صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا قال الرجل لاخیہ یاکافر فقد باء بہ احدھما۲؎۔
جب کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کو ''یاکافر'' کہے تو اُن دونوں میں ایک کارجوع اس طرف بیشک ہو۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الادب، باب من اکفر اخاہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱)
امام احمد وبخاری ومسلم حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس من دعا رجلا بالکفر اوقال عدواﷲ ولیس کذلک الاحار علیہ۳؎ ولایرمی رجل رجلا بالفسق ولایرمیہ بالکفرالا ارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذلک۱؎۔ ھذا مختصراً۔
جوشخص کسی کوکافر یادشمن خداکہے اوروہ ایسانہ ہو یہ کہنا اسی پرپلٹ آئے اور کوئی شخص کسی کو فسق یاکفر کاطعن نہ کرے گا مگریہ کہ وہ اسی پرالٹا پھرے گا اگرجس پر طعن کیاتھا ایسانہ ہوا۔ یہ اختصاراً ہے۔
(۳؎ صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یاکافر مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۵۷)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الادب، باب ماینھی عن السباب واللعن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳ ۸۹)
امام ابن حبان اپنی صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع میں بسند صحیح حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکفر رجل رجلا قط الاباء بھا احدھما ان کان کافرا والاکفر بتکفیرہ۲؎۔
یعنی کبھی ایسانہ ہوا کہ ایک شخص دوسرے کی تکفیرکرے اور وہ دونوں اس سے نجات پاجائیں بلکہ ان میں ایک پرضرور گرے گی اگروہ کافرتھا تویہ بچ گیا ورنہ اسے کافر کہنے سے یہ خود کافرہوا۔
(۲؎ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، من اکفر انساناً الخ حدیث ۲۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۴۱۰)
علماء فرماتے ہیں یوں ہی کسی کومشرک یازندیق یاملحد یامنافق کہنا، علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بن اسمٰعیل نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں زیرحدیث ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
کسی شخص کے بارے میں کہنا کہ اس نے اﷲ تعالٰی کے ساتھ کفرکیا یاشرک کیا اسی طرح زندیق، الحاد اورنفاق کفری کی نسبت کرکے پکارا(توخود کافرہوجائے گا)اھ تلخیصا(ت)
(۳ ؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ۲/ ۲۱۱)
اور زیرحدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرمایا:
کذلک یامشرک ونحوہ۴؎
(اسی طرح اسے مشرک وغیرہ کہاتومشرک ہوجائے گا۔ت)
(۴؎حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ العاشر الانواع الخ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۶)
اقول: وباﷲ التوفیق یہ معنی خود انہیں احادیث سے ثابت کہ ہرمشرک عدواﷲ ہے اور عدواﷲ کہنے کا حکم خود حدیث میں مصرح، اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تصریح فرمائی کہ فاسق کہنا بھی پلٹتاہے تو مشرک تو بہت بدتر بلکہ اخبث اقسام کفار سے ہے توعموماً یاکافر میں بھی دخول اولی رکھتاہے والعیاذباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی، وجہ اس پلٹنے کی جس طرح ارباب قلوب نے افادہ فرمائی یہ ہے کہ مسلمان کاحال مثل آئینہ کے ہے ع
ترک وہند درمن آں بیندکہ اوست
(ترک اور ہند مجھ میں وہی دیکھتاہے جو اس میں ہے)
المرء یقیس علی نفسہ
(انسان دوسرے کواپنے اوپرقیاس کرتاہے۔ت) جب اس نے اسے کافریامشرک یافاسق کہا اور وہ ان عیوب سے پاک تھا توحقیقۃً یہ اوصاف ذمیمہ اسی کہنے والے میں تھے جن کاعکس اس آئینہ الٰہی میں نظرآیا اور یہ اپنی سفاہت سے اس کریہ بدنما شکل کو آئینہ تاباں کی صورت سمجھاحالانکہ دامن آئینہ اس لوث وغبار سے صاف ومنزہ ہے۔ یہ تو حدیث تھی جوبحکم
یقولون من خیر قول البریۃ
(وہ ساری مخلوق سے بہترکاقول کہتے ہیں۔ت) ان کا زبانی وظیفہ ہے اور دل کاوہی حال جوحدیث میں ارشاد فرمایا:
لایجاوز تراقیھم
(ان کے حلق سے (اسلام) تجاوزنہیں کرے گا۔ت)
اب فقہ کی طرف چلئے بہت اکابر ائمہ مثل امام ابوبکراعمش وغیرہ عامہ علمائے بلخ و بعض ائمہ بخارا رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم احادیث مذکورہ پرنظرفرماکر اس حکم کویوں ہی مطلق رکھتے اور مسلمان کی تکفیر کو علی الاطلاق موجب کفرجانتے ہیں۔
سیّدی اسمٰعیل نابلسی شرح درر وغرر مولٰی خسرو میں فرماتے ہیں:
اگرکسی نے مسلمان کوکافرکہا توفقیہ ابوبکر اعمش اسے کافرقراردیتے، اور مشائخ بلخ میں سے دوسرے علماء کافرنہیں کہتے۔ اتفاقاً یہ مسئلہ بخارا میں پیش آیا اور بعض ائمہ بخارا نے ایسے شخص کوکافر قراردیا تویہ جواب واپس بلخ گیا (یعنی کافرکہاجائے گا) تو جس جس فقیہ نے ابوبکراعمش کے خلاف فتوی دیاتھا انہوں نے ان کے قول کی طرف رجوع کرلیااھ ملخصا(ت)
(۱؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۱۲)
رسالہ علامہ بدررشید پھر شرح فقہ اکبر ملاعلی قاری میں ہے:
تمام علماء نے ابوبکر بلخی کے اس فتوٰی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس طرح گالی دینے والے کو کافرقراردیا۔(ت)
(۲؎ شرح فقہ اکبر لملاعلی قاری فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۸۱)
احکام میں بعد عبارت مذکورہ کے ہے :
وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخارا۳؎۔
ابواللیث اور بعض ائمہ بخارا کے قول پرمناسب یہ ہے کہ کافرنہ کہاجائے۔(ت)
(۳؎ حدیقہ ندیہ شرح طریہ محمدیہ النوع الرابع من الانواع الستین الکذب مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۱۲)
اورمذہب صحیح ومعتمد ومرجح فقہائے کرام میں تفصیل ہے کہ اگربطورسب ودشنام بے اعتقاد تکفیرکہا تو کافر نہ ہوگاجیسے بیباکوں بے قیدوں کوخربے لجام وسگ بے زنجیر کہیں کہ معنی حقیقی مرادنہیں ورنہ کافرہوجائے گا۔ فتاوٰی ذخیرہ و فصول عمادی و شرح درر و غرر و شرح نقایہ برجندی و شرح نقایہ قہستانی و نہرالفائق و شرح وہبانیہ علامہ عبدالبر و درمختار و حدیقہ ندیہ و جواہر اخلاطی و فتاوٰی عالمگیری و ردالمحتار وغیرہا کتب معتمدہ میں تصریح فرمائی کہ یہی مذہب مختار ومختار للفتوی ومفتی بہ ہے۔ علمافرماتے ہیں جب اس نے اپنے اعتقاد میں اسے کافرسمجھا اور وہ کافر نہیں بلکہ مسلمان ہے تو اس نے دین اسلام کوکفرٹھہرایا اور جوایساکہے وہ کافرہے۔
اقول وباﷲ التوفیق اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق۔ت) یہ ہے کہ کافرنہیں مگروہ جس کادین کفرہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں، نہ ایک شخص کے ایک وقت میں دو دین ہوسکیں۔
فان الکفر والاسلام علی طرفی النقیض بالنسبۃ الی الانسان لایجتعمان ابدا ولایرتفعان قال تعالٰی
کیونکہ کفراور اسلام ایک انسان کی بنسبت نقیض کی دوطرفوں پر ہیں، نہ تویہ ہمیشہ جمع ہوسکتے ہیں اور نہ ہی مرتفع۔ اﷲ تعالٰی کا ارشادگرامی ہے: یاوہ شاکرہوگا یاکافر۔ دوسرے مقام پرفرمایا: اور ہم نے ایک آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔(ت)
(۱؎ القرآن ۷۶/ ۳) (۲؎ القرآن ۳۳/ ۴)
اب جویہ شخص مثلاًزید مؤمن کوکافرکہتاہے اس کے یہ معنی کہ اس کادین کفرہے اور زید واقع میں بیشک ایک دین سے متصف ہے جس کے ساتھ دوسرادین ہونہیں سکتا تولاجرم یہ خاص اسی دین کوکفربتارہا ہے جس سے زید اتصاف رکھتا ہے اور وہ دین نہیں مگراسلام توبالضرورۃ اس نے دین اسلام کوکفرٹھہرایا اور جودین اسلام کو کفرقراردے قطعاً کافر۔ اب عبارات علماء سنئے، ہندیہ میں ہے:
المختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان اراد الشتم ولایعتقدہ کافر ا لایکفرو ان کان یعتقدہ کافراً فخاطبہ بھذا بناءً علی اعتقادہ انہ کافر یکفر کذا فی الذخیرۃ ۱؎ انتھی زادالشامی عن النھر عن الذخیرۃ لانہ لما اعتقد المسلم کافرا فقد اعتقد دین الاسلام کفرا ۲؎۔
اس قسم کے مسائل میں فتوٰی کے لئے مختاریہ ہے کہ ان اقوال کاقائل اگرمراد گالی لیتا ہے اور اسے اعتقاداً کافرنہیں گردانتا تو وہ کافرنہیں اور اگراسے اعتقاداً کافرگردانتے ہوئے اسے کافرکہتاہے توپھریہ کفرہوگا کذافی الذخیرۃ انتہی، شامی نے نہر کے حوالے سے ذخیرہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان کوکافرمان رہاہے گویااس نے دین اسلام کوکفرگردانا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفر الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۸)
(۲؎ ردالمحتار باب التعزیر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳/ ۲۰۱)