والصاق کعبیہ حالۃ الرکوع ھذا ان تیسر لہ ولاکیف تیسرلہ علی الظاھر ۲؎۔
حالت رکوع میں اگر آسانی ہو تو ٹخنوں کو ملا لیا جائے ورنہ جس طرح آسانی ہو ویسے کرلیاجائے ظاہر الروایۃ پر۔(ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدررالمختار باب صفۃالصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۳۱۳)
ردالمحتار میں ہے:
والصاق کعبیہ ای حیث لاعذر۳؎۔
ٹخنوں کو ملانا اس وقت ہے جب کوئی عذر نہ ہو۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطفی البابی مصر ۱/۲۵۲)
مسائل ظاہر الروایہ میں محصور نہیں نہ ظاہر الروایۃ خواہ متونوں میں عدم ذکر ذکر عدم متون مختصرات ہیں اور غالباً نقل ظواہر پر مقتصر زیادت۔شرح معتمدین اگر مسلم نہ ہوں تو مذہب کا ایک حصّہ قلیلہ ہاتھ میں رہ جائے تتبع بتائے گا کہ سنن درکناربعض واجبات و فرائض ومفسدات ونواقص تک عامہ متون میں نہیں ،رہی دلیل وہ مجتہد کے پاس ہے ،نہ ہمارا عدم وجدان وجدان عدم ،ہمارے لئے نصوص فقیہیہ بس ہیں اور نصوص حتی الامکان ظاہر پر محمول ، اور جب تک حیقت بنے ہے ،نہ مجر د محاذات یاامالہ (محض مقابل یا مائل ہونا نہیں)قاموس میں فقیر نے اس معنٰی کا نشان نہ پایا
ان کان فھو من المجاز وقد عدوا من عیوب القاموس کماذکرہ العلامۃ الزرقانیفی عدۃ مواضع من شرح المواھب وغیرہ فی غیرہ انہ یذکر المعانی المجازیۃ ای فیوھم الوضع لھالان کان موضوع کتب اللغۃ بیان المنی الموضوع لہ اللفظ۔
اور اگر یہ معنٰی قاموس میں ہے تو یہ معنٰی مجازی ہوگا۔ اہل علم نے قاموس کے عیوب تحریر کئے ہیں مثلازرقانی نے شرح المواہب میں متعدد جگہ پراور دیگر علمائے کرام نے اپنی کتب میں تصریح کی ہے کہ صاحب قاموس الفاظ کے مجازی ،معنے ذکر کرتے ہیں جس سے انکا حقیقی ہونے کا وہم ہوتا ہے کیونکہ ان لغت کی کتب کا موضوع الفاظ کے ان معانی کا بیان کرنا جس کے لیے ان کی وضع ہے۔(ت).
زبان عرب میں استعمال ''ب'' مواضع الصاق حقیقی سے مختص نہیں وہ جس طرح وامسحوا بروسکم میں اپنی حقیقت پر ہے یونہی ''مررت یزید'' میں تو الباء للالصاق کا بطریق عموم مجاز معنی قرب پر حمل واجب ،یوں ہی حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما:
رأیت الرجل منا یلزق کعبہ بکعب صاحبہ۱؎۔
میں نے دیکھا کہ ہم سے کوئی شخص اپنے ٹخنے کو دوسرے کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر صف میں کھڑا ہوتا ہے۔(ت)
میں درباہ کعاب و اقدام ارادہ معنی حقیقی پر اقدام نہیں ہوسکتا کہ قیام میں سنّت تقریب قدمین ہے، خود صاحب مفتاح رحمہ الفتاح کو مسلّم کہ
فرجہ چہار انگشت مسنون است
(چار انگل کا فاصلہ مسنون ہے ۔ت)
اگر چہ اس تجدید کی بھی سند پُوچھئے تو کتاب الاثرمیں امام سے روایت ملے گی یا امام اقطع کا قول ، نہ بالخصوص حدیث صحیح یا ظاہر الروایۃ و متون کی تصریح بہرحال ایسی تفریج کہ زید کا کعب اِدھر عمرو اُدھربکر کے کعب سے ملصق ہو صراحۃً شانِ ادب کے بھی خلاف و شنیع ہے تو قیام کی دلیل کے باعث مجاز پر حمل ہر گز تجوز بے دلیل کے دستاویز نہیں ہو سکتا یہاں مجرد محاذات مراد لینے کا تو کوئی محل نہیں یہ علما اسے خاص سنّت رکوع بتاتے ہیں اور محاذات ہر گز اس سے خاص نہیں ، قیام خواہ سجود میں کب چاہئے کہ ایک آگے یا پیچھے ہو اور امالہ مراد ہونے پر بھی اصلاً کوئی دلیل نہیں، الصاق کو مستلزم حرکت کثیرہ ماننا سخت عجب ہے بالفرض اگر قیام میں تفریج تام مسنون ہوتی جب بھی الصاق میں کثیرہ نہ تھی ۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایک صف کی قدر چلنا بھی حرکتِ قلیلہ ہے نہ کہ صرف قدمین کا ملالینا کثیرہ ہو
ھذا عجیب جدا
(یہ نہایت ہی عجیب ہے۔ت) درمختار میں ہے :
مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ، ان قدرصف ثم وقف قدر رکن ثم مشی و وقف کذلک و ھکذا لا تفسد وان کثر مالم یختلف المکان الخ۳ ؎۔ وتمام تفصیلہ و تحقیقہ فی ردالمحتار۔
نمازی اگر قبلہ رُخ چلا تو نماز فاسد ہوگی یا نہیں ، اگر وہ صف کی مقدار چلا پھر رکن کی مقدار کھڑا رہا اور پھر چلا اور رکن کی مقدار کھڑا رہا نماز فاسد نہ ہوگی اگر چہ یہ عمل۔ کثیر مرتبہ کرے جب تک جگہ تبدیل نہ ہو الخ اور اس مسئلہ کی تمام تفصیل و تحقیق ردالمحتار میں ہے (ت)
اور اگر کثیرہ سے کثیرہ فقہیہ مراد نہ لیجئے تو وہاں ہر گز کثیرہ لغویہ بھی نہیں اور ہوتی بھی تو نفیِ سنیت پر اس سے استدلال از قبیلِ مصادر ہوگا کہ تحصیلِ سنّت کے لئے حرکت قلیلہ قطعاً مطلوب ، اگرچہ بالاضافت لغۃً کثیرہ ہو، تو اس فعل پر بوجوہ لزوم حرکت اعتراض اس پر موقوف کہ سنّیت مصرحہ فقہاً باطل ہو کر فعل عبث و خارج عن افعال الصلٰوۃ قرار پائے اور حقیقتِ امر پر نظر کیجئے تو نہ یہاں اقدام کو ان کے مواضع سے تحریک کی ضرورت ہوتی ہے نہ انگلیوں کے استقبال میں فرق آتا ہے نہ فرجہ چار انگشت ہاتھ سے جاتا ہے یہ تو ہرگز نہ مسنون نہ مطلوب کہ پاؤں اپنی وضع خلق کے خلاف رکھے جائیں اور ان کی سطح طولاً ہر گز ہموار نہیں تو پنجوں سے ایڑیوں تک ہر جگہ چار انگشت کا فرجہ ہوناغیر متصور بلکہ قطعاً مقصود یہ ہے کہ صدور اقدام میں اتنا فرجہ رکھے اور پاؤں کو اپنے حال فطری پر چھوڑے نہ یہ کہ ایڑیوں میں بھی اس قدر فرجہ حاصل کرنے کے لئے انہیں دہنے بائیں ہٹائے ، پاؤں کی تخلیق اس طرح واقع ہوئی ہے کہ صدور یعنی پنجوں میں فصل زائد اور اعقاب یعنی ایڑیوں میں کم ہے ، جتنا فصل پنجوں میں رکھئے اور پاؤں وضع فطری پر رہنے دیجئے تو ایڑیوں میں یقینا اس سے فصل کم ہوگا اور کعبین میں بلند و برآمدہ میں اور بھی کم ہوگا تو دونوں تلوے بجائے خود جمے رہنے کے ساتھ ایک خفیف امالہ کعبین میں ٹخنے بلا تکلف مل جائیں گے جس پر کم از کم ہر روز بتیس ۳۲ با رکا تجربہ شاہد ہے کہ آخر تصریحات مذکورہ علمادیکھئے کہ الصاق کعبین اور ان کے ساتھ ہی استقبال اصابع کی سنیت لکھ رہے ہیں ان میں تنافی ہوتی تو کیا متنافیین کو معاً مسنون بتاتے، ہاں جسے فربہی مفرط وغیرہ کوئی عذر ایسا ہو کہ سرے سے پنجوں ہی میں چار انگل فصل نہ رکھ سکے بلکہ معتدبہ زیادت پر مجبورہُوا مثلاً بالشت بھر کا فاصلہ تو وہ بیشک کعبین نہ ملاسکے گا جب تک پنجوں کو دہنے بائیں اور ایڑیوں کو اندر کی جانب حرکت نہ دے اور اب بے شک تحریک بھی پائی جائے گی اور استقبالِ اصابع بھی نہ رہے گا غالباً یہی صورۃ خاصہ اس وقت صاحب مفتاح کے خیال مبارک میں ہوگی ، ایسا شخص نہ اس سنت قیام یعنی فرجہ چار انگشت پر قادر نہ ہم اس کے لئے الصاق کعبین مسنون کہیں ۔علّامہ طحطاوی کا ارشاد سن چکے کہ
ھذا ان تیسر
(یہ آسانی کے وقت ہے ۔ت) علامہ شامی کا افادہ گزرا کہ
ای حیث لا عذر
(یعنی جہاں عذر نہ ہو۔ت) اس قدر کلا م کا جواب تو یہ بتوفیقہٖ تعالی بنگاہ اوّلیں معاً حاۤضر خاطر ہُوا باقی ان کا حاشیہ بحر اگر ملے دیکھنا رہا مگر بعونہٖ تعالٰی امید یہ ہے کہ اس بیان کے بعد کسی اعتراض کی گنجائش نہیں وباﷲ توفیق واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔