| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
اوّلاً لیس فی عبارۃ الدرر ذکر الانتقال ھھنا اصلا فضلا عن حصول قائمتین بعد الانتقال وماذکر بعد فی التفریع من التیامن والتیاسر فلیس فیہ ایض اثر من ذلک ولا ھو یستلزم الانتقال بل و لا یحصلان لک بالانحراف عن المحاذات وانت قائم مقامک وبہ عبر فی الدررحیث قال فیعلم منہ انہ لو انحرف عن العین انحرافا۱؎ الخ۔
اوّلاً : یہ کہ دُرر کی عبارت میں سرے سے انتقال کا ذکر ہی نہیں ہے چہ جائیکہ انتقال کے بعد وہاں دو۲ قائموں کے حصول کا ذکر ہو، اور اس نے بعد میں تفریع کے طور دائیں اور بائیں ہونے کا جو ذکر کیا ہے اس میں بھی اس کا کوئی نشان نہیں اور نہ ہی وہ انتقال کو مستلزم ہے بلکہ جب تو اپنی جگہ کھڑا رہ کرمحاذات سے انحراف بھی کرے تب بھی دو قائمے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اسی بات کو دُرر نے تعبیر کرتے ہوئے کہا ـ''پس اس سے معلوم ہوا کہ عین کعبہ سے کچھ انحراف کرے۔الخ
(۲؎ ردالمحتار مبحث استقبال القبلۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۲۸۸)
و ثانیاً : المعراج وکل من ذکرنا من متابعیہ انما فرضوا خطا من جبین مستقبل العین ماراالی الکعبۃ واٰخر قاطعالہ علی قائمتین ثم فرضوا الانتقال یمینا ویسارا بفراسخ کثیرۃ علی ھذا القاطع ولم یشرط ھو ولا احد منھم حدوث القائمتین بعد الانتقال۔
ثانیاً یہ کہ معراج اور اس کے مذکورہ متبعین حضرات نے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کی جبین سے خط نکل کر کعبہ کی طرف جائے اور دوسراخط جو اس کو دو قائموں زاویوں پر قطع کرنے کو ذکر کیا ہے اور پھر ان لوگوں نے اس قاطع خط پر دائیں بائیں کئی فرسخ تک انتقال کو فرض کیا ہے، اس کے باوجود معراج اور اس کے متبعین نے انتقال کے بعد ۲دو قائمہ زاویوں کی شرط نہیں لگائی۔
وثالثاً :لو شرط ذلک لم یصح لان الانتقال لا یمکن علی خط مستقیم فان القاطع انما یمر فی جانبی المستقبل بعد موضع قدمہ فی الھواء لکون الارض کرۃ وانما ینتقل المنتقل علی دائرۃ فھوان حفظ توجھہ حین استقبالہ عین الکعبۃ وانتقل علی تلک الدائرۃ یمیناً وشمالاً فلا شک ان الخط الخارج من جبھتہ لایقطع الخط المار بالکعبۃ عرضا علی قائمتین کما لا یخفی۔
ثالثاً یہ کہ اگر یہ شرط لگائی جائے تو درست نہیں ہوگی کیونکہ انتقال خط مستقیم پر ممکن نہیں ہے اس لئے کہ قطع کرنے والا خط کعبہ کا استقبال کرنے والے کے دائیں اور بائیں دونوں طرف فضا میں ایک قدم کے فاصلہ سے گزرے گا کیونکہ زمین کروی یعنی گول ہے اور انتقال کرنے والا صرف ایک دائرہ پر انتقال کرے گا ، اب اگر وہ عین کعبہ کا استقبال کرتے ہوئے اپنی جہت کو محفوظ رکھتے ہوئے اس دائرہ پر دائیں یا بائیں انتقال کرے تو یقینااس کی پیشانی سے نکلنے والاخط کعبہ پر سے عرض میں گزرنے والے خط کو دو۲ قائموں پر قطع نہیں کرے گا،کما لا یخفی۔
(۱؎ الدرر الحکام فی شرح غرر الاحکام باب شروط الصلوٰۃ مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت مصر ۱/۶۰)
ورابعاً: یصح ذلک اولا یصح فلن یصح قولہ مھما تاخر یمینا او یسارا وانما ذکرالمعراج ومن معہ بقاء الجھۃ بالانتقال علیہ بفراسخ کثیرۃ وھذا صحیح ولم یدعواانہ مھما انتقل لم یتبدل کیف والواغل فی الانتقال علیہ لا یبقی مواجھا للکعبۃ لاشک و سیستبین لک۔
رابعاً یہ شرط صحیح ہو یا نہ ہو مگر شامی کا یہ کہنا ہر گز درست نہ ہوگا کہ ''جتنا بھی دائیں بائیں ہٹ جائے'' معراج اوراس کے متبعین نے صرف یہ ذکر کیا ہے کہ دائیں بائیں کئی فرسخ تک منتقل ہونے والے کی جہت باقی ہوگی اور یہ بات صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے یہ دعوٰی نہیں کیا کہ جتنا بھی منتقل ہوجائے تب بھی جہت نہ بدلے گی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب انتہائی طور پر انتقال ہوگا تو یقیناً وُہ کعبہ کی جہت پر نہ رہے گا ، اور عنقریب یہ تجھ پر واضح ہو جائے گا۔
وخامساً لما ارتکز فی ذھنہ رحہ اﷲ تعالٰی ان شرط بقاء المواجھۃ وصول خط الجھۃ الی ذلک الخط المعترض بالکعبۃ عمودا توھم ان لو ترک المنتقل تلک الو جھۃ وانحراف قلیلا یمینا او شمالا لم یصح لکون الزاویتین اذ ذاک حادۃ و منفرجۃ کما قدم فزعم ان کلام المعراج والدرر ھذا مخالف لاجازۃ الانحراف القلیل المصرح بھا فی غیر ما کتاب وصرح بہ اذقال، والحاصل ان المراد بالتیامن و التیاسر الا نتقال عن عین الکعبۃ لی جھۃ الیمین اوالیسار لا الانحراف،لکن وقع فی کلامھم ما یدل علی ان الانحراف لایضرثم۱؎ نقل کلام القھستانی و شرح العلامۃ الغزی لزاد الفقیرومنیۃ المصلی عن امالی الفتاوٰی والعجب ان نسی مانقل بنفسہ من الدرر فان الذی نقل ھھنا عن القھستانی عین ما قدم عن الدررمن ان الانحراف الیسیرالذی لاتزول بہ المقابلۃ بالکلیۃ لا یضر فکیف یکون کلام الدرر مخالفالہ۔
خامساً یہ کہ جب محشی رحمۃ علیہ کے ذہن میں یہ بات مرکوز ہو چکی ہے کہ کعبہ کی جہت کی بقاء کے لئے یہ شرط ہے کہ نمازی کی پیشانی سے نکلنے والا خط ، کعبہ پر سے عرض میں گزرنے والے خط کو عمودی شکل میں قطع کرے تو ان کو وہم ہوا کہ اگر منتقل ہو نے والے نے مذکو رہ معیار والی جہت کو چھوڑ دیا اور تھوڑا سا بھی دائیں بائیں اس نے انحراف کیا تو استقبال صحیح نہ ہو گا ، کیونکہ اس صورت میں (مذکورہ دونوں خطوں کے ملنے سے ) دو قائمہ زاویے نہیں بلکہ ایک حادہ اور ایک منفرجہ حاصل ہوں گے ، جیسا کہ قبل ازیں وہ ذکر ہو چکے ہیں۔ اور انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ معراج اور دُرر کا یہ کلام اس قلیل انحراف کی اجازت کے خلاف ہے جس کا صراحۃً متعدد کتب میں ذکر ہے۔اور اُنھوں نے اس کی یہ کہہ کر تصریح کردی کہ دائیں بائیں ہونے سے مرا دکا حاصل یہ ہے کہ عین کعبہ سے دائیں یا بائیں جہت انتقال کرنا ہے نہ کہ انحراف کرنا مراد ہے لیکن اس کے باوجود فقہاء کی کتب میں ایسا کلام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انحراف قلیل مضر نہیں ہے، اس پر پھر انہوں نے قہستانی زادالفقیرکی شرح علّامہ غزی اور امالی الفتاوٰی کے حوالہ سے منیۃ المصلی کی عبارات نقل کیں۔ تعجّب ہے کہ علامہ شامی (محشی) رحمۃ اﷲ تعالٰی دُرر سے خود اپنی نقل کردہ بات کو بھول گئے ، کیونکہ اُنھوں نے یہاں قہستانی سے جو یہ نقل کیا ہے کہ ایسا قلیل انحرا ف جس سے کعبہ کا مقابلہ کلیۃً زائل نہ ہو مضر نہیں ہے۔ یہ بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو وُہ خود پہلے دُرر سے بیان کر چکے ہیں ، تو دُرر کا کلام قہستانی کے خلاف کیسے ہو گا۔
(۱؎ ردالمحتار مبحث استقبال القبلہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۲۸۸)
سادساً لیس الامرکما فھم بل انحراف وسط جبھۃ المستقبل عن مسامتۃ الکعبۃ لازم الانتقال والخروج عن سطح الجدار الشریف ولوحفظ فی انتقالہ تلک الوجہۃ لاتی علی ما یخرجہ عن الجہۃ بالکلیۃ ولو انحرفا ان تلک وجہۃ انحرافا مناسبا لحفظ التوجہ الی الکعبۃ فکلامہ منقوض طرداوعکسا، ولیکن لبیان ذلک موضع شرقی مکۃ المکرمۃ بین طولیھما نحو من ثلاثمائۃ وخمسین میلا اعنی خمس درج و عرضھا کاحہ الط نحو امن عرض مکۃ المکرمۃ علی ماثبت بالقیاسات الجدیدۃ کاحہ الہ فاذن تکون قبلتہ نقطۃ المغرب سواء بسواء کمالا یخفی علی المھندس وذلک لان فی اللوغار ثمیات ظل عرض مکۃ۵۹۳۵۴۲۳ء۹جیب تمام ما بین الطولین ۹۹۸۳۴۴۲ء۹ = ۵۹۵۱۵۸۱ء۹ظل عرض موقع العمود الواقع من نقطۃ المغرب علی نصف نھار البلد مارا بسمت راس مکۃ المکرمۃ قوسہ کاحہ الط مساویۃ لعرض البلد فیکون العمود نفسہ دائرۃ سمتیۃ مرت سمتی راس البلدومکۃ ثم نقول ظل ما بین الطولین۹۴۱۹۵۱۸ء۸+جیب تمام عرض موقع العمود ۲۷۶+۹۶ء۹=۹۶۰۶۷۹۴ء۱۸ نجعلہ محفوظا وننتقل علی نصف النھار ھذا یمینا و شمالا مع حفظ الوجہ اعنی بقاء القطب الشمالی علی منکب الایمن فلیکن:
سادساً یہ کہ معاملہ وُہ نہیں جیسا کہ انہوں نے سمجھا بلکہ کعبہ کا استقبال کرنے والے کی وسط پیشانی کا سمتِ کعبہ سے انحراف دائیں بائیں انتقال اور کعبہ کی دیوار کی سطح سے خروج کو لازم ہے، اب اگر محشی رحمۃ علیہ نمازی کے دائیں بائیں انتقال میں اس زاویۃ قائمہ والی توجہ پر قائم رہتے ہیں تو اس صورت میں ان سے نمازی کو جہتِ کعبہ سے بالکلیہ خارج کردینے والی بات صادر ہو رہی ہے، اوراگر وہ منتقل ہونے والے کے لئے (اس قائمہ والی بات) سے انحراف کرکے کعبہ کی طرف توجہ کی حفاظت کے لئے (منتقل ہونے والے کعبہ کی طرف)انحراف مراد لیں تو اس صورت میں ان کا کلام جامع اور مانع نہ رہے گا، اس کا بیان یہ ہے کہ مکہ مکرمہ سے مشرق میں واقع ایسا مقام کہ اس کے اور مکہ مکرمہ کے دونوں طولوں میں ساڑھے تین سو میل یعنی پانچ درجے ہو، اور اس مقام کا عرض کاحہ الط مکہ مکرمہ کے عرض جتنا ہوگا جیسا کہ جدید قوانین میں ثابت ہے کہ وہ کاحہ الط ہے ، تو اس صورت میں اس مقام کا قبلہ ٹھیک نقطہ مغرب ہوگا جو کہ ریاضی دان حضرات پر مخفی نہیں، یہ اس لئے کہ لوگارثم میں عرض مکہ مکرمہ کا ظل ۵۹۳۵۴۲۳ء۹ دونوں طولوں میں مکمل جیب ۹۹۸۳۴۴۲ء۹ = ۵۹۵۱۵۸۱ء۹ ہے نقطہ مغرب سے گرنے والے عمود کے مقام کاظل ، نصف النہار کے وقت عین مکۃ المکرمہ کی سمت پر سے گزرے ، تو اس کا قوس کاحہ الط ہو گا جو عرض بلد کے مساوی ہوگا اس طرح خود عمود ایک دائرہ سمتی ہو گا جور أس البلد اور مکہ مکرمہ کی دونوں سمتوں سے گزرے گا۔ پھر ہم کہیں گے کہ دونوں طولوں کا ظل ۹۴۱۹۵۱۸ء۸+عمود کے موقع کے تمام عرض کا جیب ۲۷۶+۹۶ء۹ =۹۶۰۶۷۹۴ء۱۸ ہے جس کو ہم محفوظ کرلیں گے اور ہم دائیں کندھے پر قطب شمالی کو باقی رکھ کر اپنے جہت کو محفوظ بنا کر اس نصف النہار پر دائیں اور بائیں منتقل ہوں تو: