Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
180 - 185
 فتاوٰی عٰلمگیری میں ہے:
الاقتداء بشافعی المذھب انما یصح اذاکان الامام یتحامی مواضع الخلاف بان یتوضأ من الخارج النجس ، من غیر السبیلین کالفصد ولایکون متعصبا ولایتوضأ بالماء الراکد(عہ ۱ ) القلیل وان یغسل ثوبہ من المنی(عہ ۲)ویفرک الیابس منہ ویمسح(عہ ۳) ربع رأسہ ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ کذا فی فتاوٰی قاضی خاں ولابالماء المستعمل ھکذا فی السراجیۃ ۱؎اھ ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء اس وقت صحیح ہے جب وہ مقامات اختلاف میں احتیاط سے کام لیتاہو، مثلاً سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضو کرتاہو جیسا کہ رگ کٹوانے پر، اور متعصب نہ ہو اور نہ ہی قلیل کھڑے پانی سے وضو کرنے والا ہو اور منی والا کپڑا دھوتاہو، اور خشک منی کپڑے سے کھرچ دیتاہو، سر کے چوتھائی کامسح کرتاہو، نہایہ،اور کفایہ میں اسی طرح ہے، اور ایسے ہی قلیل پانی جس میں نجاست گرگئی ہو اس سے وضو نہ کرتاہو فتاوٰی قاضی خان میں اسی طرح ہے اور نہ ہی ماء مستعمل سے وضوکرتا، جیسا کہ سراجیہ میں ہےاھ ملخصا(ت)
عہ۱ : قلت ای بحیث تقع الغسالۃ فیہ بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل ۱۲منہ(م)

میں کہتاہوں یعنی اس وقت جب غسالہ پانی میں گرتاہو اس قول کی بناپر جو ماء مستعمل کونجس قراردیتے ہیں ۱۲(ت)

عہ ۲ : قلت ای اذا بلغ حدالمنع ۱۲منہ(م) میں کہتاہوں یعنی جب مانع نماز کی حد تک پہنچ جائے ۱۲(ت)

عہ ۳ : قلت ای لایجتزیئ باقل منہ ۱۲منہ (م) میں کہتاہوں یعنی اس سے اقل پر اکتفاء نہ کرتاہو ۱۲منہ(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ        مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۸۴)
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
اما الاقتداء بشفعوی المذھب قالوا لاباس بہ اذالم یکن متعصبا وان یکون متوضأ من الخارج النجس من غیر السبیلین ولایتوضأ بالماء القلیل الذی وقعت فیہ النجاسۃ۲؎۱ھ ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء کے بارے میں علماء نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ متعصب نہ ہو اور یہ کہ سبیلین کے علاوہ سے نجاست کے خروج پروضوکرتاہو اور اس قلیل پانی (جس میں نجاست گرگئی ہو) سے وضو نہ کرتاہو۔اھ ملخصاً(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی من یصلح الاقتداء وفی من لایصح        مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۴۳)
فتاوی امام طاہربن عبدالرشید بخاری میں ہے:
الاقتداء بشفعوی المذھب یجوز ان لم یکن متعصبا ویکون متوضأ من الخارج من غیرالسبیلین ولایتوضأ بماءٍ الذی وقعت فیہ النجاسۃ وھو قدر قلتین۱؎ اھ ( عہ) ملخصا۔
شافعی المذہب کی اقتداء جائز ہئے اگر وہ متعصب نہ ہواورغیرسبیلین سے نجاست کے خروج پروضوکرنے والاہو اور اس تھوڑے پانی سے وضونہ کرتا ہو جس میں نجاست گرگئی ہو اور وہ دوقلوں کی مقدارہے اھ تلخیصاً (ت)
عہ: قلت الاولی تعبیر غیرہ کالخانیۃ بالقلیل ۱۲منہ (م)

میں کہتاہوں اس کے غیر کی تعبیربہتر ہے جیسے کہ خانیہ نے ''قلیل'' کے ساتھ تعبیرکیاہے۱۲منہ(ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    کتاب الصلوٰۃ الاقتداء باھل الہو اء    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۱۴۹)
جامع الرموزمیں ہے:
ھذا اذا علم بالاحتراز عن مواضع الخلاف فلوشک فی الاحتراز لم یجز الاقتداء مطلقا کما فی النظم فلاباس بہ اذا لم یشک فی ایمانہ ولم یتعصب ای لم یبغض للحنفی (وساق الکلام فی مسائل المراعاۃ فجمع واوعی ثم قال) الکل فی بحر الفتاوی۲؎۔
یہ اس وقت ہے جب وہ مقامات اختلاف سے بچنے کایقین رکھتاہو اگر اس کے احتراز میں شک ہوتوپھر ہر حال میں اقتداء جائزنہیں، جیسا کہ نظم میں ہے پس اس وقت اس کی اقتدامیں کوئی حرج نہیں جب اس کے ایمان میں شک نہ ہو(یعنی انا مؤمن ان شاء اﷲ کہنے والانہ ہو) اور وہ متعصب نہ ہو یعنی حنفی کے ساتھ بغض نہ رکھتاہو (اس کے بعد مقامات رعایت پرگفتگوکرتے ہوئے مسائل کواکٹھاکیاپھرفرمایا) یہ تمام بحرالفتاوٰی میں ہے۔(ت)
 (۲؎ جامع الرموز    فصل یجہرالامام        مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران    ۱/ ۱۷۳)
شرح ملتقی الابحرمیں ہے:
جواز اقتداء الحنفی بالشافعی اذاکان الامام یحتاط فی مواضع الخلاف۳؎۔
حنفی کاشافعی کی اقتداکرنا اس وقت جائزہے جب شافعی امام مقامات اختلاف میں محتاط ہو۔(ت)
 (۳؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب الوتر والنوافل    مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۱۲۹)
علامہ احمد مصری حاشیہ شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں:
صحۃ الاقتداء اذاکان یحتاط فی مواضع الاختلاف کأن یجدد الوضوء بخروج نحو دم وان یمسح رأسہ وان یغسل ثوبہ من منی اویفرکہ اذاجف۱؎ الخ
صحت اقتدا شافعی کی اس پرموقوف ہے کہ وہ مواضع اختلاف میں محتاط ہو، مثلاً خون جیسی چیز کے خروج پر نیا وضوکرتاہو اور سرکامسح کرتاہو، منی والے کپڑے کو دھوتا ہو یاخشک ہونے کی صورت میں اسے کھرچ دیتاہو  لخ(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، باب الوتر    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۱۰)
ردالمحتار میں ہے :
قال کثیر من المشائخ ان کان عادتہ مراعاۃ موضع الخلاف جاز والا فلا ذکرہ السندی المتقدم ذکرہ ح قلت وھذا بناء علی ان العبرۃ لرأی المقتدی وھو الاصح۲؎الخ
اکثرمشائخ نے فرمایا ہے کہ اگرشافعی امام کی عادت مقامات اختلاف میں احتیاط کی (یعنی وضو و نماز میں مذہب حنفی کی رعایت کرتاہو) توپھر اس کی اقتداء جائز ورنہ نہیں۔ سندی نے اس کو ذکرکیااس کاتذکرہ پیچھے بھی گزراہے ح۔ میں کہتاہوں یہ اس بناپرہے کہ اس مسئلہ میں اعتبار مقتدی کی رائے کا ہے اور یہی اصح ہے الخ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۴۱۶)
اُسی میں ہے:
فی رسالۃ الاھتداء فی الاقتداء لملا علی القاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والافلا۳؎۔
ملاعلی قاری کے رسالہ
''الاھتدا فی الاقتداء''
میں ہے کہ اکثرمشائخ کی رائے یہی ہے کہ اگرامام شافعی مقامات اختلاف میں محتاط ہے تو اقتدأ جائز ورنہ نہیں۔(ت)
 (۳؎ردالمحتار مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۴۱۶)
اسی طرح اور کتب میں تصریح ہے:
بقی ان الشامی نقل عن القاری بعد قولہ المذکور المعنی انہ یجوز فی المراعی بلاکراھۃ وفی غیرہ معھا۱؎اھ
رہایہ معاملہ کہ شامی نے علی قاری سے اپنے مذکور قول کے بعد یہ نقل کیاہے: اس کامعنی یہ ہے کہ رعایت کرنے والے کے پیچھے بغیرکراہت جائزہے اور رعایت نہ کرنے والے کے پیچھے بالکراہت اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        مطلب فی الاقتداء بشافعی ونحوہ الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴۱۶)
اقول: وھذا یخالف تصریح الھندیۃ بعدم الصحۃ لکن لایعکر علیّ لانی انما عبرت بعدم الجواز الشامل للفساد وکراھۃ التحریم فینطبق علی تفسیر القاری و تصریح الھندیۃ جمیعا، والذی یظھرلی وارجوان یکون ھوالصواب ان شاء اﷲ تعالٰی ان البطلان انما ھو اذاعلم عدم المراعاۃ فی خصوص الصلاۃ کما اختارہ العلامۃ السغناقی وجزم بہ وتر الدر وغیرہ والافالصواب مع القاری فتصح لعدم العلم بالمفسد وتکرہ لکونہ غیر محتاط، وان حملت الصحۃ فی کلام الھندیۃ علی الجواز وان کان فیہ بعد فیتوافق القولان  ومن الدلیل علی ھذا الحمل ان صاحب الھندیۃ ادخل کلام قاضی خاں تحت مسئلۃ عدم الصحۃ وانما نص الخانیۃ کما سمعت تعلیق نفی البأس بتلک الشرائط فانما یفید بمفھوم المخالفۃ وجود البأس عند عدمھا، ووجود الباس لایستلزم البطلان نعم ھومساو لعدم الجواز بمعنی عدم الحل المجامع لکراھۃ التحریم، ویؤید ذلک مانص علیہ العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ الاختلاف انما ھو فی الکراھۃ والافعلی الجواز یعنی الصحۃ الاجماع۔ ثم لایذھبن عنک ان الکراھۃ ھھنا للتحریم اذھو الذی یصح تفسیر عدم الجواز بہ کما فعل القاری فافھم وتثبت ھذا ما ظھرلی وقد بقی خبایا العبد الضعیف حقق الکلام فی ھذا المرام فی فتاواہ الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ وباﷲ التوفیق۔
اقول: (میں کہتاہوں) یہ فتاوٰی ہندیہ کی اس تصریح کے مخالف ہے جس میں انہوں نے عدم صحت کا ذکرکیاہے، لیکن یہ بات مجھ پر لازم نہیں آتی کیونکہ میں نے اسے عدم جواز کے ساتھ تعبیرکیا ہے جو فساد اور کراہت تحریمی دونوں کوشامل ہے، لہٰذا یہ علی قاری کی تفسیر اور ہندیہ کی تصریح دونوں کے موافق ہے، اور جوچیز مجھ پر ظاہرہوئی ہے اور میں امیدکرتاہوں ان شاء اﷲ وہی صواب ہے وہ یہ ہے کہ نماز کاباطل ہونا اس صورت میں جب امام شافعی بالخصوص نمازمیں رعایت نہ کرتاہو (اس بات کاحنفی کویقین ہو) جیسا کہ اس کو علامہ سغناقی نے اختیار کیااور در وغیرہ کے بیان وتر میں اس پرجزم کیا ہے ورنہ اگرعلم نہ ہو کہ وہ رعایت کرتاہے تو علی قاری کی رائے صواب ہے کہ نماز درست ہوگی کیونکہ مفسد کاعلم نہیں البتہ مکروہ ہوگی، کیونکہ وہ محتاط نہیں، اور اگرہندیہ کی عبارت میں صحت کوجواز پرمحمول کرلیاجائے گا اگرچہ اس میں بعد ہے تودونوں اقوال میں موافقت ہوجائے گی، اس حمل پر ایک دلیل یہ ہے کہ صاحب ہندیہ نے کلام قاضی خاں کومسئلہ عدم صحت کے تحت ذکرکیا ہے، اور خانیہ نے تصریح کی ہے جیسا کہ آپ سن چکے کہ نفی حرج ان شرائط کے ساتھ معلق ہے اور یہ بات مفہوم مخالف کے طورپر اس بات کی مفید ہے کہ جب شرائط معدوم ہوں توحرج لازم آئے گا اور وجود حرج بطلان کومستلزم نہیں، ہاں وہ مساوی بنے گا عدم جواز بمعنی عدم حل کاجوکراہت تحریمی کوجامع ہے اور اس کی تائید علامہ حلبی کے ان الفاظ سے ہوتی ہے جو غنیـہ میں ہیں کہ اختلاف کراہت میں ہے ورنہ جواز یعنی صحت پراجماع ہے۔پھریہ بھی ذہن نشین رہناچاہئے کہ یہاں کراہت تحریمی مراد ہے کیونکہ تفسیرعدم جواز کی اسی کے ساتھ درست ہوتی ہے جیسا کہ علی قاری نے کیاہے، خوب سمجھ کر اس پرقائم رہو۔ یہ وہ تفصیل تھی جو مجھ پرواضح ہوئی اورابھی کچھ گوشے رہ گئے ہیں بندہ ضعیف نے اﷲ کی توفیق سے اس مقصدپراپنے فتاوٰی
الملقب بہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ
میں تحقیق کی ہے۔(ت)
سبحٰن اﷲ جبکہ بے احتیاط شافعی کے پیچھے نمازجمہور ائمہ کے نزدیک ناجائز، توان مبتدعین تہورین کو اہل حق وہدایت سے کیانسبت ان کے پیچھے بدرجہ اولٰی ناجائزو ممنوع ترہوناچاہئے کمالایخفی۔

تنبیہ: خانیہ وخلاصہ ونہایہ وکفایہ وبحرالفتاوٰی وشرح نقایہ وہندیہ کے نصوص سن چکے کہ متعصب شافعی کے پیچھے نمازجائز نہیں اور اس کی تفسیرگزری کہ متعصب ( عہ)  وہ جوحنفیہ سے بغض رکھتاہو،
عہ: اقول ایسے ہی شافعیہ یامالکیہ یاحنبلیہ سے بغض رکھنے والا عند من برأہ اﷲ من التعصب کہ اہل حق سے بغض نہ رکھے گا مگربدمذہب ،اوربدمذہب کے پیچھے نمازممنوع ۱۲منہ سلمہ(م)
اب غورکرلیجئے کہ غیرمقلدین کو نہ صرف حنفیہ بلکہ تمام مقلدین ائمہ دین سے کس قدر بغض شدید وکین مدید ہے خصوصاً جوعنایت حضرات حنفیہ خصہم اﷲبالطافہ والحفیہ کے ساتھ ہے بیان سے باہرتو ان روایات پریہ جداگانہ دلیل ہوئی ان کی اقتداء ناجائزہونے کی ،
لکن قال المحقق فی الفتح لایخفی ان تعصبہ انما یوجب فسقہ۱؎اھ
لیکن محقق نے فتح القدیر میں فرمایا یہ مخفی نہ رہے کہ اس کامتعصب ہونافسق کاموجب وسبب ہےاھ
 (۱؎ فتح القدیر        باب صلوٰۃ الوتر    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۳۸۱)
Flag Counter