| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ) |
من جعل الحق متعددا کالمعتزلۃ اثبت للعامی الخیار من کل مذھب مایھواہ ومن جعل واحدا کعلمائنا الزم للعامی اماما واحدا۲؎۔
یعنی جن کے نزدیک مسائل نزاعیہ میں حق متعدد ہے کہ ایک شے جومثلاً ایک مذہب میں حلال دوسرے میں حرام ہوتو وہ عنداﷲ حلال بھی ہے اور حرام بھی، وہ توعامی کواختیار دیتے ہیں کہ ہرمذہب سے جوچاہے اخذکرلے یہ مذہب معتزلہ وغیرہم کاہے اور جوحق کو واحد مانتے ہیں وہ عامی پرامام معین کی تقلید واجب کرتے ہیں یہ مذہب ہمارے علماوغیرہم کاہے۔
(۲؎ جامع الرموز(شرح نقایہ) کتاب الکراہیۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲۷)
علامہ زین بن نجیم مصری صاحب بحرالرائق واشباہ وغیرہما رسالہ کبائروصغائر میں فرماتے ہیں:
اما الکبائر فقالوا ھی بعد الکفر الزنا واللواطۃ وشرب الخمر ومخالفۃ المقلد حکم مقلدہ۳؎اھ مختصرا
یعنی کبیرہ گناہ علماء نے یوں گنائے کہ عیاذاً باﷲ سب میں پہلے تو کفرہے پھر زنا واغلام وشراب خوری اور مقلد کا اپنے امام کی مخالفت کرنا اھ مختصرا۔
(۳؎ الرسائل الفقہیہ لمؤلف الاشباہ مع الاشباہ الخ الرسالۃ الرابعۃ والثلاثون الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۹۰۷،۹۴)
ملل و نحل میں ہے:
علماء الفریقین لم یجوزوا ان یأخذ العامی الحنفی الابمذھب ابی حنفیۃ والعامی الشفعوی الابمذھب الشافعی۴؎۔
دونوں فریق کے علما یہ جائز نہیں رکھتے کہ عامی حنفی مذہب ابوحنیفہ یاعامی شافعی مذہب شافعی کے سوا دوسرے مذہب پرعمل کرے۔
(۴؎ الملل والنحل حکم الاجتہاد والتقلید الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۰۵)
شاہ ولی اﷲ عقدالجید میں لکھتے ہیں:
المرجح عند الفقہاء ان العامی المنتسب الی مذھب لہ مذھب فلاتجوز لہ مخالفتہ ا؎۔
فقہاء کے نزدیک ترجیح اسے ہے کہ عامی جو ایک مذہب کی طرف انتساب رکھتاہے وہ مذہب اس کاہوچکا اسے اس کاخلاف جائزنہیں۔
(۱؎ عقدالجید ، باب پنجم اقسام مقلد مطبوعہ قرآن محل مقابل مولوی مسافرخانہ کراچی ، ص۱۵۸)
اب فرمائیے تمام منتہی فاضل جن سے امام غزالی ناقل کہ ترک تقلید شخصی کومنکر وناروا بتاتے، اکابرائمہ جن کے قول سے کشف کاشف کہ تقلید امام معین کوواجب ٹھہراتے مشائخ کرام جن کے صحاب کلام صاحب بحرمغترف کہ ترک تقلید شخصی کوگناہ کبیرہ کہتے، علمائے فریقین وفقہائے عظام جن سے ملل ونحل وشاہ ولی اﷲ حاکی کہ تقلید معین کی مخالفت ناجائز رکھتے، یہ سب تومعاذاﷲ تمہارے طورپرصریح کفار ومشرکین ٹھہرے، اس سے بھی درگزرکرو ان ائمہ دین کی خدمات عالیہ میں کیااعتقاد ہے جنہوں نے خود اپنی تصانیف جلیلہ وکلمات جمیلہ میں وجوب تقلید معین وغیرہ ان باتوں کی صاف صریح تصریحیں فرمائیں جو تمہارے مذہب پر خالص کفروشرک ہیں ان سب کوتو نام بنام بتعیین اسم (خاک بدہان گستاخاں) معاذاﷲ کافرومشرک کہئے گا۔ یہ موجزرسالہ کواطلاع اہل حق کے لئے ایک مختصر فتوٰی ہے جواپنے منصب یعنی اظہار حکم فقہی کوبنہج احسن اداکرچکا اور کرتاہے اس میں ان اقوال وافرہ ونصوص متکاثرہ کی گنجائش کہاں۔ مگران شاء اﷲ العظیم توفیق ر بانی مساعدت فرمائے توفقیرایک جامع رسالہ اس باب میں ترتیب دینے والاہے جوان اقوال کثیرہ سے جملہ صالحہ کوایک نئے طرزپرجلوہ دے گا اور ان شاء اﷲ تعالٰی غیرمقلدین کے اصول مذہبی کوان کے مستندین ہی کے کلمات مستندہ سے ایک ایک کرکے مستاصل کرے گا۔ میں یہاں صرف ان ائمہ دین وعلمائے مستندین کے چنداسماء شمارکرتاہوں جوخاص اپنے ارشادات وتصریحات کے روسے مذہب غیرمقلدین پرکافرومشرک ٹھہرے، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ ان میں سے ہیں:
(۱)امام ابوبکراحمدبن اسحاق جوزجانی تلمیذالتلمیذ امام محمد،(۲) امام ابن السمعانی، (۳) امام کیاہراسی، (۴) امام اجل امام الحرمین، (۵) امام محمدمحمد محمدغزالی، (۶)امام برہان الدین صاحب ہدایہ، (۷) امام طاہربن احمدبن عبدالرشید بخاری صاحب خلاصہ، (۸)امام کمال الدین محمدبن الہمام، (۹)امام علی خواص، (۱۰) امام عبدالوہاب شعرانی،(۱۱) امام شیخ الاسلام زکریاانصاری، (۱۲) امام ابن حجرمکی،(۱۳) علامہ ابن کمال باشاصاحب ایضاح واصلاح، (۱۴) علامہ علی بن سلطان محمدقاری مکی،(۱۵) علامہ شمس الدین محمدشارح نقایہ، (۱۶) علامہ زین الدین مصری صاحب بحر،(۱۷) علامہ عمربن نجیم مصری صاحب نہر، (۱۸) علامہ محمدبن عبداﷲ غزی تمرتاشی صاحب تنویرالابصار، (۱۹) علامہ خیرالدین رملی صاحب فتاوٰی خیریہ، (۲۰) علامہ سیدی احمدحموی صاحب غمز، (۲۱)علامہ محمدبن علی دمشقی صاحب دروخزائن،(۲۲) علامہ عبدالباقی زرقانی شارح مواہب، (۲۳) علامہ برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر بن محمد بن حسین حسینی صاحبِ جواہر اخلاطی، (۲۴) علامہ شیخ محقق مولٰینا عبدالحق محدث دہلوی، (۲۵)علامہ احمد شریف مصری طحطاوی،( ۲۶) علامہ آفندی امین الدین محمدشامی،( ۲۷) صاحب منیہ، (۲۸) صاحب سراجیہ، (۲۹) صاحب جواہر، (۳۰) صاحب مصفّی، (۳۱) صاحب ادب المقال، (۳۲) صاحب تتارخانیہ، (۳۳) صاحب مجمع،(۳۴) صاحب کشف،(۳۵) مؤلفان عٰلمگیریہ کہ باقرار مؤلف امداد المسلمین پانسوعلما تھے، یہاں تک کہ(۳۶) جناب شیخ مجدد الف ثانی شاہ ولی اﷲ، (۳۷) شاہ عبدالعزیز صاحب، (۳۸)قاضی ثناء اﷲ پانی پتی، حتّٰی کہ خود(۴۰) میاں نذیرحسین دہلوی اور ان کے اتباع ومقلدین مگریوں کہ
فاٰتھم اﷲ من حیث لم یحتسبوا ۱؎
(تواﷲ کاحکم ان کے پاس آیاجہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا۔ت)
والحمدﷲ رب العٰلمین۔
(۱؎ القرآن ۵۹/ ۲)
اور لطف یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جن سے خود امام العصر ودیگرمتکلمین طائفہ نے براہ جہالت وتجاہل اسنادکیا اور ان کے اقوال باہرہ وکلمات قاہرہ کوجو اصول طائفہ کے صریح بیخ کن تھے دامن عیّاری میں چھپالیا، میں ان شاء اﷲ تعالٰی اس رسالہ میں یہ بھی ثابت کروں گا کہ علمائے سلف سے ان کے استناد محض مغالطہ وتلبیس عوام ہیں، ان کے مذہب کوان سے اصلاً علاقہ نہیں بلکہ خود ہی اقوال جنہیں اپنی سند ٹھہراتے ہیں ان کے اصول مذہبب کی بنیاد گراتے ہیں مگرحضرات کوموافق ومخالف کی تمیزنہیں یاہے توقصداً اغوائے جہال کوسبزباغ دکھاتے ہیں۔ میں بحول اﷲ تعالٰی اس رسالے میں یہ بھی تنبیہ کروں گا کہ اپنے مباحثہ میں ان حضرات کا تقلیدشخصی کے وجوب و عدم وجوب کی بحث چھیڑ دینا نراکید وفریب وتلبیس بدزیب ہے کہ اہل تعیین واصحاب تخییر دونوں فریق جوازتعین وعدم حرج کوتسلیم کئے ہوئے ہیں جن کے نزدیک سرے سے تقلید شرک وکفر ان کے مسلک سے اسے کیاتعلق، وہ امرابتدائی یعنی عدم شرک وجواز کوطے کرلیں اس کے بعد آگے چلیں، یہ چالاک لوگ اپنے لئے راہ آسان کرنے کوادھر سے اُدھر طفرہ کرجاتے ہیں اور ہماری طرف کے ذی علم ارحناء للعنان اس میں گفتگو کرنے لگتے ہیں حالانکہ گربہ کشتن روزاول باید، ابتداءً ان ہوشیاروں کی راہ روکاچاہئے کہ پہلے شرک پھر حرمت سے جان بچالیجئے اس کے بعد آگے قصد کیجئے۔ فریقین کے اقوال کے اقوال ان حضرات کے رَد میں یک دل ویک زبان، اور طرفین کے علماان کے زعم پر معاذاﷲ مشرک وگمراہ ہوتے ہیں یکساں، بلکہ میں بفضلہٖ تعالٰی ثابت کروں گا کہ اقوال تخییر ان کی ردوتکذیب میں اتم واکمل ہیں پھر ان سے استناد یا ان کاتذکرہ عجب تماشاہے، میں بعونہٖ یہ بھی واضح کروں گا کہ ان حضرات کو ابھی خوداپنا ہی مسلک منقح نہیں ہوا ہے متناقض کلام متخالف احکام لکھتے اورجہاں جیسا موقع پاتے ہیں ویساہی بیان کرجاتے ہیں، دعوے میں کچھ دلیل میں کچھ اعتراض میں کچھ جواب میں کچھ، کبھی ایک پائے برقرار نہیں کرتے اور بیشک تمام اہل بدعت کایہی وتیرہ ہے خصوصاً جو اس قدرنوپیدا ہوکہ آخرجمتے جمتے ایک زمانہ چاہئے۔ میں یہاں اصل نزاع کی بحث وتحقیق میں نہیں، ان کے اقتدا کاحکم واضح کرناہے لہٰذا اس کی طرف رجوع مناسب۔
بالجملہ اصلا محل شبہ نہیں ان صاحبوں نے تقلید کوشرک وکفر اورمقلدین کوکافر ومشرک کہہ کرلاکھوں کروڑوں علماء واولیاء وصلحاء واصفیابلکہ امت مرحومہ محمدیہ علٰی مولٰیہا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ کے دس حصوں سے نو۹ کو علی الاعلان کافرومشرک ٹھہرایا، وہی علامہ شامی قدس سرہ السامی کا ان کے اکا بر کی نسبت ارشادکہ اپنے طائفہ تالفہ کے سواتمام عالم کومشرک کہتے اور جوشخص ایک مسلمان کوبھی کافر کہے ظواہرحدیث صحیحہ کی بناپر وہ خود کافرہے اور طرفہ یہ کہ اس فرقہ ظاہریہ کوظاہراحادیث ہی پرعمل کابڑا دعوٰی ہے امام مالک واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی
واللفظ لمسلم
(الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ت) حضوراقدس سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایما امرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما ان کان کما قال والارجعت علیہ۱؎۔
یعنی جو شخص کلمہ گوکوکافرکہے تواُن دونوں میں ایک پریہ بلاضرور پڑے گی اگرجسے کہا وہ حقیقۃً کافرتھا جب توخیر ورنہ یہ کلمہ اسی کہنے والے پر پلٹے گا۔
(۱؎ صحیح مسلم باب بیان حال ایمان الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۵۷)