| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
مسئلہ نمبر ۴۰۷ ازاٹاوہ متصل کچہری منصفیمرسلہ مولوی محمد حبیب علی صاحب علوی۹رمضان المبارک ۱۳۱۷ھ حامداً و مصلیاً مخلص نوززادکم اﷲ مجد کم۔ اسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔اس طرف جو رسائل شریفہ آنجناب مثلحیات الموات و شاح الجید،النہی الحاجر،ازالۃ العاروغیرہا کے مطالعہ سے شرف اندوزی حاصل ہوئی ۔شکریہ اس کا حوالہ قلم نہیں ہوسکتا ہے واقعی آپ کاطرز ایسے مسائل میںتحقیق کا اوروں سے نرالا ہے اور بہمہ وجوہ سب سے اعلٰی ہے آپ نے پایہ تحقیق مسائلِ نزاعیہ میں مراتبِ عالیہ کو پہنچا دیا ہے جزاکم اﷲ خیرا الجزا۔ اس عریضہ کی تسطیر کی بالفعل یہ ضرورت درپیش ہے کہ وقت ِرکوع دُرمختار میں الصاق کعبین کو مسنون دو۲ مقام پر تحریر کیا ہے شامی نے ثبوتِ مسنونیت میں کوئی حدیث تحریر نہیں کی بلکہ کچھ زیادہ تعرض اور لحاظ نہیں فرمایا، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ نے احادیث اور ظاہرالروایۃ میں وارد ہوناتحریر کرکے الصاق کو بمعنی قربو اتصال تصریح کرکے زیادہ تحقیق کا حوالہ اپنے حواشی پر لکھ دیا، دریافت طلب امر صرف امورِ ذیل ہیں: (۱) مسنونیت الصاق کعبین فی الرکوع کہاں ثابت ہے، کون حدیث دلیل قول صاحب درمختار ہے اور وہ کہاں تک قابلِ عمل اور اعتماد ہے، صاحبِ مفتاح الصلوٰۃ کا بیان بنسبت اس مسئلہ کے بجمیعہ صحیح ہے یا کیا۔ دیگر متونِ معتمدہ فقہ مذہب حنفی میں اس سنّت رکوع کا بیان کیوں نہیں درج ہوا ہے تساہل بعض فقہا نے کیوں گوارا فرمایا۔ عبارت فتاوٰی درمختار ہر دو مقام سے اور عبارت مفتاح الصلوٰۃبقیہ صفحہ ذیل میں درج ہے، غایۃ الاوطار ترجمہدُرمختارصفحہ ۲۱۹،۲۳۰ سنن نماز و طریق ادائے نماز تکبیر الرکوع وکذاالرفع منہ بحیث یستوی قائما و التسبیح فیہ ثلاثاوالصاق کعبیہ و ینصب ساقیہ(تکبیر رکوع اور اسی طرح رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا، اس میں تین دفعہ تسبیح پڑھنا، ٹخنوں کا متصل ہونااور پنڈلیوں کو کھڑا کرنا۔(ت)
مفتاح الصلوٰۃ صفحہ ۹۴:
مجتبٰی کہ تصنیف امام زاہدی است از مسنونات رکوع الصۤق کعبین باستقلال انگشتاں بسوئے قبلہ مسنون گفتہ است لیکن در حدیث ِصحیح و در کتب ظاہرا لرویۃ ظاہر نمی شود ظاہر مراد امالہ کعب بسوئے کعب دیگر باشد چجانکہ صاحبِ قاموس معنی لصوق گفتہ است زیراکہ اگر الصاق در وقت ِ رکوع کند حرکت کثیر لازم مے آید باآنکہ استقبال انگشتاں نمی ماند وسنت قیام مے رود کہ فر جہ چہار انگشت مسنون است ومؤید امالہ قول نحویین است الباء للالصاقیی یعنی القرب و درحدیث نیز الصاق الکعب بمعنی القرب والمقابلہ واقع است پس مقابلہ کعب بکعب نیز ارادہ می تواں نمود چنانکہ تحقیق ایں مسئلہ در حواشی بحراالرائق کاتب بتفصیل مذکورہ نمودہ۔ واللہ اعلم۔
امام زاہدی کی کتاب مجتبٰی میں سنن رکوع کی بحث میں ٹخنوں کو متصل کرنا اور پاؤ ں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ کرنا سنّت بیان کیا گیا ہے لیکن حدیث صحیح اور کتب ظاہرالرویۃ میں یہ وارد نہیں ہے زیادہ سے زیادہ اتنا ملتا کہ ایک ٹخنے کا دوسرے ٹخنے کی طرف میلان ہو،جیسا کہ صاحب قاموس نے اس کا معنٰی لصوق بیان کیاہے ورنہ رکوع میں اتصال کی صورت میں حرکت کثیرہ لازم آئے گی با آنکہ اس کے ساتھ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف نہیں رہے گا، اور سنت قائم نہ ہوگی کہ حالتِ قیام میںدونوں قدموں کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار کافاصلہ سنّت ہے ، یہاں الصاق کے معنی امالہ پر نحویوں کا قول بھی تائید کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں باالصاق یعنی قُرب کے لئے ہے، اور حدیث میں بھی الصاق الکعب کا معنی قُرب اور مقابلہ واقع ہوا ہے،لہذا یہاں کعب کا کعب کے مقابل ہونا مراد لیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس مسئلہ کی تفصیل و تحقیق راقم نے البحر الرائق کی حواشی میں ذکر ہے۔واﷲ اعلم(ت)
الجواب: مکرمی کرم فرمایا اکرام اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ برکاتہ،۔ خاتم المدققین علامہ علائی دمشقی ، صاحبِ درمختار اعلی اﷲ تعالٰی مقامہ اس مسئلہ میں متفرد نہیں اُن سے بھی پہلے علما نے اس کی تصریح اور ان کے بعد ناقلین و ناظرین نے تقریر وتوضیح فرمائی۔علامہ ابراہیم حلبی غنیۃ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
السنۃ ایضافی الرکوع الصاق الکعبین و استقبال الصابع القبلۃ ۱؎۔
رکوع میں ٹخنوں کا اتصال اور انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا بھی سنّت ہے۔(ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱۵)
شرح نقایہ للعلا مۃ الشمس القہستانی میں ہے :
ینبغی ان یزاد مجافیا عضدیہ ملصقا کعبیہ مستقبلا اصابعہ فانھا سنۃ کما فی الزاہدی ۲؎۔
یہاں اس بات کا اضافی کرنا مناسب ہے کہ بازو پیٹ سے جدا اور ٹخنے متصل اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنت ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے(ت)
(۲؎ جامع الرموز ، فصل صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۱۵۲)
بعینہٖ اسی طرح علامہ سید ابو المسعود ازہری نے فتح اﷲ المعین میں علامہ سیدحموی سے نقل کیا علامہ بحر الفقہ زین الفقہا بحرالرائق میں شرح قدوری سے نقل فرماتے ہیں:
والسنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین واستقبال الاصابع للقبلۃ۳؎۔
رکوع میں ٹخنوں کا متصل ہونا اور انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنّت ہے۔(ت)
(۳؎ البحر الرائق فصل واذاارادالدخول مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۳۱۵)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
وسن ابعاد مرفقیہ عن جنبیہ والصاق کعبیۃ فیہ واستقبال اصابعہ القبلۃ ای اصابع رجلیہ کذافی القہستانی عن الزاھدی؎۔
رکوع میں کہنیوں کا پہلوؤں سے دُور ہونا اور ٹخنوں کا متصل ہونا اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ رُخ ہونا سنّت ہے۔قہستانی میں زاہدی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد تجارت کتب کراچی ص۱۴۵)