سادسا:ً یہ تو قطعاً معلوم کہ قولِ اوّل دوم اور ایک توہم پر سوم کا جو ا رسال و اطلاق ہے ہر گز مرادنہیں ہو سکتا، اب اگر تقیید میں اسی تربیع جہات کی طرف رجوع کیجئے تو عین مطلوب ہے ورنہ بیچ میںکوئی حدِفاصل معیّن و مرجح للاعتبارنہیں اور ترجیح بلا مرج باطل توحد نہ بندھ سکے گی کہ یہاں تک انحراف رو اء اور اُس کے بعد فساد تو یہی قول اضبط القوال ہے تو اسی طرف رجوع بلکہ ان سب کا بھی ارجاع مناسب۔
سابعاً اس میں وسعت جہت ان سب سے تنگ تر، تو یہی احوط ہے کہ جہاں تک اُس کا مفا دہے وہ تمام اقوالِ مذکورہ پر یقینا جہتِ قبلہ ہے اور جو اس کے مفاد سے باہر وہ مختلف فیہ و مشکوک و نا منضبط ہے تو احد متفق و ترک شُبہ و اختلاف ہی مناسب ،لا جرم اسلامی علمائے ہیئیات نے بھی شرع سے اخذ کرکے جہت قبلہ کے لئے یہی ضابطہ باندھا ،
فتاوٰی خیریہ کے ایک سوال میں ہے:من القواعد الفلکیۃ اذکان الانحراف عن مقتضی الادلۃ اکثرمن خمس و اربعین درجۃ یمنۃ اویسرۃ یکون ذلک الانحراف خارجاعن الربع الذی فیہ مکۃ المشرفۃ من غیراشکال علی ان لاجھات بالنسبۃ الی المصلی اربعۃ ۱؎ ۔
فلکی قواعدمیں ہے کہ جب دلائل کے مقتضٰی سے انحراف ۴۵ درجہ سے زیادہ دائیں یا بائیں ہو جائے تو نمازی کےلئے مسلّمہ چار جہت میں سے، وہ ایک چوتھائی جہت جس میں مکہ مکرمہ واقع ہے بغیر کسی اشکال کے یہ انحراف اس سے خارج قرار پائے گا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۹)
اقول اوریہیں سے ظاہر ہُوا کہ یہ قول امام زندویسی ہر گز ایسی وسعت نہیں رکھتا کہ اسے قول دوم سے مقید کیجئے بلکہ وہی اتنا وسیع ہے کہ اسے اس سے مقید کرنا چاہیئے۔
فما وقع من الامام الحلبی فی حلیۃ مماقدمنا نقلہ لیس فی موضعہ وھذاتمام انجاز ما وعندناک فی القوالاوّل۔
پس امام حلبی کا وہ کلام جو حلیہ میں واقع ہے جس کو ہم پہلے نقل کرچکے ہیں وُہ مناسب محل نہیں ہے، قولِ اوّل میں جو ہم نے وعدہ کیا تھا یہ اسکی تکمیل ہے(ت)
[رہی حدیث مرفوع
مابین المشرق والمغرب قبلۃ ۲؎
(مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ت) اور اُس کے مثل ارشادات ِ امیر المؤمنین فاروقِ اعظم و عبداﷲ بن عمروغیرہما صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم
(۲؎ جامع الترمذی باب ماجاء ان بین المشرق و المغرب قبلۃ مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱/۴۶)
اقول: اُس کا یہ مفاد ہونا ہر گز مسلّم نہیں نہ ممکن التسلیم کہ شرق سے غرب تک نصف دَور میں قبلہ پھیلا ہوا ہے ورنہ لازم کہ نصف دیگر میںاستدبار پھیلے کہ استقبال و استدبار دو جہت مقابل ہیں سارا دائرہ انہی دو جہتوں نے گھیر لیا، اب ارشاد اقدس ولکن شرقو ااو غربوا ( لیکن پورب اور پچھم کی طرف منہ کرو۔ت) کا کیا محل رہے گا، مگر یہ کہیں کہ خاص نقطتین مشرق و مغرب مستثنٰی ہیں تو لازم ہو گا کہ ہر شخص جو پیشاب کو بیٹھے یا پاخانے کو جائے صحیح آلات معرفت نقاط ساتھ لیتا جائے حالانکہ آلات بھی حقیقی تعیین نقاط سے قاصر ہیں ، اگر کہیے عرفاً جہاں تک جہت مشرق و مغرب پھیلے گی وہ سب مستثنٰی ہے
فان بین اذااضیف الی غیر الاعداد لم یدخل فیہ الغایتان کما فی الفتح
(لفظ''بین'' جب غیر عدد کی طرف مضاف ہو تو ابتداء اور انتہا دونوں غایتیں اس میں داخل نہ ہوں گی جیسا کہ فتح میں ہے۔ت)
اقول اب ٹھکانے سے آگئے عرف میں جہتیں چارہی سمجھی جاتی ہیں اور جو ایک سے قریب ہے وُہ وہ اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس نصف دور کے ۸۰ ۱درجے سے ۴۵-۴۵ درجے کہ مشرق و مغرب سے قریب ہیں ان کے حصے میں رہ کر مستثنٰی ہوں گے بیچ کے ۹۰ درجے جن کی وسط میں کعبہ واقع ہے جہت ِ قبلہ رہیں گے
وھوالمطلوب
(اور یہی مطلوب ہے ۔ت) معہذا ایک جماعتِ علماء نے یہاں بین بمعنٰی وسط لیا یعنی مشر ق و مغرب کے اندر جو قوس جنوبی ہے اُس کے وسط و منتصف کی طرف قبلہ مدینہ سکینہ ہے۔
اقول اور اُس کے مؤید قول مذکور عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما ہے کہ جب توُ مغرب کو اپنے دہنے بازو اور مشرق کو بائیں بازو پر لے تو اُس وقت تیرا منہ قبلے کو ہے،
وکانہ رضی اﷲ عنہ لذازاد قولہ اذاً استقبلت بعد قولہ فما بینھما قبلۃ لکون ھذا محتملا لخلاف المراد ھذا و حملہ الامام الاجل عبداﷲ بن المبارک علی ان ھذا لاھل المشرق وکذاقال الشیخ البغوی فی المعالم انہ صلی اﷲ علیہ وسلم اراد بقولہ بابین المشرق والمغرب قبلۃ فی حق اھل المشرق ۱؎اھ ولا ادری ماالحاملذلک بل الاظھر کما افادالامام الحلبی فی الحلیۃ وعلی القاری فی المرقاۃ ان المراد لاھل المدینۃ وما وافق قبلتھا۔
ہو سکتا ہے کہ عبداﷲ بن عمر نے اپنے قول ''فما بینھماقبلۃ'' کے بعد ''اذاً استقبلت ''کا لفظ اسی لئے بڑھایا ہو کہ فما بینھما قبلۃمیںاس سے مراد کے خلاف کا احتمال تھا۔ امام عبداﷲ بن مبارک نے مابین المشر والمغرب والی حدیث کو اہل مشرق کے لئے قرار دیا ہے۔ امام بغوی نے اس کو یوں بیان کیا اور معالم میں فرمایا کہ حضور ؐ نے اپنا قول'' مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہےــ'' اہل مشرق کے حق میںفرمایا اھ مجھے معلوم نہیں کہ ان حضرات نے یہ کیوں فرمایا________
جبکہ زیادہ ظاہر وہ معنٰی ہے جس کا افادہ امام حلبی نے حلیہ میں اور ملّا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہ اس سے مدینہ منورہ اور اسکے اردگرد والوں کا قبلہ مراد ہے۔
(۱؎ تفسیر البغوی المعروف بعالم التنزیل مع الحازن زیر آیۃ وما انت بتابع مطبعہ مصطفٰی البابی مصر ۱/۱۲۲)
اقول: ومعلوم ان المدینۃ السکینۃ علی شمالیتھا من مکۃ المکرمۃ مائلۃ قلیلا الی المغرب دون المشرق ثم ان البغوی فی التفسیر والرازی فی الکبیروالمناوی فی التیسیر حملوا المشرق علی اقصریوم فی الشتاء قال فی المناوی وھو مطلع قلب العقرب۱؎۔
اقول ( میں کہتا ہوں ) مدینہ منورہ کا مکہ مکرمہ سے شمال میں تھوڑا سا مغرب کی طرف مائل ہونا واضح طور معلوم ہے نہ کہ مشرق کی طرف ، پھر امام بغوی نے اپنی تفسیر ،امام رازی نے تفسیر کبیر میں اور امام مناوی نے التیسیر میں مشرق سے مراد سردیوں میں سب سے چھوٹے دن کا مطلع مراد کیا ہے، اما م مناوی نے یوں فرمایا کہ وُہ عقرب کے قلب کا مطلع ہے۔(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث مابین المشرف الح کے تحت مکتبہ امام شافعی الریاض ۲/۳۴۵)
اقول: ولا یستقیم الابفرق عدۃ درج ولا فی زمانہ اذکان اذذاک بعد القلب؎عــہ الہصــہ لو جنوبیا والمغرب علی مغرب اطول یوم فی الصیف قالوھو مغرب السما الرامح
اقول (میں کہتا ہوں)یہ بیان چند درجوں کے فرق بغیر درست نہیں ہو سکتا ، اور نہ ہی ان کے زمانے میں یہ درست تھا کیونکہ اُس وقت قلب کا بُعد الہ صہ لو جنوبی تھا ، اور ان حضرات نے مغرب کو گرمیوںکے طویل ترین دن کا مغرب قرار دیا اور امام منادی نے فرمایا کہ وہ ''سماک رامح'' کا مغرب ہے(ت)
؎ طول القلب فی زمان المناوی ح صہ ہ تقریبا فالبعد عن الاعتدال الاقرب سہصہ جیبہ فی اللوغارثمیات ۹۵۷۲۷۵۷ئ۹x ظل المیل الکلی ذاک الح الط تقریباً ۶۳۷۹۵۶۳ئ۹=۵۹۵۲۳۲۰ئ۹ قوسہ کا الط ل ھوالمیل الثانی للقلب ثم بُعد درجۃ القلب عن الانقلاب الاقرب الہ جیبہ ۶۲۵۹۴۸۳ئ۹+جیب المیل الکلی الح الط ۶۰۰۴۰۹۰ئ۹=۲۶۳۵۷۳ئ۹ قوسہ ط صہ مامح المیل الکلی المنکوس لہ وعرضہ ء صہ ل کمیلہ الثانی جنوبی فمجموعہما الہ صہ نط ل حصۃ البعد جیبہ ۶۴۱۷۱۲۴ئ۹+جیب تمام المیل المنکوس ۹۹۳۷۵۲۴ئ۹= ۶۳۵۴۶۴۸ئ۹ قوسہ الہ صہ لو بعد القلب ای میلہ الاول و معلوم ان المیل الاعظم کان اصغرمنہ باکثر من درجتین فکیف یتساوی سعتامشرقھما ۱۲منہ(م)
علّامہ مناوی کے زمانہ میں طول القلب تقریباً ح صہ تھا تو اعتدالِ اقرب سے اس کا بُعد سہصہ جس کا جیب لوگارثم ۹۵۷۲۷۵۷ئ۹x اس کے میل کلی کا ظل الح الط تقریباً ۹۵۶۳ ۶۳۷ئ۹ = ۵۹۵۲۳۲۰ئ۹ ہوگا اس کے قوس کا الط ل ہوگا جو کہ قلب کے لئے میل ثانی ہے پھر انقلاب اقرب سے قلب کے درجہ بُعد الہ ہوگا جس کا جیب ۶۲۵۹۴۸۳ئ۹+ میل کلی کا جیب الح الط ۶۰۰۴۰۹۰ئ۹=۲۶۳۵۷۳ئ۹ہوگا اور اس کا قوس ط صہ ما مح ہوگا، یہی اس کا منکوس میل کلی ہوگا جس کا عرض ء صہ ل ہوگا جواسکے جنوبی میل ثانی جیسا ہوگا پس ان کا مجموعہ الہ صہ الط ل جو بُعد کا حصہ ہوگا اس کا جیب ۶۴۱۷۱۲۴ئ۹+میل منکوس کے کل کا جیب ۹۹۳۷۵۲۴ئ۹=۶۳۵۴۶۴۸ئ۹ ہوگا جس کا قوس الہ صہ لو بُعد ِ قلب یعنی اسکا میل اول ہوگا اور یہ بات معلوم ہے کہ میل اعظم اس سے دو درجے کم ہوگا ،تو اس سے دونوں مشرقوں کی وسعت کیسے مساوی ہوگی۱۲منہ (ت)
اقول: ھذا ابعد وابعد فان عــہ بعد السماک اذاذاک لوصہ ک شمالیازائدا علی المیل الکلی بنحو ۱۳درجۃ قال البغوی فمن جعل مغرب الصیف فی ھذاالوقت علی یمینہ و مشرق الشتاء علی یسارہ کان وجھہ الی القبلۃ ۱؎ اھ