| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
اوّلاً سقوط مازعمواان بیانہ قاصر علی الحقیقۃ کیف ولو کان کذلک لما احتاج الی قولہ وخط اٰخر الخ لان بیان الحقیقۃ قدتم الی قولہ مارا علی الکعبۃ۔
اوّلاً: یہ کہ بعض محشی حضرات کا یہ خیال کہ علّامہ حصکفی نے صرف سمت حقیقی کو ہی بیان کیا ہے، یہ خیال ساقط ہوا ، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر علّامہ کو ''وخط آخر'' الخ کہنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ حقیقی سمت کا بیان '' مارا علی الکعبۃ'' پر تام ہو جاتا ہے۔
ثانیاً: سقوط ما اعترض بہ العلامتان الحلبی والطحطاوی من التخالف بین کلامی الدر والدرر فی معنی التیامن والتیاسر کما علمت۔
ثانیاً یہ کہ علّامہ حلبی اور علّامہ طحطاوی کا یہ اعتراض بھی ساقط ہو گیا کہ الدُّر یعنی حصکفی کا کلام تیامن اور تیاسر کے معنٰی کے تعیّن میں دُرر کے کلام کے مخالف ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے۔