Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
179 - 185
مسئلہ (۲): اسی فتح المغیث کے صفحہ۵ اور طریقہ محمدیہ کے صفحہ ۷ میں ہے: نجاست گوہ اورموت ہے آدمی کامطلق مگرموت لڑکے شیرخوار کااور لعاب ہے کتے کااور لینڈ بھی اور خون بھی حیض ونفاس کااور گوشت ہے سؤرکا اور جو اس کے سواہے اس میں اختلاف ہے اور اصل اشیاء میں پاکی ہے اورنہیں جاتی پاکی مگرنقل صحیح سے کہ جس کے معارض کوئی دوسری نقل نہ ہو۲؎۔
 (۲؎ فتح المغیث)
یہاں صاف صاف نجاست کوان سات چیزوں میں حصرکردیا باقی تمام اشیاء کو اصل طہارت پرجاری کیاجب تک نقل صحیح غیرمعارض وارد نہ ہو۔ میں کہتاہوں اب مثلاً اگرکوئی غیرمقلد مرغی کے گوہ یاسوئر کے موت یاکتے کی منی سے اپنے چہرہ و ریش بُرُوت (مونچھیں) وجامہ پرعطروگلاب افشانی فرماکر نماز پڑھ لے یایہ چیزیں کیسی ہی کثرت سے پانی میں مل جائیں اگرچہ رنگ ومزہ وبوکوبدل دیں اور غیرمقلد صاحب اس سے وضو کریں اصلاً حرج نہیں کہ آخرجامہ بدن پرکوئی نجاست نہیں، نہ پانی کے اوصاف کسی نجس نے بدلے پھرکیامضائقہ ہے سب مباح ورواہے
انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ ثم اقول آیہ کریمہ قل لااجدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یّطْعمُہ۱؎
 (محبوب فرمادیجئے میں اپنے اوپرنازل شدہ وحی میں نہیں پاتا کسی کھانےوالے پرکوئی کھاناحرام۔ت)
 (۱؎ القرآن    ۶/ ۱۴۵)
الا یہ سند کافی موجود اور جس طرح نجاست بے نقل صحیح غیرمعارض ثابت نہیں ہوسکتی اور اصل اشیاء میں طہارت ہے یوں ہی حرمت کاثبوت بھی بے اس کے نہ ہوگا اور اصل اشیاء میں اباحت تو غیرمقلد کوان چیزوں کے نوش کرنے میں کیامضائقہ ہے    ع :
گربرتو حلال ست حلالت بادا
 (اگرتجھ پرپینا حلال ہے تیرااپناحلال کیاہواہے)
مسئلہ (۳): نواب موصوف روضہ ندیہ کے صفحہ ۱۲میں فرماتے ہیں: شراب ومردار وخون کی حرمت ان کی نجاست پردلیل نہیں جوانہیں ناپاک بتائے دلیل پیش کرے اھ ملخصاً مترجماً۲؎۔
 (۲؎ روضہ ندیہ شرح درربہیہ عربی    بیان الاصل فی الاشیاء الطہارۃ    مطبوعہ فاروقی کتب خانہ لاہور    ۱/ ۲۳)
میں کہتاہوں شاعر بھولاکہ ناحق خلاف شرع پینے کالفظ بولااگر یہ مسئلہ سنتاتویوں کہتا:    ؎

چھوتا نہیں شراب کبھی بے وضو کئے

قالب میں میرے روح کسی پارساکی ہے

جس میں شریعت جدیدہ کاخلاف بھی نہ ہوتا اور زیادت مبالغہ سے حسن شعر بھی بڑھ جاتا کہ پیتا نہیں سے چھوتانہیں میں کہیں زیادہ مبالغہ ہے۔
مسئلہ (۴) نواب صاحب اپنے صاحبزادہ کے نام سے نہج المقبول من شرائع الرسول مطبوعہ بھوپال کے صفحہ ۲۰ پرفرماتے ہیں:
شستن منی ازبرائے استقذار بودہ است نہ بنابرنجاست وبرنجاست خمر ودیگرمسکرات دلیلے کہ صالح تمسک باشد موجودنیست واصل درہمہ چیز ہاطہارت ست ودرنجاست لحم خوک خلاف ست ودم مسفوح حرام ست نہ نجس اھ ملخصا ۱ ؎
منی کونفرت ونظافت کی وجہ سے دھونا ضروری ہے نہ کہ ناپاک ہونے کی وجہ سے، شراب اور دیگرنشہ آور اشیاکے ناپاک ہونے پرکوئی دلیل صالح نہیں جس سے استدلال کیاجاسکے اور تمام اشیاء میں اصلاً طہارت ہے۔خنزیرکے گوشت کے نجس ہونے میں اختلاف ہے دم مسفوح حرام ہے مگرنجس نہیںاھ ملخصاً (ت)
 (۱؎ نہج المقبول من شرائع الرسول)
مسئلہ (۵) اسی فتح المغیث کے صفحہ ۶پرہے: کافی ہے مسح کرنا پگڑی پر۲؎۔ یعنی وضو میں سرکامسح نہ کیجئے پگڑی پرہاتھ پھیرلیجئے وضوہوگیا اگرچہ قرآن عظیم فرمایاکرے
وَامْسَحُوْا بِرُؤُسِکُمْ۳؎
 (اپنے سروں کا مسح کرو)
 (۲؎ فتح المغیث) (۳؎ القرآن    ۵/ ۶)
مسئلہ (۶) مولوی محمدسعید شاگرد مولوی نذیرحسین ہدایت قلوب قاسیہ کے صفحہ ۳۶ میں لکھتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے اورانزال نہ ہو تو اس کی نمازبغیر غسل کے درست ہے۴؎۔
مسئلہ (۷) فتاوی ابراہیمیہ مصنفہ مولوی ابراہیم غیرمقلد مطبوعہ دھرم پرکاش الہ آباد کے صفحہ ۲ میں ہے: وضومیں بجائے پاؤں دھونے کے مسح فرض ہے۵؎۔
 (۴؎ ہدایت قلوب قاسیہ)  (۵؎ فتاوٰی ابراہیمیہ)
انہوں نے پاؤں کے مسئلے میں رافضیوں سے بھی آگے قدم رکھا وہ بیچارے بھی صرف جوازمانتے ہیں
واﷲ المستعان علی شرالرفاض وقومٍ شرٍّ من الرفاض
 (اﷲ تعالٰی ہی مددگارہے روافض کے شرپراور اس قوم کے شرپرجوروافض سے بھی بدترہے۔ت
ثانیاً یہ خیال کیجئے کہ انہیں اہلسنت کے ساتھ کس درجہ تعصب ہے، اور تعصب وہ شئی ہے کہ خواہی نخواہی آدمی نیش عقرب (بچھوکاڈنگ) ہوکر بتقاضائے طبع ایذا واضرار پرکمرکستاہے اور جہاں تک بن پڑے شقاق وخلاف کو دوست رکھتا ہے، اگرعلانیہ نہ ہوسکے توخفیہ ہی کوئی بات کرگزرے اورآپ ہی آپ دل میں ہنس لے، جہال روافض کی حکایات مشہورہیں کہ ان کی مجالس مرثیہ میں جوجاہل سنی جابیٹھے انہوں نے قلتین کے چھینٹے شربت میں ملائے، بعض اشقیا نے اسمائے طیبہ پرچوں پرلکھ کرفرش کے نیچے رکھ دئے کہ سنی بیٹھیں تو پاؤں کے نیچے آئیں اگرچہ نادانستہ ہی سہی۔ پھرجہاں ایساموقع ہاتھ لگاکہ کوئی خاص چیز کسی مہمان یاحاجتمند سنی ناواقف کے کھانے پینے کوپیش کی ظاہری تکلف حد سے گزرا اور بعض نجاسات قطعیہ سے آلودہ کردی، یہ سب شاخیں تعصب کی ہیں، پھر حضرات غیرمقلدین کا تعصب ان روافض سے کم نہیں بلکہ زائد ہے کہ یہ دشمن تازہ ہیں اور ان کے حوصلوں کی نئی اُٹھان ہے اب ان کی بیباکی  وجرأت ومسائل مساہلت وشدت عداوت دیکھ کرنہ صرف احتمال فوری بلکہ ظن غالب ہوتا ہے کہ اگریہ امام کئے جائیں ضرور اپنے اُن بعض مسائل مذکورہ پرعمل کریں گے انہیں کیاغرض پڑی ہے کہ مذہب مقتدیان کی رعایت کرکے ان امور سے بازآئیں اور تعصب برت کردل ٹھنڈانہ کریں پھربعض جگہ غسل وغیرہ کی مشقت اٹھانی ہو وہ نفع میں ۔
ثالثاً اب یہ غورکیجئے کہ علمائے دین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے اہل حق وہدٰی کے مذاہب مختلفہ مثلاً باہم حنفیہ وشافعیہ میں ایک کی دوسرے سے اقتداپرکیاکلام کیاہے یہ مسئلہ ہمیشہ سے معرکۃ الآرارہااور اس میں تکثر شقوق واختلاف اقوال بشدت ہواہمیں یہاں صرف اس صورت سے غرض ہے کہ دوسرے مذہب والاجونماز وطہارت میں ہمارے مذہب کی مراعات نہ کرے اور خروج عن الخلاف کی پروانہ رکھے اس کے پیچھے نمازکاکیاحکم ہے۔ پہلے اس احتیاط ومراعات کے معنی سمجھ لیجئے بعض باتیں مذاہب راشدہ میں مختلف فیہ ہیں(اختلافی مسائل) مثلاً فصدوحجامت سے شافعیہ کے نزدیک وضونہیں جاتاہمارے نزدیک جاتارہتاہے۔ مس ذکرومساس زن سے ہمارے نزدیک نہیں جاتا ان کے نزدیک ٹوٹ جاتاہے، دوقلہ پانی میں اگرنجاست پڑجائے ان کے مذہب میں ناپاک نہ (عہ) ہوگاہمارے نزدیک (ناپاک) ہوجائے گا،
عہ: بشرطیکہ پانی کاکوئی وصف مثلاً بویارنگ یامزہ متغیرنہ ہوجائے ورنہ بالاتفاق ناپاک ہوجائے گا ا۲منہ(م)
ان کےنزدیک ایک بال کامسح وضو میں کافی ہے ہمارے یہاں ربع سرکاضرور، ہمارے مذہب میں نیت وترتیب وضومیں فرض نہیں ان کے نزدیک فرض، وعلٰی ہذا القیاس، اس قسم کے مسائل میں باجماع ائمہ آدمی کو وہ بات چاہئے جس کے باعث اختلاف علمامیں واقع نہ ہو جب تک یہ احتیاط اپنے کسی مکروہ مذہب کی طرف نہ لے جائے تومحتاط شافعی فصدوحجامت سے وضوکرلیتے ہیں اور مسح میں بعض پرقناعت نہیں کرتے اور محتاط حنفی مَسِ ذکرومساس زن سے وضوکرلیتے ہیں او رترتیب ونیت نہیں چھوڑتے کہ اگرچہ ہمارے امام نے اس صورت میں وضو واجب نہ کیامنع بھی تونہ فرمایا پھرنہ کرنے میں ہماری طہارت ایک مذہب پرہوگی دوسرے پرنہیں اور کرلینے میں بالاتفاق طاہرہوجائیں گے اور اپنے مذہب میں وضو علی الوضو کاثواب پائیں گے، جوایسی احتیاط کاخیال نہیں کرتے اور دوسرے مذہب کے خلاف ووفاق سے کام نہیں رکھتے، جمہورمشائخ کے نزدیک ان کی اقتداجائز نہیں کہ صحیح مذہب پررائے مقتدی کااعتبارہے جب اس کی رائے پرخلل طہارت یااور وجہ سے فسادنماز کا مظنہ ہویہ کیونکر ایسی نماز پراپنی نماز بناکرسکتاہے خانیہ وخلاصہ و سراجیہ و کفایہ و نظم و بحرالفتاوی و شرح نقایہ ومجمع الانہر وحاشیہ مراقی الفلاح وغیرہاکتب میں اس کی تصریح فرمائی اور اسے علامہ سندی پھرعلامہ حلبی پھرعلامہ شامی نے بہت مشائخ اور علامہ قاری نے عامہ مشائخ کرام سے نقل کیا،
Flag Counter