Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
30 - 185
اور بعض دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی پُوری نہ کی ، اور اس کا پُورا کرنا لازم ہے ۔ رسول اﷲ ؐ فرماتے ہیں :
اتمواالصفوف ۴؎۔
 (صفوں کو مکمل کرو۔ت)
 (۴؎ صحیح مسلم باب تسویۃ الصفوف الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی             ۱/۱۸۲)
اور اگر اس وقت زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وُہ بھی ممنوع ہے ۔
قال اﷲ تعالٰی
تلک حدوداﷲ فلا تقربوھا ۵؎۔
 ( اﷲ تعالٰی فرماتا ہے یہ اﷲ تعالٰی کی حدود ہیں پس ان کو توڑنے کے قریب مت جاؤ۔ت)
 (۵؎ القرآن         ۳/۱۸۷)
اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔صحیح بخاری میں ہے :
باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ۶؎۔
 (باب جماعت کے علاوہ ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کا ۔ت)
 (۶؎ صحیح البخاری     باب الصلوٰۃ بین السواری فی غیر جماعۃ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۷۲)
امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اُس شرح میں فرماتے ہیں:
قید بغیر جماعۃ لان ذٰلک یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ بعینہ ۱؎ ۔
  بغیر جماعت کی قید اس لئے ہے کہ یہ (نمازی کا دوستونوں کے درمیان ٹھرنا) صفوں کو توڑنا ہے حالانکہ صفوں کا مکمل و برابر ہونا جماعت میں مطلوب ہے۔(ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۴/۲۸۴)
اسی طرح فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی ، پھر ارشاد الساری امام احمد قسطلانی وغیرہما میں ہے نیز فتح الباری میں محبِ طبری سے ہے:
 (۲؎ فتح الباری شرح البخاری    باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ    مطبوعہ مصطفے البابی مصر        ۲/۱۲۴)
عمدۃ القاری میں ابن حبیب سے ہے:
لیس النھی عن تقطیع الصفوف اذاضاق المسجد وانما نھی عنہ اذکان المسجد واسعا۳؎۔
جب مسجد تنگ ہو تو اس وقت صفوں کو توڑنا منع نہیں، یہ اسوقت منع ہے جب مسجد کشادہ ہو۔(ت)
 (۳؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۴/۲۸۶)
اُسی میں ہے:
قال مالک فی المدونۃ لاباس بالصلاۃبینھما لضیق المسجد ۴؎ اھ ثم ذکر قول ابن حبیب اقول ولا یخفی انہ مستقیم عل قواعد مذھبنا۔
امام مالک مدوّنہ میں فرماتے ہیں جب مسجد تنگ ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں حرج نہیں اھ۔ پھر انھوں نے ابن حبیب کا قول نقل کیا ہے۔ اقول: مخفی نہ رہے یہ ہمارے مذہب کے قواعد پر درست ہے۔ (ت)
 (۴؎؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۴/۲۸۶)
دُرمختار میں ہے:
ھذا کلہ عندعدم العذر کجمعۃ وعید فلوقاموا علی الرفوف والامام علی الارض اوفی المحراب لضیق المکان لم یکرہ ۵؎۔
یہ تمام (یعنی کرہت) اس وقت ہے جب عذر نہ ہو عذر کی صورت میں مثلاً جمعہ اور عید کے بھِیڑ کے موقع پر بھی اگر مسجد تنگ ہو اور بعض نمازی رفوف ف (دروازے کے تختے ) پر کھڑے ہوں اور امام زمین پر یا محراب میں ہو تو کراہت نہیں ۔(ت)
 (۵؎ درمختار            باب مایفسد الصلوٰۃ            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۹۲)
ف: رفوف جمع رف کی ہے اس کے کئی معانی ہیں، ایک معنی یہ ہے ''وہ لکڑی جس کے دونوں کنارے دیوار میں لگاکر اس پر گھر کا سامان رکھتے ہیں'' یہاں مراد دروازے کے درمیان بلند جگہ بھی ہو سکتی ہے اور زمین سے بلند مقام بھی ہوسکتا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
عمدۃ القاری میں ہے:
اذکان منفردا لاباس فی الصلاۃ بین الساریتین اذا لم یکن فی جماعۃ۱؎۔
جب تنہا نماز ادا کر رہا ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے میں حرج نہیں جبکہ و ہ جماعت میں نہ ہو۔(ت)

اس بیان سے واضح ہو کہ زید و عمر دونوں کے کلام میں دو دو غلطیاں ہیں زید نے در میں نماز ناجائز بتائی یہ زیادت ہے ، ناجائز نہیں ، ہاں امام کو مکروہ ہے۔ یونہی منفرد کو اس حکم میں شریک کرنا ٹھیک نہیں ،خود حضور اکرم ؐ جب کعبہ معظمہ تشریف لے گئے ، دوستونوں کے درمیان نماز پڑھی
کما فی ثبت فی الصحاح عن ابن عمرعن بلال رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
جیسا کہ صحاح میں حضرت ابن عمر نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی عنھم سے روایت کیا ہے۔(ت)

عمر و کا امام کو در میں کھڑا ہونا بلا کراہت جائز ماننا صحیح نہیں، یونہی منفرد کا محراب میں قیام مکروہ جاننا کہ یہاں جو وجوہِ کراہت علما نے لکھے ہیں یعنی شبہ اختلاف مکان امام و جماعت یا اشتباہ حال یا تشبہ اہل کتاب ان میں سے کوئی وجہ منفرد کے لئے متحقق نہیں
واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و حکمہ عزشانہ احکم۔

مسئلہ نمبر ۳۹۸  :  ازدہلی فراش خانہ مدرسہ نعمانیہ اسلامیہ مسئولہ محمد ابراہیم الاحمد آبادی غفر لہ الہادی    ۷ شعبان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ریل پر نماز کس طرح ادا کی جائے گی ایک شخص نے سوال کیا کہ چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے یا نہیں ، مولوی کفایت اﷲ صاحب نے تعلیم اسلام نمبر ۴ کے صفحہ ۵ پر جو جواب منقولہ ذیل لکھا ہے صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جہاز یا کشتی اور ریل کا ایک ہی حکم ہے یا غیر غیر ؟ میں اس میں تفصیلی بحث چاہتا ہوں آجکل اس کے جملہ مسائل کی اہل اسلام کو سخت ضرورت ہے، جواب مولوی صاحب موصوف کا یہ ہے ۔

ج ۔چلتی ریل اور جہاز پر نماز جائز ہے اگر کھڑے ہو کر پڑھ سکے چکّر کھانے یا گرنے کا ڈر نہ ہو تو کھڑے ہوکر پڑھنا ضروری ہے اور کھڑے ہوکر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر درمیان نماز میں ریل یا جہاز گھوم جانے سے نمازی کا منہ قبلہ کی طرف نہ رہے تو فوراً قبلہ کی طرف پھر جانا چاہئے ورنہ نماز نہ ہوگی بلفظہٖ ، اور یہ بھی فرمایا جاوےکہ فرض نفل سب کا حکم ایک ہی ہے یا فرق ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب : فرض اور واجب جیسے وتر و نذراور ملحق بہ یعنی سنّتِ فجر چلتی ریل میں نہیں ہوسکتے اگر ریل نہ ٹھہرے اور وقت نکلتا دیکھے ، پڑھ لے پھر بعد میں استقرار اعادہ کرے ، تحقیق یہ ہے کہ استقرار بالکلیہ ولو بالوسائط زمین یا تابع زمین پر کہ زمین سے متصل با تصال قرار ہو، ان نمازوں میں شرط صحت ہے مگر بہ تعذر ، ولہذا دابہ پر بلا عذر جائز نہیں اگرچہ کھڑا ہوکہ دابہ تابع زمین نہیں ، ولہذا گاڑی پر جس کا جُوا بیلوں پر رکھا ہے اور گاڑی ٹھہری ہوئی ہے جائز نہیں کہ بالکلیہ زمین پر استقرار نہ ہُوا ایک حصہ غیر تابع زمین پر ہے و لہذا چلتی کشتی سے اگر زمین پر اترنا میسّر ہو کشتی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ عندالتحقیق اگرچہ کشتی کنارے پر ٹھہری ہو مگر پانی پر ہو زمین تک نہ پہنچی ہو اور کنارے پر اُتر سکتا ہے کشتی میں نماز نہ ہوگی اس کا استقرار پانی پر ہے اور پانی زمین سے متصل باتصال قرار نہیں جب استقرار کی حالتوں میں نمازیں جائز نہیں ہوتیں جب تک استقرار زمین پر اور وہ بھی بالکلیہ نہ ہو توچلنے کی حالت میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں کہ نفس استقرار ہی نہیں بخلاف کشتیِ رواں جس سے نزول متیسر نہ ہوکہ اسے اگر روکیں گے بھی تو استقرار پانی پر ہوگا نہ کہ زمین پر ، لہذا سیر ووقوف برابر، لیکن اگر ریل روک لی جائے تو زمین ہی پر ٹھہرے گی اور مثل تخت ہو جائےگی، انگریزوں کے کھانے وغیرہ کے لئے روکی جاتی ہے اور نماز کے لئے نہیں تو منع من جہتہ العباد ہُوا اور ایسے منع کی حالت میں حکم وہی ہے کہ نماز پڑھ لے اور بعد زوال مانع اعادہ کرے ۔
دُر مختار میں ہے:
لوصلی علی دابۃ فی شق محمل وھویقدر علی النزول بنفسہ لا تجوز الصلاۃ علیھا اذاکانت واقفہ الا ان تکون عیدان المحمل علی الارض بان رکز تحتہ خشبۃ واماالصلوٰۃ علی العجلۃ ان کان طرف العجلۃ علی الدابۃ وھی تسیرا ولا تسیر فھی صلاۃ علی الدابۃ فتجوز فی حالۃ العذرالمذکور فی التیمم لا فی غیرھا وان لم یکن طرف العجلۃ علی الدابۃ جاز لو واقفۃ لتعلیلھم بانھا کالسریرھذا اکلہ فی الفرض والواجب بانواعہ وسنۃ الفجر بشرط ایقافھاللقبلۃ ان امکنہ والا فبقدرالامکان لئلا یختلف بسیرھا لامکان و اما فی النفل فتجورعلی المحمل والعجلۃ مطلقا۱؎۔
اگر کسی نے کھڑے چارپائے پر کجاوے میں نماز ادا کی حالانکہ وہ اُترنے پر قادر تھا تو نماز نہ ہوگی، البتہ اس صورت میں نماز ہوجائے گی جب کجاوے کی لکڑیاں زمین پر ہوں بایں طورکہ اس کے نیچے لکڑی کی گاڑی ہو۔ رہا معاملہ گاڑی(مثلاً بیل گاڑی جس کو جانور کھنچتے ہیں) پر نماز کا تو اگر گاڑی کا ایک حصہ چوپائے کے اوپر ہے خواہ وہ چلتی ہے یا نہیں تو یہ چوپائے پر نماز سمجھی جائے گی تو تیمم میں بیان کردہ عذر کی وجہ سے نماز ادا ہوجائے گی ، اسکے علاوہ میں نہیں ۔ اور اگر گاڑی کا کوئی حصہ چارپائے پر نہیں تو نماز ہوجائے گی اگر بیل گاڑی کھڑی ہو کیونکہ فقھا نے اسے تخت کی مثل قرار دیا ہے ۔ یہ تمام گفتگو فرائض، واجبات کی تمام انواع اور فجر کی سنتوں میں ہے بشرطیکہ قبلہ رُخ کھڑی کی ہو ، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو بقدر الامکان قبلہ رُخ کھڑا کرنا شرط ہے تاکہ اسکے چلنے سے مکان میں تبدیلی نہ ہو جائے باقی نوافل کجاوے اور بیل گاڑی میں پڑھنا مطلقاً جائز ہیں۔(ت)
 (۱؎ درمختار ،  باب الوتر والنوافل، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۹۸)
خود ردالمحتار میں ہے:
الحاصل ان کلامن اتحاد المکان واستقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عند الامکان لا یقسط الا بعذر فلو امکنہ ایقافھا مستقبلا فعل بقی لو امکنہ الایقاف دون الاستقبال فلا کلام فی لزمہ لماذکرہ الشارح من العلۃ ۲؎(ملخصاً)
حاصل یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو نوافل کے علاوہ نماز میں اتحادِ مکان اور استقبالِ قبلہ دونوں شرط ہیں تو شرطِ عذر کے بغیر ساقط نہ ہوگی ، پس اگر سواری کو قبلہ رُخ کھڑا کرسکے تو کرے باقی رہایہ کہ اگر کھڑا کرسکتا ہے مگر قبلہ رخ کھڑا نہیں کرسکتا تو کھڑا کرنا لازم ہے جیسا کہ شارح نے اسکی علت ذکر کی ہے (یعنی تاکہ اتحاد مکان سب نماز میں حاصل رہے)(ملخصاً) ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۷۲)
Flag Counter