Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
20 - 185
وثالثا : سقوط مازعم العلامۃ الشامی من التغایر فی تصویرہ وتصویرالمنح و من العجب انہ رحمہ اﷲ تعالی معترف بان عبارۃ المنح حاصل ماقدمناہ عن المعراج وقد تقدم فی المعراج مرورہ علی الکعبۃ فمن این نشأ التغایر وانما عبارتہ عین عبارۃ المعراج لا تفاوت بینھما الابان المعراج ذکر المرور عن الکعبۃ فی الجزاء والدرر اوردہ حالا لانہ کان بصدد بیان التقریبیۃ فاخذ الحقیقۃ فی الفرض والتصویر۔
ثالثاً : یہ کہ علامہ شامی کا یہ خیال کہ علامہ حصکفی اور منح کی تصویر میں تغایر ہے۔ یہ خیال ساقط ہوا۔ اور تعجب ہے کہ علامہ شامی خود معترف ہیں کہ منح کی عبارت معراج کی بیان شدہ عبارت کا ماحاصل ہے ،جبکہ معراج کی گزشتہ عبارت میں خط کا کعبہ پر سے گزرنا مذکور ہے پھر تغایر کہاں پیدا ہوا حالانکہ اُن کی اور معراج کی عبارت ایک ہے، دونوں کے درمیان صرف اتنا فرق ہے کہ معراج نے کعبہ پر سے خط گزرنے کو بطور جزاء ذکر کیا ہے اور دُرر نے اس کو بطور حال ذکر کیا ہے کیونکہ وہ صرف سمت تقریبی کو بیان کر رہے ہیں اور حقیقی سمت کا اظہار انہوں نے صرف فرضی طورپر اور تصویر میں کیا ہے۔
ورابعاً  : اعجب منہ قولہ کان علیہ ان یحذف قولہ من تلقاء وجہ الٰی اٰخر الخ ولاادری کیف یتم بیان التقریب باسقاط ھذہ الکلمات مع عدم ذکرہ عندکم الانتقال علی ذلک الخط یمینا وشمالا وان استنبط من قولہ فھذا معنی التیا من کما فعلت شعری ماذایضرہ ذکر الاخراج من تلقاء وجہ المستقبل حقیقۃ فلیس الابفرض التحقیق اولاثم تقدیر الانتقال عنہ۔
رابعاًاس سے بھی عجیب ان کا یہ قول ہے کہ علّامہ حصکفی کےلئے ضروری تھا کہ وہ کعبہ کے حقیقی استقبال کرنے والے کی پیشانی سے الخ والی عبارت کو حذف کرتے (تاکہ سمتِ تقریبی کا بیان درست ہوتا) مجھے معلوم نہیں کہ ان کلمات کے حذف سے سمتِ تقریبی کا بیان کیسے تام ہو سکتا تھا، جبکہ آپ کے خیال میں دائیں اور بائیں نکلنے والے خط پر انتقال کو انہوں نے ذکر نہیں کیا اگر چہ یہ معنی ان کے قول ''فھذا معنی''الخ ''تیامن وتیاسر کا یہ معنٰی ہے'' سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔تاہم مجھے معلوم نہیں'' حقیقی مستقبل کعبہ کی پیشانی سے خط نکلا'' کے ذکر سے ان کو کیا نقصان ہو رہا ہے صرف یہی کہ اس سے سمتِ حقیقی کے تعیّن کے بعد سمت تقریبی کا بیان ہو رہا ہے۔
وخامساً لئن اسقط ھذا کلہ لبقی مخرج الخط مھملا لم یتبین ولم یتعین فلا تقریب ولا تحقیق واﷲ الھادی الی سواء الطریق۔
خامساً:  اگر بقول علّامہ شامی اس کلام کو حذف کردیا جائے تو پھر خط کا مخرج کیا ہوگا۔جب مخرج مذکور نہ ہوا تو نہ بیان صحیح ہوگا نہ ہی کعبہ کاتعیّن ہو سکے گا ۔اس طرح نہ سمت تقریبی ثابت ہوگی اور نہ ہی تحقیقی ثابت ہوگی ۔ اور اﷲ تعالٰی ہی سیدھے راستے کا ہادی ہے۔
قال الشامی قولہ قلت الخ قد علمت انہ لو فرض شخص مستقبلا من بلدہ لعین الکعبۃ حقیقۃ بان یفرض الخط الخارج من جبینہ واقعا علی عین الکعبۃ فھذا مسامت لھا تحقیقا، ولو انہ انتقل الی جہۃ یمینہ او شمالہ بفراسخ کثیرۃ وفرضنا خطامارا علی الکعبۃ من المشرق الی المغرب ۱؎ (قلت قالہ بالنظر الی بلدہ الشامی الجنوب ویقال من الشمال الی الجنوب وبالجملۃ المراد الخط المعترض قال وکان الخط الخارج من جبین المصلی یصل علی استقامۃ الی ھذاالخط المار علی الکعبۃ فانہ بھذا الانتقال لاتزول المقابلۃ بالکلیۃ لان وجہ الانسان مقوس فمھما تاخر یمینا اویسارا عن عین الکعبۃ یبقی شیئ من جوانب وجہہ مقابلا لھا اھ ۱؎۔
علامہ شامی نے کہا قولہ ،قلت الخ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے علاقہ سے عینِ کعبہ کی طرف استقبال حقیقی کرتے ہوئے یُوں فرض کیا جائے کہ اس کی پیشانی سے نکلنے والا خط عینِ کعبہ پر واقع ہو رہا ہے، تو یہ تحقیقی سمت ہوگی اور اگر وہ شخص دائیں یا بائیں کئی فرسخ منتقل ہوجائے اور ہم ایک خط فرض کریں جو کعبہ پر سے مشرق سے مغرب کی طرف گزرے ۔(قلت علامہ شامی کا یہ قول ان کے اپنے علاقہ شام سے متعلق ہے کیونکہ وہاں سمتِ قبلہ جنوبا ہے ( اس لئے کعبہ پر عرض میں فرض کردہ خط، مشرق سے مغرب میں گزرے گا) ہمارے علاقہ میں یوں کہا جائے کہ شمال سے جنوب کی طرف بڑھنے والا خط( کعبہ پر عرض میں گزرنے والا ہوگا) غرضیکہ عرض میں پھیلنے والا خط مراد لیا ہے علّامہ شامی نے کہا) کہ نمازی کی جبین سے نکلنے والا خط سیدھا کعبہ پر سے گزرنے والے خط کو ملے گا تو اس صورت میں دائیں اور بائیں انتقال کرنے پر نمازی کا کعبہ سے تقابل کلیۃً زائل نہ ہوگا کیونکہ انسان کا چہرہ کمان کی طرح گول ہے لہذا وہ جتنا بھی عین کعبہ سے دائیں یا بائیں پھرے گا اس کے چہرے کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور کعبہ کے مقابل رہے گا اھ۔
 (۱؎ ردالمحتار        باب شروط الصلوٰۃ         مطبوعہ مطبع مجتبائی         ۱/۲۸۸)

 (۱؎ ردالمحتار        مبحث استقبال القبلۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۲۸۸)
اقول:  فھم رحمہ اﷲ تعالٰی ان وصول خط الجبھۃ عمود اعلی الخط المعترض المار بالکعبۃ عندالانتقال للیمین والشمال شرط بقاء الجھۃ عندھم وقد افصح عنہ بُعَیدھذاحیث قال، بل المفھوم مماقد مناہ عن المعراج والدررمن التقیید بحصول زاویتین قائمتین عند انتقال المستقبل لعین الکعبۃ یمینا اویسارا انہ لایصح لوکانت احداھما حادۃ والاخری منفرجۃ بھذہ الصورۃ اھ وفیہ۲؎:
اقول:  علّامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے یہ سمجھا کہ دائیں یا بائیں منتقل ہوتے وقت نمازی کی پیشانی سے نکلنے والے خط کا عمودی شکل میں کعبہ پر سے گزرنے والے خط سے ملنا کعبہ کی جہت کے بقاء کے لئے ان کے ہاں شرط ہے، اس کے کچھ بعد انھوں نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہا، بلکہ دُرر اور معراج سے عین کعبہ کا استقبال کرنے والے کا دائیں یا بائیں انتقال کرتے ہوئے دو زاوئے قائمے حاصل ہونے کی جو ہم نے قید ذکر کی ہے اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر انتقال کرتے ہوئے دو قائموں کی بجائے ایک زاویہ حادّہ اور دوسرا منفرجہ اس صورت پر
6_3.jpg
 حاصل ہوا تو جہت کعبہ کا استقبال صحیح نہ ہو گا اھ۔اس بیان میں چند اشکال ہیں:
Flag Counter