مسئلہ نمبر ۴۰۳ : ازاُجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہحاجی یعقوب علی خان صاحب ۲۹ جمادی الاُخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شافعیہ ایک ہاتھ کے فرق سے نماز میں پاؤں کشادہ رکھتے ہیں ، یہ میں نے کعبۃ اﷲ میں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور مذہب حنفیہ میں چار انگشت کے فاصلے پر ایک پاؤں سے دوسرا پاؤں رکھتے ہیں کس طرح کرنا چاہئے؟بینوا توجروا۔
مسئلہ نمبر ۴۰۳ : ازاُجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خان صاحب ۲۹ جمادی الاُخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شافعیہ ایک ہاتھ کے فرق سے نماز میں پاؤں کشادہ رکھتے ہیں ، یہ میں نے کعبۃ اﷲ میں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور مذہب حنفیہ میں چار انگشت کے فاصلے پر ایک پاؤں سے دوسرا پاؤں رکھتے ہیں کس طرح کرنا چاہئے؟بینوا توجروا۔
الجواب: چار ہی انگل کا فاصلہ رکھنا چاہئے یہی ادب اور یہی سنت ہے اور یہی ہمارے امام ِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے۔
قال فی ردالمحتار ینبغی ان یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لا نہ اقرب الی الخشوع ھکذا روی عن ابی نصر الدبوسی انہ کان یفعلہ کذا فی الکبرٰی۱؎۔اھ
ردالمحتار میں ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ ہونا چاہیئے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے۔ابو نصر دبوسی سے اسی طرح منقول ہے کہ وہ یہی کرتے تھے کذا فی الکبرٰی اھ
(۱؎ ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۲۹۹)
اقول بل فی نورالایضاح و شرحہ مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلا لی یسن تفریج القدمین فی القیام قدر اربع اصابع لانہ اقرب الی الخشوع۲؎۔اھ
اقول:(میں کہتا ہوں ) بلکہ نورالایضاح اور اسکی شرح مراقی الفلاح للعلامۃ الشربنالالی میں ہے کہ حالتِ قیام میں دونوں قدموں کو چار انگلیوں کے فاصلہ پر کھلا رکھنا سنّت ہے کیونکہ یہ خشوع کے زیادہ قریب ہے اھ
(۲؎ مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ۱۴۳)
قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ نص علیہ فی کتاب الاثرعن الامام ولم یحک فیہ خلافا اھ۳؎۔
سید طحطاوی نے اسکے حاشیہ میں فرمایا کہ کتاب الاثر میں امام صاحب نے اس پر نص کی ہے، اور اس میں اختلاف بیان نہیں کیا اھ(ت)
(۳؎ مراقی الفلاح و حاشیۃ مراقی فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت آرم باغ کراچی ص ۱۴۳)
امام علامہ جمال الدین یوسف اردبیلی شافعی نے بھی کتاب الانوار میں کہ اجل معتمدات مذہب شافعی سے ہے اسی چار انگل فصل کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی؛
قدموں کو ملا کر رکھنا مکروہ ہے ان کے درمیان چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ رکھنا مستحب ہے۔(ت)
(۴؎ الانوار العمل الابرار لیوسف الکتاب الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ۱/۶۱)
ہاںسید علّامہ شیخ زکریا انصاری شافعی قدس سرہ، نے شرح روض الطالب میں بالشت بھر کا فاصلہ تحریر فرمایا۔ حاشیہ الکمثری علی الانوار میں ہے:
قولہ بقدر اربع اصابع لعلھا متفرقۃ لان فی شرح الروض بقدر شبر۵؎۔
اس کا قول ''چار انگلیوں کی مقدار '' شاید متفرق طور پر مراد ہوں کیونکہ شرح روض میں ہے کہ فاصلہ ایک بالشت ہونا چاہئے۔(ت)
(۵؎ حاشیہ الکمثری علی الانوار الصلوٰۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر )
مگر ایک ہاتھ کا فرق نہ کسی مذہب کی کتاب میں نظر سے گزرا نہ کسی طرح قابلِ قبول ہوسکتا ہے کہ ہدایۃً طرز و روش ادب وخشوع سے جُدا ہے ، جن شافعیہ نے ایسا کیا غالباً کوئی عذر ہوگا یا شاید ناواقفی کی بنا پر کہ مکہ معظمہ کا ہر متنفس تو عالم نہیں اعتبار اقوال و افعالِ علماء کا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۰۴:۔کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ نفل نماز بیٹھ کر ادا کرے تو رکوع کس طرح ادا کریں یعنی سرین اُٹھیں یا نہیں ؟ درصورت مخالف نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہمی یا فاسد ؟ بینو توجروا۔
الجواب : رکوع میں قدر واجب تو اسی قدر ہے کہ سرجھکا ئے اور پیٹھ کو قدرے خم د ے مگر بیٹھ کر نما ز پڑھے تو اسکا درجہ کمال و طریقہ اعتدال یہ ہے کہ پیشانی جھک کر گھٹنوںکے مقابل آجائے اس قدر کے لئے سرین اٹھانے کی حاجت نہیں تو قدر اعتدال سے جس قدر زائد ہوگا وُہ عبث و بیجا میں داخل ہو جائے گا۔
فی الحاشیۃ الشامیۃ فی حاشیۃ الفتال عن البرجندی ولوکان یصلی قاعداینبغی ان یحاذی جبھتہ قد ا م رکبتیہ لیحصل الرکوع اھ قلت ولعلہ محمول علی تمام الرکوع والا فقد علمت حصولہ باصل طأطأۃ الراس ای مع انحناء الظھر ۱؎تامل انتھی۔
حاشیہ شامیہ میں ہے برجندی کے حوالے سے حاشیہ قتال میں ہے اگر کوئی بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو تو اپنی پیشانی کو گھٹنوں کے برابر جُھکائے تاکہ رکوع حاصل ہوجائے اھ قلت شاید یہ تمام رکوع پر محمول ہو کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ رکوع سرکو صرف جُھکا دینے سے یعنی ساتھ کچھ پیٹھ کو جُھکانے سے ادا ہوجاتا ہے، غور کرو انتہی۔
اور نماز میں جو ایسا فعل کیا جائے گا لااقل ناپسند مکروہ تنزیہی ہوگا۔
وفی الدرالمختار ویکرہ ترک کل سنۃ۲؎ انتھی ملتقطا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ ہر سنت کا ترک مکروہ ہے انتہی ملتقطا۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔(ت)
(۲؎ درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۹۳)
مسئلہ نمبر ۴۰۵ مرسلہ محمود حسین ۵محرم ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک شخص نماز کھڑے ہوکر بوجہ عذر بیماری کے نہیںپڑھ سکتا
لیکن اس قدر طاقت اس کوہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہی ہو کر باندھ لے اور باقی بیٹھ کر رکوع وسجود کے ساتھ ادا کر سکتا ہے تو اس صورت میں آیا اس کو ضروری ہے کہ تکبیرتحریمہ کھڑے ہی ہوکرکہے اور پھربیٹھ جائے یا سرے سے بیٹھ کر نماز شروع کرے اور ادا کرلے، دوسری شق میں نماز اس کی ادا ہوجائے گی یا نہیں ؟ بینو ا توجروا۔
الجواب: صورت ِمستفسرہ میں بیشک اُس پر لازم کہ تحریمہ کھڑے ہوکر باندھے جب قدرت نہ رہے بیٹھ جائے ۔یہی صحیح ہے، بلکہ ائمہ رضوان اﷲ تعالٰی اجمعین سے اس کا خلاف اصلاً منقول نہیں ۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
ان قدرعلی بعض القیام ولومتکأا علی عصا او حائط قام لزومابقدر مایقدر ولوقدراٰیۃ او تکبیرۃ علی المذھب لان البعض معتبر بالکل۱؎۔
(۱؎ دُرمختار شرح تنویرالابصار باب صلوٰۃ المریض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۱۰۴)
اگر نمازی قیام پر قادر ہو اگر چہ وہ عصا یا دیوار کے ذریعے ہو تو اس پر حسبِ طاقت قیام کرنا لازم ہے خواہ وہ ایک آیت یا تکبیر کی مقدار ہو۔ مختار مذہب یہی ہے کیونکہ بعض کاکل کے ساتھ اعتبار کیا جاتا ہے۔(ت)
تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للعلامۃ الزیلعی میں ہے :
ولو قدر علی بعض القیام دون تمامہ بان کان قدر علی التکبیر قائما اوعلی التکبیر وبعض القراء ۃ فانہ یؤمر بالقیام و یأتی بماقدر علیہ ثم یقعد اذاعجز۲؎۔
اگر کچھ قیام پر قادر ہو تمام پر نہ ہو، مثلاً کھڑے ہوکر تکبیر یا تکبیر اور کچھ قرأت پر قادر ہو تو اسے قیا م کا حکم دیا جائے اور وہ حسبِ طاقت قیام کے ساتھ بجا لائے ، پھر جب عاجز آئے تو بیٹھ جائے۔(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق باب صلوٰۃ المریض مطبعۃ امیریۃ کبرٰی مصر ۱/۲۰۰)
خانیہ میں ہے:
ولو قدر علی ان یکبر قائماولایقدر علی اکثر من ذلک یکبر قائما ثم یقعد۳؎۔
اگر کھڑ ے ہوکر صرف تکبیر کہنے پر قادر ہے اس سے زیادہ پر قادر نہیں تو کھڑے ہوکر تکبیر کہے پھر بیٹھ جائے۔(ت)
غنیہ شرح المنیہ للعلامہ ابراہیم حلبی میں ہے:
لو قدر علی بعض القیام لا کلہ لزمہ ذلک القدر حتی لوکان لایقدر الاعلی قدر التحریمۃ لزمہ ان یتحرم قائماثم یقعد۱؎۔
اگر کچھ قیام پرقادر ہے تمام پر نہیں تو اس پر اس کی مقدار قیام لاز م ہے حتٰی کہ اگر کوئی صرف تکبیر تحریمہ کے مقدار پر قادر ہو تو کھڑا ہوکر تکبیر تحریمہ کہے پھر بیٹھ جائے۔(ت)