Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
177 - 185
 ہم اور تم سب مل کر مہر کردیں کہ مسائل مذہبی میں جو مسلک علمائےحرمین طیبین زادہما اﷲ شرفا وتعظیما کا ہے فریقین کو مقبول ہوگا اگر بے تکلف اس پر راضی ہوجائیں فبہا ورنہ جان لیجئے کہ یہ قطعاً اہل حرمین کے مخالف مذہب اور سنیان ہندو وغیرہ کے مثل ان پاک مبارک شہروں کے علماء کو بھی معاذاﷲ مشرک وگمراہ وبددین جانتے ہیں پھر عداوت و بدخواہی نہ ہونا کیا معنے، اور خود ان سے پوچھنے کی حاجت کیا ہے علمائے حرمین حفظہم اﷲ تعالٰی کے فتاوے ان صاحبوں کے رد میں بکثرت موجود انھیں سے حال کھل جائے گا کہ مخالفان مذہب میں جیسا ایک دوسرے کو کہتا ہے دوسرا بھی اس کی نسبت وہی گمان رکھتا ہے ، عداوت ہو خواہ محبت دونوں ہی طرف سے ہوتی ہے ، جب وہ اکابران کے عمائد کو لکھ چکے کہ:
اُولٰئِکَ حِزْبُ الشَّیطٰنِ اَلاَ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۱؎
ہوہ شیطان کے گروہ ہیں، بیشک شیطان ہی کا گروہ گھاٹے میں ہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن         ۵۸/ ۱۹)
تو کیو نکر معقول کہ یہ ان کے دشمن نہ ہوں ، آخر نہ دیکھا کہ ان کے امام العصر نے امن وامان والی حرمین کو اپنے لئے محل خوف وخطر سمجھا اور کمشنر دہلی و بمبئی کی چٹھیوں کو سپر،
ولا حول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
فسق ششم :عداوت اولیائے کرام قدست اسرارہم جس کی تفصیل کو دفتر درکار جس نے ان کے اصول و فروع پر نظر کی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ ان کی بنائے مذہب محبوبان خدا کے نہ ماننے اور ان کی محبت وتعظیم کو جہاں تک بن پڑے گھٹانے مٹانے پر ہے یہاں تک کہ ان کے بانی مذہب نے تصریح کردی کہ اﷲ کو مانے اور اس کے سوا کسی کو نہ مانے انتہی ۔ اور چوُڑھے چمار اور ناکارے لوگ تو نوک زبان پر ہے ، خودحضور سید المحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت صاف کہہ دیا کہ وہ بھی مرکر مٹی میں مل گئے ،
اشد مقت اﷲ علی کل من عادی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وبارک وسلّم۔
سب سے زیادہ اﷲ تعالٰی کی ناراضگی ہر اس شخص پر ہے جو اﷲ تعالٰی کے رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وبارک وسلم کے ساتھ عداوت رکھے (ت)
اﷲ تعالٰی فرماتا ہے  :
وَ الَّذِ یْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللَہِ لَھُمْ عَذَاب اَلِیْم ہ۲؎
جو لوگ ایذادیتے ہیں اﷲ کے رسول اور ان کے لئے دکھ کی مارہے۔اور فرماتا ہے :
لَعَنَھُمُ اﷲ فیِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا ہ ۱؎
اﷲ نے ان پر لعنت کی دنیا وآخرت میں اور ان کے لئے تیار رکھا ہے ذلت کا عذاب۔
 (۲؎ القرآن        ۹/ ۶۱)	 (۱؎ القرآن     ۳۳/ ۵۷)
سبحان اﷲ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرمائیں:
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۲؎۔ اخرجہ احمد وابوداؤد والنسائی و ابن ماجۃ وابن حبان والحاکم و ابونعیم کلھم عن اوس بن ابی اوس الثققی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے زمین پر پیغمبروں کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ اس کو امام احمد،ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان ، حاکم اور ا بونعیم سب حضرات نے حضرت اوس بن ابی اوس ثققی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۲؎ سنن النسائی   اکثارالصلوٰۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یوم الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور   ۱/ ۱۶۲)

( سنن ابی داؤد    باب تفریع ابواب الجمعۃ     مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/ ۱۵۰)

(مسند احمد بن حنبل     حدیث اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ     مطبوعہ دارالفکر بیروت   ۴/ ۸)
اور وارد کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من کلمہ روح القدس لم یؤذن للارض ان تاکل من لحمہ ۳؎۔ اخرجہ الزبیر بن بکار فی اخبار المدینہ وابن زبالۃ عن الحسن مرسلا۔
جس سے جبریل نے کلام کیا زمین کو اجازت نہیں کہ اس کے گوشت پاک میں کچھ تصرف کرے۔ اسےحضرت زبیربن بکار نے اخبار المدینہ میں اور ابن زبالہ نے امام حسن بصری سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
 (۳؎ الدرالمنثور    زیر آیۃ وایدناہ بروح القدس            مطبوعہ منشورات آیۃاﷲ العظمی ،قم ،ایران        ۱/ ۸۷)
امام ابو العالیہ تابعی نے کہا :
ان لحوم الانبیاء لا تبلیغھا الارض ولاتاکلھا السباع ۴؎۔ اخرجہ الزبیروالبیھقی۔
انبیاء کا گوشت زمین نہیں گلاتی نہ درندے گستاخی کریں۔ اسے زبیر اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔اور رب العالمین جل مجدہ  ان کے غلاموں یعنی شہدائے کرام کی نسبت ارشاد فرمائے :
وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فَیْ سَبِیْلِ اﷲ  اَمْوَات ط بَلْ اَحْیَاء وَّلٰکِنْ لاَّتَشْعُرُوْنَ  o۱ ؎
جو خدا کی راہ میں مارے  گئے انھیں مردہ نہ کہوبلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں خبرنہیں۔اور فرمائے :
وَلَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاء عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ فَرِحِیْنَ۲؎۔
خبردار شہیدوں کومُردہ نہ جانیو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی دئیے جاتے ہیں شاد شاد ہیں۔
 (۴؎ اخبار مدینہ لزبیربن بکار)

 (۱؎ القرآن        ۲/ ۱۵۴)  (۲؎ القرآن        ۳/ ۱۶۹)
اور ایک سفیہ مغرور محبوبان خدا سے نفور خود حضورپرنوراکرم المحبوبین صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کی نسبت وہ ناپاک الفاظ کہے اور وہ بھی یوں کہ معاذاﷲ حضور ہی کی حدیث کایہ مطلب ٹھہرائے یعنی میں بھی ایک مرکر مٹی میں ملنے والاہوں، قیامت میں اِن شاء اﷲ مرکرمٹی میں ملنے کامزاالگ کھلے گا اور یہ جدا پوچھا جائے گا کہ حدیث کے کون سے لفظ میں اس ناپاک معنی کی بوتھی جوتو نے یعنی کہہ کر محبوب اعظم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراکیا حضورپرافترا خداپرافترا ہے اور خداپرافترا جہنم کی راہ کا پرلا سرا،
اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اﷲِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُوْنَ۳؎ مَتَاع قَلِیْل وَّلَھُمْ عَذَاب اَلِیْم ۴؎
بیشک وہ لوگ جو اﷲ تعالٰی پرجھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ یہ دنیا متاع قلیل ہے اور ان کے لئے (آخرت میں) المناک عذاب ہے۔
 (۳؎ القرآن        ۱۶/ ۱۱۶) (۴؎ القرآن        ۱۶/ ۱۱۷)
بھلا جب خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ یہ برتاؤ ہیں تو اولیائے کرام کاکیاذکرہے اور حضرت حق عزجلالہ فرماتا ہے:
من عادی لی ولیّا فقد اٰذنتہ بالحرب۵؎۔ اخرجہ امام البخاری عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل۔
جومیرے کسی ولی سے عداوت رکھے میں نے اعلان دے دیا اس سے لڑائی کا۔ اسے امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حوالے سے اﷲ عزوجل سے بیان کیاہے (یعنی یہ حدیث قدسی ہے)
 (۵؎ صحیح البخاری    کتاب الرقاق    باب التواضع        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۹۰۳)
اور حضورپرنور سیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عادی اولیاء اﷲ فقدبارزاﷲ بالمحاربۃ۱؎۔ اخرجہ ابن ماجۃ والحاکم والبیھقی فی الزھد عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال الحاکم صحیح ولاعلۃ لہ۔
جس نے اولیاء اﷲ سے عداوت کی وہ سرمیدان خدا کے ساتھ لڑائی کونکل آیا۔ اس کو ابن ماجہ، حاکم اور بیہقی نے زہد میں حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیاہے۔ امام حاکم نے فرمایا یہ روایت صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ص۲۹۶)

(شعب الایمان     باب فی اخلاص العمل حدیث ۶۸۱۲     مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۵/ ۳۲۸)
اﷲ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی سچی محبت پردنیاسے اُٹھائے
اٰمین۔ بجاھھم عندک یاارحم الراحمین یامن احبھم فامرنا بحبھم حبیھم الینا وحببنا الیھم بحبنا ایاھم یا اکرم الاکرمین اٰمین اٰمین۔
Flag Counter