واخرج اباداؤد والبیھقی وغیرھما عن سیدنا وائل بن حجر رضی اﷲ عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عقد فی جلوس التشھد الخنصر والبنصرثم حلق الوسطی بالابھام و اشار بالسبابۃ ۴؎۔
یعنی نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے جلسہ تشہد میں چھوٹی انگلی اور اُس کی برابر والی کو بند کیا پھر بیچ کی انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ حلقہ بنایا اور انگشت ِشہادت سے اشارہ فرمایا۔
(۴؎السنن الکبرٰی للبیہقی باب ماروی فی تحلیق الوسطی بالابہام مطبوعہ دار صادر بیروت ۲/۱۳۱)
وبمعناہ اخرج ابن حیان فی صحیحہ
(ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔ت)
اور اس باب میں احادیث و آثار بکثرت وارد، ہمارے محققین کا بھی مذہب صحیح و معتمد علیہ ہے صغیری میں ملتقط وشرح ہدایہ سے اس کی تصحیح نقل کی اور اسی پر علّامہ فہامہ محقق علی الاطلاق مولاناکمال الدین محمد بن الہمام و علامہ ابن امیرالحاج حلبی وفاضل بہنسی وباقانی و ملاخسرو وعلامہ شربنلالی وفاضل ابراہیم طرابلسی وغیرہم اکابر نے اعتماد فرمایا اور انھیں کا صاحب درمختا،فاضل مدقق علاء الدین حصکفی وفاضل اجل سیّد احمد طحطاوی وفاضل ابن عابدین شامی وغیرہم اجلّہ نے اتباع کیا ،علّامہ بدرالدین عینی نے تحفہ سے اس کا استحباب نقل فرمایا اور صاحب ِمحیط وملّا قہستانی نے سنّت کہاففی الدرالمختار(درمختار میں ہے ۔ت):
لیکن معتمد وہی ہے جسے شارحین نے صحیح کیا خصوصاً متاخرین علماء کمال،حلبی، بہنسی،باقانی اور شیخ الاسلام الجد وغیرہم نے اشارہ کرنے کو صحیح قرار دیا کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا عمل ہے اور انھوں نے اس قول کی نسبت امام محمد اورامام صاحب کی طرف کی ہے، بلکہ متن دررالبحار اور اسکی شرح غررالاذکار میں ہے کہ اشارہ کرنا ہمارے نزدیک مفتی بہ قول ہے الخ اور شرنبلالیہ میں برہان سے منقول ہے کہ صحیح یہی ہے کہ نمازی اشارہ کرے الخ لفظِ صحیح کہہ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ قول کہ اشارہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ درایت و روایت دونوں کے خلاف ہے اور عینی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ اشارہ کرنا مستحب ہے ، اور محیط میں ہے کہ سنّت ہے انتہی ملتقطا۔(ت)
(۱؎ درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبعہ مجتبائی دہلی ۱/۷۷)
؎اور اس مسئلہ میں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے روایتیںوارد جس نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے اُس میں عدم روایت یا روایت عدم کا زعم کیا محض ناواقفی یا خطائے بشری پر مبنی تھا امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی کتاب المشیخۃ میں دربارہ اشارہ ایک حدیث رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرکے فرماتے ہیں:
فنفعل مافعل النبی صلی اﷲعلیہ وسلم ونصنع ماصنعہ وھو قول ابی حنیفۃ وقولنا ۲؎۔ذکرہ العلامۃ الحلبی فی الحلیۃ عن البدائع
یعنی پس ہم کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا اور عمل کرتے ہیں اس پر جو حضور کا فعل تھا اور وہ مذہب ہے امام ابو حنیفہ کا اور ہمارا۔اس کو علّامہ حلبی نے حلیہ میں بدائع سے نقل فرمایا ہے۔
نوٹ: کتاب المشیخہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بدائع الصنائع سے حوالہ نقل کیا ہے۔
ویروی عنہ رحمۃ اﷲ تعالٰی ثم قال ھذا قولی وقول ابی حنیفۃ ۳؎۔اثرہ العلامۃ عن الذخیرۃ وشرح الزاھدی صاحب القنیۃ
اور انہی سے مروی ہے پھر امام محمد نے فرمایا اشارہ کرنا میرا قول ہے اور قول ابی حنیفہ رحمہ اﷲ کا ۔علامہ حلبی نے ذخیرہ اور شرح الزاہدی صاحب ِ قنیہ سے اسے نقل کیا۔
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی)
وہ مذکورہ اور کبیری اور ردالمحتار میں اسے امام ابو یوسف رحمہ اﷲ سے روایت کیا یہاں تک کہ شامی نے اس حاشیہ میں تصریح کی:
ھذا ما اعتمدہ المتأخرون لثبوتہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالاحادیث اصحیحۃ والصحۃ نقلہ عن ائمتنا الثلثۃ فلذا قال فی الفتح ان الاول (یعنی عدم الاشارہ) خلاف الدرایۃوالروایۃ ، وفیہ عن القھستانی وعن اصحابنا جمیعا انہ سنۃ فیحلق ابھام الیمنی ووسطاھاملصقاراسھابراسہا ویشیر بالسبابۃ۲؎۔
اسی پر متاخرین نے اعتماد کیا کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے احادیث صحیحہ کے ساتھ ثابت ہے اور ہمارے تینوں ائمہ سے اس کا منقول ہونا صحیح ہے اسی لئے فتح میں کہا پہلا(یعنی اشارہ نہ کرنا) وروایت سے ہے کہ ہما رے تمام احناف کے نزدیک یہ سنّت ہے لہذا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیان انگلی کے سروں کو ملا کے حلقہ بناکر سبابہ سے اشارہ کرے (ت)
(۱؎ و۲؎ ردالمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۴۲)
کبیری میں ہے:
قبض الاصابع عند الاشارۃ المروی عن محمد فی کیفیۃ الاشارۃ وعن کثیر من المشائخ (انہ) لایشیر اصلا وھوخلاف الدریۃ والروایۃ فعن محمد ان ما ذکرہ فی کیفیۃ الاشارۃ ھو قولہ وقولہ ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی ملخصاً ۳؎۔
اشارہ کے وقت انگلیاں بند کرلے ، طریقہ اشارہ میں امام محمد سے یہی مروی ہے اور متعدد مشائخ کا قول ہے کہ اشارہً اصلاً نہ کیا جائے یہ درایت و روایت کے خلاف ہے۔امام محمد سے منقول ہے کہ کیفیتِ اشارہ میں کچھ ذکر کیا ہے یہ ان کا اور امام ابو حنیفہ رحمہاﷲ تعالٰی کا قول ہے ملخصاً(ت)
اور اسی طرح محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا۔ بالجملہ اشارہ مذکورہ کی خوبی میں کچھ شک نہیں ، احادیثِ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور اقوال ہمارے مجتہدین کرام کے اسی کو مفید ، بعد اس کے اگر کتبِ متاخرین مثل تنویر الابصار و ولوالجیہ وتجنیس وخلاصہ وبزازیہ و واقعات و عمدۃالمفتی ومنیتی المفتی وتبیین کبرٰی ومضمرات و ہندیہ وغیرہا عامہ فتاوٰی میں عدم اشارہ کی ترجیح وتصحیح منقول ہو تو قابلِ اعتماد نہیں ہوسکتی علماء نے ان اقوال پر التفات نہ فرمایا اور خلافِ عقل و نقل ٹھہرایا