Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
33 - 185
اسے ابو داؤد نے حضرت ابن مسعود سے حاکم نے حضرت امِّ سلمہ رضی اﷲ عنہ سے سند صالح سے روایت کیا ۔حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲعنہ کا فرمان ہے انھیں اسی طرح پیچھے رکھو جیسے انھیں اﷲ نے پیچھے رکھا ہے، اسے امام عبدالرزاق نے مصنف میں اور اسی سند سے طبرانی نے معجم میں ذکر کیا ہے نیز خواتین کے لئے حکم ہے کہ بوقتِ سجدہ زمین کے ساتھ چمٹ جائیں حالانکہ مردوں کے لئے اس کے خلاف کرنا سنّت ہے ابو داؤد نے المراسیل میں یزید بن حبیب سے روایت کیا کہ رسول اﷲ ؐ دو خواتین کے پاس سے گزرے جو نماز ادا کر رہی تھیں فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ ملاؤ کیونکہ سجدہ کی حالت میں عورت مرد کی طرح نہیں ،
 (۱؎المنصف لعبد الرزاق باب شہود النساء الجماعۃ    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت            ۳/۱۴۹)

(۲؎ کتاب المراسیل لابی داؤد        باب ماجاء فی من نام علی الصلوٰۃ مطبوعہ المطبعۃ العلمیۃ لاہور    ص۵۵)
ویروی موصولا بوجہین قال البھقی ھو احسن منھما وسنت مرایشاں راتورک شد رواہ الامام ابو حنیفۃ عن نافع عن ابی عمر رضی اللہ تعالی عنھما و فی الباب علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ قال اذا صلت المرأٰۃ فلتحتفر قال الجوھری تتضام اذا جلست واذا سجدت واگر جماعت خواھند امام آنہا میاں آنہا ایست، قال الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد بن ابی سلیمن عن ابراھیم النخعی ان عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہا کانت تؤم النساء فی الشھر رمضان فتوم وسطا ۱؎ عبدالرزاق فی المصنف و الدار قطنی ثم البیھقی فی سننھما واللفط بعد الرزاق عن ریطۃ الحنفیۃ ان عائشۃ رضی اﷲ عنھا امتھن وقامت بینھن فی صلاۃ مکتوبۃ ۲؎
اور یہ روایت دو سندوں سے متصل مروی ہے ۔ بیہقی فرماتے ہیں یہ سند دونوں سے احسن ہے ،خاص کر عورتوں کے لئے تورک (حالتِ قعدہ میں زمین کے ساتھ چمٹ کر بیٹھنا) سنّت ہے ، اس کو امام ابو حنیفہ نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن صعمر رضی اﷲ عنہم سے روایت کیا ہے اس مسئلہ میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے یہ مروی ہے کہ جب عورت نماز پڑھے تو وہ رانوں پر سرین کے بل بیٹھے ۔ جوہری نے اسکا معنی یہ کیا ہے کہ سجدہ کی حالت میں زمین سے چمٹ کر بیٹھے ، اگر خواتین جماعت کروانا چاہیں تو ان کی امام خاتون ان کے درمیان کھڑی ہو جائے۔امام محمد نے کتاب الاثار میں کہا امام ابوحنیفہ نے حماد بن ابی سفیان سے انھوں نے ابراہیم نخعی سے ہمیں حدیث بیان کی کہ سیّدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا رمضان کے مہینے میں عورتوں کی جماعت کرواتیں تو وسط میں کھڑی ہوتیں ، امام عبدالرزاق نے مصنف میں اور دارقطنی و بہقی نے سنن میں یہ روایت کی، الفاظ عبدالرزاق کے ہیں کہ ریطہ حنفیہ بیان کرتی ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اﷲ عنھما خواتین کی امامت کرواتیں تو فرائض کی نماز میں ان کے درمیان کھڑی ہوتیں ،
 (۳؎ الصحاح باب الزاء فصل الحائ        مطبوعہ دارالعلم للملایین بیروت            ۳/۸۷۴)

(۱؎ کتاب الاثار للشیبانی     باب المرأۃ تومئ النساء الخ    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ص۴۴)
وفی الباب عن ام سلمۃ و ابن عباس رضی اﷲ عنھم و یروی فیہ حدیث مرفوع لیس بذلک بالجملہ زنان روعوتے مستورہ داشتہ اندومبنائے کار آنہا برستر نہادہ الترمذی بسند حسن عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ٰ المرأۃ عورۃ ۳؎ وشک نیست کہ درحق آنہادست بر سینہ بستین استرو اقرب بحیاست ازدست زیرِناف نہادن و تعظیم نیز درایناں ہم بتسترو احتجاب باشد اذلا تعظیم الا بالادب ولادب بالحیاء ولاحیاء الابالتستر پس درباب زناں حدیث ابن خزیمہ ارجح برآمد و ثابت شد کہ ہر دو مسئلہ بحدیثے جیّد استناد دارو اصحاب ماہر دوجا بحدیث و ترجیحے عمل فرمودہ اندر رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نظیرش مسئلہ قعود است کہ بہر دو وجہ از نبی ؐ منقول است و علمائے مدر مرداں نصب یمنی و جلوس علی یسری اختیارکردندلانہ اشق و افضل الاعمال اشقھا ودرناں بتورک رفتندلانہ استروالیسرومبنی امرھن علی الستر والیسر بخلاف مسلک شافیعۃ ومن وافقھمکہ دست برشکم بستن است نہ برسینہ کما فی المنھاج والمیزان وغیرھما کہ ہرگز دریں باب حدیثے یافتہ نمی شو دخو دائمہ ایشاں رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم درخلاصہ و منہاج امام وبلوغ المرام حدیثے موید مذہب خودشاں نیا ورد ند جز حیث ابن خزیمہ ومن فقیر عجم ازاستدلال ایشاں بانچہ مساسے ندارد وبمذہب ایشاں کہ درتحت الصدور علی الصدر فرقے ہست کہ پیداست وقد فصلنا الکلام فی محل اخروفی ماذکرنا کفایۃ لمن امعن النظر واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس بارے میں حضرت ام سلمہ اور حضرت ابنِ عباس رضی اﷲ عنہم سے بھی مروی ہے جو اس کی طرح نہیں ہے بالجملہ خواتین عورتِ مستورہ کی مالک ہوتی ہیں اور ان کے تمام افعال کی بناء پر وہ حجاب پررکھی گئی ہے۔ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:عورت تمام کی تمام کی تمام قابل ِستر وحجاب ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتوں کے حق میں سینے پر ہاتھ باندھنا، زیرِناف باندھنے سے زیادہ حجاب اور حیا کی صورت میں ہے ۔اور خواتین کا تعظیم کرناستر وحجاب کی صورت میں ہے کیونکہ تعظیم ادب کے بغیر اور ادب حیا کے بغیر حاصل نہیں ہوتا لہذا خواتین کے حق میں حدیث ابن خزیمہ زیادہ راجح ثابت ہوئی اور ثابت ہوگیا کہ دونوں مسائل میں ایسی حدیث موجود ہے جس کی سند جیّد ہے اور ماہر علماء ِ حدیث نے دونوں مقامات پر حدیث و ترجیح پر ہی عمل فرمایا ہے رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔ اس کی ایک نظیر مسئلہ  قعود ہے کہ اس کے دونوں طریقے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہیں ہمارے علماء نے مردوں کے لئے دایاں پاؤں کھڑا کرنا اور بائیں پر بیٹھنے کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہ شاق ہے اور بہتر عمل وہی ہوتا ہے جس میں مشقت ہو اور خواتین کے لئے تورک کا قول کیا کیونکہ اس میں زیادہ ستر اور آسانی ہے اور خواتین کا معاملہ ستر اور آسانی پر مبنی ہے بخلاف شوافع اور ان کے موافقین کے کہ ان کے ہاں عورت شکم پر ہاتھ باندھے نہ کہ سینہ پر جیسا کہ منہاج،میزان وغیرہما میں ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث نہیں ملی ، خود ان کے ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی نے خلاصہ،امام نوی کی منہاج اور بلوغ المرام میں اپنے مذہب کی تائید میں سوائے حدیث ابن خزیمہ کے کوئی حدیث ذکر نہیں کی مجھ فقیر کو ان کے استدلال پر تعجب ہے کہ یہ حدیث ان کے ،مذہب کی دلیل کیسے بن سکتی ہے ! کیونکہ تحت الصدر(سینے کے نیچے) اور علی الصدر(سینے کے اوپر) میں نمایاں فرق ہے ہم نے دوسرے مقام پر اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے، ہماری یہ مذکورہ گفتگو ہر اس شخص کے لئے کافی ہے جو دقّتِ نظر رکھتا ہے واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۔(ت)
 (۲؎ المصنف لعبدالرازاق  باب المرأۃ تومئ النساء الخ    مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت             ۳/۱۴۱)

(۳؎ جامع الترمذی     ابواب الرضاع    مطبوعہ امین کمپنی دہلی            ۱/۱۴۰)
مسئلہ نمبر ۴۰۱ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگشتِ شہادت سے التحیات میں اشارہ کیسا ہے اور ہمارے فقہا سے ثابت ہے یا نہیں ؟ بینو ا تجروا
الجواب اخرج مسلم فی صحیحہ عن سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال فیہ کان اذاجلس فے الصلوٰۃ وضع(یرید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ) کفہ الیمنی علی فخذہ الیمنی وقبض اصابعہ کلھا واشار باصبعہ التی تلی الابھام ۱؎۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تشہد میں اپنا دہنا ہاتھ دہنی ران پر رکھا اور سب انگلیاں بند کرکے انگوٹھے کے پاس انگلی سے اشارہ فرمایا۔
 (۱؎ صحیح مسلم     باب صفۃ الجلوس فی صلوٰۃ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۱۶)
واخرج ابن السکن فی صحیحہ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاشارۃ بالاصبع اشد علی الشیطان من الحدید۲؎۔
یعنی فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انگلی سے اشارہ کرنا شیطان پر دھار دار ہتھیار سے زیادہ سخت ہے۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ ابن عمر             مطبوعہ دارلفکر بیروت        ۲/۱۱۹)
وعنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایضاعن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ھی مذعرۃ للشطان ۳؎۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ شیطان کے دل میں خوف ڈالنے والا ہے۔
 (۳؎ السنن الکبرٰی للبیہقی    باب من روی انہ اشاربہا الخ     مطبوعہ دار صادر بیروت        ۲/۱۳۲)
Flag Counter