مسئلہ ازخیر آباد مرسلہ شیخ حسین بخش صاحب رضوی قادری ۲۹رجب ۱۳۰۵ھ
چہ فرمایند عالمان شرع شریف وحاکمان صدرنشین دارلطیف دریں امرکہ بمذہب حنفیہ لطیفہ مردمان بحکم حدیث دستہازیرناف مے بندوزناں بالائے ناف می بندندآیا ایں عمل دست بندی زناں حین نماز موافق شرع نبوی ؐ است یا نہ اتفاق علمائے کرام و مفتیان عظام است اگر از احادیث رسول انام علیہ الصلوٰۃ والسلام ثابت است یا باتفاق امامان حنفیان راجع است برایں استفتا مُہر ودستخط بحوالہ کتاب الجواب الصواب(ت)
علماء شریعت اور دار روحانیت کے سربراہ اس مسئلا میں کیا فرماتے جو علماء احناف نے بتایا ہے کہ مرد ناف کے نیچے اور خواتین ناف کے اوپر ہاتھ باندھے ، خواتین کا اس طرح ہاتھ باندھنا موافق شرع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یا نہیں ؟ یا علماء کرام یا مفتیان عظام کا اتفاق ہے یہ مسئلا اسی طرح ہے؟ اگر احادیث رسول انام صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے یا ائمہ احناف کے اتفاق کی بنا پر مسئلا اس طرح ہے جو بھی ہو اس استفتاء پر کتاب وسنت کے حوالے سے اپنی مہر ودستخط ثبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے اجر و ثواب پائیں کتاب کے حوالے سے درست جواب دیں۔ (ت)
الجواب: زنان رانزد حنفیہ کرام عمہم اﷲ باللطف والاکرام حکم آنست کہ دست درنماز بر سینہ بند ندوایں مسئلہ باتفاق ائمہ ماثابت است جم غفیر از علماء در تصانیف خودہا برو بے حکایت خلاف تنصیص کردہ اند علامہ محمد ابن محمد ابن محمد الشہیر بابن امیر الحاج الحلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی در شرح منیہ فر مود: الموضع الثالث فی محل الوضع فقال اصحا بنا محلہ تحت السرۃ فی حق الرجل والصدر فی حق المرأۃ اھ مخلصا۱؎ و نیز فرمود : المرأۃ تضعھما علی صدر ھا کما قال الجم اغفیر۲؎۔
علماء احناف ( اﷲ تعالٰی ان پر لطف و کرم عام فرمائے )کے نزدیک حکم یہ ہے کہ خواتین نماز مین سینے پر ہاتھ باندھیں ، اس مسئلہ پر ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے۔ علماء کا جم غفیر نے یہ بات اپنی اپنی کتب میں بغیر اختلاف نقل کی ہے، چنانچہ علّامہ محمد بن محمد بن محمد المعروف ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے منیہ کی شرح میں فرمایا : تیسرا۳ مقام ہاتھ رکھنے کے بارے میں ہمارے علما نے فرمایا کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینہ پر ہاتھ باندھے اھ ملخصاً ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر رکھے جیسا کہ جمِ غفیر نے تصریح کی ہے
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
لاجرم علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالٰی درغنیہ ایں مسئلہ را متفق علیھا گفت و حدیث اگر بمواقف معلوم نیست بمخالف ہم واردنیست ومن ادعی فعلیہ البیان ولہذا محقق حلبی در حلیہ فرمود: ثم انما قلنا ان المرأۃ تضع یمنا ھا علی یسر ھا علی صدرھا لائہ استر لھا فیکون ذلک فی حقھا اولی لما عرف من ان الاولی اختیار ماھو استرلھا من الامور الجائزۃ کل منھا لھا من غیر منع شرعی عنہ وخصوصا فی الصلوٰۃ ۱؎ ایں است آنچہ درباری النظر رونما یدو انما۔
اور علّامہ ابراہیم بن محمد بن ابرہیم حلبی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے غنیہ میں اس مسئلہ پر اتفاق علما کی تصریح کی ہے او راگر کوئی حدیث اس کے موافق نہیں ملتی تو اس کی مخالفت میں بھی وارد نہیں م اگر کوئی دعوٰی کرتا ہے ت دلیل پیش کرے ، اسی لیے محقق حلبی نے حلیہ میں فرمایا : ہم نے جو یہ کہا کہ عورت اپنا دایاں ہاتھ بایں ہاتھ پر اپنے سینے پر باندھے یہ اس لیے کہ عورت کے لئے اس میں زیادہ سترہے لہذا یہ اس کے حق میں اولٰی ہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ عورت کے حق میں جتنے بھی امور جائز ہیں ان میں سے اسی کو اختیار کرنا بہتر ہے جو سب سے زیادہ ستر کا سبب ہو خصوصاً حالتِ نماز میں زیادہ خیال رکھنا چاہئے ، یہ تو وُہ ہے جو ظاہر نظر میں آیا ہے
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
اقول وباﷲ التوفیق میر سد کہ ایںمسئلہ را بحدیثے جید الاسناد رنگِ اثبات وہیم تقریرش آنچناں کہ در محل وضع از سید عالمؐ دو صورت مروی است یکے زیرِناف بستن ودروے احادیث عدیدہ وارداست اجلھا ماروی ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ قال حدثنا وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن ابیہ رضی اﷲ عنہ قال رأیت رسول اﷲ ؐ وضع یمینہ علی شمالہ فی صلاۃ تحت السرہ ۔۲؎ امام علّامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اﷲ تعالٰی در تخریج احادیث اختیار شرح مختار فرماید سندہ جید ورواتہ کلھم ثقات ۳؎
اقول: (میں کہتا ہوں) اﷲ کی توفیق سے کہ اس مسئلہ پر ایک حدیث جید الاسناد پیش کروں اس کی تقریریوُں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ باندھنے کی دو صورتیں مروی ہیں ایک صورت زیرِ ناف کی ہے اور اس بارے میں متعدد احادیث وار د ہیں سب سے اہم روایت وہ ہے جسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنے مصنّف میں ذکر کیا کہ ہمیں وکیع نے موسی بن عمیر سے علقمہ بن وائل بن حجر نے اپنے والد گرامی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ میں نے دورانِ نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھے دیکھا ہے۔ امام علامہ قاسم بن قطلو بغاحنفی رحمہ اﷲ تعالٰی اختیار شرح مختار کی احادیث کی تخریج کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کی سند جیّد اور تمام راوی ثقہ ہیں ۔
(۲؎ مصنف ابن ابی شیبہ وضع الیمین علی اشمال من کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ادرۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/۳۹۰)
(۳؎ تخریج احادیث شرح مختار للقاسم بن قطلوبنا )
دوم بر سینہ نہادن و دریں باب ابن خزیمہ را حدیثے است درصحیح خودش ہم از وائل ابن حجر رضی اﷲ عنہ: قال صلیت مع رسول اﷲ ؐ فوضع یدہ الیمینی علی یدہ الیسرے علی صدرہ ۱؎
دوسری ۲ صورت سینے پر ہاتھ باندھنے کی ہے اس بارے میں ابن خزیمہ اپنے صحیح میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت لائیں ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھنے کا شرف پایا تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھیں
(۱؎ صحیح ابن خزیمہ باب وضع الیمین علی الشمال فی الصلوۃ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت۱ / ۲۴۳)
وازانجاکہ تاریخ مجہول است وہر دور روایت ثابت و مقبول ناچارکار بتر جیح افتاد چوں نیک نگریم مبنائے ایں امر بلکہ تمام افعال صلاۃ بر تعظیم است و معہود و معلوم عندالتعظیم دست زیرِ ناف بستن است، ولہذا امام محقق علی الاطلاق در فتح فرماید: فیحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرہ ۲؎
چونکہ اس کی تعریف کا علم نہیں کہ کون سی روایت پہلے کی ہے اور کون سی بعد کی ، اور دونوں روایات ثابت و مقبول ہیں تو لاجرم دونوں میں سے کسی ایک کو ترجیح ہوگی جب ہم نماز کے اس فعل بلکہ نمازکے تمام افعال پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ تمام کے تمام تعظیم پر مبنی نظر آتے ہیں اور مسلم ومعروف تعظیم کا طریقہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا ہے : قیام میں بقصد تعظیم ہاتھ باندھنے کا معاملہ معروف طریقے پر چھوڑا جائے اور قیام میں تعظیما ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہی معروف ہے ۔
(۲ فتح القدیر باب صفت الصلوۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴۹)
پس دربارہ مرداں روایت ابن ابی شبیہ راحج تر آمد و درامرزنان شرع مطہر راکمال نظر برستروحجاب است و لہذا فرمودند :خیر صفوف الرجال اولھا وشرھا اٰخر ھا و خیرصفوف النساء اٰخرھا وشر ھا اولھا ۳؎ اخرجہ الستہ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ والطبرٰنے فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم وفرمودند صلاۃ المرأۃ فی بیتھا افضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا ۴؎ ۔
لہذامردوں کے بارے ابن ابی شیبہ کی روایت راجح ہے اور چونکہ خواتین کے معاملہ میں شرع مطہر کا مطالبہ کمال ستر حجاب ہے،اس لئے فقہاء نے فرمایا مردوں کی پہلی صف افضل اور آخری غیر افضل اور خواتین کی آخری صف افضل اور پہلی غیر افضل یہ حدیث صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں ہے سوائے بخاری کے ۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابو امامہ اورحضرت عبدﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھم سے روایت کیاہے ، یہ بھی فرمایا عورت کی نماز کمرے میں گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل اور خاص چھوٹے کمرے میں اس سے بھی افضل ہے۔
(۳؎ سنن ابن داؤد باب صف النساء و التاخر عن الصف الاول مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۹)
(۴؎ ایضا کتاب الصلوۃ باب التشدید فی ذالک ۱ / ۸۴)
اخرجہ ابو داؤد عن ابن مسعود والحاکم عن ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنہا بسند صالح وعبد اللہ بن مسعود فرمودہ رضی اللہ تعالی عنہ اخروھن من حیث اخرھن اللہ اخرجہ عبدالرزاق فی المصنف ومن طریقہ الطبرانی فع المعجم وزنان را حکم شد کہ در سجدہم بر زمین چسپد باند آنکہ سنت در مردان خلاف آنست ابوداؤد فی المراسیل عن یزید بن حبیب ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی بعض الارض فان المرأۃ لیست فی ذالک کرجل۲؎