Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
25 - 185
ثایناً امام احمد و بخاری و مسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم حضرت ابو ایّوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲؐ فرماتے ہیں:
اذااتی احدکم الغائط فلا یستقبل القبلۃ ولا یولھا ظھرہ ولکن شرقو اوغربوا۱ ؎۔
جب تم میں سے کوئی شخص پاخانے کو جائے تو نہ قبلہ کو منہ کرے نہ پیٹھ ہاں پُورب پچھم منہ کرو۔
 (۱؎ صحیح البخاری     باب لاتستقبل القبلۃ بغائط الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۶)

(سنن ابو داؤد         باب کراہیۃ استقبال القبلۃ الخ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۳)
مدینہ طیبہ کا قبلہ جانبِ جنوب ہے لہذا شرقاً غرباً منہ کرنا فرمایا، ہمارے بلاد میں جنوباً شمالاً ہوگا۔ حدیث میں جنوب شمال کے کسی حصے کو رُو یا پُشت کرنے کی اجازت ارشاد نہ ہوئی اور مشرق و مغرب کے کسی حصّے کا استثناء نہ فرمایا تو دائرہ ئ اُفق کے صاف چار۴ حصے ظاہر ہُوئے جن میں ایک جہت استقبال ہے۔



ثالثاً عرف عام میں بھی یہ دائرہ چار ہی ربع پر منقسم شرق غرب جنوب شمال، اور بدنِ انسان بھی چار ہی رُخ و پہلو رکھتا ہے قدام ، خلف ، یمین ،شمال ۔انہی میں فوق و تحت ملا کر تمام جہان میں جہات ستّہ مشہور ہیں ، ان چاروں میں ایک دوسری پر کوئی ترجیح نہیں ، کوئی وجہ نہیں کہ مثلاً ایک کا اتساع ۱۴۰ درجے تک لیا جاوے اور دوسری کا صر ف ۴۰ تک، تو دائرہ افق چار ربع متساوی ہی پر تقسیم ہونا چاہیئے۔

رابعاً : دائرہ افق میں چار نقطے مفروض ہوئے اُن میں ایک نقطہ ئ استقبال حقیقی ہے ، دوسرا استدبار حقیقی، دو باقی یمین و شمال حقیقی، تو جوان میں کسی نقطہ کا ٹھیک محاذی نہ ہو اُس کی تقریب لاجرم راجع بقریب ہوگی بعید کی طرف نسبت تبعید ہے نہ کہ تقریب ، لاجرم ہر ایک پہلو پر وہی ثمن ثمن دور اُس کا حصہ پڑے گا۔

خامساً: تمام اقوالِ مذکورہ میں یہ ایسا نص ہے کہ دوسری طرف راجع نہ ہوگا اور بقیہ اقوال سب اس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور فائدہ مستمرہ ہے کہ توفیق ابقائے خلاف سے اولٰی ہے اور متحمل جانب مفسر رد کیا جاتا ہے، قول سوم و چہارم کا یہی محصل ہوناتو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں اور قولِ اوّل میں عبارتِ منیہ
قبلۃ اھل المشرق والمغرب عندنا ۲؎
(ہمارے نزدیک اہل مشرق و اہل مغرب کا قبلہ ت)
(۲؎ منیۃ المصلی    شرط الرابع استقبال القبلۃ        مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ لاہور    ص۱۸۵)
کی شرح اما م ابن امیر الحاج نے اسی عبار ت ذخیرہ عن نظم الزندویسی سے فرمائی جس میں تقسیم رباعی مذکور قول دوم میں وجہ سے جبہہ مراد لینا چاہیئے کہ موضع سجود ہونے کے سبب اشرف اجزائے وجہ ہے اُوپر گزرا کہ وجہ کو مطلق چھوڑ دیں ۔

تو جہتیں یمین و شمال بھی داخلِ استقبال ہو جاتی ہیں کہ کان کے نزدیک کنپٹیوں کی جہت یقیناً جہتِ چپ و راست ہے، دوشخص کہ برابرایک سمت کو جارہے ہوں کوئی نہ کہے گا کہ اُن میں ایک کا منہ دوسرے کی طرف ہے۔غرض کعبے کو اپنی داہنی یا بائیں کنپٹی پر لینا لغۃً عرفاً شرعاً کسی طرح استقبال ہیں۔
 (جیسا کہ ان شاء اﷲ تعالٰی ظاہر ہو جائے گا۔ ت)یعنی شرعاً جہاں تک انحراف کی اجازت ہے اُس کا نصف بھی اس میں نہیں اتنا ہی انحراف اور ہوتا جب بھی سات درجے زائد میں ہی رہتی تو روشن ہُوا کہ نئی روشنی والوں کے بیان و فتوے سب ظلمات جہل و اہوا ہیں والعیا باﷲ تعالٰی۔

افادہ رابعہ علی گڑھ کا قبلہ تقریبی۔ کتب متداولہ ہیأت میں جو طریقہ معرفت سمت کا لکھا جسے سید المحققین علّامہ سید شریف قدس سرہ الشریف نے تحقیقی گمان فرمایا اور عندالتحقیق تحقیق نہیں تقریب ہے اُس طریقہ پر یہاں معرفتِ سمت یُوں ہے
Flag Counter