| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
بالجملہ ہماری تحقیق پر قول پر چہارم کاحاصل یہ ہوا کہ محاذات حقیقیہ سے دونوں طرف جھک سکتا ہے کہ جبین یعنی کنارہ پیشانی محاذی کنارہ بیرونی ابرو سے جو خط اُس کی استقامت پر اُفق کی طرف جائے سطح کعبہ معظمّہ پر زاویہ قائمہ بناتا گزرے اقول(میں کہتا ہوں) ظاہر ہے کہ اس معنی پر جبین سے دوسری تک یعنی مابین دو ابرو اگر سر کو مدوّر فرض کیا جائے تقریباً ربع دور ہوگا تو وسط جبہہ سے ہر طرف ثمن دَور ہے صفتِ مذکورہ پر خط اگر وسط پیشانی پر جاتا تو محاذات حقیقیہ ہوتی، اب اُس سے ثمن دَور پھرنا صحیح ہُوا تو وہی جانبین کعبہ میں ۴۵-۴۵درجے آئے قول سوم کا بھی یہی محصل تھا، اور کیوں نہ ہو کہ عبارت ِدُرر سے اُن کا ایک محصل ہونا ظاہر کما قدمنا وباﷲ التوفیق۔ پنجم۵۔اہل مشرق کا قبلہ مغرب ہے ، اہل مغرب کا مشرق ، اہل جنوب کا شمال ، اہل شمال کا جنوب ۔ تو جب تک ایک جہت دوسری سے نہ بدلے مثلاً ربع مغرب میں قبلہ ہے، یہ ربع شمال یا ربع جنوب کی طرف منہ کرے جہت قبلہ باقی رہے گی۔ اقول اس قول کا حاصل یہ ہے کہ موضع مصلی سے محاذات حقیقیہ کا خط کعبہ معظمہ پر گزرتا ہوا دونوں طرف کے افق تک ملا دیں اور وہیں سے دوسراخط اُس پر عمود پر گرا دیں کہ افق کے چارحصے مساوی ہوجائےں ، پھر ہر حصے کی تنصیف کرکے ہر دو نصف متجاوز میں خط وصل کردیں ان اخیر خطوط سے جو چار ربع افق حاصل ہوںگے وہی ارباع جہات اربعہ ہیں ان میں وُہ ربع جس کے منتصف پر کعبہ معظمہ ہے جہتِ استقبال ہے اور اُس کے مقابل جہتِ استدبار اور باقی دو ربع جہات یمین و شمال
6_6.jpg
ۤبایں صورت ہ مصلی ہے اور ر م کعبہ معظمّہ ، ا ب خط محاذات حقیقیہ ح ء ا س پر عمود ، ان نقاط اربعہ نے تربیع افق کی ،پھر ربع اح کو ح اور ربع ا ء کو ط پر تنصیف ، کرکے خط ح ط ملا دیا ، یونہی ط ک=ک ی۔ی ح تو قوس ح ا جہت قبلہ ہے اور ی ب ک جہتِ استدبار، ی ح ح جہتِ یمین ، ک ء ط جہتِ شمال ۔ہ اگر ا کی طرف منہ کرے عین کعبہ کی طرف متوجہ ہے اور روا ہے کہ دہنی جانب ح یا بائیں طرف ط کے قریب تک پھرے جہتِ قبلہ باقی رہے گی ۔جب قوس ح ا ط سے باہر گیا جہت نہ رہی تو وہی دونوں جانب ۴۵-۴۵ درجے تک انحراف روا ہوا۔یہ قولِ نفیس خود امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ،
فتاوٰی خیریہ میں ہے:عن ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی المشرق قبلۃ اھل المغرب والمغرب قبلۃ اھل المشرق والجنوب قبلۃ اھل الشمال و الشمال قبلۃ اھل جنوب۱؎۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ مغرب والوں کا قبلہ مشرق ہے اور مشرق والوں کا مغرب ، شمال والوں کا جنوب اور جنوب والوں کا شمال ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/۷)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے:قال الزندویسی ان المغرب قبلۃ لاھل المشرق و بالعکس والجنوب لا ھل الشمال وبالعکس فالجھۃ قبلۃ کالعین ۲؎۔
زندویسی نے کہا کہ مشرق والوں کا مغرب قبلہ ہے اور اسکے برعکس ، اور شمال والوں کا جنوب قبلہ ہے اور اسکے برعکس ۔پس جہت بھی عین کعبہ کی طرح قبلہ ہے۔(ت)
(۲؎ جامع الرموز فصل شروط الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۱۳۰)
حلیہ میں ہے۔
قد قطع الزندویسی فی روضتہ بالتفریع المذکور ۳؎ الخ قالہ بعد ماذکر انہ بناہ علی کون الکعبۃ وسط الارض وتردّدفی ثبوتہ ثم ایدہ بکلام الامام الرازی فی التفسیر وانہ من القضایا المتلقاۃ بینہم بالقبول اقول لا محل لتردد فان الارض کرۃ فلک ان تقدرایۃ نقطۃ منھا شئت وسطاوالکعبۃ احق بذلک فان اﷲ تعالٰی جعلھا مثابۃللناس ثم الفرع لایتوقف علیہ الاتری انا صورناہ بفرض موضع المصلی وسطا۔
زندویسی نے اپنی کتاب ''روضہ '' میں مذکورہ تفریع پر یقین کا اظہار کیا ہے الخ، انھوں نے یہ بات کعبہ کو وسطِ زمین پر قرار دینے کے بعد کہی اور اس کے اثباتمیں انھوں نے تردّد کیا ہے، پھر انھوں نے اس کی تائید امام رازی کے کلام جو ان کی تفسیر میں ہے سے فرمائی یہ بات مسلّمہ قضا یا میں سے ہے۔میں کہتا ہوں اس میں تردّد کی گنجائش نہیں کیونکہ آپ زمین کے جس نقطہ کو وسط قرار دیں وہ کعبہ ہے اس لئے کہ زمین گول ہے اسی لئے اﷲ تعالٰی نے کعبہ کو ''مثابۃ للناس'' فرمایاہے،پھر یہ تفریع کعبہ کے وسط ہونے پر موقوف نہیں ہے۔ آپ نے خیال نہیں کیا کہ ہم نے نماز کی جگہ کو وسط فرض کرتے ہوئے اس کی تصویر بنائی ہے۔(ت)
(۳؎ التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی الشرط الرابع مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص ۱۸۶)
نظم زندویسی پھر ذخیرہ پھر حلیہ میں :
قبلۃ اھل المشرق الی المغرب عندنا و قبلۃ اھل المغرب الی المشرق وقبلۃ اھل المدینۃ الٰی یمین من توجہ الی المغرب و قبلۃ اھل الحجاز الی یسار من توجہ الی المغرب ۱؎ اھ
ہمارے ہاں مشرق والوں کا قبلہ مغرب اور مغرب والوں کا مشرق ہے ، اور مدینہ والوں کا قبلہ مغرب کی طرف متوجہ ہونے والے کی دائیں طرف ہے، اور حجاز والوں کا قبلہ مغرب کی طرف متوجہ ہونے والے کی بائیں جانب ہے اھ،(ت)
(۱؎ التعلیق المجلی لما فی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی بحوالہ الشرط الرابع مطبوعہ مکبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۸۶)
اقول: کانہ اراد بالحجاز نحو الیمین والا فالمدینۃ السکینۃ سیدۃ الحجاز و سیدۃ البلاد العالم ثم من المعلوم قطعا ان قبلتھا الی یسار من توجہ الی المغرب اعنی الجنوب فکانہ انقلب فی البیان الیمین والیسار او تبدل المشرق بالمغرب ولعل من ھذاالقبیل واﷲ تعالٰی اعلم ما وقع من الخانیۃ من ان القبلۃ لا ھل الھندما بین الرکنالیمانی الی الحجر ۱؎ وکتبت علیہ اقول ھذا جھۃالجنوب ولایصح الالبعض بلاد الھند الی عرض الح ص تقریبا الا ان یقرأ الحجربالکسر وھوالحطیم ویراد بالرکن الیمانی الجدار الیمانی تماما و یخرج الغایتان فیبقی الجدار الشرقی الذی فیہ الباب الکریم او یقرأ الرکن علی معناہ ویدخل الغایتان ویراد التوزیع ای قبلۃ الھند متوزعۃ بین الجنوب والشرق والشمال وھذالبعید بعد قولہ ثم تعین لکل قوم منھا ای '' من الکعبۃ '' مقام فلاھل الشام الرکن الشامی ولاھل المدینۃ موضع الحطیم والمیزاب و لاھل الیمین الرکن الیمانی ولا ھل الھند۲؎ الخ فلیتامل واﷲ تعالٰی اعلم
اقول: انھوں نے حجاز سے گویا دایاں حصہ مرادلیا ہے ورنہ مدینہ منورّہ حجازکا مرکز اور سردار ہے بلکہ پورے عالم کا سردارہے۔ پھر قطعاً یہ معلوم ہے کہ مدینہ منورہ کا قبلہ مغرب کی طرف متوجّہ ہونے والے کی بائیں جانب یعنی جنوب ہے، گویا انہوں نے بیان میں( غلطی سے) یمن کی جگہ یسار کو ایک دوسرے سے بدل دیا، یا پھر مشرق اور مغرب کو ایک دوسرے سے بدل دیا واﷲتعالٰی اعلم ، ہوسکتا ہے کہ جو خانیہ میں مذکور ہے وہ بھی اسی طرح کی تبدیلی پر مبنی ہو کہ ہند والوں کا قبلہ رکن یمانی اور حجر کے مابین ہے۔ اور میں نے اس پر حاشیہ لکھا کہ یہ جنوبی جہت ہے ، اور یہ صرف بعض ہند جو کہ عرض الح صہ تقریباً ہے کا قبلہ ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر حجر کی بجائے حجرکسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا جائے یعنی حطیم کعبہ مراد لیاجا ئے۔ اور ''رکن یمانی'' سے مراد ساری یمانی دیوار مراد لی جائے اور پھر (خانیہ کی بیان کردہ لمبائی میں سے ) دونوں انتہاؤں یعنی یمانی دیوار، اور حطیم کو خارج کردیاجائے اور صرف ان دونوں حدوں کا درمیانی یعنی کعبہ کی شرقی دیوار جس میں کعبہ کا دروازہ ہے مراد لیا جائے ، یا پھر یوں کہا جائے کہ رُکن یمانی اپنے اصلی معنٰی پر باقی رہہے اور دونوں حدیں یعنی رکن یمانی اور حطیم کو شمار میں داخل مان کر ہند کے قبلہ کو پھیلا دیا جائے اور یوں کہا جائے کہ ہند کا قبلہ جنوب مشرق او رشمال میں پھیلا ہوا ہے لیکن یہ احتمال ان کے ا س بیان کے بعد بعید ہے کہ پھر کعبہ کا ہر حصہ ایک قوم کے لئے متعین ہے، شام والوں کے لئے رکنِ شامی اور مدینہ والوں کےلئے حطیم اور میزاب کاحصہ ، یمن والوں کے لئے رکن یمانی اور ہند والوں کے لئے الخ مذکورہ یعنی رکنِ یمانی اور حجر کا درمیان ہے، غور سے کام لو ، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱/۳۳) (۳؎ حواشی الفتاوٰی الخانیہ )
اقول: یہی قول نقل و عقل و شرع و عرف سب سے مؤید اور یہی اضبط الاقول واعدال واصح و اظہر و اسد۔ اوّلاً یہ خود اما م مذہب سے منقول وکلام الامام امام الکلام (امام کاکلام ، کلام کا امام ) ؎
اذقال الامام فصد قرہ فان القول ماقال الامام
(جب امام فرمائے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ صحیح قول وہی ہے جو امام نے فرمایا ہے)