Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
181 - 185
اقول : قدعلمت ان عدم الجواز بمعنی عدم الحل الصادق بکراھۃ التحریم وان الصلاۃ خلف الفاسق مکروھۃ تحریمیۃ فان اعید الاشکال بمافی الھندیۃ اعدنا الکلام بماقدمنا وح یؤل ھذا الدلیل الی الدلیل الثانی کما لایخفی وبھذا الحمل تکون الروایات مؤیدات لما حققنا من ان الکراھۃ خلف الفاسق والمبتدع کراھۃ تحریم واﷲ سبحٰنہ بکل شیئ علیم۔
اقول:  (میں کہتاہوں) آپ نے پیچھے پڑھ لیا ہے کہ عدم جواز بمعنی عدم حلت ہے جوکراہت تحریمی پرصادق آتاہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگرہندیہ کی عبارت کے ساتھ اشکال کااعادہ کیاجائے تو ہم سابقہ کلام سامنے لائیں گے تو اس وقت یہ دلیل دوسری دلیل کی طرف لوٹ جائے گی جیسا کہ مخفی نہیں، اور اس حمل کے ساتھ تمام روایات اس تحقیق کی مؤید ہوجائیں گی جوہم نے کی ہے کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے کی کراہت مکروہ تحریمی ہے واﷲ سبحٰنہ بکل شیئ علیم۔(ت)
دلیل چہارم
حضرت امام الائمہ سراج الامہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جومتکلم ضروریات عقائد کی بحث میں (جن میں لغزش موجب کفر ہوتی ہے) یہ چاہے کہ کسی طرح اس کامخالف خطاکرجائے وہ کافر(عہ) ہے کہ اس نے اس کا کافرہوناچاہا اور مسلمان کومبتلائے کفرچاہنا رضابالکفر ہے اور رضابالکفر آپ ہی کفر، علماء فرماتے ہیں ایسے متکلم کے پیچھے نمازجائزنہیں،
عہ: کافر سے مراد کہ اس پرکفرکااندیشہ ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی فی الخلاصۃ سمعت القاضی الامام (یرید الامام الاجل قاضی خاں) ان اراد تخجیل الخصم یکفر قال وعندی لایکفر ویخشی علیہ الکفر اھ وقال العلامۃ بدرالرشید الحنفی فی رسالتہ فی کلمات الکفر فی المحیط من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای اجماعا، وبکفر غیرہ اختلف المشائخ ثم ذکرعن شیخ الاسلام ماحقہ ان یسطر علی الصدور وحاصلہ انہ انما یکون کفرا اذا کان یستحسنہ ثم قال) وقد عثرنا علی روایۃ ابی حنیفۃ ان الرضاء بکفرالغیر کفرمن غیر تفصیل اھ قلت وھی ھذہ الروایۃ التی ذکرفی المجتبی قال العلامۃ القاری بعد نقل مافی رسالۃ البدرالجواب ان روایۃ ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی اذا کانت مجملۃ اوعبارتہ مطلقۃ فلنا ان نفصلھا ونقیدھا علی مقتضی القواعد الحنفیۃ ۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ سلمہ ربہ (م)
اﷲ تعالٰی کی پناہ، خلاصہ میں ہے میں نے قاضی امام (یعنی امام اجل قاضی خاں) سے سنا کہ اگرکوئی مخالف کوشرمندہ کرنے کاارادہ رکھتا تو اسے کافرکہاجائے فرمایا اور میرے نزدیک اسے کافرنہ کہاجائے، البتہ اس پرکفر کاخوف واندیشہ ہے۔ علامہ بدرالرشید حنفی نے اپنے رسالہ میں کلمات کفر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ محیط میں ہے وہ شخص جواپنی ذات کے کفر  پر راضی ہوگیا وہ کافرہوگیا یعنی بالاجماع، اور جوکوئی غیر کے کفر پر راضی ہوا اس میں مشائخ کااختلاف ہے پھر وہاں شیخ الاسلام کے حوالے سے وہ لکھا جو سینوں پرلکھنے کے قابل ہیں، اس کاحاصل یہ ہے کہ یہ کفر اس وقت ہے کہ جب اس نے اسے پسند کیاہو پھرکہا ہم امام ابوحنیفہ کی اس روایت پر مطلع ہیں جس میں ہے کہ غیر کے کفر پرراضی ہوناکفر ہے بغیرکسی فرق کے اھ میں کہتاہوں یہی وہ روایت ہے جو مجتبٰی میں مذکور ہے، علامہ علی قاری نے رسالہ بدر کی عبارت نقل کرنے کے بعد کہا اس کاجواب یہ ہے کہ بیشک امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی روایت جب مجمل ہو یا اس کی عبارت مطلق ہوتو ہم کہتے ہیں ہم اس کی تفصیل کرتے ہیں اور قواعد احناف کے مقتضا کے مطابق اسے مقیدکرتے ہیں اھ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲منہ سلمہ ربہ۔(ت)
 (۱؎منح الروض شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط    فصل فی الکفر مصطفی البابی مصر     ص۱۸۰)
فتح القدیرمیں ہے:
قال صاحب المجتبی واماقول ابی یوسف لاتجوز الصلاۃ خلف المتکلم فیجوز ان یرید الذی قررہ ابوحنیفۃ حین رأی ابنہ حمادا ینا ظرفی الکلام فنہاہ فقال رأیتک تناظر فی الکلا م و تنہانی فقال کنا نناظر وکان علی رؤسنا الطیر مخافۃ ان یزل صاحبنا وانتم تناظرون وتریدون زلۃ صاحبکم ومن اراد زلۃ صاحبہ فقد اراد کفرہ فھو قدکفر قبل صاحبہ فھذا ھو الخوض المنھی عنہ وھذا المتکلم لایجوز الاقتداء ۱؎بہ انتھی۔
صاحب مجتبٰی نے فرمایا امام ابویوسف کاقول کہ کلامی کے پیچھے نمازجائز نہیں تو ہوسکتا ہے ان کی مراد وہ ہو جس کو امام ابوحنیفہ نے مقرررکھا ہے کہ انہوں نے جب اپنے صاحبزادے حماد کو علم کلام میں مناظرہ کرتے ہوئے دیکھا تو اپنے بیٹے کو اس سے منع کیا، بیـٹے نے عرض کی میں نے آپ کوعلم کلام میں مناظرہ کرتے دیکھا ہے اور مجھے آپ اس سے منع کر رہے ہیں اس پرآپ نے فرمایا ہم اس حال میں مناظرہ کرتے تھے گویاہمارے سروں پرپرندے ہیں اس سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ہماراساتھی پھسل نہ جائے لیکن تم اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرکے مناظرہ کرتے ہواور جوشخص اپنے ساتھی کوپھسلانے کاارادہ کرے اس نے اس کا کفرچاہا تو وہ اپنے ساتھی سے پہلے کفر کامرتکب ہوا، پس ایساغور وخوض ممنوع ہے اور ایسے کلامی کے پیچھے نمازجائزنہیں انتہی(ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب الامامۃ        مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۳۰۴)
جب اس متکلم کے پیچھے نمازناجائز ہوئی جس کے انداز سے کفرغیر پررضا نکلتی ہے تو یہ صریح متعصبین جن کا اصل مقصود تکفیر مسلمین دن رات اسی میں ساعی رہیں اور جب تقریراً وتحریراً اس کی تصریحیں کرچکے اور مکابر ہرطرح اپنی ہی بات بالاچاہتاہے توقطعاً ان کی خواہش یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مسلمان کافرٹھہریں اور شک نہیں کہ اپنے زعم باطل میں اس کی طرف کچھ راہ پائیں توخوش ہوجائیں اور جب بحمداﷲ مسلمانوں کاکفر سے محفوظ ہونا ثابت ہو غم وغصہ کھائیں تو ان کاحکم کس درجہ اشد ہوگا اوران کی اقتدا کیونکر
روا، واﷲ الھادی الی الطریق الھدی۔
دلیل پنجم
یہاں تک توان کے بدعت وفسق وغیرہما کی بناپر کلام تھا مگرایک امراور اشد واعظم ان کے طائفہ تالفہ سے صادر ہوتاہے جس کی بناپر ان کے نفس اسلام میں ہزاروں دقتیں ہیں یہاں تک کہ احادیث صریحہ صحیحہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واقوال جماہیرفقہائے کرام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم سے ان کاصریح کافر ہونا اور نماز کا ان کے پیچھے محض باطل جانا نکلتاہے وہ کیایعنی ان کا تقلید کوشرک اور حنفیہ مالکیہ شافعیہ حنبلیہ عمہم اﷲ جمیعاً بالطافہ العلیہ، سب مقلدان ائمہ کو مشرکین کوبتانا کہ یہ صراحۃً مسلمانوں کوکافرکہنا ہے اور پھرایک کونہ دوکولاکھوں کروڑوں اور پھرآج ہی کل کے نہیں گیارہ سوبرس کے عامہ مومنین کوجن میں بڑے بڑے محبوبان حضرت عزت و اراکین امت واساطین ملت وحملہ شریعت وکملہ طریقت تھے رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین ان کے بانی مذہب کے مرجع ومقتدا اور پدرنسب وعلم واقتدا شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی رسالہ انصاف میں لکھتے ہیں:
بعد المأتین ظھر بینھم التمذھب للمجتھدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذھب مجتھد بعینہ۱؎۔
دو صدی کے بعد مسلمانوں میں تقلید شخصی نے ظہورکیاکم کوئی رہاجو ایک امام معین کے مذہب پر اعتماد نہ کرتاہو ۔ (ت)
(۱؎ رسالہ انصاف مع ترجمہ کشاف                مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص۵۹)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی جن کی میزان وغیرہ تصانیف عالیہ سے امام العصر ودیگر کبرائے طائفہ نے جابجا اسناد کیا اسی میزان میں فرماتے ہیں:
یجب علی المقلد العمل بالارجح من القولین فی مذھبہ مادام لم یصل الٰی معرفۃ ھذہ المیزان من طریق الذوق و الکشف، کما علیہ عمل الناس فی کل عصر بخلاف مااذا وصل الی مقام الذوق و رأی جمیع اقوال العلماء وبحور علومھم تنفجر من عین الشریعۃ الاولٰی تبتدیئ منھا وتنتھی الیھا فان مثل ھذا لایؤمر بالتعبد بمذھب معین لشھودہ تساوی المذاھب فی الاخذ من عین الشریعۃ۲؎ اھ ملخصا
یعنی مقلد پرواجب ہے کہ خاص اسی بات پرعمل کرے جو اس کے مذہب میں راجح ٹھہری ہو ہرزمانے میں علماء کااسی پر عمل رہا ہے البتہ جو ولی اﷲ ذوق و معرفت کی راہ سے اس مقام کشف تک پہنچ جائے کہ شریعت مطہرہ کا پہلا چشمہ جو سب مذاہب ائمہ مجتہدین کاخزانہ ہے اسے نظرآنے لگے وہاں پہنچ کر وہ تمام اقوال علماء کومشاہدہ کرے گا کہ ان کے دریا اسی چشمے سے نکلتے اور اسی میں پھر آکرگرتے ہیں ایسے شخص پرتقلید شخصی لازم نہ کی جائے گی کہ وہ توآنکھوں دیکھ رہا ہے کہ سب مذاہب چشمہ اولٰی سے یکساں فیض لے رہے ہیں اھ ملخصاً
 (۲؎ المیزان الکبرٰی        فصل فان قال قائل فھل یجب الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۱)
یہاں سے ثابت کہ جوپایہ اجتہاد نہ رکھتاہو نہ کشف و ولایت کے اس رتبہ عظمٰی تک پہنچا اس پرتقلید امام معین قطعاً واجب ہے اور اسی پرہرزمانے میں علماء کاعمل رہا، یہاں تک امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی نے کتاب مستطاب کیمیائے سعادت میں فرمایا:
مخالفت کردن صاحب مذہب خویش نزدیک ہیچکس (عہ) روا نبود  ۱؂۔
اپنے صاحب مذہب کی مخالفت کرناکسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔(ت)
عہ: اقول وانما اراد الاجماع بعد تقرر المذاھب وظھور التمذھب للائمۃ باعیانھم اذ ھو الصحیح لااضافۃ بین الناس واصحاب المذاھب کمالایخفی وعدم الاعتداد فی دعوی الاتفاق بمن شذوندر وکثیر مشتھر کمالایخفی علی ذی بصر۱۲منہ (م)

میں کہتاہوں ان کی مراد تقررمذاہب اور ظہورتقلید معین ائمہ کے بعد کا اجماع ہے کیونکہ یہی صحیح ہے عام لوگوں اور اصحاب مذاہب کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے۔ جیسا کہ واضح ہے اور دعوٰی اتفاق میں شاذونادر کا اعتبارنہ کرنا کثیر ومشہور ہے جیسا کہ صاحب بصیرت پرمخفی نہیں۱۲منہ(ت)
 (۱؎ کیمیائے سعادت    اصل نہم امربمعروف ونہی ازمنکر    مطبوعہ انتشارات گنجینہ تہران، ایران    ص ۳۹۵)
سبحان اﷲ جب تقلید شخصی معاذاﷲ کفروشرک ٹھہری توتمہارے نزدیک یہ ہرعصر کے علما اور گیارہ سو برس کے عامہ مومنین معاذاﷲ سب کفارومشرکین ہوئے، نہ سہی آخر اتناتو اجلٰی بدیہیات سے ہے جس کاانکار آفتاب کا انکار کہ صدہا برس سے لاکھوں  اولیاء علماء، محدثین، فقہا، عامہ اہلسنت واصحاب حق وہدی غاشیہ تقلید ائمہ اربعہ اپنے دوش ہمت پراٹھائے ہوئے ہیں جسے دیکھو کوئی حنفی، کوئی شافعی، کوئی مالکی، کوئی حنبلی یہاں تک کہ فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت ان چار مذہب میں منحصرہوگیا جیسا کہ اس کی نقل سیدعلامہ احمد مصری رحمہ اﷲ تعالٰی سے شروع دلیل اول میں گزری اور قاضی ثناء اﷲ پانی پتی کہ معتمدین ومستندین طائفہ سے ہیں ۔ تفسیرمظہری میں لکھتے ہیں :
اھل السنۃ قدافترق بعد القرون الثلثۃ اوالاربعۃ علی اربعۃ مذاھب ولم یبق مذھب فی فروع المسائل سوی ھذہ الاربعۃ۲؎ ۔
اہل سنت تین چار قرن کے بعد ان چارمذاہب پر منقسم ہوگئے اور فروع مسائل میں ان مذاہب اربعہ کے سوا کوئی مذہب باقی نہ رہا۔
 (۲؎ تفسیر مظہری    مسئلہ اذا صح الحدیث علی خلاف مذہبہ الخ    مطبوعہ ادارہ اشاعت العلوم دہلی    ۲/ ۶۴)
طبقات حنفیہ وطبقات شافعیہ وغیرہما تصانیف علماء دیکھوگے تو معلوم ہوگا کہ ان چاروں مذہب کے مقلدین کیسے کیسے ائمہ ہدٰی واکابر محبوبان خداگزرے جنہوں نے ہمیشہ اسی کی ترویج میں دفتر لکھے یہ سب تو معاذاﷲ تمہارے نزدیک چنین وچناں ہوئے۔ جانے دوعمل نہ سہی قول تومانوگے اُن جماعات کثیرہ علماء کو کیا جانوگے جنہوں نے تقلید شخصی کے حکم دئیے اور یہی ان کامذہب منقول ہوا، امام مرشد الانام محمدغزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
مخالفتہ للمقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین۱؎۔
تمام منتہی فاضلوں کااجماع ہے کہ مقلد کا اپنے امام مذہب کی مخالفت کرناشنیع وواجب الانکارہے۔
 (۱؎ احیاء العلوم، الباب الثانی فی ارکان الامر الخ    مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر    ۲/ ۳۶۶)
Flag Counter