Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
43 - 185
حلیہ میں ہے :
لو ترک السجدہ الثانیۃ من الرکعۃ الاولٰی سھو اوقام الی الرکعۃ الثانیۃ ثم تذکرھا فی اٰخر صلاتہ لم تسدصلاتہ بل یسجد المتروکۃ ثم یسجد للسھولترک الترتیب لان ترک الواجب الاصلی ساھیا یوجب سجود السھوبا لاتفاق۱؎۔

ۤ
اگر بھول کر پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ چھوڑ کر دوسری رکعت کا قیام کیا پھر آخر نماز میں (متروکہ سجدہ) یاد آگیا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی بلکہ پہلے چھوڑا ہوا سجدہ کرے پھر ترکِ ترتیب کی وجہ سے سجدہ سہو کرے کیونکہ واجب اصل کو بھول کرچھوڑنے سے بالاتفاق سجدہ سہو لازم آتا ہے۔(ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
جوہرہ نیّرہ میں ہے:
لو ترک السجدۃ الثانیۃ من الرکعۃ الاولی ساھیا وقام وصلی تمام صلاتہ ثم تذکرھا فعلیہ ان یسجدالمتروکۃ ویسجد للسھو لترک الترتیب فیما شرع مکررا۲؎۔
اگر پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ بھول کر چھوڑ دیا اور دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا آخر میں نماز پوری کرنے پر متروکہ سجدہ یاد آیا تو اس پر لازم ہے پہلے متروکہ سجدہ ادا کرے پھر سجدہ سہو کرے کیونکہ ان افعال میں ترتیب متروک ہوگئی جو متکرر مشروع ہوئے تھے (ت)
 (۲؎ الجوہرۃ النیرۃ        باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان        ۱/ ۵۹)
فتح القدیر وغنیۃ شرح منیۃ و بحرالرائق و حاشیۃ الشبلی علی تبیین الحقائق وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
وھذا لفظ الغنیۃ مختصرا، اعلم ان المشروع فرضا فی الصلاۃ اربعۃ انواع مایتحد فی کل الصلاۃ کالقعدۃ او فی کل رکعۃ کالقیام و الرکوع وما یتعدد فی کلھا کالرکعات اوفی کل رکعۃ کالسجود فالترتیب شرط بین مایتحد فی کل الصلاۃ وبین جمیع ما سواہ من الثلثۃ الاخری حتی لوتذکر بعد القعدۃ قبل السلام او بعدہ قبل ان یاتی بمناف رکعۃ او سجدۃ صلبیۃ او سجدۃ تلاوۃ فعلٰھا واعادالقعدۃ وسجد للسھو ۳؎ والترتیب بین ما یتکرر فی کل رکعۃ کالسجود وبین مابعدہ واجب حتی لوترک سجدۃ من رکعۃ ثم تذکرھا فیما بعدھا من قیام او رکوع اوسجود فانہ یقضیھا ولایقضی ما فعلہ قبل قضائھا مماھوبعد رکعتھا من قیام او رکوع اوسجود بل یلزمہ سجود السھو فحسب لکن اختلف فی لزوم قضاء ما تذکر فقضاھا فیہ کما لو تذکروھو راکع او ساجدانہ لم یسجد فی الرکعۃ التی قبلھا فانہ یسجدھاو ھل یعید الرکوع اوالسجود المتذکر فیہ ففی الھدایۃ انہ لا یحب اعادتہ بل تستحسب معللابان الترتیب لیس بفرض بین ما یتکرر من الافعال وفی فتاوٰی قاضی خان انہ یعیدہ ولو لم یعدہ فسدت صلاتہ معللا بانہ  ارتفض بالعود الی ماقبلہ من الارکان لانہ قبل الرفع منہ یقبل الرفض بخلاف مالو تذکر السجدۃ بعد ما رفع من الرکوع لانہ بعد ماتم بالرفع لا یقبل الرفض ۱؎۔
یہ اختصاراً غنیۃ کے الفاظ ہیں نماز میں مشروع فرائض چار انواع کے ہیں ایک وہ جو پوری نماز میں ایک ہو مثلاً قعدہ،یا پوری رکعت میں ایک جیسے قیام و رکوع۔اور کچھ وہ ہیں جو پوری نماز میں متعدد ہوں جیسے سجود، بہرحال وُہ فرض جو پُوری نماز میں ایک ہو اور اسکے ماسوا مذکورہ تینوں انواع کے درمیان ترتیب شرط ہے حتی کہ قعدہ کے بعد سلام سے پہلے یا بعد بشرطیکہ ابھی اس نے نماز کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو کسی کو متروکہ رکعت یا چھوڑا ہوا سجدہ نماز یا سجدہ تلاوت یاد آگیا تو پہلے اسے بجالائے پھر قعدہ لوٹائے اور سجدہ سہو کرے(اس طرح نماز ہو جائے گی) اور پوری رکعت میں جو متکرر افعال ہیں مثلاً سجود میں، اور ان کے بعد والے افعال میں ترتیب لازم ہے حتٰی کہ اگر کسی نے ایک رکعت کا سجدہ ترک کردیا اور بعد میں قیام ، رکوع یا سجدہ میں یاد آیا تو سجدہ کو قضا کرے اسکی قضا سے پہلے اس سجدہ والی رکعت کے بعد جو کچھ قیام ، رکوع یا سجدہ کرلیا ہے اس کا اعادہ نہ کرے بلکہ آخر میں صر ف سجدہ سہو کرے کافی ہے لیکن چُھوٹا ہوا سجدہ یاد آیا تو وہاں اس نے وہ سجدہ قضا کرلیا تو کیا یہ رکوع یا سجدہ قضا کرنا پڑے گا یا نہیں اس میں اختلاف ہے، توہدایہ میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے انہوں نے وجہ یہ بیان کی کہ تکرار والے افعال میں ترتیب فرض نہیں ہے۔اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ اس رکن کا اعادہ ضروری ہے ، اگر اعادہ نہ کیا نماز فاسد ہوجائے گی ۔ انھوں نے وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس رکن کو چھوڑ کر ماقبل کی طرف لوٹنے سے وہ رکن (درمیان میں چُھوٹ گیا اور مکمل نہ ہوا) کیونکہ رکن مکمل کرکے اُٹھنے سے پہلے وہ مکمل نہیں ہوتا بخلاف جبکہ رکن کو مکمل کرکے اُٹھنے کے بعد چھُوٹا ہوا سجدہ یا د آئے اور قضا کرے تو رکوع کا اعادہ ضروری نہیں کیونکہ رکوع سے اُٹھنے پر رکوع مکمل ہوگیا تو اب رکوع کے چھوٹنے کا احتمال نہ رہا۔(ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     واجبات الصلٰوۃ     سہیل اکیڈمی لاہور        ص۲۹۷) (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     واجبات الصلٰوۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۲۹۷)
اب ان عبارات میں اُس فائدے کے علاوہ دو فائدہ زائدہ ہں ایک سجدہ کو فرض مکرر کہنا،معلوم ہوا کہ دونوں سجدے فرض ہیں ، دوم تعلیل کہ جب پہلی رکعت میں ایک سجدہ بھول گیا اور مثلاً دوسری کے رکوع میں یاد آیا کہ معاً اس کی قضا کر لی تو اس رکوع کا پھر اعادہ کرے کہ رکن سابق کی طرف عود کرنے سے یہ رکوع کان لم یکن یعنی کالعدم ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ سجدہ ثانیہ صرف فرض ہی نہیں بلکہ رکن ہے اور ہدایہ میں جو اس رکوع کا اعادہ صرف مستحب جانا اور یہی راجح ہے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ جو فرض ایک رکعت میں مکرر ہے یعنی سجدہ اُس میں اور اسکے بعد فرائض مثلاً قیام ورکوع و سجود رکعت آئندہ میں ترتیب فرض نہیں صرف واجب ہے کہ اس کے ترک کی تلافی بسجدہ سہو حاصل ، غرض مسئلہ آفتاب کی طرح روشن ہے مقدس مدرسین سے بنظرِ خیر خواہی گزارش کہ فرض قطعی و اجماعِ امت کا انکار سہل نہیں لہذا اگر مناسب جانیں کلمہ و اسلام و نکاح کی تجدید فرما لیں آئندہ احتیاط
وماالتوفیق الا باﷲ العزیز الغفار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۰ :مرسلہ مظہر حسین امام مسجد گول بازار ضلع بلاسپور۔سی۔پی ۔دکان شیخ سلیمان عمر صاحب جنرل مرچنٹ                ۲۷ محرم ۱۳۳۰ھ

زید نماز میں صرف بحالت رکوع و سجود الصاق کعبین کرتا ہے عمرو کہتا ہے کہ فعل وہابیوں کا ہے حرام ہے اور واجب الترک ہے حنفی لوگ اس فعل کو جائز سمجھیں یا مکروہ تحریمی؟
الجواب

حاشاﷲ نہ یہ فعل وہابیہ کا ہے نہ حرام نہ واجب الترک بلکہ رکوع میں الصاقِ کعبین غنیۃ شرح منیہ و جامع الرموز و مجتبی شرح قدوری و درمختار و حاشیہ حموی و فتح اﷲ المعین و طحطاوی علی مراقی الفلاح و علی درمختار وغیرہا میں سنّت لکھا ۔
وقد ذکرنا نصو صھا جمیعاً فی فتا وٰنا
 (ہم نے ان سب کی عبارات و نصوص کو اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے۔ت)دُر مختار میں ہے۔
سننھا تکبیر الرکوع والتسبیح فیہ ثلاثا والصاق کعبیہ۔۱؎
نماز کی سنتیں تکبیر رکوع اس میں تین مرتبہ تسبیح اور ٹخنوں کا متصل کرنا ہے۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/ ۷۳)
اسی کی صفۃ الصلاۃ میں ہے:
یفرج اصابعہ ویسن ان یلصق کعبیہ ۲؎۔
انگلیاں کُشادہ رکھے ،اور ٹخنوں کو ملانا سنت ہے۔(ت)
 (۲؎ دُرمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی              ۱/ ۷۵)
اور سجدہ میں الصاق کعبین کو علامہ سیّد ابو مسعود الازہری نے حواشی کنز میں سنّت بتایا۔ سنن میں فرمایا:
الصاق کعبیہ فی السجود سنۃ ۳؎۔
 (سجود میں ٹخنوں کو ملانا سنت ہے ۔ت)
 (۳؎ فتح اﷲ المعین     مبحث سنن الصلاۃ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۷۷)
صفۃ الصلاۃمیں فرمایا:
کما یسن الصاق الکعبین فی الرکوع فکذا فی السجود ایضا۱؎۔
جیسا کہ رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے اسی طرح سجدہ میں بھی سنت ہے۔(ت)
 (۱؎ فتح المعین             فصل واذاارادالدخول فی الصّلٰوۃ الخ        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/ ۱۸۹)
ہاں دربارہ سجودیہ صرف انھیں کا بیان ہے اگر چہ علامہ طحطاوی نے اُن کا اتباع کیا اورشرح علائی کا حوالہ سہواً واقع ہوا اس میں صرف دربارہ رکوع مذکور ہے اور علامہ شامی نے جو اس کی توجیہ فرمائی محلِ کلام ہے۔طحطاوی علی الدر میں ہے:
قولہ یسن ان یلصق الخ ای فی الرکوع والسجود ابوالسعود ۲؎۔
اس کا قول ''یسن ان یلصق''الخ (الصاق سنّت ہے یعنی رکوع اور سجدہ میں،ابو السعود۔ (ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار      فصل واذا ارادالدخول فی الصّلٰوۃ الخ        دار المعرفۃ بیروت            ۱/ ۲۲۰)
ردالمحتار میں ہے:
قال السیّد ابوالسعود وکذا فی السجود(ایضا) وسبق فی السنن ایضا اھ والذی سبق ھوقولہ الصاق کعبیہ فی السجود سنۃ، در اھ ولا یخفی ان ھذا سبق نظرفان شارحنا لم یذکرذلک لا فی الدرالمختار ولافی الدرالمنتقی ولم ارہ لغیرہ ایضا فافھم ، نعم ربمایفھم ذلک من انہ اذکان السنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین ولم یذکرواتفریجھمابعدہ فالاصل بقاء وھما ملصقین فی حالۃ السجود ایضاتأمل ۳؎اھ مافی الشامی ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ (اقول) تاملنا فلم نجدہ وافیاً فان الحرکۃ الانتقالیۃ الی السجود ان خلی فیھا الطبع بالتفریج الا ان یحافظ علی الالصاق بالقصد الخاص ومثل ھذالایحتاج الی البیان بل الاختصار علی ذکرہ فی الرکوع دلیل علی انہ لایطلب الا فیہ والاذکروہ فی السجود ایضافاعرفہ فان الامر واضح۱؎۔
سیّد ابو السعود کہتے ہیں اسی طرح  سجود میں بھی، اور بیانِ سنن میں بھی گزر چکا ہے اور گزرے ہوئے قول کے الفاظ یہ ہیں کہ سجدہ میں الصاق کعبین سنّت ہے دراھ واضح رہے کہ ان کے اس قول (جو پیچھے گزر چکا ہے ) میں نظر کی خطا ہے کیونکہ ہمارے شارح نے اسے نہ درمختار میں ذکر کیا اور نہ ہی درمنتقی میں ،اور میں نے کسی غیر کی عبارت میں بھی یہ نہیں دیکھا اسے سمجھو ، ہاں اکثر اوقات اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جب رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنّت ہے اور اس کے بعد ان کا کشادہ رکھنا انہوں نے بیان نہیں کیا تو اصل یہی ہے کہ حالت سجود میں بھی ٹخنے متصل ہی رہیں ،غور سے سمجھ لو اھ شامی کا حاشیہ ختم ۔اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے بھی شامی پر کچھ لکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں(اقول) ہم نے تامل کیا مگر ہم کا ملاً اس مسئلہ کو نہ پاسکے کیونکہ حرکت انتقال سجدہ کی طرف اگر طبعاً و فطرتاً ہو تو اس صورت میں کشادگی ہوگی مگر اس صورت میں جب اتصال کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور اس طرح کے مسائل کے بیان کی احتیاجی نہیں بلکہ صرف رکوع میں اس کا تذکرہ ہونا دلیل ہے کہ صرف اسی میں اس کا مطالبہ ہے ورنہ اس کا تذکرہ سجدہ میں بھی کیا جاتا، اسے جان لے کیونکہ معاملہ واضح ہے (ت)
 (۳؎ ردالمحتار            باب صفۃ الصلٰوۃ            مطبوعہ مصطفی البابی مصر            ۱/ ۳۶۴)

(۱؎ جد الممتار        کتاب الصلٰوۃ        المجمع الاسلامی مبا رک پور ہند    ۱/ ۲۴۳)
اور بعض متاخرین علما نے دربارہ رکوع بھی سنیت میں کلام کیا:
ولہ فی ذٰلک رسالۃ عندی واقصی مایقال ھنا ان عامۃ کتب المذھب خالیۃ عنہ وانما انہ بینہ الزاھدی والباقون انما تبعوہ و قد بینت فی کتابی''کفل الفقیہ الفاھم '' ان الغرابۃ لاتندفع بکثرۃ الناقلین اذالم یکن مرجعھم الا واحدا لاسیما مثل الزاھدی۔
اس مسئلہ سے متعلق میرے پاس ایک رسالہ ہے، زیادہ سے زیادہ جو کہاجاسکتا ہے وُہ یہ ہے کہ عامہ کتب مذہب اس سے خالی ہیں صرف زاہدی نے اسے بیان کیا اور باقی فقہاء نے ان کی اتباع کی ہے اور میں نے اپنی کتاب ''کفل الفقیہ الفاہم" ـ میں یہ بیان کیا ہے کہ کثرت ناقلین کی وجہ سے غرابت ختم نہیں ہوجاتی جبکہ ان سب کا مرجع ایک ہو خصوصاً زاہدی جیسا آدمی (ت)

بہر حال اسے حرام و فعلِ وہابیہ کہنا نادانی ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر ۴۱۱ :   مسئولہ ازنجیب آباد و ضلع بجنور    ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ

نماز میں سبحانک اللھم پڑھنا فرض یا واجب، مقتدی سبحان ختم نہ کرنے پایا تھا کہ امام نے قرأت شروع کردی اس کو ناتمام چھوڑ کر خاموش ہوجانا پڑے  یا فوراًختم کرکے خاموش ہوجانا چاہئے ، ایک وہابی واعظ نے سبحانک اللھم کے بارہ میں ایک شخص سے یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر امام نے قرأت شروع کردی ہو اور اب کوئی شخص اگر جماعت میں شامل ہو تو اس کو چاہئے کہ سبحانک اللھم اس طرح پڑھے کہ جہاں جہاں امام سانس لینے کی غرض سے ذرا بھی رکے اس وقت ایک ایک کلمہ بول کرکے سبحانک اللھم پڑھ لیا جائے مثلاً جب اوّل مرتبہ رکا تو فوراً کہے سبحنک اللھم پھر جب دوسری مرتبہ ٹھہرا تو کہے وبحمدک پھرجب تیسری بار سانس لے تو کہنا چاہئے وتبارک اسمک غرض اسی طرح ختم کرلیا جائے ایسا ہر نماز میں کرسکتے ہیں مگر مغرب میں خواہ پہلی رکعت میں شامل ہو یا دوسری میں سبحانک اللھم تیسری رکعت میں اور عشاء میں تیسری یا چوتھی رکعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دوسری ہی رکعت میں شامل ہوں، کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے ؟ بغیر سبحانک اللھم کے نماز ہو جاتی یا نہیں؟
الجواب

سبحانک اللھم اسی وقت پڑھ سکتے ہیں کہ امام قرأت با آوازشروع نہ کرلے جب قرأت جہری شروع کردی اب خاموش رہنا اور سننا فرض ہے، وہ جو وہابی نے بتایا کہ امام کی ٹھہرنے کی جگہ ایک ایک دو دو لفط کہہ کر پورا کرے ضعیف و غیرمختار ، اور جیسے استثناء کیا کہ ایسا ہر نماز میں کرسکتے ہیں مگر مغرب میں نہیں یہ محض باطل اور اسکی اپنی ایجاد ہے جس روایت ضعیفہ میں یہ طریقہ ہے اس میں مغرب میں بھی ایسا ہی ہے اور مذہب صحیح میں کہ اس کی اجازت نہیں فجر و مغرب و عشا کسی میں ایسا نہیں اور اس کا یہ کہنا بھی محض غلط ہے کہ جو دوسری رکعت میں شامل ہوا وہ تیسری یا چوتھی رکعت میں سبحانک پڑھ سکتا ہے ،سبحانک اللھم کی جگہ ابتدائے نماز ہے جب دُوسری میں ملا تو تیسری یا چوتھی ابتدائے نماز کب ہے کہ اس میں پڑھے کہ اس میں سبحانک پڑھے، ہاں وہ جو ایک رکعت رہ گئی، بعد سلامِ امام جب اسے پڑھنے کے کھڑا ہو اس کی ابتداء میں پڑھے کہ یہ اس کی پہلی رکعت ہے سبحانک پڑھناسنت ہے بغیر اس کے نماز ہوجاتی ہے مگر بلا ضرورت ترک  سنت کی اجا زت نہیں اور عادت ڈالنے سے گناہگار ہوگا اور جو مثلاً پہلی رکعتِ جہریہ میں ملا اور قرأت شروع ہوجانے کے باعث سبحانک نہ پڑھ سکا اس پر کوئی الزام نہیں کہ اس نے یہ ترک ادائے فرض خاموشی کے لئے بحکم شرع کیا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۱۲ :   از موضوع منصور پور متصل ڈاکخانہ قصبہ شیش گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۲۹ محرم الحرام۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس باب میں کہ دونوں سجدوں کے درمیان میں
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ
 (اے اﷲ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت فرما۔ت)پڑھنا چاہیئے امام کو یا مقتدی کو یا دونوں کو یا امام ومقتدی بلا اس کے پڑھے دونوں سجدے ادا کریں۔
الجواب

اَللَّھُمَّ اغفِرلی کہنا امام ومقتدی و منفرد سب کو محتسب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر: ۴۱۳    ازامرتسر دفتر پولیس    مرسلہ عبدالعزیر ہیڈ کانسٹیبل    ۲۷صفرالمظفر۱۳۳۲ھ

بعدسلام علیک حضور کی خدمت میں میری عرض یہ ہے کہ مجھے درود شریف جو نماز میں پڑھا جا تاہے اس کی یا کسی دوسرے درود شریف کی جو سب درودوں سے افضل ہو اجاز ت فرمائیں مجھے درود شریف یا کلمہ شریف یا استغفار  پڑھنے کا نہایت شوق ہے خدا حضور کو اجردے گا عام طور پر راستہ چلتا ہوں و دیگر بازار وغیرہ جگہ میں بھی پڑھتا ہوں مجھے عام طور پر درود شریف ہر جگہ پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں ، حضور برائے مہربانی تحریر فرمائیں میں ہر وقت وظیفہ رکھنا چاہتا ہوں یا آیت کریمہ کا یا کوئی دوسرا، یہ اس لئے کہ محبت خدا و رسول کی پُورے طور پر حاصل ہوجائے ، جناب مہربانی کرکے ضرور بالضرور جلد مجھے آگاہ کردیں ، درود شریف یا کلمہ شریف اور استغفار کی نسبت ضرور بالضرور تحریر فرمائیں، ان شاء اﷲ تعالٰی تحریرِ حضور پر عملدرآمد ہوگا۔
الجواب

سب درودوں سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں مقرر کیا گیا ہے درود شریف راہ چلتے بھی پڑھنے کی اجازت ہے جہاں نجاست پڑی ہو وہاں رُک جائے بہتر یہ ہے ایک وقت معین کرکے ایک عدد مقرر کر لے اُس قدر باوضو دو زانو ادب کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کرکے روزانہ عرض کیا کرے جس کی مقدار سَو بار سے کم نہ ہوزیادہ جس قدر نبھا سکے بہتر ہے ، علاوہ اس اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے باوضو بے وضو ہر حال میں درود جاری رکھے، اور اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ ایک صیغہ خاص کا پابند نہ ہوبلکہ وقتاً فوقتاً مختلف صیغوں سے عرض کرتا رہے تاکہ حضورِ قلب میں فرق نہ ہو ، درود شریف او رکلمہ طیبہ اور استغفار ان سب کی کثرت نہایت محبوب و مطلوب ہے، کلمہ طیبہ کو افضل الذکر فرمایا اور یہ کہ اﷲ عزّوجل تک اُس کے پہنچنے میں روک نہیں اور استغفار کے لئے فرمایا شادمانی ہے اُسے جو اپنے نامہ اعمال میں استغفار بکثرت پائے اور اپنے تمام اوقات کو درود شریف میں صرف کردینے کو فرمایا کہ ایسا کرے گا تو اﷲ تیرے سب کام بنادے گااور تیرے گناہ معاف فرما دے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter