اقول: (میں کہتا ہوں) یہ بات بہت بعید ہے کیونکہ اس وقت ''سماک'' کا بُعد لو صہ ک شمالی تھا ، اور یہ بُعد ''میل کلی'' سے تقریباً ۱۳ درجے زائد تھا۔ امام بغوی نے فرمایا : جس نے اس وقت گرمیوں کے مغرب کو اپنی دائیں طرف اور سردیوں کے مشرق کو اپنی بائیں طرف کیا تو اس شخص کا منہ قبلہ کی طرف ہو گا اھ
(۱؎ تفسیر البغوی المعروف بمعالم التنزیل مع الخازن زیر آیت و ماانت بتابع مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱/۱۲۲)
قال الرازی وذلک لان المشرق الشتوی جنوبی متباعد عن خط الاستواء بقدرالمیل والمغرب الصیفی شمالی متباعد عن خط الاستواء بمقدارالمیل والذی بینھما ھو سمت مکّۃ۲؎ اھ
اور امام رازی نے فرمایا یہ اس لئے ہے کہ سردیوں کا مشرق جنوبی ہوتاہے اور خطِ استواء سے میل کی مقدار دُور ہوتا ہے، اور اگر گرمیوں کا مغرب شمالی ہوتا ہے اور خطِ استواء سے میل کی مقدار دور ہوتا ہے اور جوان دونوں کے درمیان ہے وہ سمتِ مکّہ ہے اھ(ت)
؎ طول السماک اذذاک ونط تقریبا بعدہ عن الاعتدال الاقرب نط جیبہ ۵۱۲۶۴۱۹ئ۹+ظل المیل الاعظم=۱۵۰۵۹۸۲ئ۹قوسہ ح صہ ح ھومیلہ الثانی وبعد درجتہ عن راس الجدی عا صہ جیبہ ا۹۷۵۶۷۰ئ۹ جیب المیل الاعظم+ ۵۷۶۰۷۹۱ئ۹ قوسہ ال ح میلہ المنکوس وعرضہ لا صہ لح شمالیا+ح صہح= لط مو حصۃ البعد جیبہ ۸۰۵۹۵۱۰ئ۹+جیب سرنب صہ۹۶۶۷۵۶۲ئ۹=۷۷۲۷۰۷۲ئ۹ قوسہ لو صہ ک بعد السماک۱۲منہ(م)
سماک کا طول اس وقت ونط تقریباً ہو تو اس کا اعتدال اقرب سے بُعد نط ہوگا جس کا جیب ۵۱۲۶۴۱۹ئ۹+ظلِمیل اعظم =۱۵۰۵۹۸۲ئ۹ ہوگا جس کا قوس ح صہ جو اس کا میل ثانی ہوگا اور ر اس جدی سے اسکے درجے کا بُعد عاصہ جس کا جیب = ۹۷۵۶۷۰۱ئ۹ +میل اعظم کا جیب ۵۷۶۰۷۹۱ئ۹ہوگا جس کا قوس ال ح اسکا میل منکوس ہو گا اور اسکا شمالی عرض لا صہ لح +ح صہ ح =لط مو بُعد کا حصہ ہوگا جس کا جیب سرنب صہ ۹۶۶۷۵۶۲ئ۹=۷۷۲۷۰۷۲ئ۹ہوگا جس کا قوس لو صہ ک سماک کا بُعد ہوگا ۱۲منہ (ت)
اقول: ولا ادری کیف یحمل المطلقان علی ھذین المقیدین وای قرینۃ علیہ بل وای حاجۃ الیہ فان الظاہر من الاطلاق ارادۃمغرب الاعتدال ومشرقہ ولاشک ان بینھما قبلۃ المدینۃ السکینۃ ومایلیھا بل ان ارید زیادۃ التقریب کان العکس اولی وھواخذ مغرب الجدی و مشرق السرطان لان قبلۃ المدینۃ الکریمۃ علی جنوبیتھا میلا ماعن نقطۃ الجنوب الی الشرق بعدۃ درج۔
اقول (میں کہتا ہوں) معلوم نہیں مطلق مشرق و مغرب کو کیونکر مقید کر دیا گیا ہے اور اس پر قرینہ کیا ہے ، بلکہ اس کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ مشرق و مغرب سے اعتدال کا مشرق و مغرب علی الاطلاق مراد ہے۔ اور یقینا ان دونوں کے درمیان مدینہ منورہ اور اسکے ارد گرد کا قبلہ ہے بلکہ (عین قبلہ کی بجائے) صرف تقریبی سمت مراد ہو تو پھر اس بیان کا عکس بہتر ہے وُہ یہ کہ ''الجّدی'' کا مغرب او ر''السرطان ''کا مشرق لیا جائے کیونکہ مدینہ منورہ کا قبلہ اس سے جنوب میں تھوڑا سا نقطہ جنوب سے مشرق کی طرف چند درجے ہٹ کر ہے ۔(ت)
ثم اقول: فی قول الامام الرازی متباعد عن خط الاستواء بمقدارالمیل تسامحاظاہرا فان ذلک انما ھوفی الافق المستوی اما فی غیرہ فسعۃ المشرق والمغرب لراسی الجدی والسرطان اکبر دائمامن المیل الکلی کیف وھی وتر القائمۃ من مثلث کروی یحدث من قوس المعدل بین الافق والمیلیۃ وقوس من المیلیۃ واخری من الافق کلتاھما بین المعدل والجزئ وزاویتاہ الباقیتان حاتان اماکون ھذہ قائمۃ فلا نھا من میلیۃ وقعت علی المعدل واماحدۃ البواقی فلان وتر القائمۃ وھی السعۃ والمیل کلاھما اقل من الربع واحدی الزاویا غیرحادۃ فتمت شرائط امن اولی اکُرّو جب ا عظیمۃ وترالعظمٰی بالسابع منھا وھی السعۃ فھی اعظم من المیل الاعظم ومن قوس المعدل الباقیۃ ایضاامافی افق المستوی فتنطبق المیلیۃ علی الافق فلامثلث ولم یکن بین الجزء ونقطۃ الاعتدال حینئذ الامیلہ وذلک مااردناہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ثم اقول: کہ امام رازی کے قول ''کہ گرمیوں کا مغرب اور سردیوں کا مشرق ، خط استواء سے میل کی مقدار دُور ہوتا ہے میں کُھلا تسامح ہے کیونکہ یہ مستوی افق میں ہے لیکن اسکے غیر میںمشرق و مغرب کی وسعت راس جدی اور راس سرطان پر ہمیشہ میل کلی سے بڑی ہوتی ہے ، ان کا قول کیسے صحیح ہو سکتا ہے جبکہ یہ وسعت ، مثلث کروی کے قائمہ کا وَتر ہے اور یہ مثلث کروی افق اور میلیۃ کے درمیان معدل کے قوس اور میلیۃ کے قو س اور ایک دوسرے، جوکہ اُفق کا قوس ہے ،سے پیدا ہوئی ۔یہ دونوں معدل اور جزء کے درمیان ہیں اس کے باقی دونوں زاویے حادّہ ہیں، اس کا قائمہ ہونا تو اس لئے ہے کہ یہ میلیۃسے معدل پر گری ہے، اور دوسرے زاویوں کا حادہ ہونا اس لئے ہے کہ قائمہ کا وَتر جو کہ وسعت اور میل ہے یہ دونوں چوتھائی سے کم ہیں اور ایک زاویہ جوکہ غیر حادّہ ہے تو اس طرح کروں میں سے پہلے کی ''ا'' کے شرائط مکمل ہوگئے تو اب ان کے ساتویں کی وجہ سے وتر عظمٰی کی بڑھانی ضروری ہوگئی اور یہ وہی وسعت ہے تو یہ میل اعظم سے اور باقی معدل کے قوس سے بھی بڑی ہے مستوی کے افق میں میلیۃ افق پر منطبق ہوجاتی ہے اس لئے وہاں مثلث نہیں ہے اور جزء اور نقطہ اعتدال کے درمیان اب صرف اس کا میل ہے اور یہی ہماری مراد ہے، اﷲتعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)
تذییل کتب مذہب میں یہ پانچ عبارتیں ہیں کہ افادہ حکم عام کرتی ہیں اور یہاں ایک عبارت اور ہے جسے بعض کتب میں صورۃً بطور عموم ظاہر کیا اور حقیقۃً اصلاصالح عموم نہیں بلکہ انھیں علامات ِخاصہ سے ہے جو بلادِ مخصوصہ کے لئے اقوال فقیہ ابو جعفر وغیرہ مشائخ سے گزریں وہ یہ کہ بین المغربین قبلہ ہے یعنی گرمیوں میں سب سے بڑے دن مثلاً ۲۲جون اور جاڑوںمیں سب سے چھوٹے دن مثلاً ۲۱دسمبر میں آفتاب جہاں ڈوبے اُن دونوں موضع غروب کے اندر سمتِ قبلہ ہے۔
ردالمحتار میں بحوالہ شرح زادالفقیر للعلامۃالغزی بعض کتبِ معتمدہ سے شرح الخلاصہ للعلامۃ القہستانی میںہے:
ینظر مغرب الصیف فی اطول ایامہ ومغرب الشتاء فی اقصرایامہ فلیدع الثلثین فی الجانب الایمن والثلث فی الایسرو القبلۃ عند ذلک ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز۱؎۔
گرمیوں کے طویل ترین دن کے مغرب اور سردیوں کے چھوٹے دن کے مغرب کو ملحوظ رکھ کر دائیں جانب ۳۰ اور بائیں جانب ۳ درجے چھوڑے تو یہ نمازی کا قبلہ ہوگا، اور اگر وہ یہ احتیاط نہ کرے اور دونوں مغرب کے درمیان سیدھا نماز پڑھ لے تو نماز جائز ہوگی۔(ت)
وقال ابومنصورینظر الی اقصر یوم اطول یوم فیعرف مغربیھما ثم یترک الثلٰثین عن یمینہ قال صاحب الملتقط ھذا استحباب والاول للجواز۲؎اھ وھذاماوعدناک صدرالکلام فی الایراد الخامس۔
اور ابو منصور نے کہا سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے دن کے مغرب کو معلوم کرکے پھر ۳۰ درجے دائیں طرف چھوڑے ۔صاحبِ ملتقط نے کہا کہ پہلا بیان جواز کے لئے اور یہ دوسرا استحباب ہے اھ اور یہی صدر کلام میں پانچویں اعتراض میں ہمارا وعدہ تھا۔(ت)
(۲؎ التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی بحوالہ حلیہ الشرط الرابع مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۸۶)
ظاہر ہے کہ جو بلادِ مکہ معظّمہ سے خاص جنوب یا شمال کو ہیں یہ بیان ان سے تو اصلاً متعلق نہیں ہوسکتا آخر نہ دیکھا کہ قبلہ مدینہ سکینہ قبلہ قطعیہ یقینیہ ہے بین المغربین درکنار خد جمیع جہت مغرب سے بہت بعید ہے اور بلادِ شرقیہ و غربیہ کو بھی عام نہیں ہوسکتی ، آخر نہ دیکھا کہ ابھی بحث چہارم مکالمہ علّامہ شامی میں جو شہر مکہ معظمہ سے پانچ درجے طول مشرقی زائد خاص خطِ استواء پر لیا اُس کا قبلہ بین المغربین سے چوّن درجے شمال کو ہٹا ہوا ہے،
لان السعۃ العظمی فی الافق المستوی الح صہ الر و قدکان انحراف قبلۃ عن نقطۃ المغرب عرصہ الخ۔
کیونکہ مستوی افق میں بڑی وسعت الح الر صہ ہے جبکہ نقطہ مغرب سے قبلہ کا انحراف عُر صہ الخ تھا۔(ت)
تو قبلہ تقریبی ۹۹نناوے درجے مغربین سے باہر ہوگا جو ربع دور سے بھی زیادہ ہے۔ لاجرم امالی الفتاوی میں اس قول کو اپنے بلادِ سمرقند وغیرہ سے خاص کیا، منیہ میں ہے۔
ذکر فی امالی الفتاوی، حدالقبلۃ فی بلادنا یعنی فی سمرقند ما بین المغربین مغرب الشتاء ومغرب الصیف؎۱
امالی الفتاوٰی میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہمارے سمرقند کے علاقہ میں قبلہ کی حد گرمیوں اور سردیوں کے دونوں مغربوں کے درمیان ہے۔(ت)
انھیں بلاد شرقیہ سے ہرات ہے، علّامہ برجندی فرماتے ہیں: ہم نے اسکا قبلہ تحقیق کیا، بین المغربین سے باہر جنوب کو ہٹاہوا پایا۔ اور اسی کے مطابق امام عبداﷲ بن مبارک مروزی وامام ابومطیع بلخی کا ارشاد آیا،
نحن قد حققنا بتلک القواعد قبلۃ ھراۃ فظھر لناانہ یقع عن یسار مغرب اقصر ایام السنۃ حیث یغرب کواکب العقرب وھوالموافق لماذکرہ عبداﷲ بن المبارک وابومطیع فما وقع فی تجنیس الملتقط انہ لوصلی الی جھۃ خرجت ممابین مغرب الصیف ومغرب الشتاء فسدت صلاتہ انما یصح فی بعض البقاع ۲؎ (ملخصا )۔
شرح نقایہ میں ہے: ہم نے ان قواعد سے ہرات کے قبلہ کی سمت تحقیق کی ہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ سال کے چھوٹے دن کے مغرب سے بائیں جانب جہاں عقرب کے ستارے غروب ہوتے ہیں یہاں کا قبلہ ہے ، عبداﷲ بن مبارک اور ابو مطیع کے بیان کے یہی مطابق ہے اور جوتجنیس الملتقط میں ہے کہ اگر نمازی نے گرمیوں کے مغرب اور سردیوں کے مغرب سے خارج کسی جہت میں نماز پڑھی تو اسکی نماز فاسد ہوگی ، تو یہ بات بعض علاقوں میں درست ہوسکتی ہے ملحضاً(ت)
(۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نولکشور بالسرور لکھنؤ ۱/۸۹)
اقول: حقیقت امر یہ ہے کہ معظم معمورہ میں اکثر بلاد ِشرقیہ کا قبلہ تحقیقی مغرب سرطان سے مغرب جدی تک ہے اوربہ نسبت درجات ادراک مغربین ہر شخص پر آسان اور اُن بلادکثیرہ میں اگر چہ جہت قبلہ مغربین سے باہر تک ممتد مگر امر محدود سہل الادراک کی تعیین جو حدود قبلہ کے اندر داخل ہے مضائقہ نہیں رکھتی بلکہ بارہا اُس میں زیادہ تقریب ہے جس سے سہولت و قرب بحقیقت ، دونوں منافع حاصل ، لہذا علماء نے ان بلاد میں عامہ کو مابین المغربین کی تحدید بتائی اُس کے معنی یہ نہ تھے کہ اس سے باہر جہت اصلاً نہیں ، اور مغربین سے تجاوز ہوتے ہی نماز فاسد ہو، مگر شرح خلاصہ قہستانی اور شرح زادالفقیر میںبحوالہ بعض کتب معتمدہ کہ شاید وہی شرح خلاصہ ہو کہ وہ تمام عبارت بعینہا فقیر نے اس میں پائی ، بعد عبارت مذکور ہے:
واذاوقع توجھہ خار جا منھا لایجوز بالاتفاق۳؎
(اگر اس کی توجہ اسی جگہ سے خارج ہوجائے تو اسکی نماز بالاتفاق جائز نہ ہوگی۔ت)
دونوں کتابوں میں یہ عبارت بلفظ منھا بضمیر مونث ہے نہ منھما بضمیر تثنیہ کہ جانب مغربین راجع ہو اور شک نہیں کہ جہت سے خروج مفسد صلوٰۃ ہے اور لفظ بالاتفاق اس معنی پر صریح دال کہ خروج عن الجہتہ ہی کا مفسد ہونا متفق علیہ ہے نہ کہ یہ تحدید خاص جو اقوالِ خمسہ مذکورہ ائمہ مشہورہ دوراہ فی کتب المذہب سب کے خلاف ہے لیکن منیہ میں امالی سے یُوں ہے : فان صلی الی جھۃ خرجت من المغربین فسدت صلاتہ ۱؎۔ اگر نمازی نے کسی ایسی جہت میں نماز پڑھی جو مغربین سے خارج ہو تو اس کی نماز فاسد ہو گی۔(ت)