Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
35 - 185
مسئلہ نمبر ۴۰۲ :   محرام الحرام ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ رفع یدین حضرت رسول مقبول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیایا نہیں اور کب تک کیا ؟ یہ بات ثابت ہے کہ ہمیشہ آپ نے کیا ؟ مسلمانوں کو کرنا چاہئے یا نہیں؟ مکمل ارشاد فرما کر مشکور و ممنون فرمایئے،فقط۔
الجواب: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ہر گزکسی حدیث میں ثابت نہیں کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا خلاف ثابت ہے۔نہ احادیث میں اسکی مدّت مذکور ۔ ہاں حدیثیں اس کے فعل و ترک دونوں میں وارد ہیں،سنن ابی داؤد وسنن نسائی و جامع ترمذی وغیرہامیں ایسی سند سے جس کے رجال صحیح ومسلم ہیں بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسودعن علقمہ ،حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی :
قل الااخبر کم بصلاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد۱؎۔
یعنی انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھے، یہ کہہ کر نماز کو کھڑے ہوئے تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھا ئے پھر نہ اُٹھائے(ت)
 (۱؎ سنن النسائی         باب رفع الیدین للرکوع الخ    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور        ۱/۱۲۳)
ترمذی نے کہا :
حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد مناھل العلم من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفہ۲؎۔
یعنی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث حسن ہے اور یہی مذہب تھا متعدد علماء منجملہ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم و تابعین ِ کرام و امام سفیان وعلمائے کوفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا(ت)
 (۲؎ جامع الترمذی     باب رفع الیدین عند الرکوع           مطبوعہ امین کمپنی کراچی        ۱/۳۵)
مسند امام الائمہ مالک الازمہ امام اعظم رضی اﷲ عنہ میں ہے:
حد ثنا حماد عن ابراہیم عن علقمہ والاسود عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لایرفع یدیہ الاعندافتتاح الصلوٰۃ ولایعود لشیئ من ذلک۲؎۔
ہمیں حماد نے ابراہیم سے علقمہ واسود سے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صرف نماز کے شروع میں رفع یدین فرماتے پھر کسی جگہ ہاتھ نہ اُٹھاتے۔
 (۲؎ مسند الامام اعظم     اجتماع الاوزاعی و ابی حنیفہ        مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی    ص۵۰)
امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی شرح معانی الاثار میں فرماتے ہیں:
حدثنا ابی بکرۃ قال ثنا قال سفیان عن المغیرۃ قال قلت لابراہیم حدیث وائل انہ رأی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یرفع یدیہ اذاافتتح الصلاۃ واذارکع واذارفع رأسہ من الرکوع فقال ان کان وائل رأہ مرۃ یفعل ذلک فقد رأہ عبداﷲ خمسین مرۃ لا یفعل ذلک ۳؎۔
ابو بکرہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ہمیں مومل نے حدیث بیان کی کہا ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ہے مغیرہ سے اور مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے امام ابراہیم نخعی سے حدیث وائل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نسبت دریافت کیا کہ انھوں نے حضور پُرنور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کورفع یدین کرتے دیکھا تو عبداﷲ رضی اﷲ تعالی نے حضور اقدس صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو پچاس بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا۔
 (۳؎ شرح معافی الاثار    باب التکبیر عند الرکوع          مطبوعہ ایچ ایم سعید        ۱/۱۵۴)
صحیح مسلم شریف میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلاۃ۱؎۔
کیا ہوا کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھتا ہوںگویا تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دُمیں ہیں قرار سے رہو نماز میں۔
 (۱؎ صحیح مسلم         باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ    مطبوعہ اصح المطابع کراچی        ۱/۱۸۱)
اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا۔ اور حاظر بلیح پر مقدم ہے۔ ہمارے ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے احادیث ترک پر عمل فرمایا حنفیہ کو ان کی تقلید چاہئے، شافعیہ وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی کی پیروی کریں کوئی محلِ نزاع نہیں، ہاں وہ حضرات تقلید ِ ائمہ دین کو شرک و حرام جانتے اور با آنکہ علمائے مقلدین کاکلام سمجھنے کی لیاقت نصیب اعداء اپنے لئے منصبِ اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین و اثارت فتنہ بین المومنین کرنا چاہتے بلکہ اسی کو اپنا ذریعہ شہرت و ناموری سمجھتے ہیں اُن کے راستے سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہئے ۔ مانا کہ احادیث رفع ہی مرجع ہوں تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں ، غایت درجہ اگر ٹھہرے گا تو ایک امرِمستحب ٹھہرے گا کہ کیا تو اچھا، نہ کیا تو کچھ برائی نہیں ، مگر مسلمانوں میں فتنہ اُٹھانا دو۲ گروہ کردینا ، نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تک پہنچانا شاید اہم واجبات سے ہو گا۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
والفتۃ اشد من القتل ۲؎۔
فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے۔
 (۲؎ القرآن    ۲/۱۹۱)
خود ان صاحبان میں بہت لوگ صد ہا گناہ ِ کبیرہ کرتے ہوں گے انھیں نہ چھوڑنا ، اور رفع یدین نہ کرنے پر ایسی شورشیں کرنا کچھ بھلا معلوم ہوتا ہوگا(ہر گز نہیں ) اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی ہدایت فرمائے آمین ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter