Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
37 - 185
خلاصہ وغیرہ میں ہے:
قال سراج الائمۃ الحلوائی ھوالمذھب الصحیح۲؎۔
سراج الائمہ حلوائی نے فرمایا کہ یہی صحیح مذہب ہے۔(ت)
 (۲؎خلاصۃ الفتاوٰی        الحادی والعشرون فی صلوٰۃ المریض    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۱/۱۹۴)
بحرالرائق پھر حاشیہ طحطاویہ علی الدر میں ہے:
لا یروی عن اصحابنا خلافہ۳؎۔
ہمارے اصحاب سے اس کےخلاف مروی نہیں۔(ت)
 (۳؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار    باب صلوٰۃ المریض        مطبوعہ المعرفۃ بیروت        ۱/۳۱۸)
پھر اگر اس کا خلاف کیا یعنی باوجودقدرت تحریمہ بھی بیٹھ کر باندھی نماز نہ ہوئی۔
لقول الغنیۃ لزمہ وقول الدر لزوما مع قول العلامۃ الشرنبلالی عبرت باللزوم لکونہ اقوی لان ھذایفوت الجواز بفوتہ الخ لقول المحقق العلائی وغیرہ ان البعض معتبر بالکل۔
کیونکہ غنیہ میں اس پر لازم ہے۔ در میں ہے :لازم ہے اور علّامہ شرنبلالی کی تصریح '' باللزوم'' کے ساتھ ہے، وُہ کہتے ہیں میں نے ''باللزوم''سے تعبیر اس لئے کیا ہے کہ یہ اقوٰی ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے سے جواز ہی فوت ہاجاتا ہے الخ اورمحقق علائی نے کہا کہ بعض کا کل کے ساتھ اعتبار کیا جاتا ہے۔(ت) 

فقیر غفراﷲ لہ کو اﷲ تعالٰی تحقیقِ حق القا کرے علما تصریح فرماتے ہیں کہ تحریمہ کے لیے قیام شرط ہے اگر بیٹھ کر بلکہ اتنا جُھکا ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچیں تحریمہ باندھے ہرگز صحیح نہ ہوگی اور تحریمہ شرطِ نماز ہے کہ بے اس کے نماز باطل ، توجبکہ تحریمہ کے لئے قیام کرسکتا اور نہ کیا شرطِ تحریمہ فوت ہوئی تو تحریمہ صحیح نہ ہوئی تو نماز ادا نہ ہوئی
اذافات الشرط فات المشروط
 (جب شرط فوت ہوگئی تو مشروط از خود فوت ہوجائے گا۔ت) دُرمختار میں شرح الوہانیہ للعلامۃ حسن بن عمار سے ہے:
شروط لتحریم حظیت بجمعھا ::

                                                       مھذبۃ حسنامدی الدھرتزھر ::

                                     دخول لوقت واعتقاد دخولہ :: وسترطھروالقیام المحرر۱؎::
تکبیر تحریمہ کے لئے کچھ شرطیں ہیں میں ان کو اکھٹا کر دینے سے بہرہ ور ہوا، حالانکہ وہ شرطیں خوب آراستہ و زمانہ بھر چمکتی ہیں(وہ یہ ہیں) وقتِ فرض کا داخل ہونااور بدن مکان اور کپڑے کے طہارت اور قیام محرر۔(ت)
 (۱؎ دُرمختار        باب صفۃ الصّلوٰۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۷۱)
ردالمختار میں ہے:
المحرر بان لا تنال یداہ رکبیۃ کما مر فلو ادرک الامام راکعافکبرمنحنیالم تصح تحریمتہ۲؎اھ
قیام محرریہ ہے کہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچ سکیں جیسا کہ گزر چکا ، اگر نمازی نے امام کو رکوع میں پایا اور جھُک کر تکبیر تحریمہ کہہ کر شامل ہوا تو اس کی تحریمہ صحیح نہیں ہے اھ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مطفی البابی مصر        ۱/۳۳۴)
شرح التنویر للعلائی میں ہے:
من فرائضھاالتی لا تصح بدونھا التحریمۃ قائما ۳؎۔
ان فرائض میں سے جن کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی ایک کھڑے ہوکر تکبیر تحریمہ کہنا بھی ہے (ت)
 (۳؎ درمختار ،  باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی  ۱/۷۰)
حاشیہ علامہ ابن عابدین میں ہے
  قولہ قائما احد ا شروطہا العشرین الآیتہ ۴؎
اس کا قول ''قائماً'' یہ ان بیس ۲۰ شروط میں سے ایک ہے جن کا ذکر آرہا ہے۔(ت)
 (۴؎ ردالمحتار        باب صفۃ الصلوٰۃ   مطبوعہ مطفی البابی مصر  ۱/۳۲۶)
آج کل بہت جہّال ذرا سی با طاقتی مرض یا کبر سن میں سرے سے بیٹھ کر فرض پڑھتے ہیں حالانکہ اولاً ان میں بہت ایسے ہیں کہ ہمّت کریں تو پُورے فرض کھڑے ہوکر ادا کر سکتے ہیںاور اس ادا سے نہ ان کا مرض بڑھے نہ کوئی نیا مرض لاحق ہو نہ گر پڑنے کی حالت ہو نہ دوران سر وغیرہ کوئی سخت الم شدید ہو صرف ایک گونہ مشقت و تکلیف ہے جس سے بچنے کو صراحۃً نمازیں کھوتے ہیں ہم نے مشاہدہ کیا ہے وہی لوگ جنھوں نے بحلیہ ضعف و مرض فرض بیٹھ کر پڑھتے اور وہی باتوں میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اُتنی دیر میں دس بارہ رکعت ادا کرلیتے ایسی حالت میں ہر گز قعود کی اجازت نہیں بلکہ فرض ہے کہ پُورے فرض قیام سے ادا کریں۔
کافی شرح وافی میں ہے:
ان لحقہ نوع مشقۃ لم یجز ترک القیام ۱؎۔
اگر ادنٰی مشقت لاحق ہو تو ترک ِ قیام جائز نہ ہوگا۔(ت)
 (۱؎ کافی شرح وافی)
ثانیاً مانا کہ انھیں اپنے تجربہ سابقہ خواہ کسی طبیب مسلمان حاذق عادل مستورالحال غیر ظاہر الفسق کے اخبار خواہ اپنے ظاہر حال کے نظر صحیح سے جو کم ہمتی و آرام طلبی پر مبنی نہ ہو بظن غالب معلوم ہے کہ قیام سے کوئی مرض جدید یا مرض موجود شدید و مدید ہوگا مگر یہ بات طول قیام میں ہوگی تھوڑی دیر کھڑے ہونے کی یقیناً طاقت رکھتے ہیں تو ان پر فرض تھا کہ جتنے قیام کی طاقت تھی اُتنا ادا کرتے یہاں تک کہ اگر صرف اﷲ اکبر کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے تو اتنا ہی قیام میں ادا کرتے جب وہ غلبہ ظن کی حالت پیش آتی تو بیٹھ جاتے یہ ابتدا سے بیٹھ کر پڑھنا بھی ان کی نماز کا مفسد ہُوا۔

ثالثاً ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ بقدر تکبیر بھی کھڑے ہونے کی قوت نہیں رکھتا مگر عصا کے سہارے سے یا کسی آدمی خواہ دیوار یا تکیہ لگا کر کُل یا بعض قیا م پر قادر ہے تو اس پر فرض ہے کہ جتنا قیام اس سہارے یا تکیہ کے ذریعے سے کرسکے بجالائے ، کُل توکُل یا بعض تو بعض ورنہ صحیح مذہب میںاس کی نماز نہ ہوگی۔
فقد مرمن الدر ولو متکأا علی عصااوحائط ۲؎۔
 (در کے حوالے سے گزرا اگرچہ عصا یا دیوار کے سہارے سے کھڑا ہوسکے،ت)
 (۲؎ دُرمختار         باب صلوٰۃ المریض    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۰۴)
تبیین الحقائق میں ہے:
لوقدرعلی القیام متکأا (قال الحلوانی) الصحیح انہ یصلی قائما متکأا ولا یجزیہ غیرذلک وکذلک لوقدران یعتمد علی عصا اوعلی خادم لہ فانہ یقوم ویتکیئ ۳؎۔
اگر سہارے سے قیام کرسکتا ہو (حلوانی نے کہا ) تو صحیح یہی ہے کہ سہارے سے کھڑے ہوکر نماز ادا کرے اس کے علاوہ کفایت نہ کریگی اور اسی طرح اگر عصا یا خادم کے سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے تو قیام کرے اور سہارے سے نماز ادا کرے۔(ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق    باب صلوٰۃ المریض    مطبوعہ مطبعۃ امیریہ کبرٰی مصر    ۱/۲۰۰)
یہ سب مسائل خوب سمجھ لئے جائیں باقی اس مسئلہ کی تفصیل تام و تحقیق ہمارے فتاوٰی میںہے جس پر اطلاع نہایر ضرورواہم کہ آجکل ناواقفی سے جاہل تو جاہل بعض مدعیانِ علم بھی ان احکام کا خلاف کرکے ناحق اپنی نمازیں کھوتے اور صراحۃً مرتکب گناہ و تارک صلوٰۃ ہوتے ہیں۔
وباﷲالعصمۃ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم 

واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و عملہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter