Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
176 - 185
فسق دوم :طعن علما ء، طبرانی کبیر میں بسند حسن ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورسید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا یستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام ذوالعلم وامام مقسط۱؎۔
تین شخص ہیں جن کی تحقیر نہ کرے گا مگر منافق ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا ، دوسرا ذی علم، تیسرا امام عادل ۔
 (۱؎ المعجم الکبیر        مروی ابوامامہ باہلی       مطبوعہ المکتبہ الفیصلیہ بیروت    ۸/ ۲۳۸)
احمد بسند حسن واللفظ لہ ااور طبرانی و حاکم عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی  حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس من امتی من لم یبجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا۲؎۔
میری امت سے نہیں جو مسلمانوں کے بڑے کی تعظیم اور ان کے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور عالم کا حق نہ پہچانے۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    حدیث عبادہ بن الصامت                مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۵/ ۳۲۳)
مسند الفردوس میں حضرت ابو ذررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العالم سلطان اﷲ فی الارض فمن وقع فیہ فقد ھلک ۳؎ ۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔
عالم اﷲ کی سلطنت ہے اس کی زمین میں ، تو جو اس کی شان میں گستاخی کرے ہلاک ہوجائے۔
 (۳؎ کنز العمال بحوالہ مسند الفردوس عن ابی ذر حدیث ۲۸۶۷۳ کتاب العلم  مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت  ۱۰ /۱۳۴)
فسق سوم : عداوت عامہ اہل عرب وحجاز انھیں جو تعصب ان کے ساتھ ہے یہی خوب جانتے ہیں،
قد بدت البغضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر ۴؎۔
بیر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا وہ (غیظ وعناد) جو سینوں میں چھپائے ہیں، وہ بڑا ہے۔ (ت)
 (۴؎ القرآن  ۳/ ۱۱۸)
اور اس کی مخالفت مذہبی کے علاوہ باربار بتکرارعلمائے عرب کے فتاوے ان کی تضلیل و تذلیل میں آنا اور بکرات ومرات کے ہم مذہبو ں کا ذلتیں اور سزائیں پانا جس کی حکایت خواص وعوام میں مشہور و مذکور کچھ مدت ہوئی کہ ان کے پانچ مکلب مجاہر بنام مہاجر وہاں رہے اور اپنے دام بچھانے چاہے ، حال کھلتے ہی تعزیر پاکر نکالے گئے جس پر ان کے ہمدردوں نے کہا کہ اہل حرمین نے مہاجر کو نکال کر
معاذاﷲ سوادالوجہ فی الدارین
 (دونوں جہانوں  میں کالا چہرہ ۔ت) حاصل کیا حالانکہ علاوہ اور باتوں کے ان سفیہان گستاخ نے یہ بھی نہ جانا کہ دارالاسلام سے دارالاسلام کو جانا مہاجرت نہیں یہ صورت مجاورت ہے اور مجاورت خود مکروہ تحریمی ، مگر افراد اولیاء اﷲ کے لئے ،
کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ
 ( اﷲ کی توفیق سے ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی
''العطا یا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ''
میں کی ہے ۔ ت) تووہ جہاں مدعیان فضل وکمال اس فعل میں بھی اثم تھے خصوصاً جبکہ وہاں جاکر اشاعت بدعات چاہی ، اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
وَ مَنْ یُّرِ دْ فِیْہِ بِا لْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۱؎۔
جو مکہ معظمہ میں براہ ظلم کسی بے اعتدالی کا ارادہ کرے گا اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔
 (۱؎ القرآن     ۲۲/ ۲۵)
اور یہ تو ابھی کی بات ہے کہ ان کے امام العصر جنھیں یہ حضرات شیخ الکل فی الکل کہا کرتے ہیں بخوف مسلمانان عرب ،کمشنران دہلی وبمبئ کی چٹھیاں لے کر حج کو گئے وہاں جو گزری انھیں سے پوچھ دیکھیے، اگر ایمان سے کہیں ورنہ صدہا حاضرین و ناظرین موجود ہیں اور خود مکہ معظمہ کے چھپے ہوئے اشتہار شہروں شہروں شہرت پا چکے  غرض کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ان کو تمام عمائد وعلمائے عرب وحجاز سے سخت بغض وعداوت ہے اور طبرانی معجم کبیر میں بہ سند حسن صحیح حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما  سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بغض العرب نفاق ۲؎۔
( جو اہل عرب سے عداوت رکھے منافق ہے )
 (۲؎ المعجم الکبیر   حدیث ۱۱۳۱۲   مروی از عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ      مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۱/ ۱۴۶)
فسق چہارم: پھر یہ عداوت منجربہ سب ودشنام ہوتی ہے جس کی ایک نظیر ہم اوپر لکھ چکے اور بیہقی شعب الایمان میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من سب العرب فاولئک ھم المشرکون۳؎۔
جو اہل عرب کو سب وشتم کریں وہ خاص مشرک ہیں۔
(۳؎ شعب الایمان     فصل فی الصلوٰۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم   مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳/ ۲۳۱)
فسق پنجم: مدینہ طیبہ کو جزیرہ عرب پر جس قدر فضیلت ہے اسی قدر ان کی عداوت وبدخواہی کو اہل مدینہ کے ساتھ  زیادت ہے اور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایکید  اھل المدینۃ احد الاانماع کما ینماع الملح فی الماء۱؎ ۔اخرجہ الشیخان عن سعد بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کوئی شخص اہل مدینہ کے ساتھ بداندیشہ نہ کرےگا مگر یہ کہ ایسا گل جائے گا جیسے نمک پانی میں اسے بخاری ومسلم نے حضرت سعد بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری    فضائل المدینہ    باب اثم من کاداہل المدینہ   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۲۵۲)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
من  اراد اھل المدینۃ بسوء اذابہ اﷲ کما یذوب الملح فی الماء ۲؎۔ اخرجہ احمد ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جواہل مدینہ کے ساتھ کسی طرح کا برُا ارادہ کرے اﷲ تعالٰی اسے ایسا گلادے جیسے نمک پانی میں گل جاتاہے ۔ اسے امام احمد ، مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۲؎ صحیح مسلم  کتاب الحج  باب تحریم ارادۃ اہل المدینہ بسوء   مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/ ۴۴۵)

(مسند احمد بن حنبل        از مسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ         مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۲/ ۳۵۷)
دوسری حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی اھل المدینہ اذاہ اﷲ وعلیہ لعنۃ اﷲ والملٰئکۃ والناس اجمعین ، لایقبل منہ صرف ولا عدل ۳؎۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو مدینہ والوں کو ایذا دے اﷲ اسے مصیبت میں ڈالے اور اس پر خدا اور فرشتوں اور آدمیوں کی لعنت ہے اﷲ تعالٰی نہ اسکا نفل قبول کرے نہ فرض۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۳؎ کنزالعمال بحوالہ طبرانی عن ابن عمر     فضائل المدینہ وماحولہا الخ    حدیث ۳۴۸۳۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ،  ۱۲/ ۲۳۷)

(مجمع الزاوائد            باب  فیمن اخاف اہل المدینۃ وارادہم بسوء         مطبوعہ دارالکتاب بیروت        ۳/ ۳۰۷)

(الترغیب والترہیب        الترہیب من اخافۃ اہل المدینہ الخ         مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۲/ ۲۴۱)
اگر یہ حضرات ان امور سے انکار کریں توکیا مضائقہ ان سے کہیے
تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ۴؎ ۔
 (ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے ۔ ت)
 (۴؎ القرآن        ۳/ ۶۴)
Flag Counter