''یاکافر'' کے ساتھ گالی دینے والے پرتعزیرنافذ کی جائے گی، کیاوہ شخص کافرہوگا جومسلمان کو کافرگردانتاہے؟ ہاں وہ کافرہوگا اوراگرکافرنہیں گردانتا تو کافرنہیں، اسی پرفتوی ہے(ت)
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل اذا اراد بہ الشتم لایکفرو اذا اعتقد کفرالمخاطب یکفر لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد ان دین الاسلام کفرومن اعتقد ھذا فھو کافر۴؎۔
ان مسائل میں مختار اورمفتی بہ یہ ہے کہ اگر قائل نے اس سے گالی مراد لی توکافرنہیں ہوگا اور جب مخاطب کو کافرجانے گا تو کافر ہوجائے گاکیونکہ جب اس نے ایک مسلمان کوکافرجانا توگویا اس نے دین اسلام کوکفرجانا اور جوایسی بات کااعتقاد رکھے وہ کافر ہوتا ہے۔(ت)
(۴؎ جواہراخلاطی کتاب السیر، فصل فی الجہاد (قلمی نسخہ) ص۶۹)
اس شخص کے کفرکے بارے میں اختلاف ہے جس نے کسی مسلمان کی کفرکی طرف نسبت کی، فصول عمادیہ میں ہے جب کسی نے غیرکو ''یاکافر'' کہاتو فقیہ ابوبکر اعمش ایسے شخص کوکافر جانتے لیکن دیگر علماء کافر نہیں جانتے،اور مختار مفتی بہ ایسے مسائل میں یہ ہے الخ گزشتہ عبارت کے مطابق ذخیرہ سے ہندیہ اور نہر دونوں کے حوالے سے ذکرکیاہے۔(ت)
(۱؎ شرح نقایہ برجندی کتاب الحدود مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۶۸)
مختار یہ ہے کہ اگر اس خطاب سے گالی کااعتقاد رکھتا ہے توکفرنہیں اور اگرمخاطب کوکافر جانتا ہے توکفرہوگا کیونکہ اس صورت میں اس نے اسلام کو کفرجانا ہے، جیسا کہ عمادی میں ہے۔ اور مواقف میں جوآیا ہے کہ وہ بالاجماع کافرنہیں، تو اس سے اجماع متکلمین مرادہے۔(ت)
(۲؎ جامع الرموز، فصل من قذف ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴/ ۵۳۵)
اگرکسی نے کسی مسلمان کو ''یاکافر'' کہہ کرتہمت لگائی اور مراد گالی لی اور اسے کافرنہ جانا توایسی صورت میں اس پرتعزیرنافذکی جائے گی مگرکافرنہ ہوگا، اور اگر مخاطب کوکافرجاناتو کافرہوجائے گا کیونکہ اس نے اسلام کوکفرجانا۔ (ت)
(۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی التعزیر مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۱۰)
علامہ عبدالغنی شرح طریقہ محمدیہ میں احکام سے ناقل:
المختار للفتوی (فذکر عین مامر عن البرجندی و زاد) ومن اعتقد ان دین الاسلام کفرکفر۔۴؎
مختارللفتوٰی یہ ہے (پھربعینہٖ وہی ذکرکیا ہے جو برجندی سے گزرا ہے اور یہ اضافہ کیا) اور جس کایہ اعتقاد ہو کہ دین اسلام کفر ہے وہ کافر ہوگیا۔(ت)
(۴؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۱۲)
اس مذہب مفتٰی بہ پربھی اس طائفہ تالفہ کوسخت دقت کہ یہ قطعاً اپنے اعتقاد سے مسلمانوں کوکافر ومشرک کہتے اور اپنی تصانیف میں لکھتے اور اس پرفتوے دیتے ہیں توباتفاق ہردومذہب ان کاکافر ہونالازم اور ان کے پیچھے نمازایسی جیسے کسی یہودی اور نصرانی یامجوسی یاہندو کے پیچھے
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم سبحٰن اﷲ
کہ کہ کرد کہ نیافت چاہ کن راچاہ درراہ، مسلمانوں کوناحق مشرک کہاتھا احادیث صحیحہ ومذاہب ائمہ کرام وفقہاء عظام پرخود انہیں کے ایمان کے لالے پڑگئے ؎
دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را چنداں اماں نداد کہ شب راسحر کند
ماذا اخاضک یامغرور فی الخطر حتی ھلکت فلیت النمل لم تطر
(تونے دیکھا کہ پروانہ کے خون ناحق نے شمع کو اس طرح اماں نہیں دی کہ وہ رات کو سحرکردے ،
اے مغرور ! کس چیزنے تجھے خطرے میں ڈال دیاحتی کہ توہلاک ہواکاش چیونٹی نہ اُڑتی!)
مگرحاش ﷲ ہم پھربھی دامن احتیاط ہاتھ سے نہ دیں گے اوریہ ہزار ہمیں جوچاہیں کہیں ہم زنہار ان کوکفار نہ کہیں گے ہاں ہاں یوں کہتے ہیں اور خداو رسول کے حضور کہیں یہ لوگ آثم ہیں خاطی ہیں ظالم ہیں بدعتی ہیں ضال ہیں مضل ہیں غوی ہیں مبطل ہیں مگرہیہات کافرنہیں مشرک نہیں اتنے بد راہ نہیں، اپنی جانوں کے دشمن ہیں عدواﷲ نہیں، ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کفوا عن اھل لاالٰہ الا اﷲ لاتکفروھم بذنب، فمن اکفر اھل لاالٰہ الااﷲ فھو الی الکفر اقرب۱؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
یعنی لاالٰہ الااﷲ کہنے والوں کوکسی گناہ پرکافرنہ کہو جولاالٰہ الااﷲ کہنے والے کوکافرکہے وہ خودکافر سے نزدیک تر ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے۔
ثلث من اصل الایمان الکف عمن قال لاالٰہ الااﷲ ولاتکفرہ بذنب ولاتخرجہ من الاسلام بعمل، ۲؎ الحدیث۔ اخرجہ ابوداؤد عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
یعنی اصل ایمان سے ہے یہ بات کہ لاالٰہ الااﷲ کہنے والے سے زبان روکی جائے اسے کسی گناہ کے سبب کافر نہ کہیں اور کسی عمل پردائرہ اسلام سے خارج نہ بتائیں الحدیث۔ اسے ابوداؤد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب الغزو مع ائمۃ الجور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۴۳)
اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
الاسلام یعلوولایعلی ۱ ؎، اخرجہ الدار قطنی والبیھقی والضیاء عن عائد بن عمروالمزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اسلام غالب ہے مغلوب نہیں۔ اسے دارقطنی، بیہقی اور ضیاء مقدسی نے حضرت عائدبن عمر والمزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
(۱؎ سنن الدارقطنی باب المہر مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲/ ۲۵۲)
(صحیح البخاری کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰)
اور مذکور کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
لاتکفروا احدا من اھل القبلۃ۲؎۔ اخرجہ العقیلی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اہل قبلہ سے کسی کوکافرنہ کہو، اسے عقیلی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ (طس عن عائشہ) حدیث ۱۰۷۸ مطبوعہ مکتبہ التراث الاسلامی ۱/ ۲۱۵)
ہمیں اپنے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ حدیثیں اور اپنے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی کاارشاد:
ولانکفر احدا من اھل القبلۃ۳؎۔
اہل قبلہ سے کسی کوہم کافرنہیں کہتے۔(ت)
(۳؎ شرح فقہ اکبر عدم جواز تکفیراہل القبلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۵۵)
اور اپنے علمائے محققین کافرمانا
لایخرج الانسان من الاسلام الاجحود ما ادخلہ فیہ
(انسان کواسلام سے کوئی چیزخارج نہیں کرسکتی مگراس شئی کاانکارجس نے اسلام میں داخل کیاتھا۔ت) یادرہے اور جب تک تاویل وتوجیہ کی سب قابل احتمال ضعیف راہیں بھی بندنہ ہوجائیں مدعی اسلام کی تکفیر سے گریز چاہئے، پھران چاروں حدیثوں میں بھی مثل احادیث اربعہ سا بقہ صلاح ودیانت طائفہ کے لئے پورامرثیہ اور انہیں سے ظاہرکہ یہ مدعیان عمل بالحدیث کہاں تک ہوائے نفس کوپالتے اور اس کے آگے کیسی کیسی احادیث کوپس پشت ڈالتے ہیں