مسئلہ نمبر ۴۰۸: ازگونڈھ ملک اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ۔
۱۳ جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ
بعض مقلدین وغیر مقلدین عموماً قومہ و جلسہ میں دیر تک ٹھہرتے ہیں، یہ کیسا ہے؟
الجواب
قومہ و جلسہ کے اذکارِ طویلہ نوافل پر محمول ہیں و لہذاہمارے ائمہ فرائض میں انھیں مسنون نہیں جانتے اور شک نہیں کہ فرائض میں تطویل فاحش خلاف سنّت ہے اور امام کے لئے توقطعاً ممنوع جبکہ مقتدیوں میں کسی پر بھی گراں ہو، ہاں منفرد بعض کلماتِ ماثورہ بڑھائے تو حرج بھی نہیں ، یونہی امام بھی جبکہ مقتدی محصور اور سب راضی ہوں ، رہا مقتدی وہ آپ ہی اتباعِ امام کرے گا ، اگر امام کہے، کہے ورنہ نہیں۔
وفی الدرالمختار یجلس بین السجدتین مطمئنا ولیس بینھما ذکر مسنون و کذالیس بعد رفعہ من الرکوع دعاء وکذا لایاتی فی رکوعہ وسجود بغیر التسبیح علی المذھب وماورد محمول علی النفل ۱؎۔
درمختار میں ہے نمازی دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اطمینان سے بیٹھے ، دو سجدوں کے درمیان کوئی ذکر سنت نہیں۔اسی طرح رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قومہ میں کوئی دعا مسنو ن نہیں ۔ اسی طرح رکوع وسجود میں تسبیح کے علاوہ کوئی دعا نہ کرے ، صحیح مذہب یہی ہے اور جو روایات میں آیا ہے وہ نوافل پر محمول ہے (ت)
(۱؎دُرمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعیہ مجتبائی دہلی ۱/ ۷۶)
محرر مذہب سیدنا اما م محمد رحمہ اﷲ تعالٰی جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
قال ابویوسف سالت ابا حنیفۃ عن الرجل یرفع راسہ من الرکوع فی الفریضۃ ویقول اللھم اغفرلی قال یقول ربنا لک الحمد و یسکت (کذلک) بین السجدتین یسکت ۲۔
امام ابویوسف بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے اس شخص کے بارے میں پُوچھا جو فرائض میں رکوع کے بعد سر اُٹھانے کے بعد یہ کہتا ہے اللھم اغفرلی (اے اﷲ مجھے معاف فرما) ۔آپ نے فرمایا :وہ صرف ربنا لک الحمد (اے رب ہمارے ! تیرے لئے حمد ہے)کہے پھر خاموش ہوجائے اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی خاموش رہے (ت)
(۲؎ الجامع الصغیر امام محمد بن الحسن الشیبانی باب فی رکبیر الرکوع والسجود مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۲۔۱۱)
حلیہ میں زیر قول متن ولا یزید علی ھذا (اس پر اضافہ نہ کرے ۔ت) فرمایا۔
ان ارادالزیادۃ ماورد فی السنۃ فینبغی ان یکون ھذا فی حق الا مامۃ اذاخاف التثقیل علی القوم وفی حق المقتدی اذالم یفعل الامام ذلک اماالمنفرد او الامام اذاکان لایثقل علی القوم اتیانہ بذلک اوالمقتدی اذاکان امامہ قد اتی بہ فلیسوا بممنوعین من زیادتھم بہ علی ذلک ولا سیماالمنفرد فی النوافل ومن ادعی ذلک فعلیہ البیان ۱؎۔
اگر زیادتی سے مراد اذکار ہیں جو سنت میں وارد ہیں تو یہ حقِ امامت کے بارے میں ہوگا جبکہ مقتدی بوجھ محسوس کریں اور مقتدی کے حق میں اس وقت ہے جب امام یہ نہ پڑھ رہا ہو ، رہا معاملہ منفرد یا وہ امام جس کے مقتدی اس کے پڑھنے کو بوجھ محسوس نہ کریں یا وہ مقتدی جس کا امام پڑھ رہا ہو تو ایسی صورت میں ان کے لئے ان اذکار کا اضافہ ممنوع نہیں ،خصوصاً وہ منفرد جو نوافل پڑھ رہا ہو اور جو اسکا مدعی ہو وہ اس پر دلیل لائے۔(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
اسی میں دو ورق بعد ہے:
صرح مشائخنا یحمل مافی حدیث علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی النوافل علی انہ ثبت فی المکتوبۃ فلیکن فی حالۃ الانفراد وفی حالۃ کونہ اماما والمامومون محصورون لا یثقلون بذلک کما نصت علیہ الشافعیۃ ولا ضیر فی التزامہ۲؎الخ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔
ہمارے مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث کو نوافل پر محمول کیا جائے گا علاوہ ازیں فرائض میں یہ ثابت ہے تو اس وقت جب نمازی تنہا فرائض ادا کر رہا ہو یا امامت کی حالت میں اس وقت جب مقتدی محصور ہوں جو بوجھ محسوس نہ کریں جیسا کہ شوافع نے تصریح کی ہے اور اس کے التزام میں کوئی نقصان نہیں الخ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
مسئلہ نمبر ۴۰۹: ازمدرسہ مصباح التہذیب مسئولہ مولوی محمد سلطان صاحب بنگالی ۳ جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں یا ایک فرض اور دوسرا واجب؟ اگر یہ مسئلہ اختلافیہ ہے توقول قوی اور راجح کون ہے اور اسکی دلیل کیا ہے اور دوسرے کے مرجوح و ضعیف ہونے کی کیا دلیل ہے؟ مع دلائل معتبرہ بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے بینوا توجروا عندالجلیل
الجواب
باجماعِ امت دونوں سجدے فرض ہیں ، اصلاً اس میں کسی عالم کا خلاف نہیں کہ قوی و راجح بتایا جائے، اس کا منکر اجماعِ امت کا منکر ہے، دو۲ روز ہوئے ایک طالب علم نے فقیر سے یہ مسئلہ پوچھا تھا فقیر نے عرض کی
دونوں فرض ہیں، رات مسموع ہُوا کہ مدرسین مدرستین مصباح التہذیب واشاعت العلوم سے مولوی محمد عثمان صاحب ولایتی تو ایسا ہی بتاتے ہیں باقی سب خلا ف پر ہیں سجدہ اولٰی کو فرض اور ثانیہ کو واجب کہتے ہیں اس کی سند شرح وقایہ وہدایہ کی عبارت بتاتے ہیں بلکہ ایک نئے مولوی صاحب محمود نام کہ دیوبندی تعلیم کے فاضل ہیں فقیر کے قول کو محض بے دلیل ، فقیر غفرلہ اﷲ بلا مبالغہ ۲۰۰ دوسو کلماتِ علماء کرام سے اس کی سندیں پیش کرسکتا ہے جن سے ثابت ہو کہ مخالفینِ مسئلہ کو فقہ سے کس قدر غفلت ہے مگر مسئلہ نہایت وضوح سے واضح ہے اور اطالت موجب ملامت لہذا صرف دس نصوص صریحہ پر قناعت:
نص اوّل: بحرالرائق میں کنز الدقائق کے قول فرضھا التحریمۃ والقیام والقراء ۃ والرکوع والسجود ۱؎۔(نماز کے فرائض تکبیر تحریمہ ، قیام، قرأ ت ، رکوع اور سجود ہیں ۔ت) کی شرح میں فرمایا:
(لقولہ تعالٰی) ارکعواواسجدواوللاجماع علی فریضتھما ورکنیتھما والمراد من السجود السجدتان فاصلہ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع ۲؎۔
اس کی دلیل اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے:ارکعوا واسجدوا (رکوع کرو اور سجدہ کرو۔ت) نیز ان دونوں کے فرض اور رکن ہونے پر اجماع ہے اور سجود سے دونوں سجدے مراد ہیں اور سجدہ کی اصل کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور سجدہ کا ہر رکعت میں دو۲ دفعہ ہونا سنّت اور اجماع سے ثابت ہے۔(ت)
(۱؎ کنزالدقائق باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰)
(۲ البحر الرائق باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۹۳)
نص ثانی: امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح میں فرماتے ہیں:
م والخامسۃ السجدۃ ش ای والفریضۃ الخامسۃ من الفرائض الست المشتمل علی فریضتھا الصلاۃ ، السجدۃ والاولی السجدتان فی کل رکعۃ ثم اصل السجدۃ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع وکونہ مثنی فی کل رکعۃ بالسنۃ والاجماع ولا خلاف فی کونھما من ارکان صلاۃ ۳؎۔
متن ، پانچواں فرض سجدہ ہے ، شرح ،یعنی وہ چھ فرائض جن پر نماز مشتمل ہے ان میں پانچواں فرض سجدہ ہے اور (السجدتان فی کل رکعۃ) کہنا بہتر تھا یعنی ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں پھر سجدہ کی اصل کتاب ، سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور اس کا ہر رکعت میں دو ۲ دفعہ ہونا سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور ان دونوں کے رکنِ نماز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔(ت)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ایضاً یہاں تصریح ہے کہ فرضیت درکنار دونوں سجدے بالاجماع رکنِ نماز ہیں۔
نص ثالث:مبسوط امام شیخ الاسلام پھر حلیۃ میں دونوں سجدے فرض ہونے کی حکمت بیان فرمائی:
ھذا ماروی فی الاخباران اﷲ تعالٰی لما اخذ المیثاق من ذریۃ اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام حیث قال عزوجل واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم الاٰیۃ امرھم بالسجود تصدیقا لما قال فسجد المسلمون کلھم وبقی الکفار فلما رفع المسلمون رؤسھم ورأو الکفار لم یسجدوا فسجدوا ثانیا شکرالما وفقھم اﷲ تعالٰی علی السجود الاول فصار المفروض سجدتین لھذا والرکوع مرۃ ۱؎۔
یہ اس بنا پر ہے جو روایات میں ہے کہ اﷲ تعالٰی نے جب اولادِآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عہد لیا جس کا ذکر اﷲ نے اس آیت میں کیا ہے :اور یاد کرو اس وقت کو جب اے حبیب! آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں ان کی اولاد سے عہد لیا الآیۃ ، تو انھیں بطور تصدیق سجدے کا حکم دیا تو اﷲ کے حکم ہر تمام مسلمان سجدہ ریز ہوگئے لیکن کافر کھڑے محروم رہ گئے جب مسلمانوں نے سجدے سے سر اُٹھایا اور دیکھا کہ کفار نے سجدہ نہیں کیا تو وہ دوبارہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوگئے کہ اﷲ تعالٰی نے انھیں سجدہ اوّل کی توفیق دی ، لہذا نماز میں دو۲ سجدے فرض ولازم ہوگئے اور رکوع ایک ہی رہا۔(ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
نص رابع:مراقی الفلاح میں تھا:
یفترض السجود ۲؎
(سجدہ فرض کیا گیا ہے۔ت)
(۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۲۵)
علامہ طحطاوی نے حاشیہ میں فرمایا:
المراد منہ الجنس ای السجدتان ۳؎۔
(مراد اس سے جنسِ سجدہ یعنی دو سجدے ہیں۔ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۲۵)