Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
178 - 185
فسق ہفتم: ہم اوپر بیان کرآئے کہ ان کا خلاصہ مذہب یہ ہے کہ گنتی کے ڈھائی آدمی ناجی باقی تمام مسلمین شرک میں پڑکرہلاک ہوگئے اور حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سمعت الرجل یقول ھلک الناس فھو اھلکھم۲؎۔ اخرجہ احمد والبخاری فی الادب ومسلم وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب تو کسی کو یوں کہتے سنے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والاہے۔ اسے امام احمد اور بخاری نے الادب المفرد میں، مسلم اور ابوداؤد نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔
 (۲؎ الادب المفرد (۳۲۴)    باب قول الرجل ھلک الناس حدیث ۷۵۹    مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص ۱۹۸)
حدیث سے ثابت ہواکہ حقیقۃً یہی لوگ جوناحق مسلمانوں کوچنیں وچناں کہتے ہیں خود ہلاک عظیم کے مستحق ہیں اور اﷲ جل جلالہ فرماتاہے:
فَھَلْ یُھْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۳؎o
کون ہلاک ہوا سوافاسق لوگوں کے۔
 (۳؎ القرآن،  ۴۶/ ۳۵)
پھر ان کے اشد الفاسقین سے ہونے میں کیاشبہہ ہے والعیاذباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔ پھرستم برستم یہ کہ وہ ان محرمات کاصرف ارتکاب ہی نہیں کرتے اُنہیں حلال ومباحات بلکہ افضل حسنات بلکہ اہم واجبات سمجھتے ہیں ہیہات اگرتاویل کاقدم درمیان نہ ہوتا توکیاکچھ ان کے بارے میں کہنا نہ تھا اﷲ تعالٰی نے یہ دین پراستقلال اور کلمہ طیبہ کا ادب وجلال بمنہ وکرمہ ہم اہلسنت ہی کوعطافرمایاہے کہ بدمذہبان گمراہ ہماری تکفیریں کریں ہم پاس کلمہ سے قدم باہرنہ دھریں وہ ہروقت اس فکرمیں کہ کسی طرح ہم کومشرک بنائیں ہم ہمیشہ اس خیال میں کہ جہاں تک ممکن ہو انہیں مسلمان ہی بتائیں۔ جیسے وہ بھوکی اونٹنی جس کے پیچھے ہری ببولیں رہیں اور ان میں شیر اور آگے صاف میدان پھرآباد شہر، وہ ببولوں کی ہریالی پرمہاریں توڑاتی اور پلٹی جاتی ہے کہ خود بھی ہلاک ہو اور سوار کوبھی مہلکہ میں ڈالے، سوارمہمیزیں کرتا تازیانے لگاتا آگے بڑھاتا ہے کہ آپ بھی نجات پائے اور اسے بھی بچالے    ؎
       		               	ھوی ناقتی خلفی وقدامی الہوی

  		   	 وانی وایاھا لمختلفان
 (میری سواری کی خواہش میرے پیچھے ہے اور میری خواہش آگے ہے اور میں اور وہ دونوں مختلف ہیں)
منصف کے نزدیک اتنی ہی بات سے اہل حق ومبطلین کافرق ظاہر
والحمدﷲ رب العٰلمینo قُلْ کُلّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاًo
تم فرماؤ سب اپنے اپنے طریقے پرکام کرتے ہیں تو تمہارا رب خوب جانتاہے کہ کون زیادہ راہ پرہے۔
 (۱؎ القرآن ۱۷/۸۴)
تنبیہ: عبارت مذکورہ غنیہ دیکھ کر بعض اذہان میں یہ خیال گزرسکتاہے کہ طائفہ غیرمقلدین اگرچہ ان فسقیات کے عادی ہیں مگروہ انہیں فسق جان کرنہیں کرتے بلکہ اپنے زعم میں کارثواب وعین صواب سمجھتے ہیں یہ اُن کی فہم کی کجی اور مذہب کی بدی ہے اس سے وہ بیباکی ثابت نہ ہوئی جس کی بناپر امامت فاسق ممنوع ہوئی تھی کہ جب اسے دین کااہتمام نہیں توکیاعجب کہ بے وضو نمازپڑھائے یاشرائط نماز سے کوئی اور شرط چھوڑجائے۔
اقول: منع امامت فاسق صرف اسی پرمبنی نہ تھا بلکہ اس کی بڑی علت وہ تھی کہ تقدیم میں عظمت اور فاسق شرعاً مستحق اہانت، بہرحال موجود بلکہ عیوب وذنوب کوصواب وثواب جانتے ہیں اور زیادہ شدید الورود کہ اس سے فسق ہزارچند ہوجاتاہے تواسی قدراستحقاق اہانت ترقی پائے گا اور اس کی ترقی پر اُتنا ہی شناعت امامت میں جوش آئے گا معہذا جس نے تجربہ کیا ہے اس سے پوچھئے کہ دنیادرکنار خاص امور دین میں اصاغر بالائے طاق ان کے اکابر و معتمدین میں جوشنیع بیباکیاں عظیم سفاکیاں پھیل رہی ہیں خدانہ کرے کہ کسی فاسق سے فاسق کوبھی اُن کی ہوالگے، کیانہ دیکھا کہ ان کے امام العصر نے اپنے مہری فتوے میں دودھ کے چچا کوبھتیجی دلائی،کیانہ جانا کہ ان کے رشید شاگرد نے مطبوعہ رسالے میں حقیقی پھوپھی تک حلال بتائی، کیانہ سنا کہ دوسرے شاگرد نے سوتیلی خالہ کوبھانجے کے حق میں مباح کردیا اور اس آفت کے فتوے سے استاد صاحب نے اپنی مہر کا نکاح کردیا پھرامام العصر کااُجرت لے کرمسائل لکھنا، ایک ہی مقدمہ میں مدعی مدعاعلیہ دونوں کے پاس حضرت کا فتوی ہونا کیسی اعلٰی درجے کی دیانت ہے۔ ان سب وقائع کی تفصیل بعض احباب فقیرنے رسالہ
سیف المصطفٰی علی ادیان الافتراء(۱۲۹۹ھ) ورسالہ نشاط السکین علی حلق البقر السمین(۱۳۰۳ھ)
میں ذکر کی، پھربات بنانے کو احیاء و اموات پرہزاروں افتراء وبہتان کرنا، فرضی کتابوں سے سندلانا، خیالی عالموں کے نام گھڑلینا، نقل عبارت میں قطع وبرید کرنا، جرح محدثین کونسب بدل لینا، احادیث واقوال کے غلط حوالے دینا اور ان کے سوا دیدہ ودانستہ ہزاروں قسم کی عیاریاں ان کے عمائدومتکلمین اپنی مذہبی تصانیف میں کرگزرے، زکیں کھائیں الزام اٹھائے اور بازنہ آئے۔ رسالہ سیف المصطفٰی انہیں امور کے بیان واظہار میں تالیف ہوا جس میں عزیزم مؤلف حفظہ اﷲ نے اکابر طائفہ کی ایک سوساٹھ دیانتوں کوجلوہ دیا۔ پھر کون گمان کرسکتاہے کہ جرأت وجسارت میں ان کاپایا کسی فاسق سے گھٹاہواہے، معہذا آزمالیجئے کہ یہ حضرات جس مسئلہ میں خلاف کریں گے آرام نفس ہی کی طرف کریں گے کبھی وہ مذہب ان کے نزدیک راجح نہ ہوا جس میں ذرامشقت کاپلہ جھکا، تراویح میں بیس رکعت چھوڑیں توچھتیس کی طرف نہ گئے جو امام مالک سے مروی، نہ چالیس لیں جو حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول اور امام اسحق بن راہویہ واہل مدینہ کامذہب تھا، آٹھ پرگرے کہ آرام کاسبب تھا۔ اور ان کے بعض مسائل کا نمونہ ان شاء اﷲ تعالٰی قریب آتاہے۔ مسلمانو! جب بیباکی وہ ہے کہ جوچاہا کہہ دیا نہ قرآن سے غرض نہ حدیث سے کام، اجماع ائمہ تو کس چیزکانام، ادھر آرام طلبی کاجوش تام، توکیاعجب کہ بے غسل یابے وضو نمازجائز کرلیں خصوصاً جبکہ موسم سرماہو اورپانی ٹھنڈا، آخریہ پھوپھی، بھتیجی خالہ کی حلت سے عجیب ترنہ ہوگا،
سچ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے :
اذالم تستحی فاصنع ماشئت۱؎۔
جب توبے حیا ہوجائے توجوچاہے کر۔(ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر  مروی ازابومسعودانصاری حدیث ۶۵۷        مطبوعہ مکتبہ فیصلیۃ بیروت    ۱۷/ ۲۳۷)
                     ع   :                آنرام کہ حیانیست ازوہیچ عجب نیست
 (جس کوحیا نہیں اس سے کچھ بھی تعجب نہیں) والعیاذباﷲ تعالٰی۔
دلیل سوم
اس کی تقریر میں اوّلاً یہ سنئے کہ ان حضرات کی فقہی مسائل متعلقہ نمازوطہارت جوانہوں نے خوداپنی تصانیف میں لکھے کیاکیاہیں اور وہ علی الاطلاق مذاہب راشدہ یاخاص مذہب حنفیہ سے کتنے جداہیں محبنا مولوی وصی احمدصاحب سورتی سلمہ اﷲ تعالٰی نے فتوائے
جامع الشواھد فی اخراج الوھابیین عن المساجد
 (مساجد سے وہابیوں کونکالنے پر جامع دلائل۔ت) میں عقائد غیرمقلدین نقل کرکے ان کے بعض عملیات بھی تلخیص کئے ہیں یہاں اسی کے چندکلمات بطور التقاط لکھنا کافی سمجھتاہوں۔
مسئلہ (۱) : پانی کتناہی کم ہونجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک رنگ یابویامزہ نہ بدلے نواب صدیق حسن خاں بہادرشوہر ریاست بھوپال نے طریقہ محمدیہ ترجمہ درر بہیہ مصنفہ قاضی شوکانی ظاہری المذہب مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی کے صفحہ ۶و۷ پر اس کی تصریح کی، اس کتاب پر مولوی نذیرحسین صاحب نے مہر کی اور لکھااس پرموحدین بے دھڑک عمل کریں، اور دیباچے میں خود نواب مترجم لکھتے ہیں: متبع سنت اس پر آنکھ بند کرکے عمل کرے اور اپنی اولاد اور بیبیوں کو پڑھائے۱؎ اور یہی مضمون فتح المغیث مطبع صدیقی لاہور کے صفحہ ۵ میں ہے،
(۱؎ طریقہ محمدیہ ترجمہ درربہیہ)
         (ف: اسی کادوسرا نام فتح المغیث ہے۔نذیراحمد)
یہ وہی کتاب طریقہ محمدیہ ہے جس کانام بدل کر نواب بھوپال نے دوبارہ وسہ بارہ بھوپال اور لاہور میں چھپوایا۔ اس مسئلے کامطلب یہ ہواکہ کنواں توبڑی چیزہے اگرپاؤ بھر پانی میں دوتین ماشے اپنا یا کتے کاپیشاب ڈال دیجئے پاک رہے گا مزے سے وضوکیجئے، نماز پڑھئے کچھ مضائقہ نہیں۔
Flag Counter