Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
31 - 185
اُسی میں ہے:
الفرض والواجب بانواعہ لایصح علی الدابۃ الا لضرورۃ ، فیومی علیھا بشرط ایقافھاجھۃ القبلۃ ان امکنہ ، واذاکانت تسیرلاتجوز الصلاۃ علیھا اذاقدر علی ایقافھا والابان کان خوفہ من عدو یصلی کیف قدرکمافی الامدادوغیرہ اھ۳؎ اقول فثبت ان المانع شیأان الاول کون الصلاۃ علی دابۃ ولو بواسطۃ عجلۃ طرفھا علی دابۃ الثانی السیر واختلاف المکان الا تری انھم اوجبواالایقاف وابطلوبالسیر الالمن یخاف ، فلولم یکن المانع الا الاول فقد وجد عذر یبیح الصلوٰۃ علی الدابۃ لکان واجبا ان تجوز من دون فرق بین سیرو وقوف لکنھم فرقو افتبین ان السیر بنفسہ مفسدالا بعذریمنع الایقاف ولا یکفی مجرد عذر یمنع النزول لا الایقاف ، فان کانت العجلۃ کلھا علی الارض وجرتھا دابۃ بحبل فھھنا انما فقد المانع الاول دون الثانی فوجب الفساد الابعذر فلا نظر الی ماارادش استنباطہ من مفھوم لیس علی عادۃ ذلک الزمان بمفھوم فافھم وتثبت۔
فرض اور واجبات کی تمام انواع کو بغیر ضرورت کے چارپائے پر ادا نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر ضرورت و عذر کے وقت اس پر اشارے سے نماز ادا کرے بشرطیکہ امکانی حد تک دابہ کو قبلہ رُخ کھڑا کرے جب دابہ کھڑا کرنے پر قادر ہو تو ایسی صورت میں چلتے ہوئے دابہ (جانور) پر نماز جائز نہیں ، البتہ کھڑا کرنا ممکن نہ ہو مثلاً اگر اسے دشمن کا خوف ہے تو جس طرح ممکن ہو نماز ادا کرے ۔ امداد وغیرہ میں اسی طرح ہے اھ میں کہتا ہوں یہ ثابت ہوا کہ مانع ۲دو چیزیں ہیں، پہلی چیز نماز کا جانور کے اوپر پڑھنا اگرچہ بوسطہ بیل گاڑی کے جس جس کی ایک طرف چوپائے پر ہو، دوسری چیز چوپائے کا چلنا مکان کا مختلف ہونا، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ فقہا نے چوپائے کے کھڑا کرنے کو لازم قرار دیا ہے اور چلنے کی حالت میں اس پر نماز کو باطل قرار دیا ہے سوائے اس کے جسے دشمن وغیرہ کا خوف ہو، پس پہلی چیز کے علاوہ کوئی مانع نہیں تو پھر ایسا عذر موجود ہے جو چارپائے پر نماز کو مباح بنادے تو اب چلنے اور کھڑے ہونے کے فرق سے بالا تر ہوکر نماز کے جواز کو ماننا لازم ہوگا لیکن فقہا نے ان کے درمیان فرق کیا تو  واضح گیاکہ چلنا بذاتِ خود مفسد نماز ہے مگر اس صورت میں جب کھڑا کرنا ممکن نہ ہو ، محض اتنا عذر کافی نہیں جو نزول سے مانع ہو بلکہ وُہ عذر جو کھڑا کرنے سے مانع ہو،معتبر ہے، اب اگر بیل گاڑی کلی طور پر زمین پر ہو اور جانور اسے رسّی کے ذریعے لے جارہا ہے تو اب یہاں پہلا مانع(نماز کا چارپائے پر ہونا) موجود نہیں البتہ دوسرا مانع (جگہ کی تبدیلی) موجود ہے لہذا اس صورت میں عذر کے بغیر نماز فاسد ہوگی پس اسے نہیں دیکھا جائے گا کہ جو شارح نے مفہوماً استنباط کرلیا ہے کیونکہ اس دور کی عادت مفہوم کو قبول نہیں کرتا ،اسے سمجھ لے اور اس پر قائم رہ ۔(ت)
 (۳؎ باب الوتر والنوافل، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۷۰)
نیز اسی میں غنیہ سے ہے۔
ھذابناء علی ان اختلاف المکان مبطل مالم یکن لا صالا حھا ۱؎۔
یہ اس بنا پر ہے کہ جگہ کا مختلف ہونا (نمازکو) باطل کرنے والا ہے جبکہ یہ اس کی اصلاح کے لئے نہ ہو(ت)

اُسی ۷۹۷ میں بحوالہ بحرالرائق فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
ان جذبتہ الدابۃ حتی از التہ عن موضع سجودہ تفسد۲؎۔
اگر جانور نے اسے اتنا کھینچا کہ اس کے سجدہ کی جگہ بدل گئی تو نماز فاسد ہوگی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۴۲۱)

(۲؎ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ        مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۴۲۲)
اُسی میں ہے:
ظاہرمافی الھدایۃ وغیرھا الجواز قائما مطلقا ای استقرت علی الارض اولاو صرح فی الایضاح بمنعہ فی الثانی حیث امکنہ الخروج الحاقالھا بالدابۃ نھرو اختارہ فی المحیط والبدائع بحر وعزاہ فی الامدادایضا الی مجمع الروایات عن المصفی وجزم بہ فی نورالایضاح و علی ینبغی ان لا تجوز الصلاۃ فیھا سائرۃ مع امکان الخروج الے البر وھذہ المسألۃ الناس عنھاغافلون۱؎۔شرح المنیۃ۔
ہدایہ وغیرہا سے ظاہر یہی ہے کہ کشتی میں کھڑے ہو کر مطلقاً نماز جائز ہے یعنی خواہ وہ زمین پر مستقر ہو یا نہ ہو۔ ایضاح میں تصریح ہے کہ جب زمین پر مستقر نہ ہو تو نماز نہیں ہوگی جبکہ اس سے اترنا ممکن ہو کہ اس کا حکم دابہ (چارپایہ) کی طرح ہوگا ، نہر-بحر میں ہے کہ محیط اور بدائع نے اسے مختار قرار دیا ہے ۔ اور امداد میں بھی ہے کہ اسے مجمع الرویات میں مصفی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ اور نور الایضاح میں اسی پر جزم ہے۔اسی بنا پر چلتی کشتی پر نماز جائز نہیں ہونی چاہئے جبکہ خشکی پر اترنا ممکن ہے۔ اس مسئلہ سے لوگ غافل ہیں شرح المنیۃ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب صلوٰۃ المریض        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۱۲)
فتح القدیر میں ہے:
فی الایضاح فان کانت موقوفۃ فی الشط وھی علی قرار الارض فصلی قائما جاز لانہا اذا استقرت علی الارض فحکمھا حکم الارض فان کانت مربوطۃ و یمکنہ الخروج لم تجز الصلوٰۃ فیھا لا نھا اذالم تستقرفھی کالدابۃ انتھی بخلاف مااذااستقرت فانھا حینئذ کالسریر۲؎۔
ایضاح میں ہے اگر کشتی دریا کے کنارے کھڑی ہو اور زمین پر مستقر ہو اور نمازی نے نماز کھڑے ہوکر ادا کی تو جائز ہے کیونکہ استقرار کی صورت میں اسکا حکم زمین والا ہی ہے اگر کشتی باندھی ہوئی ہو ، اور اس سے نکلنا ممکن ہو تو اس میں نماز جائز نہیں ہوگی کیونکہ جب مستقل نہیں تو وہ چارپائے کی طرح ہے انتہی بخلاف اس کے جب مستقر ہو کیونکہ اس صورت میں وہ تختہ کی طرح ہے(ت)
 (۲؎ فتح القدیر،  باب صلوٰۃ المریض ، مطبوعہ نور یہ رضویہ سکھر ، ۱/۴۶۲)
محیط امام سرخسی پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے۔
لوصلی فیھا فان کانت مشدودۃ علی الجد مستقرۃ علی الارض فصلی قائما اجزاہ وان لم تکن مستقرۃ ویمکنہ الخروج عنھا لم تجز الصلاۃ فیھا ۱؎اھ اقول واطلاق الھدایۃ واجب الحمل علی ھذہ النصوص الصریحۃ المقیدۃ وکم لہ من نظیرکماصرح بہ الجم الغفیر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کشتی مضبوط باندھی ہوئی ہو اور زمین پر مستقر ہے تو ایسی صورت میں اگر کسی نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تو جائز 

ہوگی اور اگر مستقر نہ ہو اور اس سے نکلنا بھی ممکن ہو تو اب اس میں نماز صحیح نہ ہو گی اھ اقول ہدایہ کے اطلاق کو ان صریح مقید نصوص پر محمول کرنا واجب ہے اور اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ جم غفیر نے اس کی تصریح کی ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     وممایتصل بذلک الصلوٰۃ علی الدابۃ والسفینۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۳)
مسئلہ نمبر ۳۹۹  :  ۲۴ربیع الاوّل ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو نمازیں حالتِ مجبوری و معذوری میں بیٹھ کر پڑھی گئیں جیسے سفرِحج میں جہاز کے اندر کہ سخت حالت طغیانی میں تھا اور تین دن تک برابر طغیانی عظیم میں رہا ایسی حالت میں قیام نہایت دشوار اورغیر ممکن تھا اور نیز خوفِ جان تھا پس ایسی حالت میں جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں اُن کا اعادہ حالتِ قرار واقامت میں واجب ولازم وضروری ہے یا نہیں؟ نیز وہ نمازیںکہ اونٹ پر شغدف وغیرہ میں قافلہ کے چلنے کی حالت میں بیٹھ کر پڑھی گئی ہیں کیونکہ بُڈھے آدمی کو اُتارنے چڑھانے والا نہ تھا اور اُترنے کی صورت میں قافلے سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ تھا جس سے خوفِ جان ومال ہوتا ہے پس ان صورتوں میں جو نمازیں اونٹ کی سواری پر اور حالت طغیانی میں جہاز پر بیٹھ کر مجبوراً پڑھی گئیں اُن سب کا اعادہ بصورتِ اقامت و اطمینان کرنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب: ان کا اعادہ نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter