Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
185 - 185
ھذا واقول: یظھر للعبد الضعیف غفر اﷲ تعالٰی لہ ان ھھنا فی کلمات العلماء اطلاقا فی موضع التقیید کماھو داب کثیر من المصنفین فی غیرمامقام وانما محل الاکفار باکفار المسلم اذاکان ذلک لاعن شبھۃ او تأویل والا فلا فانہ مسلم بظاھرہ ولم نؤمر بشق القلوب و التطلع الی اماکن الغیوب ولم نعثر منہ علی انکار شیئ من ضروریات الدین فکیف یھجم علی نظیرماھجم علیہ ذلک السفیہ ھذا ھو التحقیق عند الفقھاء الکرام ایضا یذعن ذلک من احاط بکلامھم واطلع علی مرامھم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم اجمعین الاتری ان الخوارج خذلھم اﷲ تعالٰی قداکفروا امیرالمؤمنین ومولی المسلمین علیا رضی اﷲ تعالٰی عنہ ثم ھم عندنا لایکفرون کما نص علیہ فی الدرالمختار والبحر الرائق و ردالمحتار وغیرھا من معتبرات الاسفار واماما مرمن تقریرالدلیل علی التکفیر فانت تعلم ان لازم المذھب لیس بمذھب واما الاحادیث فمؤلۃ عند المحققین کما ذکرہ الشراح الکرام اقول ومن ادل دلیل علیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الحدیث المار فھو الی الکفر اقرب فلم یسمہ کافراو انما قربہ الی الکفر لان الاجتراء علی اﷲ تعالٰی بمثل ذٰلک قدیکون یرید الکفروالعیاذ باﷲ رب العٰلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
میں کہتاہوں عبدضعیف، اﷲ تعالٰی اس کی بخشش فرمائے،پریہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہاں مقام تقیید میں عبارات علماء میں اطلاق ہے جیسا کہ بہت سے مقام پراکثر مصنفین کایہی طریقہ دیکھاگیاہے کسی کوکسی مسلمان کے کافر قراردینے پر اس وقت کافرقرار دیاجاسکتاہے جب اس میں کوئی تاویل وشبہ نہ ہو ورنہ اگرایک وہاں شبہ ہوسکتاہو تو کافر نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ بظاہر مسلمان ہے توہم دل پھاڑکر دیکھنے اور امورغیبیہ پرمطلع ہونے کے پابند نہیں او رنہ ہی ہم اس کے کسی ایسے عمل پرمطلع ہوئے ہیں جوضروریات دین کے انکارمیں سے ہو اور ہم اس طرح اس پرحملہ آور کیسے ہوسکتے ہیں جس طرح وہ بیوقوف کسی دوسرے پر ہواہے، فقہاء کرام کی یہی تحقیق ہے نیز ہراس شخص کو بھی اس بات کااذعان حاصل ہوگا جس نے فقہاء رحمہ اﷲ علیہم اجمعین کے کلام کااحاطہ کیااور ان کے مدعا سے آگاہ ہواہو، کیا آپ نہیں جانتے کہ خوارج (اﷲ انہیں رسواکرے) نے امیرالمومنین مولائے مسلمین حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ کوکافرقراردیا پھر وہ ہمارے نزدیک کافر نہیں، جیسا کہ اس پر درمختار ، بحرالرائق، ردالمحتار اور دیگر معتبرکتب میں تصریح ہے، اور جو تکفیر پرتقریر دلیل گزری ہے آپ جانتے ہیں لازم مذہب، مذہب نہیں ہوتا، رہامعاملہ احادیث کاتو وہ محققین کے ہاں مؤول ہیں اپنے ظاہر پرنہیں جیسا کہ شارحین کرام نے ذکرکیاہے اقول (میں کہتاہوں) سب سے قوی دلیل نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاگزشتہ ارشادگرامی ہے کہ وہ کفر کے زیادہ قریب ہے، آپ نے اسے کافرنہیں فرمایا قریب کفرفرمانے کی وجہ یہ ہے کہ ایساعمل اﷲ تعالٰی کے سامنے جرأت ودلیری ہے کیونکہ ان جیسے الفاظ سے بعض اوقات کفرمرادہوتاہے رب العٰلمین اپنی پناہ عطافرمائے(ت)
خیرتاہم اس قدر میں کلام نہیں کہ یہ حضرات غیرمقلدین وسائر اخلاف طوائف نجدیہ مسلمانوں کوناحق کافر ومشرک ٹھہراکر ہزارہا اکابرائمہ کے طورپرکافر ہوگئے اس قدر مصیبت ان پرکیاکم ہے
والعیاذباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی،
علامہ ابن حجر مکی اعلام بقواطع الاسلام میں فرماتے ہیں:
انہ یصیر مرتدا علی قول جماعۃ وکفی بھذا خسار اوتفریطا۱؎۔
ایک جماعت کے قول کے مطا بق یہ مرتد ہوگیا اور یہ خسارے اور کمی میں کافی ہے(ت)
 (۱؎ اعلام بقواطع الاسلام    مع سبل النجاۃ            مطبوعہ مکتبہ حقیقۃ استنبول ترکی    ص۳۶۲)
توبحکم شرع ان پرتوبہ فرض اور تجدیدایمان لازم، اس کے بعد اپنی عورتوں سے نکاح جدیدکریں۔
فی الدر المختار عن شرح الوھبانیۃ للعلامۃ حسن الشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح فاولادہ اولاد زنی ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۲؎۔
درمختارمیں علامہ شرنبلالی کی شرح الوہبانیہ کے حوالے سے ہے جس سے بالاتفاق کفرلازم آئے اس کی وجہ سے ہرعمل باطل، اسی طرح نکاح باطل،اور اس کی اولاد زناکی اولاد ہوگی اور جس کے کافر ہونے میں اختلاف ہو اس پراستغفار، توبہ اور تجدید نکاح کاحکم کیاجائے۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب المرتد            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۵۹)
اہلسنت کوچاہئے ان سے بہت پرہیز رکھیں، ان کے معاملات میں شریک نہ ہوں، اپنے معاملات میں انہیں شریک نہ کریں، ہم اوپراحادیث نقل کرآئے کہ اہل بدعت بلکہ فساق کی صحبت ومخالطت سے ممانعت آئی ہے اور بیشک بدمذہب آگ ہیں اور صحبت مؤثراور طبیعتیں سراقہ اورقلوب منقلب، حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسک ونافخ الکیر فحامل المسک اما ان یحذیک واما ان تبتاع منہ واما ان تجدمنہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اما ان یحرق ثیابک واما ان تجدمنہ ریحا خبیثۃ۳؎ رواہ الشیخان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
نیک ہم نشین اور بدجلیس کی مثال یونہی ہے جیسے ایک کے پاس مشک ہے اور دوسرا دھونکنی دھونکتاہے مشک والا یاتوتجھے مشک ہبہ کرے گا یاتو اس سے خریدے گا، اور کچھ نہ ہوتو خوشبو توآئے گی، اور وہ دوسرا یا تیرے کپڑے جلادے گا یاتو اس سے بدبو پائے گا۔ اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری    کتاب الذبائح، باب المسک    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۳۰)

(صحیح مسلم        کتاب البر، باب استجاب الخ     مطبوعہ نورمحمد اصح الطابع کراچی    ۲/ ۳۳۰)
انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیران لم یصبک من سوادہ اصابک من دخانہ۱؎۔ رواہ عنہ ابوداودوالنسائی
یعنی بدکی صحبت ایسی ہے جیسے لوہار کی بھٹّی کہ کپڑے کالے نہ ہوئے تو دھواں جب بھی پہنچے گا۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب من یؤمر ان یجالس مجالستہ الصالحین        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۰۸)
حاصل یہ کہ اشرار کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان ہی اٹھاتاہے والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
انما سمی القلب من تقلبہ انما مثل القلب مثل ریشۃ بالفلاۃ تعلقت فی اصل شجرۃ تقلبھا الریاح ظھراً البطن۲؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظہ عن ابن ماجۃ مثل القلب مثل الریشۃ تقلبھا الریاح بفلاۃ اسنادہ جیّد۳؎۔
دل کوقلب اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کرتاہے، دل کی کہاوت ایسی ہے جیسے جنگل میں کسی پیڑ کی جڑ سے ایک پَرلپٹا ہے کہ ہوامیں اسے پلٹا دے رہی ہیں کبھی سیدھا کبھی الٹا۔ اسے طبرانی نے المعجم میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہی روایت کیااور اس روایت کے الفاظ ابن ماجہ میں یوں ہیں: دل کی مثال اس پرکی طرح ہے جسے ہوائیں جنگل میں پلٹا دے رہی ہوں۔ اس کی سند جیّد ہے ۔
 (۲؎ شعب الایمان الحادی عشر من شعب الایمان ، حدیث ۷۵۲         مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱/ ۴۷۳)

(۳؎ سنن ابن ماجہ    باب فی القدر                 مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ص ۱۰)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
اعتبرواالارض باسمائھا واعتبروا الصاحب بالصاحب۴؎۔ اخرجہ ابن عدی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرفوعا و البیھقی فی الشعب عنہ موقوفا ولہ شواہد بھا یرتقی الی درجۃ الحسن۔
زمین کو اس کے ناموں پرقیاس کرو اور آدمی کو اس کے ہمنشین پر۔ اسے ابن عدی نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً اور بیہقی نے انہی سے موقوفاً روایت کیا ہے ، اس روایت کے شواہد موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے احسن کا درجہ حاصل ہے۔
 (۴؎ شعب الایمان    فصل فی مجانبۃ الفسقۃ الخ حدیث ۹۴۴۰       مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۷/ ۵۵)
اور مروی کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
ایّاک وقرین السوء فانک بہ تعرف ۱؎۔رواہ ابن عساکر عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بُرے مصاحب سے بچ تو اس سے پہچانا جائے گا۔ اسے ابن عساکر نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ حسین بن جعفر الغزی الجرجانی    مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۹۲)
یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست برخاست ہوتی ہے ویسا ہی جانتے ہیں ،اور بد مذہبوں سے محبت تو زہر قاتل ہے اس کی نسبت احادیثِ کثیرہ صحیحہ معتبرہ میں جو خطر عظیم آیا سخت ہولناک ہے ہم نے وہ حدیثیں اپنے رسالہ
المقالۃ المُسفِرۃ عن احکام بدعۃ المفکرۃ(۱۳۰۱ھ)
میں ذکر کیں، بالجملہ ہر طرح ان سے دُوری مناسب خصوصاً ان کے پیچھے نماز سے تو احتراز واجب ،اور ان کی امامت پسند نہ کرے گا مگر دین میں مداہن یاعقل سے مجانب۔امام بخاری تاریخ میں اور ابن عساکر ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم ۲؎۔
اگر تمہیں پسند آتا ہو کہ تمہاری نماز قبول ہو تو چاہئے کہ تمہارے نیک تمہاری امامت کریں۔
 (۲؎ کنز العمال  بحوالہ ابن عساکر عن ابی امامہ   حدیث ۲۰۴۳۳   مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۷/ ۵۹۶

    اسرار الموضوعۃ   حدیث ۵۶۸    مطبوعہ بیروت            ص۱۴۸

       الفوائد المجموعۃ      صلوٰۃ الجماعۃ     مطبوعہ بیروت       ص۳۲)
حاکم مستدرک اور طبرانی معجم میں مرثد ابی مرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم۳؎۔
اگر تمہیں اپنی نمازوں کا قبول ہونا خوش آتا ہو تو چاہئے جو تم میں اچھے ہوں وہ تمہارے امام ہوں کہ وہ تمہارے سفیر ہیں تم میں اور تمہارے رب میں۔
 (۳؎ المستدرک علی الصحیحین            ذکر مناقب ابومرثد الغنوی        مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۳/ ۲۲۲)
دارقطنی و بیہقی اپنی سنن میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجعلواائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم۱؎۔
اپنے نیکوں کو امام کر و کہ وہ تمہارے وسائط ہیں درمیان تمہارے اور تمہارے رب عزّوجل کے۔
 (۱؎سنن الدارقطنی     باب تخفیف القرأۃ الحاجۃ         مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان        ۲/ ۸۸)
اقول:  والاحادیث وان ضعفت فقد تائیدت اذعن ثلثۃ من الصحابۃ وردت علیھم جمیعا رضوان المولٰی جل وعلا وتقدس وتعالٰی۔
میں کہتا ہوں یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر یہ تائید کررہی ہیں کیونکہ یہ تین صحابہ سے مروی جن پر اﷲ جل وعلا وتقدس تعالٰی کی رضا وارد ہے(ت)
الحمد ﷲ کہ یہ موجز تحریر سلخ ذی القعدہ میں شروع اور چہارم ذی الحجہ روز جاں افروز دو شنبہ ۱۳۰۵ ہجریہ قدسیہ علٰی صاحبہا الف الف صلاۃ وتحیۃ کو بدر سمائے اختتام ہوئی، وصلی اﷲ تعالٰی علی خاتم النبین بدرسماء المرسلین محمد واٰلہ والائمۃ المجتھدین والمقلدین لھم باحسان الی یو م الدین والحمدﷲ رب العٰلمین واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ۔
Flag Counter