Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
23 - 185
فاقول ثالثا:  بقی فی شرحہ عبارۃ الدرر شیئ وھو جعل ''علی استقامۃ'' متعلقا ''بیصل'' وانت تعلم انہ کما یجب الاستقامۃ بھذاالمعنی فی الخط الخارج من الجبھۃ کذلک فی الخط المار بالکعبۃ عرضا وعلی جعلہ متعلقابیصل لا یبقی ایماء الی استقامۃ المار و یبصر قولہ بحیث تحصل قائمتان مجرد بیان لقولہ علی استقامۃ فالاصوب عندی جعلہ متعلقا بالمار لیتم البیانان ولیصیرتاسیسا ولیتعلق بالقریب ھذاماکان یتعلق بالحمد الاول وحملہ الفاضل الحلیمی فی حواشی الدرر علی بیان التقریبیۃ حیث قال (قولہ بحیث یحصل قائمتان) اطلقہ فشمل ان تینک القائمتین یتساوی بعد ھماعن العینین الی جدارالکعبۃ اولافالاول ھوالمراد فی التوجہ الی العین ، والثانی فی التوجہ الی الجھۃ وھوالمراد ھنا فقط ''ثم قال'' حاصلہ ان تقع الکعبۃ بین خطین۱؎ الی اٰخر ماقدمنا عنہ فصرح بالمراد و جعل حاصل الوجھین واحدا۔
فاقول ، ثالثا دُرر کی عبارت کی شرح کرتے ہوئے محشی علیہ رحمۃ نے جو فرمایا اس میں ابھی کچھ امرباقی ہے وہ یہ کہ انہوں نے فرمایا کہ دُرر کی عبارت میں''علی استقامۃ'' کا تعلق ''یصل'' کے لفظ سے ہے حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ کعبہ کا استقبال کرنے والے نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط میں جس معنی میں استقامت ضروری ہے 

اسی معنی میں کعبہ پر سے عرضی طور پر گزرنے والے خط میں بھی استقامت ضروری ہے اور ''علی استقامۃ'' کا تعلق''یصل '' سے کرنے میں کعبہ پر سے سیدھے گزرنے والے خط کی طرف اشارہ باقی نہ رہے گا اور اسی طرح دُرر کی عبارت میں ''بحیث تحصل قائمتان''کو دیکھا جائے تو وہ صرف''علی استقامۃ'' کا بیان بن کر رہ جائیگا لہذا میرے نزدیک بہتر یہ ہوگا کہ ''علی استقامۃ'' کا تعلق ''یصل'' کی بجائے لفظ ''المار' ' سے کیا جائے تاکہ دونوں بیان تام ہو جائیں اور تاسیس یعنی فائدہ بھی حاصل ہو جائے نیز اس کا تعلق قریب سے بھی ہو جائے گا ، یہ مذکورہ ساری گفتگو سے پہلے محمل سے متعلق ہے۔جبکہ فاضل حلیمی نے دُرر کی شرح کرتے ہوئے اس کی عبارت کا محمل سمتِ حقیقی کی بجائے سمت ِتقریبی قرار دیا (یعنی عین سمتِ کعبہ کی بجائے انھوں نے اس کو جہت کعبہ پر محمول کیا جہان انہوں نے کہا ''قولہ بحیث تحصل قائمتان''اس کو عام رکھا ہے لہذا وہ دونوں قائمے جن کا فاصلہ دونوںآنکھوں سے جدا کعبہ تک مساوی ہو گا یا نہ ہوگا، مساوی ہوتو اس سے عین کعبہ کی طرف توجہ مراد ہے ، اوریہاں یہی آخری یعنی فقط جہت کی طرف توجہ مراد ہے، پھر انہوں نے فرمایا کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ کعبہ دونوں خطوں کے درمیان واقع ہو الخ جہاں تک ہم نے پہلے ان سے ذکرکر دیا ہے غرضیکہ انہوں نے مراد کی تصریح کردی ہے اور دونوں وجہوں کا ماحاصل انہوں نے ایک ہی قرار دیا۔
(۱؎ حاشیۃ الدرر للمولٰی عبدالحلیم    باب شروط الصلوٰۃ    مطبوعہ مطبع عثمانیہ دار سعادت بیروت    ۱/۵۲)
اقول:  وھذااولی بوجوہ لقولہ فی صدرہ استقبال عین الکعبۃ للمکی وجھتھالغیرہ ان یصل۱؎الخ فافاد انہ الآن بصددبیان التقریبیۃ لاالحقیقۃ الواقعۃ علی العین ولانہ قال بعدہ اونقول ھوان تقع الکعبۃ الی اٰخرما تقدم فی القول الثالث ولاشک انہ للتقریب وظاہر قولہ اونقول ان محصلھما واحد ولان الجبین یکون علی ھذا بمعناہ الحقیقی وکذلک فھم العلامۃ الطحطاوی فصور بیان الدد ھکذ۔
اقول: ان کا یہ بیان کئی طرح سے بہتر ہے ایک وجہ تو ماتن کا یہ قول ہے کہ مکّی کےلئے عین کعبہ کا استقبال اور غیر مکّی کےلئے جہت کعبہ کا استقبال ہے الخ۔لہذا وُہ بتارہے ہیں کہ اب سمت تقریبی کو بیان کر رہے ہیں(یعنی وجھتھا لغیرہ الخ) نہ کہ سمتِ حقیقی جس کا وقوع عین کعبہ پر ہے، اور اسلیئے بھی کہ انھوں نے بعد میں یہ کہا ''یا ہم یوں کہیں کہ ان تقع الکعبۃ الخ'' جیسا کہ تیسرے قول میں گزرا ہے، اس بیان کے بارے میں شک نہیں کہ یہ سمتِ تقریبی سے متعلق ہے، نیز ماتن کا قول ''اونقول'' ظاہراً بتا تا ہے کہ دونوں کا ماحاصل ایک ہے اور نیز اس مراد پر جبین کا حقیقی معنی مراد ہوگا۔ علامہ طحطاوی نے اسکو اسی طرح سمجھا اور انہوں نے دُرر کے بیان کے مطابق تصویر یُوں بنائی۔
6_4_1.jpg
 (۱؎ حاشیۃ الدرر للمولٰی عبدالحلیم     باب شروط الصلوٰۃ        مطبوعہ مطبع عثمانیہ دار سعادت بیروت        ۱/۵۲)
اقول:  ولیس المراد حدوث الخطین فی حالۃ واحدۃ حتی یرد علیہ انہ مع حمل الجبین علی طرفی الجبھۃ عدل الی جعلہ لبیان التحقیق حیث اوصل الخطین الی الکعبۃ عمودین وانہ قد علمت مما قد منا انالخط الخارج من الجبین لا یخرج علی استقامۃ الجبھۃ بل منحرفا من الجبین الایمن یمینا ومن الایسر یسارا وانہ لایمکن ان یکون کلا الخطین الخارجین من الجبینین عمود اعلی خط مستقیم بل المراد عندی تصویر التیامن والتیاسرفالاول مثلاً جبین المصلی الایمن عندانحرافہ عن الکعبۃ یساراوالثانی جبینہ الایسرحین انحراف یمینا، وایضاح تصویرہ ھکذا ( تصویر بنائیں) ینبغی ان یفھم ھذا المقام ، اماقولہ رحمۃ اﷲ علیہ فی بیان تصویرہ نقلا عن بعض الافاضل، فقد حصل من الخط المار بالکعبۃ قائمۃ ومن الخط الخارج من جبین المصلی قائمۃ اخری وحدث منھما زاریتان متساویتان ۱؎ اھ۔
اقول:  علّامہ طحطاوی کے بیان میں ،دونوں خطوں کا ایک شکل پر ہونا ضروری نہیں ، ورنہ یہ اعتراض پیدا ہوگا کہ انہوں نے جبین کا حقیقی معنی یعنی پیشانی کی دونوں طرفیں (پہلو) مراد لینے کے باوجود جبین سے نکلنے والے خطوں کو عین کعبہ پر بصورت عمود(سیدھا) گرا کر سمتِ حقیقی کو بیان کیا ہے حالانکہ ہمارے پہلےبیان سے آپ معلوم کرچکے ہیںکہ جبین (پیشانی کے پہلو) سے نکلنے والا خط پیشانی کے وسط سے سیدھا نہیں نکلتا بلکہ دائیں جبین سے نکلنے والا خط دائیں طرف اور بائیں جبین سے نکلنے والا خط بائیں طرف نکلے گا۔اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ دونوں جبینوں سے نکلنے والے خطوط عمودی طور پر خط مستقیم پر نکلیں بلکہ میری رائے میں ان کا یہ بیان التیامن اورالتیاسر کی صورت کا بیان ہے۔کہ مثلاً التیامن یہ ہے کہ نمازی دائیں جبین کا کعبہ سے بائیں طرف انحراف ہوجائے اور التیاسر یہ ہیکہ اس کی بائیں جبین کا کعبہ سے دائیں طرف انحراف ہو جائے تو اس صورت میں دونوں جبینوں کے خط مستقیم شکل میں کعبہ کی طرف ہوں گے۔ان کی تصویر کو یوں سمجھنا مناسب ہے
6_5_2.jpg
 ایسے مشکل مقام کو یُوں سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن علّامی طحطاوی رحمۃ اﷲ علیہ کا وُہ قول جوانہوں نے اپنی بنائی ہوئی تصویر کے بارے میں ایک فاضل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے زاویہ قائمہ حاصل ہوا اور اسی طرح نمازی کی جبین سے نکلنے والے خط سے دوسراقائمہ حاصل ہُوا اور ان دونوں خطوں سے دو مساوی زاویے پیدا ہوئے۔اھ۔
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار        باب شرو ط صلوٰۃ    مطبوعہ دارامعرفۃ بیروت        ۱/۱۹۷)
فاقول:  ھذا وان کان فی حکایتہ غنی عن نکایتہ لکن لاازراء فیہ بھم فانھم رحمھم اﷲ تعالٰی لم یکن لھم اشتعال بتلک الفنون وقد کانوامعتنین بمایھم و یعنی فرحھم اﷲ تعالٰی ورحمنا بھم رحمتہ تکفی وتغنی اٰمین!
فاقول؛(تو میں کہتا ہوں) اگر چہ ان کے اس تکلف کی ضرورت نہ تھی ،لیکن اس سے ان پر طعن نہیںآتا کیونکہ ان حضرات کا اس فن سے خاص شغل نہیں ہے وُہ صرف اپنے مقصد اور ضروری مراد کو بیان کرنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اﷲ تعالٰی ان پر اور ہم پر اپنی کفایت کرنے والی رحمت فرمائے، آمین!
ثم اعلم ان الجبینین منتھیان فی الجانبین الی محاذاۃ الحاجبین، قال فی القاموس الجبیان حرفان مکتنفا الجبھۃ من جانبیھا فیما بین الحاجبین مصعد الی قصاص الشعرہ ۱؎۔
پھر واضح ہو کہ دونوں جبینیں دونوں ابروؤں کے برابر جانبین پر ختم ہوتی ہین ۔قاموس میں ہے : ''جبینیں ''پیشانی کو دونوں طرف سے گھیر اؤ کرنے والی دو طرفیں ہیں جو دونوں ابروؤں سے بلند ہو کر پیشانی کے بالوں تک پہنچتی ہیں اھ ۔(ت)
(۱؎ القاموس المحیط فصل الجیم باب النون مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۴ / ۲۱۰)
Flag Counter