مسئلہ نمبر ۴۱۴ تا ۴۱۷: ازکاہنور ضلع روہتک محلہ سیمان مرسلہ بھورے خان ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
(۱) امام کے پیچھے مقتدی سورہ فاتحہ پڑھے یا نہ پڑھے؟
(۲) آمین با آوازِ بلند کینا درست ہے یا نہیں
(۳) بجائے بیس رکعت تراویح کے آٹھ رکعت پڑھے تو درست ہے؟
(۴) بجائے تین وتر کے ایک وتر پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب
(۱) مقتدی کو قرآن مجید پڑھنا مطلقاً جائز نہیں ، اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
واذاقرئ القراٰن فاستمعو لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۱؎۔
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اورخاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۷/ ۲۰۴)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذاکبرفکبروا اذاقرأفانصتوا۲؎۔
امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے جب تکبیر تحریمہ کہے تم تکبیر کہو جب قرأت کرے خاموش رہو۔(ت)
(۲؎ مصنّف ابن ابی شیبہ فی الامام یصلی جالسا مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۳۲۶)
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعا لٰی عنہ فرماتے ہیں:
''مجھے تمنا ہے کہ جوامام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں آگ ہو''۔
عبداﷲبن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما فرماتے ہیں:
''قدرت پاتا تو اسکی (امام کے پیچھے پڑھنے والے کی) زبان کاٹ دیتا''واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) آمین با آواز بلند کہنا نماز میں مکروہ و خلاف ِسنت ہے، اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
وادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ۳؎۔
تم اپنے رب کو عاجزی اور تواضع سے آہستہ آہستہ پکارو۔(ت)
(۳؎ القرآن ۷/ ۵۵)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واذقال ولاالضالین فقولوااٰمین فان الامام یقولھا ۴؎۔
جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ امام اسے کہہ رہا ہے۔(ت)
ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال سیحدث بعدی اشیاء فاحبھا الی ان تلزمو اما احدث عمر رضی اﷲ عنہ۔ نذیر احمد سعیدی
(۴) ایک رکعت وتر خواہ نفل باطل محض ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا آخری فعل تین رکعت وتر ہے:
وانما یؤخذ بالاٰخر فہو الاخر من فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
آپ کے آخری عمر کے اعمال پر عمل کیا جاتا ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی ہے (ت)
اتنا یاد رہے کہ یہاں ان مسائل میں مخالفت کرنے والے غیر مقلدین وہابیہ ہیں جن پر بوجوہ کثیرہ ان کے ضالہ کے سبب کفر لازم ، جس کی قدرے تفصیل ہمارے رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ میں ہے وہ کہ مسلمان ہی نہیں اُنھیں ایسے فروعی مسائل اسلامی میں نیا دخل دینے کا کیا حق ، اُن سے تو اصول پر گرفت کی جائے گی کہ مقتدی فاتحہ پڑھے نہ پڑھے آمین جہر سے کہے یا آہستہ، تراویح آٹھ رکعت ہوں یا بیس ، وتر ایک ہو یا تین یہ تو سب اس پر موقوف ہیں کہ نماز بھی صحیح ہو جس کا اسلا م صحیح نہیں اس کی نمازکیسے صحیح ہو سکتی ہے وہ ان مسائل میں اِس طرف عمل کرے تو اُس کی نماز باطل ، اُس طرف عمل کرے تو باطل ، پھر لایعنی فضول زق زق سے کیا فائدہ ! اور مسلمان کو ہوشیار رہنا چا ہئے کہ نہ ان سے ملناجائز ، نہ اُن کی بات سننی جائز ، نہ اس کے پاس بیٹھنا جائز ۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
واماینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین۱؎۔
اور جب کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت)
(۱؎ القرآن ۶/ ۶۸)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم و ایاھم لا یضلو نکم ولا یفتنونکم ۲؎۔
تم ان سے سخت بچو کہ نہ وہ تمھیں گمراہ کریں نہ ہی فتنہ میں ڈالیں۔
(۲؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۱۰)