھ کہیں اور حمدہ کی "ہ" سیدھا ہونے کے ساتھ ختم، اسی طرح ہر تکبیرِ انتقال میں حکم ہے کہ ایک فعل سے دوسرے فعل کو جانے کی ابتداء کے ساتھ اﷲ اکبرکا الف شروع ہو اور ختم کے ساتھ ختم ہو، امام مذکور جو اس طرح کرتا ہے دو باتیں خلافِ سنت کرتا ہے۔ سمع اﷲ لمن حمدہ کا سجدہ کو جاتے ہوئے ختم کرنا اور سجدہ کو جانے کی تکبیر سجدہ کو جھکنے کی ابتداء سے شروع نہ کرنا، ان وجوہ سے نماز دو کراہتو ں سے مکروہ ہوتی ہے، اسے سمجھا یا جائے کہ خلاف ِسنّت نہ کر۔اگر نہ مانے اور اس سے بہتر اما م سُنّی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ صحیح الطہارۃ مل سکے تو اس کو بدل دیاجائے مقتدی خلافِ سنّت میں اسکی پیروی نہ کریں بلکہ رکوع سے سر اٹھانے کے ساتھ اللھم ربنا لک الحمد کا الف اور جو صرف ربنا لک الحمد پڑھتا ہو وہ ربنا کی ر شروع کریں اور سیدھے ہوجانے کے ساتھ حمدہ کی دال ختم ہوجائے تو پھر سجدہ کو جانے کے ساتھ اﷲ اکبر کا الف شروع کریں اور ا ﷲ کے لام کو بڑھائیں جب سر رکھنے کے قریب پہنچیں تو اﷲ کی ہ اور عین سر زمین پر پہنچتے وقت اکبر کی رختم کریں۔ لام کو بڑھانا اس لئے کہ یہ راستہ طے کرنے میں اگر لام کو نہ بڑھایا تو اکبر سجدے میں پہنچنے سے ختم ہوجائے گا اور یہ خلافِ سنت ہے یا راستہ پورا کرنے کو اکبرکا ا لف یا ب بڑھائیں گے اور اس سے نماز فاسد ہوتی ہے۔ یا ر بڑھائیں گے اور یہ غلط و خلافِ سنت واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۰: از موضع میمونڈی بزرگ مسئولہ سیّد امیر عالم حسن صاحب ۲۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نماز فریضہ بجماعت جو شخص ادا کرلے تو اس پر لازم ہے کہ جب تک امام بعد سلام دُعا نہ مانگے تب تک مقتدی بھی دُعا نہ مانگے اگر چہ کیسا ہی ضروری کام خواہ نمازِ فجر ہو یا ظہر ہو یا عصر ہو یامغرب یا عشاء، اگر امام سے پہلے دُعا مانگ کر مقتدی اُٹھ جائے گا تو وہ گناہگار ہوجائے گا اور امام کی اطاعت سے نکل جائیگا ۔عمرو کہتا ہے کہ اگر امام نے سلام پھیر دیا تو مقتدی امام کی اطاعت سے نکل گیا اب مقتدی کو اختیار ہے کہ انتظار دُعائے امام کرے یا نہ کرے اگر انتظار کیا تو فبہا ورنہ چلے آنے سے گناہگار نہ ہوگا اور نہ اطاعت امام سے دُور ۔اب علمائے دین کی خدمت میں عرض ہے کہ اسکا پُورا پُورا ثبوت کیوں نہ دیا جائے کہ زید کا قول ثابت ہے یا عمرو کا ، اور اس کا بھی ثبوت دیا جائے کہ کھانے پرفاتحہ پڑھنا درست ہے یا نہیں اور غیر مقلد ووہابڑا و تعلیم یافتہ مدرسہ دیوبند کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟ بیّنواتؤجروا۔
الجواب
عمرو کا قول صحیح ہے ہاں جماعت کے ساتھ دعا میں برکت ہے اس کیلئے انتظار بہتر ہے اور اگر کوئی ضرورت جلدی کی ہو تو جاسکتا ہے کوئی حرج نہیں ورنہ مسلمانوں کی جماعت کے خلاف بات پسندیدہ نہیں، کھانے پر فاتحہ پڑھنا درست ہے اس میں کتابیں تصنیف ہوچکی ہیں ، جو نادرست کہے وہ بتائے کہ اﷲ ورسول نے اسے منع فرمایا یا تم منع کرتے ہو اگر اﷲ ورسول نے منع فرمایا تو بتاؤ اور اگر تم منع کرتے ہو تو تم شارع نہیں اپنا سر کھاؤ۔ غیر مقلد وہابی دیوبندی سب اسلام سے خارج ہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض
والتفصیل فی حسام الحرمین والنھی الاکید وغیرھما
(اور اس مسئلہ کی تفصیل حسام الحرمین اور النہی الاکید وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ عورتوں کو نیت نماز میں ہاتھ سینہ پر باندھنا چاہئے اور بوقت قعدہ التحیات میں دونوں پاؤں بچھا کر بیٹھنا چاہئے اور پاؤں کی گرہ بھی ڈھکی رکھنا چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ گرہ نہ ڈھکی جائے ۔اب علماء دین فرمائیں کہ عورتوں کو نیت نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا اور قعدہ التحیات میں پاؤں بچھا کر بیٹھنا جائز ہے یا نہیں، بعض کہتے ہیں کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی نماز پڑھنا چاہئے جس طرح مرد ایک پاؤں بچھا کر قعدہ میں بیٹھتے ہیں اور زیرِ ناف ہاتھ باندھتے ہیں اور پاؤں کی گرہیں کھلی رکھتے ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی چاہئے یعنی جو قاعدہ مردوں کی نماز کا ہے وہی عورتوں کا ہے۔اب حضور سے امید وار ہیں کہ اس کا پُورا پورا ثبوت حوالہ کتب وآیت و حدیث کے کیوں نہ دیا جائے کہ عورتوں کو کس طرح اور کس قاعدے سے نماز پڑھنا چاہئے۔
الجواب
زید کا قول صحیح ہے سب کتابوں میں اس طرح ہے اُن بعض کا قول محض باطل ہے اور عورت کے گٹّے سترِ عورت ہیں ان کا کھلنا جائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۲: از گولڑہ ضلع راولپنڈی مکان حضرت پیر صاحب مرسلہ حمیداﷲ صاحب ،پیر المعروف بہ نعمان ملا ۱۲صفر ۱۳۳۸ھ
رفع سبابہ کے بارے میں جناب کا کیا عمل ہے؟
الجواب
فقیر اور فقیر کے آبائے کرام و مشائخ عظام و اساتذہ اعلام قدست اسرارہم کا ہمیشہ معمول باتباع احادیث متواترہ و ارشادات کتب متکاثرہ رفع سبابہ رہا اور اسے سنّت جانتا ہے تفصیل کلام بدائع امام ملک العلماء وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق وغیرہما کلمات شراح محققین وفتاوٰی فقیر میں ہے واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۴۲۳: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی عبداﷲ صاحب بنگالی ۱۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کے بعد چاروں جہات میں کسی ایک جہت کو متوجہ ہو کر دُعا کرنا درست ہے یا نہیں؟ اورہندوستان کے لئے ان چار جہتوں میں سے کوئی جہت مخصوص ہے یا نہیں؟
الجواب
جہت قبلہ ہر جگہ افضل ہے مگر امام کے لئے کہ بعد سلام اسے قبلہ رو رہنا مکروہ ہے دہنے یا بائیں پھر جائے یا مقتدیوں کی طرف منہ کرلے اگر سامنے کوئی نماز نہ پڑھتا ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۲۴: از قلعہ لنڈی کوتل ڈاکخانہ خاص ضلع پشاور بمعرفت شیرجان صوبیدار میجر خیبر رائفل مرسلہ ادخان شنواری ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
بخدمت جناب مولوی صاحب دام اقبالہ، السلام علیکم و رحمۃ اﷲ التحیات میں انگلی کا اشارہ کرنا منع ہے یا جائز ، آپ مہربانی فرما کر بندے کو تحریر کریں کہ نماز میں انگلی کا اشارہ کرناجائز ہے یا نہیں اور کس کس طریقہ پر جائز ہے؟
الجواب
التحیات میں انگلی کا اشارہ سنّت ہے جب اشھد پرپہنچے چھنگلیا اور اس کے برابر کی انگلی کی گرہ باندھے اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنائے اور" لا" پر کلمے کی انگلی اٹھائے اور" الا" پر گرا کر ہاتھ کھول دے محرر مذہب سیّدنا امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنصنع کما صنع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھوقول ابی حنیفۃ واصحابنا۱؎۔
یہ اشارہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا تو ہم کریں گے جس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ اور ہمارے اصحاب کا ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، واﷲ تعالٰی اعلم۔