اور تجنیس الملتقط کی نقل گزری، علّامہ برجندی کا ارشاد سن چکے کہ انھوں نے ہراۃ کے لیے یہ حکم نہ مانا بلکہ اس کا تحقیقی مغربین سے باہر ہے اور اس حکم کو صرف بعض مقامات سے مخصوص کہا اقول بلکہ اصلاً کہیں صادق نہ آئے گا سوا گنتی کے دوچار نادر مقاموں کے جو شاید آباد بھی نہ ہوں بلکہ غالباً سمندر میں پڑیں جن کا قبلہ نقطہ اعتدال ہو اور عرض تقریباً چھپن۵۶ درجے کہ ان کی سعۃ المغرب ۴۵ درجے ہوگی ورنہ اگر عرض اس سے کم ہوا تو سعۃ المغرب ۴۵ درجے سے کم ہوگی اور باجماع اقوال خمسہ بین المغربین سے کم و بیش خروج روا ہوگا اور اگر قبلہ اعتدال سے ہٹاہوا ہے تو ضرور احدالسعتین کی طرف جھکے گا تو جس سے جتنا قریب ہے اُس سے اُسی قدر باہر جانا بھی روا ہوگا اور جس سے بعید ہے اُس کے اندر بھی بعض انحراف مفسد نماز ہوگا کمالا یخفی (جیسا کہ ظاہر ہے۔ت)پھر یہ بھی زیادہ بین الفساد پھر تمام دنیا چھوڑ کر گنتی کے چند مواضع کا حکم لینا اور اُسے صورتِ عام میں بیان کرنا کیونکر روبصحت ہوگا خصوصاً وہ مواضع بھی اتنے دُور دراز عرض کے جو اگرآباد بھی ثابت ہوں تو شک نہیں کہ ُاس زمانے میں معمورہ سے باہر سمجھے جاتے اور خارج الاقالیم کہلاتے تھے کہ اُن کی تقسیم میں ساتوں اقلیمیں ۵۰۰ْ۲۰َ تک ختم ہو گئیں ۔ ہماری اس تقریر سے متفطن نکال سکتا ہے کہ اس قول پر کتنے نقض وارد ہیں۔
اوّلاًعرب و عجم و ہند وسندھ غرض ایشیا افریقہ کے عام شہر بلکہ تمام ہفت اقلیم میں کہیں سعتہ المغرب ۴۵درجے نہیں اور اوپر واضح ہوچکا کہ یہاں تک انحراف باجماع جمیع اقوال مذکورہ روا ہے کہ یہی سب سے تنگ تر قول ہے تو عامہ معمورہ کے جملہ بلاد جن کا قبلہ نقطہ مشرق یا مغرب ہو باتفاق اقوال مزبورہ ان میں مابین المغربین سے بھی انحراف روا ہوگا اور تمام نماز فاسد نہیں ہوسکتی جب تک ۴۵درجے سے زائد نہ ہو۔
ثانیاً وہ بلاد کم ہیں جن کا قبلہ خاص نقطہ اعتدال ہو، اکثر میں کم یا زیادہ انحراف ہے اب تین حال سے خالی نہیں یا تو
انحراف اعنی تمامہ ای من نقطہ الاعتدال الی الجنوب اوشمال
(میری مراد اس کا تمام ہے یعنی نقطہ اعتدال سے جنوب وشمال کی طرف۔ت) سعۃ المغرب سے کم ہوگایا برابر یا زائد بر تقدیر اول جس سمت انحراف ہے اُدھر کی سعۃ المغرب سے اور بھی باہر جانا روا ہوگا مثلاً ۳۴درجے سعت ہے اگر انحراف نہ ہوتا تو اُس سے ۲۱ درجے خروج جائز ہوتا، اب فرض کیجئے ۳۰درجے انحراف ہے یہ تو بین المشرقین ۴۱درجے عدول صحیح ہوگا۔
ثالثاًجس سمت سے انحراف ہو اگر انحراف وسعت کا مجموعہ ۴۵ درجے سے زائد ہے تو بین المغربین ہی وہ جگہ پائی جائے گی جب تک انحراف مفسد نماز ہے حالانکہ اس قول پر جواز ہوگا۔
رابعاً فرض کیجئے ۲۰ درجے جانب جنوب انحراف ہے اور وسعت ۲۴ْ تو اس قول پر قبلہ تحقیقی سے جنوب کو صرف چار درجے انحراف جائز ہوگا کہ بین المغربین سے خروج نہ ہو اور شمال کو ۴۴ درجے تک انحراف روا ہوگا یہ بدیہی البطلان اور بالاجماع غلط ہے قبلہ حقیقی سے جس قدر ایک طرف پھرنے میں مواجہہ نہیں جاتا واجب کہ دوسری طرف بھی اُس قدر میںزوال نہ ہو کہ چہرہ انسان کے دونوں رُخ یکساں ہیں یہ چار چوالیس کا تفرقہ کدھر سے آیا۔
خامسا ًو سادساً برتقدیر ثانی استحالے ظاہر تر ہیں فرض کیجئے سعت و انحراف جنوب دونوں رُخ یکساں ہیں (اور یہ کوئی فرض ناواقعی نہیں ہیأت داں کو عمل تعکیس کا اجرا بتادیگا کہ فلاں فلاں مقام ایسے ہیں) اب اس صورت میں حکم ِشرعی تو یہ ہے کہ بین المغربین سے جانب جنوب ۴۵درجے تک باہر جانا روا ہے اور جانب شمال سعت کے صرف تک جھک سکتا ہے نصف شمال کی طرف جُھکنا مفسد نماز ہوگا اور اس قول پر اسکے برعکس حکم یہ نکلے گا کہ ایک پہلو پر تو ساٹھ ۶۰درجے تک انحراف روا اور دوسرے پہلو پر قدم بھر ہٹا اور نماز گئی کیا یہ حکم شریعت مطہرہ کا ہوسکتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔
سابعاً تقدیرِثالث تو خد استحالہ حاضرہ ہے کہ جب انحراف سعت سے زائد ہے تو جو قبلہ حقیقی چاہے واجب ہے کہ بین المغربین سے باہر جائے اس قول پر خود استقبال حقیقی مفسد نماز ہوا۔
ثامناً دنیا میں کوئی سعت سے زائد ہے طرفین کا مجموعہ ۴۶ْ ۵۴َہوا تو بین المغربین یقیناً وہ انحراف ہے جسے قبلہ حقیقی سے ۴۵ درجے زائد اختلاف ہے تو جو فساد ِنماز کی صورت تھی وہ اس پر جواز کی ہوئی اور جو جواز بلکہ اعلی استحباب کی تھی وہ فساد ٹھری اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ ہوگا۔
تاسعاً فرض کیجئے ایک شہر مکہ معظّمہ سے قریب اور کثیر العرض ہے اور دُوسرا بہت بعید اور قلیل العرض یا بے عرض ،تو قطعاً اوّل کی سعۃ المغرب دوم سے زائد ہوگی جس کی زیادت چھیاسٹھ۶۶ درجے تک پہنچ سکتی ہے تو اس قول پر لازم کہ قریب شہر کی سمتِ قبلہ بہت دور والے شہر کی سمت سے ہزارہا میل زیادہ دُور تک پھیلی ہو، یہ عکس قضیہ معقول و منقول ہے۔
عاشراً ناواقف گمان کرے گا کہ اس قول میں بہ نسبت دیگر اقوال کے تضییق ہے معظم معمورہ میں سعت ۴۵ درجے سے بھی کم ہے مگر یہ خیال باطل ہے ہم ابھی ثابت کر آئے کہ اس میں قبلہ حقیقی سے ساٹھ درجے انحراف روا ٹھرتا ہے اور تنقیح کیجئے تو اس کی وسعت ظاہر قولین اولین سے کچھ کم نہیں بلکہ زائد ہے ۶۶صہ -۳۳کے عرض پر مجموع سعتین کے پُورے ایک سو اسی۱۸۰ درجے ہیں۔
اقول والبرھان علیہ تساوی المیل الکلی وتمام عرض البلد فتساوی جیوبھما وفی المثلث الکروی نسب جیوب الزاویا الی جیوب اوتارھا متسایۃ فیتساوی جیوب السعۃ والقائمۃ وبہ یظھر فی کلام المدقق الرومی فی شرح الچغمینی حیث قال سعۃ المشرق والمغرب تزید بزیادۃ العرض الی ان تبلغ قریبا من الربع مالم یبلغ العرض ربعا۱؎اھ
اقول (میں کہتا ہوں)اس پر دلیل میل کلی اور تمام عرض بلد کا متساوی ہونا ہے تو اس طرح ان دونوں کی جیبیں بھی متساوی ہوںگی اور مثلثِ کروی میں جنوب زوایا کو اس کے جیوب اوتار کی طرف متساوی منسوب کیا گیا ہے تو اس طرح جیوب سعتہ وقائمہ دونوں متساوی ہوں گے اور اسی سے شرح چغمینی میں فاضل رومی کے دقیق کلام میں جو ابہام ہے واضح ہوجاتا ہے جیسا کہ اُنھوں نے فرمایا : سعۃ مشرق و مغرب عرض کے بڑھنے سے بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ سعۃ قریب ربع کو پہنچ جائے جبکہ عرض بلد ربع کو نہ پہنچی ہو اھ(ت)
(۱؎ شرح چغمینی الباب الثالث من المقالۃ الاول فی الدوائر مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ص۶۹)
بلکہ حسم مناقشہ کے لئے ساٹھ۶۰ ہی درجے کا عرض لیجئے کہ وہاں سعت۵۲ْ ۴۴َہوا، فرض کیجئے کہ انحراف جنوبی ۷۷ْ ۱۷َ ہو کہ اس سے زیادہ کا انحراف ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں ، اب اگر مصلی نقطہ مغرب سے ۵۲ْ ۴۳َ شمال کو پھر کر کھڑا ہو اس قول پر نماز صحیح ہوگی کہ قبلہ بین المغربین کے اندر ہے حالانکہ قبلہ حقیقی سے پُورا ایک سو تیس درجے پھرا ہوا ہے قولین اولین کے ظاہر پر تو قبلے کو کروٹ ہی ہوتی تھی یہاں اس سے بھی گزر کر پیٹھ کا حصہ ہے اور استقبال موجود ، بالجملہ اس پر وہ استحا لات ہائلہ وارد ہیں جن کا شمار دشوار تو یہ قول اس قول پر نقلا عقلا اصلا قابل قبول نہیں اورخد اسی قدر اُس کی غرابت و نامسموعی کو بس تھا کہ تمام کتب معتمدہ کے پانچوں اقوال سے صریح مناقص ہے، ہاں اُس وجہ پرکہ فقیر نے تقریرکی ،ضرور صحیح ونجیح ہے وباﷲالتوفیق،الحمدﷲکہ جہتِ قبلہ کا ہی کافی وافی شافی صافی بیان اُس جلالتِ شان و ایضاح صواب و احاطہ وتحقیق وکشف و حجاب کے ساتھ واقع ہُوا کہ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گا
ذلک من فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صٰلحا ترضٰہُ واجعلنی من التائبین وادخلنی برحمتک فی الصّٰلحین اٰمین و صلی اﷲتعالی علی سیّدنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین اٰمین۔
افَادہ ثانیہ علی گڑھ میں انقلابین کی سعت المغرب کیا ہے۔الحمدﷲ کہ جہت قبلہ کے معنی آفتاب کی طرح واضح ہوگئے اور معلوم ہولیا کہ جب تک حدود جہت کے اندر ہے جواز و ابا حت ہے حتی الوسع اصابت عین صرف مستحب ہے اب یہ دیکھنا رہا کہ مقام ادغا متانزعہ فیہ کا انحراف ہے حدود جہت کے اندر ہے یا نہیں ، اس کے لئے اُس ظاہری وسعت اقوال سابقہ کی تکلیف دینی درکنار قول پنجم جسے ہم محقق و منقح کرآئے اُس سے بھی تنزل کریں اور اس میں بین المغربین ہی کی تحدید کو لیں کہ ہمارے بلاد میں واقعی یہی سب سے تنگ تر ہے تاکہ ناواقف فتوٰی دہندوں کو کوئی شکایت نہ رہ جائے اس لئے اوّلاً علیگڑھ میں راس الجدی و راس السرطان کی سعۃ المغرب معلوم کرنی ضروری ہے فنقول
6_7_1.jpg
ا ب ح ء افق علی گڑھ ہے ا ء قوس معدل ، ہ قطب شمالی ح راس الجدی ، وقت غروب ہ ح، دائرہ میلیہ رح میل کلی ۲۳ْ ۲۷َ اح سعۃ المغرب مثلث ا ر ح قائم الزاویہ میں زاویہ ا تمام عرض البلد یعنی ۶۲ْ ۴َ ہے کہ زاویہ تقاطع معدل و افق ہمیشہ تمام عرض بلد ہو تا ہے الاتری ان قیا سھا قوس ط ح و ی سمت راس البلد فکان ی ط عرضہ و ط عرضہ و ط ح تمامہ بحکم شکل مغنی جیب میل : جیب تمام عرض : جیب اح مجہول : ع:. بلوگارثم جیب اول ۵۹۹۸۱۷۰ئ۹-جیب دوم ۹۴۶۲۰۳۲ئ۹ = جیب سوم ۶۵۳۶۲۳۸ء ۹ قوسہ الومو صہ ۔ معلوم ہوا کہ علی گڑھ میں راس السرطان نقطہ مغرب سے ۲۶ درجے ۴۶دقیقے شمال کو اور راس الجدی اسی قدر جنوب کو ہٹا ہوا ڈوبتاہے۔
افادہ ثالثہ یہ عید گاہ نقطہ مغرب سے کس قدر منحرف ہے۔ اب وضوحِ مقصد میں صرف اتنی ہی بات کا دریافت کرنا رہا ، اگر ثابت ہوکہ اس کا انحراف پونے ستائیس درجے سے کم ہے تو یقیناً وہ اس سب سے تنگ تر قول پربھی جہت قبلہ کی طرف ہے اوراُس میں نماز مکروہ تحریمی بتانا اور اسے ڈھانا فرض ٹھرانا سب جہل وافتراء ، اس کے ادراک کو عید گاہ مذکور کی دیوارِقبلہ کا جنوباً شمالاً طول درکار تھا ، دریافت کئے پر تحریر آئی کہ ساڑھے بیاسی گز ہے، اگر یہ پیمائش اور معترضوں کا وُہ دعوٰی کہ دیوار محاذات قطب شمالی سے نوّے فٹ جانب مغرب ہٹی ہوئی ہے صحیح ہے تو زاویہ انحراف کرنا مشکل نہیں فاقولء
6_7_2.jpg
نقطہ قطب اور ا ب دیوارِقبلہ ، بحالت موجودہ ب سے ٹھیک سمت ء پر خط ب ح غیر محدود کھینچا اور ب کو مرکز فرض کرکے ا کے بعد پر قوس ا ر ح رسم کی جس نے خط کو نقطہ ح پر قطع کیا تو ب ح اُس حالت پر دیوار ہوگی جس پر معترضین اُسے لانا چاہتے ہیں،
وتر اح وصل کیا کہ حسبِ بیان معترضین ۹۰ فٹ یعنی ساٹھ۶۰ ذراع شرعی ہے اور ا ب ،ح ب دونوں ضلعے یعنی نصف قطر کہ ایک مرفوع ہے حسبِ بیان سائلان ایک سو پینسٹھ ۱۶۵ ذراع شرعی :. ۱۶۵: :: ۶۰ : درجات وتر اح:. ۶۰x ۶۰ =۳۶۰۰ ÷۱۶۵ =۸۱۸۱۸۱۸ئ۲۱ْ یعنی کا صہ مط ہ الر مقدار وتر کوئی اس کا نصف یصہ ند لہ مد جدول جیب میں اس قوس یصہ الط تو قوس اح یعنی زاویہ ا ب ح = ک صہ نح یعنی اس کی سمت قبلہ قطب شمالی سے دو دقیقے کم اکیس۲۱ درجے جانب غروب ہے وَبوَجہٍ اٰخَرَ کہ بیان میں رسم قوس کی حاجت نہ ہو ب سے سمت ء پر خط غیر محدود کھینچا اور ب ح مساوی اب قطع کرکے اور بحکم شکل ہشتم بلکہ پنجم اور چہارم مقالہ اولٰی ، زاویہ ب کا منصف ہوا اور بحکم حدود اح پرعمود اہ حسب بیان معترضان ۳۰ ذراع شرعی ہے تو بحکم شکل نافع لو ۳۰xع= ۴۷۷۱۲۱۳ئ۱۱-لو ۱۶۵ یعنی ۲۱۷۴۸۳۹ئ۲=۲۵۹۶۳۷۴ئ۹ لو جیب زاویہ اب ہ یعنی ی صہ ندلہ عہ ؎ مد ۔ قوس ی صہ الط توکل زاویہ و ہی ۲۰ْ۵۸َ ہوا اور ظاہر ہے کہ جتنا انحراف اس دیوار کو قطب شمالی جانب غرب سے ہے اتنا ہی اس کی سمت قبلہ کو نقطہ مغرب سے جانب جنوب ہوگا کہ دیوار مثلاً
6_8_1.jpg
ا ب پر اس کے سمت ح ب اور ح ب خط جنوب و شمال پر ر ب خط اعتدال عمود ہے تو ا ب ح ح ب ر قائمتین سے ا ب ر مشترک ساقط کیا ح ب ر برابر ا ب ح کے رہا ، پس دلائل قطعیہ سے ثابت ہوا کہ سب سے تنگ تر قول پر بھی عید گاہ مذکورہ پونے چھ درجے سے زیادہ حدود قبلہ میں داخل ہے اور قولِ محقق و منقح پر ۲۶ درجے سے زائد اندرونِ حد ہے
کما سیظھر ان شاء اﷲ تعالٰی
6_8_2.jpg
ہ مرکز دائرہ ہندیہ ہے افق علی گڑھ میں ا ح خط اعتدال ل ب خط جنوب و شمال ا ر آنجا کہ علیگڑھ مکہ معظمہ سے شرق شمالی ہے اور طول مکہ معظمہ صری حہ طول علیگڑھ ع ح صہ ومابین الطولین لرنوصہ عرض مکّہ کا صہ الہ عرض علیگڑھ الرصہ نو مابین العرضین و حہ لا لہذا نقطتین جنوب و شمال سے نقطہ مغرب کی طرف ل ء ب ح ا بقدر لر نو وصل کیا اور نقطین مشرق و مغرب سے نقطہ جنوب کی طرف ا م ح بقدر و لا ر ح ملایا جس نے ء ح کو ط پر قطع کیا ہ سے ط پر گزرتا خط ہ سہ کھینچا کہ سمتِ قبلہ ہے یعنی نقطہ مغرب سے بقدر قوس اسہ جانبِ جنوب پھرے تو مواجہ کعبہ معظمہ ہو مکتب ہیأت کا عمل یہاں تک تمام ہوا کہ اُن کا مقصود دائرہ ہندیہ میں خط قبلہ نکالنا تھا وہ اس قدر سے حاصل۔ ظاہر ہے کہ جب ہ سہ سمتِ قبلہ ہُوئی ہ ف اس پر عمود گرایا یہ شانہ راست کی جہت ہو گی تو عہ کی قطب شمالی ہے دہنے شانے سے جانب ِ پشت ہی ما ئل ہوگا یا یوں س سجھیئے ہ قہ دیوار قبلہ بحالت ِ موجودہ ہے اور قہ صہ محاذات ِ قطب سے تفاوت کے فیٹ۔ خیر یہ تو استخراج خط تھا مگر ہم کو یہ معلوم کرناہے کہ درجوں دقیقوں میں اس انحراف کی مقدار کیا ہوئی۔ اقول ر ک یعنی بحکم توازی صرط جب تفاضل عرض ہے اس کی مقدار و صہ مح لد ط مربع مو الـــــــ ما ب الح ل - ح ی مرہ جیب تفاضل طور مقدار لو صہ نح ء مد مربع الـــــ ع مر الح لح ی والذنو مجموع مربعین الح ع الوبہ مط مح ب ر اس کا جذر لرصہ ل لط کہ بحکم عروسی مثلث قائم الزاویہ ہ صہ ط میں مقدار وترہ ط ہے اب بحکم شکل نافع ہ ط: ع:: مر ط جیب مرہ ط مجہول :. و صہ صح لد ولط÷ لہ ل الح لط منحط = ی صہ نح لد لہ قوسہ ی الح یعنی دس۱۰ درجے اٹھائیس دقیقے جانب جنوب پھرنا چاہے و باللو غار ثمیات خط مرہ یعنی فرق طول ۳۷ْ۵۶کی جیب لوگاثمی ۷۸۸۶۹۴۴ئ۹:. لو مربع ۵۷۷۳۸۸۸ئ۹ یعنی ۵۷۷۳۸۸۸ئ۹ئT :. مربع ۳۷۷۹۱۳۳ء خط د ط یعنی فرق عرض ۱۶ ۳کی جیب لوگارثمی۰۵۴۹۶۶۱ئ۹ :. لو مربع ۱۰۹۹۳۳۲۲ء ۸یعنی ۱۰۹۹۳۲۲ئ۲:. مربع ۰۱۲۸۸۰۵ء مجموع مربعین ۳۹۰۷۹۳۸ء ، لوگارثم ۵۹۱۹۴۷۶ئTلوجذر ۷۹۵۹۷۳۸ئT:. لو مط ۰۵۴۹۶۶۱ئ۹- ۷۹۵۹۷۳۸ئ۹=۲۵۸۹۹۲۳ئ۹ قوس وہی ۸۱۰َ۲۔
افادہ خامسہ علی گڑھ کا قبلہ تحقیقی
6_9.jpg
أ اقول ا ب ح ء افق شمالی علی گڑھ ب نقطہ مغرب ء معدل النہارح قطب شمالی ط سمت راس مکہ مکرمہ ح ط ک نص نہار ہا ح ر نصف نہار علی گڑھ ہ سمت راس علیگڑھ ہ طل خط سمت قبلہ علی گڑھ ل ب تمام انحراف یعنی انحراف از نقطہ مغرب بجنوب اس کی معرفت مقدار کےلئے اولا نقطہ مغرب سے سمت راس مکہ معظمہ پر گزرتا ہوا نصف النہار علی گڑھ پر عمود ب ط م ڈالا کہ سمت راس سے علی گڑھ ہ سے جنوب گذرا لما ستعرفہ ان شاء اللہ تعالٰی م ر عرض موقع العمود ہوا مثلث ط ک ب قائم الزاویہ ہے لحدوث ک بین میلیتہ والمعدل اور سب ضلعیں ربع سے کم ہیں لان کلا قطعۃ من ب ر ب م ح ک الارباع اور زاویہ ب کا قیاس قوس م ر ہے فان کل زاویۃ علی کرۃ من عظیمتین قسا سھا قوس غایۃ الفصل بینھما اور ط ک عرض مکّہ ب ک تمام فرق طول ہے تو بحکم ظلی ظل ب مجہول :ظل ط ک :: ع: جیب ب ک :. لو ظل عر ض مکہ ۵۹۳۵۴۲۳ئ۹ لو حم مابین الکطولین۔لرصہ نو ۸۹۶۹۲۶۵ئ۹=۶۹۶۶۱۵۸ئ۹ قوس ایں ظل الوصہ الو الح عرض موقع العمود ظاہر ہے کہ علیگڑھ الرنو سے بقدر اصہ الط ل کم ہے لہذا سمت راس سے جنوب کو واقع ہوا لا جرم قبلہ مغرب سے جنوب کو ہٹے گا اور از انجاکہ علی گڑھ بھی شمالی العرض ہے لو جیب تفاضل لیں اور ازانجا کہ اتنی چھوٹی قوسوں میں تفاضل لوگارثم بشدت ہے محض تعدیل مابین السطرین مساہلت کثیرۃ لاتی ہے اُسے بطریق دقیق نکالیں ۴۱۵۶۶۱۸ء ۱۸ یا اسے محفوظ رکھیں۔
ثانیاًمثلث ح مط قائم الزاویہ میں زاویہ ح کا قیاس قوس ک ر مابین الطولین ہے اور ح م تمام عرض عمود سح لح لب :. ظل ح: ظل ط م مجہول :: ع: جیب ح م :. لو ظل تفاضل طول ۸۹۱۷۶۷۹ئ۹+ لوحم عرض عمود ۹۵۲۰۱۳۴ئ۹= ۸۴۷۸۱۳ئ۹ =ظل ط م۔
ثالثاً مثلث ط م ہ قائم الزاویہ میں زاویہ ہ کا قیاس قول ال ہے کہ مقدار انحراف ہے نقطہ جنوب سے غروب کو اور ظل زاویہ ہ مجہولہ :ظل ط م :: ع : جیب ہ م محفوظ :. ۸۴۳۷۸۱۳ئ۹- ۴۱۵۶۶۱۸ء ۸ = ۴۲۸۱۱۹۵ئ۱۱ جدول ذیل میں اس کی کوس نر حہ صہ اس کا تمام ب حہ ح کہ مقدار قوس ب ل مطلوب ہوئی یعنی دو درجے آٹھ دقیقے نقطہ مغرب سے جانب جنوب جھکیں تو عین کعبہ معظمہ کے مواجہ ہوں۔
وبوجہ اخر فرق طول لر صہ نوکی جیب ۷۸۸۶۹۴۴ئ۹+ لوحم عرض حرم محترم سح صہ لہ ۹۶۸۹۲۶۲ئ۹ = ۷۵۷۶۲۰۶ئ۹ قوسہ لرند لح تمام مھا نہصہ الــــ محفوظ اول جیبش ۹۱۳۸۳۸۴ئ۹:. لوج عرض مکہ مکرمہ ۵۶۲۴۶۸۵ئ۹-لوج محفوظ اول= ۶۴۸۶۳۰۱ئ۹ قوسہ الو الو الح محفوظ دوم + تمام عرض علی گڑھ سہ صہ ء = مح ل لح محفوظ سوم جبیبہ ۹۹۹۸۵۲۶ئ۹ + لو ج محفوظ اول = ۹۱۳۶۹۱ئ۹ قوسہ نہ صہ ح ہہ محفوظ چہارم تمامہ لو حہ نولح بعد علیگڑھ از مکہ معظمہ یعنی تقریباً دو ہزار چارسو میل کا فاصلہ ہے اس مسافت کی جیب ۷۵۷۹۲۲۹ئ۹:.لوحم محفوظ اول ۷۵۷۶۲۰۶ئ۹ - لوج بعد = ۹۹۹۶۹۷۷ئ۹ قوسہ فر صہ نہ تمامہا ب ح وہی دو۲ درجے آٹھ۸ دقیقے جنوب کو آئے وذلک ما اردناہ انکو انحراف دیوار ک صہ نح سے تفریق کیا تو قبلہ حقیقی سے صرف لح صہ ? انصراف رہا اسے ۴۵ْ سے کم کیا باقی الوی یعنی ابھی چھبیس درجے سے بھی کچھ زیادہ اور انحراف ہوتا ہے جب بھی حدود قبلہ کے اندر تھی یا یوں سمجھئے کہ قبلہ حقیقی قطب شمالی سے ۲ درجے ۸ دقیقے غرب کو ہے اور قبلہ حقیقی سے۴۵ درجے تک انحراف روا تو قطب سے ۴۷ْ ۸َ ہوگا ۸ دقیقے چھوڑ کر ۴۷ درجے ہی انحراف رکھئے
xx.jpg
میں وتر ا ح کی مقدار ۸۴۹۸۸۸۳ئ۴۷ْ کہ ۲۳ْ۳۰َ کی جیب نہ الط مر نو ہاعشاریہ میں کسور درجہ کی تحویل سے ۹۲۴۹۴۴۱۴ئ۲۳ْ ہوئی جس کا دو چندیہ وتر ہے اور ضلع ا ب کی ۱۶۵ ذراع شرعی ہے= ۶۰ْ پس تناسب یہ ہوا۶۰ْ:۱۶۵::۸۴۹۸۸۸۳ئ۴۷: مجہول :. سطح وسطین ۲۳۱۵۶۹۵ئ۷۸۹۵÷۶۰=۵۸۷ئ۱۳۱ یہ اح کے ذراع شرعی ہوئے ا ۲/ ۱ میں ضرب دئے سے ۴ئ۱۹۷ فٹ آئے یعنی نوّے فٹ یہ اور ۱۰۷ فٹ اور یہ جملہ ۱۹۷ فٹ بھی اگر یہ دیوار قطب شمالی سے پھری ہوتی حدود سے باہر نہ تھی
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق۔
تنبیہ قول محقق ومنقح کہ کعبہ معظمہ کے دونوںجانب ۴۵ درجے تک انحراف روا ہے اس پر عمل قبلہ تحقیقی برہانی نکال کر کرنا چاہیئے کہ طریق تقریبی میں خود کئی کئی درجے کا تفاوت آتا ہے ۔ اب یہیں دیکھئے کہ ۸ درجے ۲۰ دقیقے کا تفاضل ہے واﷲ الھادی الی الصواب، الحمد ﷲ کہ اس تحریر میں افادہ اولٰی غایت نفع و افاضت پر واقع ہوا مناسب اُس کے لحاظ سے اس کا تاریخی نام ھدایۃ المتعال فی حد الاستقبال ہو کہ اس کی تصنیف اواخرذیالحجہ ۱۳۲۴ھ میں ہوئی ، اور اگر یہ لحاظ کریں کہ تبییض میں اوائل محرم ۱۳۲۵ھ کی تاریخیں آئیں گی تو حد الاستقبال کے عوض جھۃ الاستقبال کہنا مناسب ،
وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا و مولانا محمد و اٰلہ وصحبہ اجعین اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔