Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
22 - 185
اوّلاً موضع علی خط الاستواء فعرض الموقع ھوالفضل بینہ و بین عرض البلد لانتفائہ جیبہ ۵۶۳۷۵۴۶ء۹ ویبقی بتفریقہ منالمحفوظ ظل الانحراف الشمالی ۳۴۶۹۲۴۸ء۹ قوس ہحہ ل تمامھا عہحہ الح فمن حفظ الوجھۃ فقد انحراف عن القبلۃ اکثر من سبع وسبعین درجۃ وھو بان یسمی مجانبااحق من ان یسمی مواجھا اذلم یبق جنبہ الحقیقی و بین الکعبۃ الا اقل من ثلث عشرۃ درجۃ و بینھا و بین وجھہ اکثر من ۷۷درجۃ وان انحرف عن تلک الوجھۃ الی یمینہ اعنی الشمال اکثرمن ۷۷ درجۃ فقد اصاب القبلۃ بھذاالانحراف العظیم فانتقض ذلک طرداوعکسافی انتقال اقل من اثنتین و عشرین درجۃ۔

اوّلاً خط استواء پر ایک موضع ہو تو عمود کے وقوع کی جگہ کا عرض منفی ہونے کی وجہ سے اس کے اور عرض البلد کے درمیان زائد ہوگا،جس کا جیب ۸۶۳۷۵۴۶ء۹ہوگا اس کو محفوظ سے تفریق کرنے پر شمالی انحراف کا ظل۳۴۶۹۲۴۸ء۹ باقی رہےگا جس کا قوس حہ ل مکمل عرحہ الح ہو گا، پس اب جس نے اپنی جہت کو محفوظ رکھا اس کا قبلہ سے ۷۷ درجے سے زائد انحراف ہوگا تو اسکو قبلہ رؤ قراردینے کی بجائے قبلہ سمت سے پہلو پھیرنے والا قرار دینا بہتر ہے کیونکہ اس کے حقیقی پہلو اورکعبہ کے درمیا ن صرف ۱۳درجے سے بھی کم باقی رہے گا، اور کعبہ اور اس کے چہرے کے درمیان ۷۷ درجے سے زائد ہوگا ، اب اگر وہ اس جہت سے اپنے دائیں یعنی شمال کی طرف ۷۷ درجے سے زیادہ انحرا ف کرے تو تب بھی اس عظیم انحراف سے کعبہ کی جہت کو پائے گا، تو یوں ۲۲ درجے سے کم انتقال ہے اسکی جامعیت اور مانعیت ختم ہو جائیگی۔
ولیکن ثانیاً موضع عرضہ م حہ نح شمالیا لیکون انتقال الشمالی مثل ذلک جنوبی فتفاضلہ مع عرض الموقع مثل ذلک جنوبی فتفاضلہ مع عرضاالموقع مثلہ فجیبہ جیبہ والعمل العمل یکون انحراف القبلۃ ھنا من نقطۃ المغرب الی الجنوب عرض الح و لزم ما لزم۔
ثانیاً ایک ایسا موضع جس کا عرض مح حہ نح شمالی ہوتا کہ شمالی اور جنوبی انتقال ایک جیسا ہو جائے تو اس کا تفاضل عمود کے موقع کے عرض سمیت اسی کے برابر ہوگا تو دونوں کاجیب اور عمل ایک ہی ہوگا تو یہاں سے قبلہ کا انحرا ف مغرب کے نقطہ سے جنوب کی جانب عرصہ الح ہو گا اور وہی خرابی لازم آئیگی جو آئی ۔
ولیکن ثالثاً عرضہ الجنوبی م حہ نح فمجموعہ مع عرض الموقع سلصہ الرجیبہ ۹۵۵۳۰۷۳ء۹ نفروقا من المحفوظ = ۹۵۵۳۷۲۱ء۸ قوس فانظل لاحہ ط تمامھا قدصہ نا فقد انحرف القبلۃ من نقطۃ المغرب خمس و ثمانین درجۃ ولم یبق الی نقطۃ الشمال الاخمس درج فان حفظ الوجھۃ بطلت صلاتہ قطعا وان توجہ الی القطب الشمالی صحت یقینا وان اخذنا مابین الطولین اصغر من ذلک یظھر التفاوت اکبر من ذلک وبالجملۃ فتلزم استحالات لاتحصی فالحق ان لیس فی عبارۃالدرر ولا المعراج شیئ مما ذکر ولا مافھم من جواز الانتقال علی ذلک الخط مھما شاء، ولا مافھم من مخالفتھما لتجویزالانحراف الیسیر ولامافھم من اشتراط حفظ الوجھۃ لبقاء الجھۃ ،ولا ما فھم من افادتھما فسادالصّلوٰۃ ان احدث الخطان زاویتین مختلفتین بل الامر فیہ کما اقول انھم انمافرضواالانتقال علی القاطع لہ علی قائمتین ای علی نصف نھار الموضع المفروض المسامت حقیقۃ لیحصل بالانتقال الانحراف علی عکس مافھم العلامۃ المحشی رحمۃ اﷲ تعالٰی وذلک لانہ لو جعلت الکعبۃ مرکزا ورسمت ببعد مستقبلھا دائرۃ وانتقل ھو علیھا حتی طاف الدنیاوعاد الی مقامہ الاول ای علی الفرض لم یزل الاستقبال الحقیقی ولم یحصل انحراف ما اصلا و مقصود ھم ان ینبھوا علی جواز الانحراف الیسیر ففرضواالخط کما مروذکرواانہ لایجاوز الجھۃ بالانتقال علیہ الی فراسخ کثیرۃ وقدصدقوا فی ذلک ولم یقدروالفراسخ لانھا تتبدل بتبدل البعد کما تقدم ولو راموا تسویغ الانتقال مطلقا لما قیدو بفراسخ وقالو لایزول بالانتقال کم ما کان قلتم فھذا ماکان یجب التنبہ لہ و باﷲ التوفیق ولیرجمع الی ماکنا فیہ۔
ثالثاً ایک ایسا موضع ہو جس کا جنوبی عرض مہ حہ نح ہوتو اس کا مجموعہ عمود کے موقع کے عرض سمیت سل حہ الر ہو گا جس کا جیب ۹۵۵۳۰۷۳ء۹ محفوظ سے تفریق شدہ = ۹۵۵۳۷۲۱ء۸قوس ہو گا یہ ظل لا حہ ط جس کا کل قدناحہ ہوگا اس صورت میں نقطہ مغرب سے قبلہ کا انحراف ۸۵درجے ہوگا، اور نقطہ شمالی کی طرف صرف پانچ درجے باقی رہے گا ، پس اگر وُہ اپنی اسی توجہ کو محفوظ رکھے تو اس کی نماز لازمی طور پر باطل ہوگی ، اور اگر وہ قطبِ شمالی کی طرف پھر گیا تو اس کی نماز یقینا درست ہوگی اور اگر ہم دونوں طولوں میں اس سے بھی کم فاصلہ فرض کریں تو تفاوت اس سے بھی بڑھ جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس سے بے شمار خرابیاں لازم آئیں گی۔ تو حق یہ ہے کہ دُرر اور معراج کی عبارت میں محشی رحمۃ اﷲ تعالٰی کے ذکر کردہ امور میں سے کچھ بھی نہیں ، نہ اس خط پر حسبِ خواہش انتقال کا جواز ، اور نہ ہی معمولی انحراف کے جواز کی ان دونوں سے مخالفت اور نہ ہی بقاء جہت کے لئے توجہ کہ محفوظ رہنے کی شرط اور نہ ہی مختلف زاویے والے دو خطوں کے پیدا ہونے سے ان دونوں حضرات کی طر ف سے نماز کے فساد کا افادہ ، غرضیکہ محشی رحمۃ اﷲ تعالٰی کی فھم کردہ ان مذکورہ چیزوں میں کوئی بھی ان دونوں حضرات کی عبارت میں موجود نہیں ، بلکہ معاملہ یوں ہے جیسے میں کہتا ہوں (اقول) انہوں نے دو قائموں کی شکل میں اس کو قطع کرنے والے خط پر سے انتقال فرض کیا جس کا مطلب یہ ہے کعبہ سے حقیقی سمت والے مقام مفروض پر خاص نصف ِنہار ہو جس سے سمت میں کچھ انحراف حاصل ہوسکے بالعکس اس کے جو علّامہ محشی الرحمۃ نے سمجھا، یہ اس لئے کہ اگر کعبہ کو مرکز قرار دے کر اس کی طرف استقبال کرنے والے کے فاصلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے دائرۃ بنایا جائے، اور نمازی اس دائرہ پر انتقال کرتا چلاجائے حتٰی کہ ساری دنیا کا چکّر بھی لگائے اور پہلے مقام پر لوٹ آئے تب بھی اس کا استقبال حقیقی باقی رہے گا اور ذرا بھی انحراف نہ ہوگا اور مذکورہ انحراف ذکر سے ان کا مقصد معمولی انحراف کے جواز پر تنبیہ کرنا ہے تو اس لئے انھوں نے مذکورہ خط پر کئی فرسخ تک انتقال کرنے والے کی جہت تبدیل نہ ہوگی اور یہ بات انھوں نے درست فرمائی ، ساتھ ہی اُنھوں نے فرسخ کی تعداد معین نہ فرما کر یہ واضح کیا کہ یہ تعداد کعبہ کے دائرہ والے خط کے بُعد پر موقوف ہے یعنی بُعد کی تبدیلی سے فرسخ کی تعداد بدل جائے گی جیسے کہ گزر چکا ،اور اگر وہ عام ہر طرح کا انتقال مراد لیتے تو پھر بیان میں فراسخ کی قید ذکر نہ کرتے بلکہ یوں کہتے ''جتنا تم چاہو انتقال کرو اس سے جہت میں تبدیلی نہ ہوگی'' یہ وُہ ہے جس پر تنبیہ ضروری تھی، جبکہ توفیق صرف اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے اب ہمیں اپنی بحث میں واپس لوٹنا چاہیئے۔
Flag Counter