Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
42 - 185
نص خامس: دررالحکام شرح غررالاحکام للعلامہ مولی خسرو میں ہے:
فان قیل فرضیۃ الرکوع والسجود ثبتت بقولہ تعالٰی ارکعو واسجدو ا والامرلایوجب التکرار ولذالم یجب تکرار الرکوع فبماذاثبت فرضیۃ تکرار السجود (ولما اذاتکرر) قلنا قد تقرران آیۃ الصلاۃ مجملۃ وبیان المجمل قد یکون بفعل الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد یکون بقولہ وفرضیۃ تکرارہ تثبت بفعلہ المنقول عنہ تواترااذکل من نقل صلاۃ الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نقل تکرار سجودہ۱؎۔
اگر یہ سوال ہو کہ رکوع و سجود کی فرضیت اﷲ تعالٰی کے اس فرمان سے ثابت ہے ارکعو اواسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو) یہ امر ہے اور امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ رکوع میں تکرار ثابت نہیں تو تکرار تکرار سجود کس سے ثابت ہے، جب تکرار ثابت ہوگیا تو ہم جواباً کہیں گے کہ یہ بھی ثابت ہے کہ نماز والی آیت مجمل ہے اور مجمل کا بیان کبھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عمل سے ہوتا ہے کبھی قول سے ، تکرار سجود کی فرضیت متواتراً آپ کے عمل سے ثابت ہے کیونکہ جس نے بھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نماز کو نقل کیا ہے اس نے یہ ضرور بیان کیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہر رکعت میں دو سجدے فرماتے تھے۔(ت)
 (۱؎ دررالحکام شرح غررالاحکام     باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ احمد کامل الکائنہ درسعادت مصر        ۱/ ۷۳)
نص سادس: نقایہ میں تھا:
فرضھا التحریمۃ(الی قولہ) والسجود ۲؎۔
نماز کا فرض تکبیر تحریمہ ہے (آگے چل کر کہا) اور سجدہ بھی ۔(ت)
 (۲؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ    کتاب الصلٰوۃ    نور محمد کارخانہ بازار کراچی            ص ۱۳،۱۴)
جامع الرموز میں ہے:
ای سجدتان فان اسم الجنس یدل علی العدد ۳؎الخ
یعنی دو سجدے کیونکہ اسم جنس عدد پر دلالت کرتا ہے الخ(ت)
 (۳؎ جامع الرموز         کتاب الصلٰوۃ    نور محمد کارخانہ بازار کراچی            ۱/ ۱۴۰)
نص سابع: اسی کے واجبات میں ہے:
 (ورعایۃ الترتیب) بین ارکان کل رکعۃ فوجب ان یکون السجود بعد الرکوع والسجدۃ الثانیۃ بعد الاولٰی ۴؎۔
 (اور رعایت ترتیب) ہر رکعت کے ارکان کے درمیان پس اس سے ثابت ہوا کہ سجدہ رکوع کے بعد ہوگا اور دوسرا سجدہ پہلے کے بعد ہوگا۔(ت)
(۴؎ جامع الرموز         کتاب الصلٰوۃ    نور محمد کارخانہ بازار کراچی   ۱/ ۱۴۲)
یہاں سے بھی ظاہر کہ دونوں سجدے رکن ہیں۔
نص ثامن:فتح اﷲ المعین للعلامۃ السیّد ابی المسعود الازہری میں ہے:
السجدتان(لانھما) فرضان فی کل رکعۃ ۱؎۔
کیونکہ ۲ دوسجدے ہر رکعت میں دونوں سجدے فرض ہیں۔(ت)
 (۱؎ فتح اﷲ المعین         باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۶۹)
نص تاسع: علامہ شرنبلانی اپنے متن نور الایضاح اور اسکی شرح میں فرماتے ہیں:
 (و) یفترض(العود الی السجود) الثانی لان السجود الثانی کالاول فرض باجماع الامۃ ۲؎۔
 (اور) فرض ہے( لوٹنا سجدہ کی طرف) یعنی دوسرے سجدے کی طرف کیونکہ دوسرا سجدہ پہلے کی طرح ہی فرض ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب شروط الصلٰوۃ    مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی    ص ۱۲۷)
نص عاشر: مجتبٰی شرح قدوری پھر ہندیہ میں ہے:
السجود الثانی (فرض) کالاول باجماع الامۃ ۳؎۔
اس پر اجماع امت ہے کہ دوسرا سجدہ پہلے کی طرح فرض ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ        الفصل الاول فی فرائض    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۷۰)
ہدایہ کی طرف اس زعم باطل ووہم عاطل کی نسبت تو محض غلط و بے منشا ہے شرح وقایہ سے یہ مطلب سمجھنا عدم تدبّر و سوءِ فہم سے پیدا ہو ا امام صدر الشریعۃ کی عبارت یہ ہے:
فی الھدایۃ و مراعاۃ الترتیب فیما شرع مکررا من الافعال ، وذکر حواشی الھدایۃ نقلا عن المبسوط کالسجدۃ فانہ لوقام الی الثانیۃ بعد ما سجد سجدۃ واحدۃ قبل ان یسجد الاخری یقضیھا ویکون القیام معتبرالانہ لم یترک الا الواجب ۴؎۔
ہدایہ میں ہے ان افعال میں رعایت ترتیب واجب ہے جن میں تکرار مشروع ہُوا ہے ، اور حواشی ہدایہ میں مبسوط کے حوالے سے مذکور ہے مثلاً سجدہ پس اگر نمازی دوسری رکعت کی طرف صرف ایک سجدہ کے بعد کھڑا ہوا اور دوسرا سجدہ نہیں کیا تو اس سجدہ کی قضا کرے اور اس کا قیام معتبر ہوگا کیونکہ نمازی نے صرف واجب(یعنی ترتیب) کو چھوڑا ہے (ت)
 (۴؎ شرح الوقایۃ        باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ المکتبہ الرشید دہلی        ۱/ ۱۶۱)
قلت فہم نے یہ سمجھا کہ
لم یترک الاالواجب
(اس نے واجب ہی ترک کیا ہے۔ت) میں واجب سےسجدہ ثانیہ مراد ہے حالانکہ یہ واضح الفساد ہے سجدہ ثانیہ کو تو فرما دیا
یقضیھا
(اس سجدہ ثانیہ کی قضا کرے۔ت)آگے فرمایا
ویکون القیام معتبرا
 (اس کا قیام معتبر ہے۔ت) جب سجدہ ثانیہ مراد ہو حالانکہ اس کی تو قضا کرچکا پھر سجدہ متروک کب ہوا موخر ہوا، ترک و تاخیر میں جو فرق ہے ہر عامی پر روشن ہے ترک ِفرض مبطل صلاۃ ہے اور تاخیر موجب سجود سہو ،بلکہ واجب سے مراد ترتیب ہے کہ بوجہ تاخیر سجدہ ثانیہ و تقدیم قیام ترتیب متروک ہوئی یہ خود نفس کلام سے واضح ہے کہ یہاں گفتگو واجب ترتیب میں ہے ابتداء میں بشمار واجبات فرمایا تھا ''ورعایۃ الترتیب فیما تکرر''کلام مذکور کے بعد فرمایا:
اقول قولہ''فیما تکرر'' لیس قیدایوجب نفی الحکم عماعداہ فان مراعاۃ الترتیب فی الارکان التی لایتکرر فی رکعۃ واحدۃ کالرکوع و نحوہ واجبۃ ایضا۱؎۔
میں کہتا ہوں اس کا قول فیما تکرر(وہ افعال جن میں تکرار ہے) یہ ایسی قید نہیں جو دوسروں کی نفی کرے کیونکہ رعایت ترتیب ان افعال میں بھی واجب ہے جو ایک رکعت میں متعدد نہیں ہوتے مثلاً رکوع وغیرہ(ت)

اخیر میں اس تمام کلام پر تفریع فرمائی
فعلم ان رعایۃ الترتیب واجبۃ مطلقا ۲؎
 (پس واضح ہوگیا کہ رعایت ترتیب مطلقاً واجب ہے ۔ت)
 (۱؎ شرح الوقایۃ     باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی        ۱/ ۱۶۱)

(۲؎ شرح الوقایۃ     باب صفۃ الصلٰوۃ     مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی           ۱/ ۱۶۲)
دیگر علمائے کرام نے مراد کو خوب واضح کردیا کہ ترتیب ہی کو واجب کہا گیا نہ کہ سجدہ ثانیہ کو علامہ اکمل الدین بابرتی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
 (مراعاۃ الترتیب فیما شرع مکررا) یعنی فی الرکعۃ الواحدۃ کالسجدۃ الثانیۃ من الرکعۃ الاولٰی فان ترکھا ساھیا وقام واتم صلاتہ ثم تذکرفان علیہ ان یسجد السجدۃ المتروکۃ ویسجد للسھو لترک الترتیب۳؎۔
 (متکررافعال میں رعایت ترتیب مطلقاً واجب ہے) یعنی رکعت واحدہ میں مثلاً پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ ، جس نے اسے بھول کر چھوڑ دیا اور دوسری رکعت کی طرف کھڑا ہوگیااور نماز پوری کرنے کے بعد متروکہ سجدہ یاد آیا تو اس پر لازم ہے کہ پہلے متروکہ سجدہ کرے پھر سجدہ سہو کرے کیونکہ ترتیب باقی نہ رہی۔(ت)
 (۳؎ العنانیۃ مع فتح القدیر    باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۲۴۱)
Flag Counter